Baaghi TV

Blog

  • علی ظفر کا ہتکِ عزت کیس جیتنے کے بعد پہلا ردِعمل

    علی ظفر کا ہتکِ عزت کیس جیتنے کے بعد پہلا ردِعمل

    عالمی شہرت یافتہ گلوکار علی ظفر نے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیتنے کے بعد اپنی پہلی انسٹاگرام پوسٹ میں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے جذباتی پیغام جاری کیا ہے۔

    علی ظفر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ خدا کے بے حد شکر گزار ہیں اور اُن تمام افراد کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے اُن کی زندگی کے مشکل ترین دور میں اُن کا اور سچ کا ساتھ دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بالآخر انصاف ہو گیا ہے، تاہم انہیں کسی قسم کی فتح کا احساس نہیں بلکہ دل میں صرف عاجزی اور شکرگزاری کے جذبات ہیں۔گلوکار نے مزید کہا کہ وہ کسی کے خلاف منفی جذبات نہیں رکھتے اور ان کے نزدیک یہ باب اب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ سب لوگ وقار اور سکون کے ساتھ اپنی زندگی میں آگے بڑھیں۔ علی ظفر نے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے کو جشن کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اسے ایک آزمائش کے اختتام کے طور پر لیتے ہیں۔

    واضح رہےکہ لاہور کی عدالت نے منگل کے روز فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ کیس کی سماعت کے دوران میشا شفیع عدالت میں پیش نہ ہوئیں اور نہ ہی اپنے الزامات کے حق میں مؤثر شواہد فراہم کر سکیں، جبکہ علی ظفر نے اپنے گواہان عدالت کے سامنے پیش کیے۔

    یاد رہے کہ یہ مقدمہ 2018 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد علی ظفر نے ان کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا۔ یہ کیس پاکستان میں ‘می ٹو’ تحریک کے نمایاں مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے اور طویل عرصے تک عوامی اور قانونی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، دہشتگرد گروہوں کی مالی شہ رگ پر کاری ضرب

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، دہشتگرد گروہوں کی مالی شہ رگ پر کاری ضرب

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کی مالی معاونت کے اہم ذرائع کو نشانہ بنایا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں دہشتگرد نیٹ ورکس کو شدید مالی نقصان پہنچا ہے، جس سے ان کی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق دہشتگرد گروہ طویل عرصے سے بلوچستان کے مختلف دور دراز علاقوں میں منشیات کی بڑے پیمانے پر کاشت کر رہے تھے، جس کے ذریعے وہ سالانہ اربوں روپے کما رہے تھے۔ اس غیر قانونی آمدنی کو دہشتگردی کی کارروائیوں، اسلحہ خریدنے اور نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ ان گروہوں کی جانب سے بلوچ نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنانے کی منظم کوششیں بھی کی جا رہی تھیں، تاکہ انہیں ذہنی و جسمانی طور پر کمزور کر کے دہشتگرد سرگرمیوں، خصوصاً خودکش حملوں، میں استعمال کیا جا سکے۔ حکام نے اس پہلو کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل نہ صرف امن و امان بلکہ معاشرتی ڈھانچے کے لیے بھی خطرہ تھا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق منشیات کی کاشت کو جدید طریقوں سے فروغ دیا جا رہا تھا، جس میں سولر پینلز کے ذریعے آبپاشی کا مربوط نظام قائم کیا گیا تھا۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے دشوار گزار علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر فصلیں اگائی جا رہی تھیں، جس سے اس غیر قانونی کاروبار کو مزید وسعت ملی۔حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیکیورٹی فورسز تقریباً 55 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی منشیات کی فصلوں کو تلف کر چکی ہیں۔ یہ کارروائی بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مرحلہ وار جاری رہی اور اب بھی اس کے خلاف آپریشن تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔سیکیورٹی اداروں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور بلوچستان کو منشیات و دہشتگردی سے پاک بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

  • بھارت میں توانائی بحران،شہری گھر چھوڑنے لگے،گیس سلنڈر کی پوجا

    بھارت میں توانائی بحران،شہری گھر چھوڑنے لگے،گیس سلنڈر کی پوجا

    نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس کے اثرات بھارت میں نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ بھارت کے مختلف حصوں میں گیس اور پیٹرول کی قلت کی اطلاعات ہیں جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    بھارت کے کئی شہروں میں گیس سلنڈرز کے حصول کے لیے طویل قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جبکہ متعدد پٹرول پمپوں پر صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور ایندھن کی عدم دستیابی نے معمولات زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔توانائی بحران کے باعث بعض علاقوں میں لوگ شہروں سے دیہات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں، جہاں وہ متبادل ذرائع جیسے لکڑی کے استعمال سے گزارا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال کسی حد تک کورونا لاک ڈاؤن کے دوران ہونے والی اندرونی ہجرت کی یاد دلا رہی ہے، جب لاکھوں مزدور شہری علاقوں سے اپنے آبائی علاقوں کی طرف واپس لوٹ گئے تھے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت کی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے یہ نیا بحران مزید مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو بھارت میں توانائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی سست روی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

  • پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹرز کا سخت ردعمل

    پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹرز کا سخت ردعمل

    اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جہاں پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے کرایوں میں نمایاں اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ناقابل قبول ہے اور اس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کا شدید طوفان آئے گا۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غلط فیصلوں کے باعث لاکھوں افراد بیروزگار ہو رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو ملک میں ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونر ایسوسی ایشن نے بھی ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آج ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ ہونے کے باوجود موجودہ تناسب سے کرایوں میں اضافہ ممکن نہیں، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ٹرانسپورٹرز کو کاروبار بند کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

    واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

  • بنوں میں ڈومیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 5 افراد جاں بحق، 18 زخمی

    بنوں میں ڈومیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 5 افراد جاں بحق، 18 زخمی

    بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ڈومیل پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ پر ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے باعث 5 افراد جاں بحق جبکہ 18 زخمی ہوگئے۔

    ریجنل پولیس افسر سجاد خان کے مطابق دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس سے پولیس اسٹیشن کے قریب واقع مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے کی شدت کے باعث آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔پولیس حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں تین خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ تمام زخمیوں اور لاشوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ شواہد اکٹھے کر رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ خودکش نوعیت کا تھا، تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • امریکی  آرمی چیف آف سٹاف جنرل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    امریکی آرمی چیف آف سٹاف جنرل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیٹھ نےآرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق وزیر جنگ ایسا آرمی چیف آف اسٹاف دیکھنا چاہتے ہیں جو فوج سے متعلق صدر ٹرمپ اور خود انکے وژن پر عمل کرسکے،جنرل رینڈی جارج، بائیڈن دور کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے سینئر ملٹری اسسٹنٹ بھی رہے تھے۔ وہ پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی شریک رہے ہیں،عام طور پر امریکا میں آرمی چیف آف اسٹاف چار سال کیلئے مقرر کیا جاتا ہے، تاہم 2023ء میں سینیٹ سے توثیق حاصل کرنیوالے رینڈی جارج کو 2027ء تک یہ عہدہ سنبھالنا تھا،وائس چیف آف اسٹاف کرسٹوفر لانیو جو کہ ہیگسیتھ کے ملٹری ایڈ رہے ہیں وہ قائم قام آرمی چیف آف اسٹاف کا عہدہ سنبھالیں گے۔

    امریکی فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کو فوری طور پر مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا ہے، جس سے فوج کی بڑھتی ہوئی سیاست پر تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران میں ایک شہری پل پر حملے کی تشہیر کی ہے جسے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ جنگی جرم کے مترادف ہو سکتا ہے۔

    اس فیصلے نے محکمہ انصاف میں عدم استحکام اور سیاسی دباؤ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے،پام بونڈی، جو ٹرمپ کی قریبی اتحادی اور فلوریڈا کی سابق اٹارنی جنرل رہ چکی ہیں، تقریباً ایک سال تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ ان کا دور کئی تنازعات کا شکار رہا، خاص طور پر سیاسی نوعیت کے مقدمات میں ان کے کردار پر شدید تنقید کی گئی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اعلان کرتے ہوئے بونڈی کو “وفادار دوست” اور “محبِ وطن” قرار دیا، تاہم ساتھ ہی ان کی برطرفی کی تصدیق بھی کی۔اطلاعات کے مطابق ٹرمپ بونڈی کی کارکردگی سے ناخوش تھے، خاص طور پر جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق فائلوں کے معاملے اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی میں ناکامی پر۔ان کی برطرفی سے قبل کانگریس کی جانب سے بھی ان پر دباؤ بڑھ رہا تھا اور ان کے خلاف تحقیقات جاری تھیں۔

    پام بونڈی کا دورِ اقتدار کافی متنازع رہا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے محکمہ انصاف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، جس میں سرکاری وکلاء کی برطرفی اور مخالفین کے خلاف مقدمات شامل تھے۔ایپسٹین کیس کی ناقص ہینڈلنگ نے بھی ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا اور یہی معاملہ ان کی برطرفی کی ایک بڑی وجہ بنا۔بونڈی کی برطرفی ٹرمپ حکومت میں حالیہ تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ اس سے پہلے بھی کابینہ کے دیگر اہم عہدیداروں کو ہٹایا جا چکا ہے، جس سے حکومت کے اندر عدم استحکام کا تاثر مزید مضبوط ہوا ہے۔ڈیموکریٹس نے بونڈی کی برطرفی کا خیر مقدم کیا، لیکن ساتھ ہی کہا کہ انہیں اپنے اقدامات کا حساب دینا ہوگا۔ کئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کانگریس کے سامنے پیش ہوں۔دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ صرف بونڈی نہیں بلکہ پورا نظام ہے، جس میں محکمہ انصاف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے

  • روزانہ کافی پینے کے حیران کن فوائد، ماہرِ امراضِ معدہ کی تفصیلی وضاحت

    روزانہ کافی پینے کے حیران کن فوائد، ماہرِ امراضِ معدہ کی تفصیلی وضاحت

    دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے لیے کافی پینا صبح کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی دن کی شروعات ایک کپ کافی کے بغیر نامکمل سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ نظامِ ہاضمہ کو بھی متحرک کرتی ہے۔

    حال ہی میں معروف ماہرِ امراضِ معدہ ڈاکٹر سورب سیتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں بتایا کہ اگر کوئی شخص مسلسل 14 دن تک روزانہ کافی پیتا ہے تو اس کے جسم پر کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر سیتی کے مطابق کافی کا باقاعدہ استعمال جگر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی پینے والوں میں فیٹی لیور، فائبروسس اور سروسس جیسے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کافی جگر میں داغ دار ٹشو بننے کے عمل کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم جگر کی مکمل صحت کے لیے متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی بھی ضروری ہے۔کافی میں موجود کلوروجینک ایسڈ جیسے اجزاء انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ بلیک کافی میٹابولزم کو تیز کرتی ہے اور جسم میں چربی کے جلنے کے عمل کو بڑھاتی ہے۔یہ نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ بھوک کو بھی کم کرتی ہے، جس سے کیلوریز کے استعمال کو کنٹرول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔کافی میں موجود کیفین دماغی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ اس سے توجہ، چوکنا پن اور ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق کیفین وقتی طور پر نیند کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم یہ نیند کا مکمل متبادل نہیں ہے۔

    ڈاکٹر سیتی کے مطابق کافی آنتوں کی حرکت کو تیز کرتی ہے اور ہاضمے کو بہتر بناتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 29 فیصد کافی پینے والوں کو کافی پینے کے بعد رفع حاجت کی خواہش محسوس ہوتی ہے۔کافی میں موجود تیزاب گیسٹرن ہارمون کو متحرک کرتے ہیں، جو آنتوں کی حرکت کو بڑھاتا ہے۔ڈاکٹر سیتی نے تجویز دی کہ روزانہ ایک سے تین کپ بلیک کافی مناسب ہے، تاہم اگر کسی کو دل کی دھڑکن تیز ہونا، بے چینی، تیزابیت یا نیند کی کمی محسوس ہو تو کافی کا استعمال کم یا بند کر دینا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ کافی میں زیادہ چینی یا مصنوعی کریمرز شامل کرنا اس کے فوائد کو کم کر سکتا ہے۔
    کافی اگر اعتدال کے ساتھ استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ جگر، دماغ اور نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر فرد کو اپنی جسمانی کیفیت کے مطابق اس کا استعمال کرنا چاہیے۔

  • جلدی بوڑھا نہیں ہونا چاہتے تو پانچ عادتیں اپنائیں

    جلدی بوڑھا نہیں ہونا چاہتے تو پانچ عادتیں اپنائیں

    بڑھاپا ایک قدرتی عمل ہے، مگر ہماری روزمرہ کی کچھ عادات اس عمل کو خاموشی سے تیز کر سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق روزانہ کیے جانے والے فیصلے ہمارے جسم کی عمر رسیدگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگرچہ کچھ عوامل ہمارے قابو میں نہیں ہوتے، لیکن طرزِ زندگی میں بہت سی تبدیلیاں لا کر صحت مند اور سست رفتار بڑھاپا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

    امریکہ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر جیریمی لندن نے پانچ ایسی عام عادات کی نشاندہی کی ہے جن سے پرہیز کر کے دل کی صحت اور طویل مدتی توانائی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے اس سے بڑھاپا بھی جلدی نہیں آئے گا

    1. تمباکو نوشی اور ویپنگ
    تمباکو نوشی اور ویپنگ جسم کو تیزی سے نقصان پہنچانے والی عادات میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق یہ تقریباً جسم کے ہر عضو کو متاثر کرتی ہیں اور کم مقدار میں استعمال بھی عمر کو کم کر سکتا ہے۔

    2. غیر فعال طرزِ زندگی
    زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا، خاص طور پر روزانہ 6 سے 8 گھنٹے، جسم کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ یہ عادت میٹابولزم، توانائی پیدا کرنے والے خلیوں اور مجموعی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے، چاہے آپ ورزش ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔

    3. مسلسل ذہنی دباؤ
    طویل عرصے تک جاری رہنے والا ذہنی دباؤ، جیسے مالی پریشانیاں یا جذباتی مسائل، جسم میں نقصان دہ ہارمونز کو بڑھاتا ہے۔ اس سے مجموعی صحت اور بڑھاپے کے عمل پر منفی اثر پڑتا ہے۔

    4. ناقص نیند
    نیند جسم کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ نیند کی کمی ڈی این اے کی مرمت اور ہارمونز کے توازن کو متاثر کرتی ہے، جس سے جسمانی نظام میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔

    5. موٹاپا اور غیر صحت بخش غذا
    موٹاپا اور خراب خوراک بڑھاپے کو تیز کرنے کی بڑی وجوہات ہیں۔ یہ سوزش، انسولین مزاحمت اور خلیاتی نقصان کا باعث بنتے ہیں، جو مختلف بیماریوں کو جنم دے سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ عادات میں چھوٹی چھوٹی مثبت تبدیلیاں لا کر نہ صرف بڑھاپے کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ دل کی صحت کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

  • دفتر کا ماحول جلد اور بالوں پر اثر اندازہو رہا، خاتون کا دعویٰ

    دفتر کا ماحول جلد اور بالوں پر اثر اندازہو رہا، خاتون کا دعویٰ

    دفاتر وہ جگہیں ہیں جہاں لوگ اپنے دن کا بڑا حصہ گزارتے ہیں، لیکن کیا دفتر کا ماحول ہماری جلد اور بالوں پر اثر ڈال سکتا ہے؟ ایک خاتون کے مطابق، اس کا جواب ہاں میں ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوا ڈونلن نامی خاتون نے "آفس ایئر” کے جلد، بالوں اور مجموعی ظاہری شکل پر اثرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح اٹھنے پر ان کی جلد تازہ محسوس ہوتی ہے، لیکن دن کے اختتام تک اس کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔انہوں نے بتایا، "چار سال پہلے جب میں نے کل وقتی ملازمت شروع کی تو یہ بات واضح ہونا شروع ہوئی۔ میں گھر سے تیار ہو کر نکلتی تھی، لیکن دوپہر تک دفتر کے واش روم کے آئینے میں خود کو دیکھتی تو جلد خشک، بال چکنے اور بے جان ہو چکے ہوتے تھے، اور میں خود کو پہلے جیسا محسوس نہیں کرتی تھی۔”نوا کے مطابق، یہ مسئلہ اس قدر نمایاں تھا کہ وہ خود سے سوال کرنے لگیں کہ کیا وہ واقعی ایسی ہی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دفتر تبدیل کرنے کے باوجود یہ مسئلہ برقرار رہا۔انہوں نے مزید کہا، "ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ خراب ہوا کی گردش اور زیادہ دیر بیٹھے رہنا جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالتا ہے، لیکن مجھے لگنے لگا کہ میں اس کا اثر حقیقی وقت میں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی ہوں۔”

    نوا نے اس موضوع پر ویڈیوز بنانا شروع کیں، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔ متعدد صارفین نے بھی اسی طرح کے تجربات شیئر کیے۔ ایک صارف نے لکھا، "بغیر کسی وجہ کے آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔” جبکہ دوسرے نے کہا، "دوپہر تک میں بیمار وکٹورین بچے جیسا لگنے لگتا ہوں۔”

    ماہرین کے مطابق، دفتر کے ماحول میں ایئر کنڈیشننگ اور کم نمی کی وجہ سے جلد میں خشکی، بے رونقی اور جلن پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ بال بھی خشک اور بے جان ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ فضائی آلودگی میں موجود ذرات جیسے PM2.5، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور اوزون جلد میں داخل ہو کر آکسیڈیٹو اسٹریس اور سوزش پیدا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جھریاں، باریک لکیریں، کیل مہاسے، ایگزیما اور سورائسس جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ طویل عرصے تک آلودہ ماحول میں رہنے سے جلد کی قبل از وقت بڑھاپا اور حتیٰ کہ جلد کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

  • منی پور کی ڈاکٹر نے فضائی سفر کے دوران مسافر کی جان بچا لی

    منی پور کی ڈاکٹر نے فضائی سفر کے دوران مسافر کی جان بچا لی

    ایک حیران کن واقعے میں منی پور سے تعلق رکھنے والی ایک ڈاکٹر نے جاپان کے شہر ٹوکیو سے نئی دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں ایک مسافر کی جان بچا لی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈاکٹر لونی لیریینا، جو امپھال کے امریکن آنکولوجی انسٹی ٹیوٹ میں کریٹیکل کیئر اسپیشلسٹ ہیں، 28 فروری کو پرواز AI-357 میں سوار تھیں جب ایک ہنگامی طبی صورتحال پیش آئی۔ڈاکٹر کے مطابق، لینڈنگ سے تقریباً دو گھنٹے قبل اعلان کیا گیا کہ فوری طبی امداد درکار ہے۔ جب وہ متاثرہ مسافر کے پاس پہنچیں تو فضائی عملہ گھبراہٹ کا شکار تھا۔متاثرہ مسافر، جو ایک 21 سالہ نوجوان خاتون تھیں، شدید دمہ کے حملے کا شکار ہو گئی تھیں۔ انہیں سینے میں شدید درد، سانس لینے میں دشواری، تیز دل کی دھڑکن (تقریباً 160 فی منٹ)، کم بلڈ پریشر اور آکسیجن کی سطح تقریباً 80 فیصد تک گر چکی تھی۔ڈاکٹر لیریینا نے فوری طور پر آکسیجن سپورٹ، نیبولائزیشن اور ضروری ادویات فراہم کیں، جس کے نتیجے میں صرف 30 منٹ کے اندر مریضہ کی حالت سنبھل گئی۔ اس بروقت علاج کی بدولت طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کی ضرورت پیش نہ آئی۔پرواز بحفاظت نئی دہلی پہنچ گئی اور مسافر کو مستحکم حالت میں طبی نگرانی کے لیے منتقل کر دیا گیا۔

    ڈاکٹر نے کہا، “خدا کے فضل سے ہم روزانہ ایسے حالات سے نمٹتے ہیں۔ جہاز میں دستیاب ادویات کا استعمال کیا گیا اور سب کچھ بخیر و خوبی انجام پایا۔”

    سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کو خوب سراہا جا رہا ہے، جہاں صارفین نے ڈاکٹر کی حاضر دماغی اور پیشہ ورانہ مہارت کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک صارف نے لکھا، “اصل ہیرو وہ ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں جان بچاتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی مقام پر ہوں۔”ماہرین کے مطابق، فضائی سفر کے دوران ہر 600 پروازوں میں سے تقریباً ایک میں طبی ہنگامی صورتحال پیش آ سکتی ہے، جہاں اکثر ڈاکٹر مسافروں کی مدد انتہائی اہم ثابت ہوتی ہے۔