پلانٹ مالکان نے حکومتی رٹ ہوا میں اڑا دی 3643 والا سلنڈر 58سو سے 6 ہزار میں دھڑلے سے فروخت، غریبوں کی جیبوں پر سرعام ڈاکہ
وزیراعظم اور چیئرمین اوگرا کی خاموشی پر سوالیہ نشان ضلعی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگی شہری سراپا احتجاج
گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل گوجرخان اور گردونواح میں ایل پی جی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جہاں سرکاری نرخنامے محض کاغذ کے ٹکڑے ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہ جون کے لیے اوگرا کی جانب سے گھریلو سلنڈر کی قیمت 3643 روپے مقرر کیے جانے کے باوجود، پلانٹ مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز نے ملی بھگت سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق، گیس پلانٹس سے ایجنسی ہولڈرز کو سلنڈر 5400 روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے، جو کہ خود سرکاری قیمت سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ یہی سلنڈر عام صارف تک پہنچتے پہنچتے 5800 سے 6000 روپے کی ریکارڈ سطح کو چھو رہا ہے۔ غریب اور متوسط دیہاڑی دار طبقہ، جو پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، اب لکڑیاں جلانے یا بھوکا سونے پر مجبور ہو گیا ہے۔ شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اوگرا اپنے ہی جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کروانے کی سکت نہیں رکھتا، تو ایسے ردی کے ٹکڑوں کو پبلش کر کے عوام کو بیوقوف بنانے کا کیا مقصد ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست کی رٹ پلانٹ مالکان کے سامنے ختم ہو چکی ہے جو وہ سرکاری احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں؟ گوجرخان کے شہریوں نے وزیرِ اعظم پاکستان، وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم اور چیئرمین اوگرا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان پلانٹس و ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کریں جو کھلم کھلا قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر سرکاری نرخوں پر گیس کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو وہ احتجاجاً سڑکوں پر نکلنے میں حق بجانب ہوں گے۔
Blog
-

گوجرخان،ایل پی جی مافیا بے لگام، اوگرا کے نرخ ردی کا ڈھیر ،سلنڈر غریب کی پہنچ سے دور
-

زندہ لوگ: ایاز مورس کی قلمی کاوش، جو زندہ رہنے کا سلیقہ سکھاتی ہے،تحریر:اعجازالحق عثمانی
کتابوں سے میرا رشتہ کئی برسوں پر محیط ہے، مگر کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو محض پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے اردگرد بکھرے ہوئے گمنام ہیروز کو پہچاننے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ایاز مورس صاحب کی کتاب "زندہ لوگ” بھی ایسی ہی ایک کاوش ہے۔
ایاز مورس صاحب سے پہلی دفعہ 2020 میں سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا، اور یہ رابطہ محض رسمی تعارف تک محدود نہ رہا۔ ان دنوں میں نوجوان لکھاریوں اور طالب علموں کے لیے ایک تنظیم "میں شاہین ہوں اقبال کا” کے پلیٹ فارم سے کام کر رہا تھا۔ میری درخواست پر ایاز مورس صاحب نے ہمارے لیے کئی موٹیویشنل سیشنز دیے، جن سے نوجوانوں نے بھرپور استفادہ کیا۔ ان کی گفتگو میں ایک خاص بات تھی، سادگی، اپنائیت اور تجربے کی گہرائی، جو اب ان کی تحریر میں بھی نظر آتی ہے۔
کچھ عرصہ رابطہ نہ رہا، مگر یہ رشتہ ٹوٹا نہیں۔ چند دن قبل ایاز مورس صاحب نے دوبارہ رابطہ کیا اور اپنی تازہ تصنیف "زندہ لوگ” مجھے بھیجی۔ کتاب ہاتھ میں آتے ہی نام نے توجہ کھینچ لی، "زندہ لوگ”، یعنی وہ لوگ جو اپنے کردار، خدمت اور ایمانداری کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، چاہے وہ اس دنیا میں موجود ہوں یا نہ ہوں۔
پہلے ایاز مورس صاحب کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ وہ ضلع لیہ کے ایک گاؤں، چک نمبر 270، میں پیدا ہوئے۔ یہاں سے سفر کا آغاز کر کے وہ آج ملک کے نامور کارپوریٹ ٹرینر، ایجوکیشنل کنسلٹنٹ اور سپیکر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ ماسٹر ٹی وی کے سی ای او کے طور پر بھی، اس کے علاوہ روزنامہ ایکسپریس میں ان کے کئی مضامین میری نظر سے گزر چکے ہیں۔ جن میں ہمیشہ ایک مثبت اور تعمیری سوچ کی جھلک نظر آتی ہے۔۔
"زندہ لوگ” دراصل 32 ایسے افراد کی سچی کہانیوں اور انٹرویوز کا مجموعہ ہے، جنہوں نے اپنے میدان میں ایمان، کردار اور خدمت کے جذبے سے نام کمایا۔ یہ کتاب رواں پبلشرز کراچی نے شائع کی ہے، اور اس کا انتساب ایاز مورس صاحب نے اپنے دادا، رحمت مسیح، کے نام کیا ہے۔کتاب میں شامل شخصیات کا تنوع اپنی جگہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ ڈاکٹر ایچ ایم اے ڈریگو، احفاظ الرحمن، انیل دتا، موہنی حمید، ڈاکٹر جیمز شیرا، ڈاکٹر اکبر ایس احمد، محمد نفیس زکریا، فلپ ایس لال، جسٹس اے آر کارنیلیس، ڈاکٹر ڈینس آئزک، پروفیسر گلزار فاروق چوہدری، ایف ای چوہدری، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، ڈاکٹر خالد سہیل، بابا نجمی، ڈاکٹر جاوید اقبال، اعظم معراج، انتھنی نوید، سسٹر زیف، پروفیسر سلامت اختر، اقبال مسیح، ڈاکٹر میرا فلیوس، کامران ذیشان رضوی، پروفیسر وسن ولیم، پروفیسر عمانوایل ممتاز، انجم ہیرالڈ گل، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ، کارڈینل جوزف کوٹس، پوپ فرانسس، اور اعجاز ہدایت، یہ سب نام ایک ہی صفحے پر اس لیے جمع ہوئے ہیں کیونکہ ان سب نے اپنے اپنے دائرہ کار میں انسانیت، علم، صحافت، فن، تعلیم اور خدمت کی شمعیں روشن کی ہیں۔
کتاب پر تاثرات لکھنے والوں میں بھی معروف نام شامل ہیں، عرفان جاوید، عثمان جامعی، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، وارث رضا اور ڈاکٹر شاہد ایم شاہد۔ ان شخصیات کی رائے کتاب کے وقار میں مزید اضافہ کرتی ہے۔کتاب میں موجود احفاظ الرحمن، ڈاکٹر خالد سہیل، بابا نجمی، ڈاکٹر جاوید اقبال، اقبال مسیح اور کامران ذیشان رضوی، یہ نام میرے لیے اجنبی نہیں تھے، کسی نہ کسی حد تک ان کے کام اور شہرت سے واقفیت تھی۔ مگر "زندہ لوگ” نے ان شخصیات کے بارے میں معلومات کے کئی نئے در کھولے۔ ایسی تفصیلات، ایسے واقعات اور ایسی جزئیات سامنے آئیں جو شاید میری نظر سے تو اوجھل رہتی۔
ان کے علاوہ مجھے جس کہانی نے متاثر کیا،وہ گلوبل ٹیچر پرائز 2023 جیتنے والی پاکستانی استاد رفعت عارف، المعروف سسٹر زیف کی داستان ہے۔ ان کی کہانی پڑھ کر دل عقیدت سے بھر گیا۔ سسٹر زیف نے اپنے ہی گھر سے ایک عملی اور خاموش تحریک کا آغاز کیا۔ گھر کی دیوار پر سکول کا نام لکھوایا اور خود گھر گھر جا کر بچوں کو جمع کرنا شروع کیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ انہوں نے اس نیک کام کو کسی ایک مذہبی یا طبقاتی دائرے میں محدود نہیں رکھا، بلکہ تعلیم کی روشنی ہر بچے تک پہنچانے کو اپنا مقصد بنایا۔ ایسی شخصیات ہی دراصل معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہوتی ہیں۔اسی طرح پروفیسر سلامت اختر کی کہانی بھی دلچسپی سے بھرپور ہے۔ ایک عظیم استاد ایک قلم کار اور تحریک پاکستان کے ایک فعال کارکن کی حیثیت سے ان کی خدمات کو پڑھنا گویا تاریخ کے ایک گمشدہ ورق کو دوبارہ زندہ کرنا تھا۔
مجموعی طور پر "زندہ لوگ” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا حوالہ ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ بتاتا ہے کہ کردار، خدمت اور دیانت سے جینے والے لوگ کبھی مرتے نہیں، وہ اپنے کاموں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ایاز مورس صاحب نے ان شخصیات کو ایک جگہ جمع کر کے اور ان کی کہانیاں عام قاری تک پہنچا کر یقینا ایک خدمت کی ہے۔
اس کاوش پر ایاز مورس صاحب شکریہ کے مستحق ہیں، اور دل کی گہرائیوں سے اس بہترین کتاب کی اشاعت پر انہیں نیک تمنائیں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ "زندہ لوگ” جیسی کاوشیں آگے بھی جاری رہیں گی، تاکہ معاشرے کے اصل ہیروز کو وہ پہچان مل سکے جس کے وہ حق دار ہیں۔
-

اتوار کو ایران کیساتھ معاہدہ طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا،ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ہونے جا رہے ہیں،اس معاہدے کے طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ہوں گے انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار تک پہنچنے کا ایک آسان راستہ تھا ہمارا ایران کے ساتھ معاہدہ اس کے برعکس ہے اور یہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایک دیوار کی حیثیت رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں ہے اور وہ اب ان ہتھیاروں کی خریداری، تیاری یا کسی اور ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کر سکے گا، اتوار کو ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو سب کے لیے کھول دیا جائے گا میری انتظامیہ کے ماضی کی امریکی حکومتوں کے مقابلے میں ایران کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بیان میں اوباما انتظامیہ کے اُس فیصلے پر بھی کڑی تنقید کی جس کے تحت معاہدے کے وقت ایران کو اربوں ڈالر کے فنڈز واپس کیے گئے تھے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔
امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت آنے پر اسے محفوظ طریقے سے تلف کیا جائے گا ’حالات معمول پر آنے کے بعد امریکا ایران کے پہاڑوں میں دفن جوہری مواد تک رسائی حاصل کرے گا اور اسے بی ٹو بمبار طیاروں اور ماہر پائلٹس کی مدد سے باہر نکال کر ایران یا امریکا میں مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نےکہا کہ وہ ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ عمل تیزی کے ساتھ شروع ہوگا تاہم انہوں نے ایران کو دبے لفظوں میں ایٹمی حملے کی دھمکی ہوئے کہا کہ ’اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا کے پاس آخری متبادل موجود ہے، جسے وہ دوبارہ استعمال ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے لے کر ممکنہ امن معاہدے تک، پاکستان نے مرکزی ثالث کے طور پر بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس پورے عمل میں خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر متحرک نظر آئے، جنہوں نے خود بھی ایران کے دورے کیے اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو بھی پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا۔
ٹرمپ کے اس بیان سے قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی شہباز شریف کے اس بیان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر شیئر کیا تھا جب کہ عرب میڈیا نے عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد کی اتوار کو پاکستان آمد کا بھی دعویٰ کیا ہے جو ممکنہ طور پر اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوگا۔
-

ایران کی ایم او یو پر دستخط کے حوالے سے جاری خبروں پر وضاحت جاری
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یادداشتِ مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط کے حوالے سے جاری خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دستاویز پر دستخط کا اصل وقت کل نہیں ہوگا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس ایم او یو پردستخط فوری طور پرمتوقع نہیں، تاہم آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں یادداشتِ مفاہمت پردستخط کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا دونوں ممالک کے درمیان مختلف امور پر رابطے اورمشاورت جاری ہے اوراس حوالے سے مناسب وقت پر پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
ایرانی ترجمان کے بیان کے بعد ایم او یو پر دستخط کی متوقع تاریخ کے حوالے سے پائی جانے والی قیاس آرائیوں کو نئی جہت مل گئی ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی روابط پر بھی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
-

بحر ہند کی گہرائیوں میں 53 لاکھ سال پرانا قبرستان دریافت
سائنسدانوں نے بحر ہند کی تقریباً 23 ہزار فٹ گہرائی میں 5.3 ملین سال پرانا وہیل مچھلیوں کا قبرستان دریافت کر لیا ہے ، جسے وہیل نیکرو پولس(whale necropolis)کا نام دیا گیا ہے،جس کی لمبائی تقریباً 745 میل بتائی جا رہی ہے۔
سی جی ٹی این کے مطابق یہ دریافت جنوب مشرقی بحر ہند کے ڈائمنٹینا زون میں کی گئی، جہاں وہیلوں کی باقیات کے ساتھ ساتھ کئی ایسی جاندار انواع بھی ملیں جو پہلے کبھی کہیں اور نہیں دیکھی گئیں جہاں گہرائی تقریباً 7 ہزار میٹر تک ہے اس مقام پر نہ صرف قدیم فوسلز موجود ہیں بلکہ فعال وہیل فال بھی پائے گئے ہیں، جو کم از کم 53 لاکھ سال سے تشکیل پا رہے ہیں،محققین کو یہاں جیلی فش، ٹیوب وارمز، برٹل اسٹارز، سمندری کھیرے، اسکواٹ لابسٹرز اور نمکین پانی کی سیپیاں ملیں، جن میں سے بعض ممکنہ طور پر سائنس کے لیے بالکل نئی انواع ہیں۔
یہ تحقیق چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیپ سی سائنس اینڈ انجینئرنگ (آئی ڈی ایس ایس ای)، اٹلی کی یونیورسٹی آف پیزا اور نیوزی لینڈ کے ارتھ سائنسز ادارے کے اشتراک سے کی گئی ہے، اور اسے معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع کیا گیا ہے۔
وہیل فال اس عمل کو کہا جاتا ہے جب مردہ وہیل سمندر کی تہہ میں ڈوب جاتی ہے اور وہاں ایک عارضی لیکن انتہائی زرخیز ماحولیاتی نظام تشکیل دیتی ہے، جس میں ہڈیوں کو کھانے والے کیڑے اور مختلف سمندری جاندار شامل ہوتے ہیں اب تک ایسے زیادہ تر مقامات 4 ہزار میٹر سے کم گہرائی میں ملے تھے، جبکہ فعال نظام کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ گہرائی 4,204 میٹر تھی۔
2023 میں کیے گئے ایک تحقیقاتی مشن کے دوران سائنسدانوں نے 32 بار گہرے سمندر میں ڈوب کر 1,200 کلومیٹر کے علاقے کا جائزہ لیا،اس دوران انہیں 5 فعال وہیل فال اور 476 فوسل سائٹس ملیں، جو 4,616 سے 7,001 میٹر گہرائی تک پھیلی ہوئی تھیں۔
محققین کے مطابق اگر ان اعداد و شمار کو پورے علاقے پر لاگو کیا جائے تو اندازہ ہے کہ اس زون میں 10 ملین سے زائد وہیل باقیات موجود ہو سکتی ہیں تحقیق کے مطابق ان میں سے ایک مقام پر 6,789 میٹر کی گہرائی میں تین چونچ والی وہیل کی ریڑھ کی ہڈی ملی، جو اب تک کا سب سے گہرا فعال وہیل فال نظام ہے۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ ان فوسلز کی عمر کم از کم 53 ملین سال ہے اور ان میں موجود بعض انواع آج بھی موجود ہیں جبکہ کچھ ناپید ہو چکی ہیں ماہرین کے مطا بق ان باقیات میں موجود کاربن کی مقدار لاکھوں ٹن کے برابر ہے، جو سمندر کے ماحولیاتی نظام اور کاربن سائیکل پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے،یہ تحقیق سمند ری حیاتیات، ماحولیاتی ارتقا اور گہرے سمندروں کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
-

پاکستان فیفا ورلڈ کپ میں شریک نہ سہی،مگر ہر کھیل میں پاکستان کا حصہ موجود ہوگا،اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں شریک نہ سہی، مگر ہر پاس، ہر سیو اور ہر گول میں پاکستان کا حصہ موجود ہوگا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ جیسے ہی فیفا ورلڈ کپ 2026میکسیکو، امریکہ اور کینیڈا میں شروع ہو رہا ہے، پاکستان کھیل کے اس عالمی جشن میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل میچ بال سیالکوٹ کے ہنرمند کاریگروں نے تیار کی، پاکستانی محنت کشوں کی مہارت، درستگی اور دستکاری عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر رہی ہے، سیالکوٹ میں تیار کردہ ایڈیڈاس ٹرائیونڈا ورلڈ کپ کے ہر میچ میں استعمال ہوگی، پاکستانی ہنرمندوں کی عالمی معیار کی صلاحیتیں قابل فخر ہیں۔
-

ملک کی سر بلندی اور حتمی فتح تک اپنے موقف پر قائم رہیں گے،ایرانی اسپیکر
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور سربراہ مذاکرات کمیٹی محمد باقر قالیباف نےکہا کہ اپنے شہدا کے مشن کو جاری رکھیں گے اور کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق باقر قالیباف نے گزشتہ برس کی 12 روزہ جنگ کے ایک سال مکمل ہونے پر اپنے بیان میں شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا نے گزشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں تک کو قتل کیا اور کسی جرم یا ظلم سے گریز نہیں کیا یہ کیسی بہادری تھی جو نہتے بچوں پر دکھائی گئی ہم اپنے شہدا کی قربانیوں سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے ملک کی سر بلندی اور حتمی فتح تک اپنے موقف پر قائم رہیں گے اور کبھی اپنی منزل یا مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ اور حماس کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکا کی مدد سے ایران پر گزشتہ برس جون میں شدید حملے کیے تھے جس میں ملکی ایٹمی سائنسدانوں، اہم کمانڈرز اور سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔
-

ٹرمپ کی جی 7 اجلاس کے دوران اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں طے
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ جی 7 اجلاس کے دوران اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں مصروف رہیں گے۔
شیڈول کے مطابق ٹرمپ یوکرینی صدرولودیمیرزیلنسکی کے ساتھ جی 7 کے ورکنگ سیشن میں شرکت کریں گے، جس میں یوکرین جنگ اور یورپی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہےاس کے علاوہ وہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ خصوصی عشائیے میں بھی شریک ہوں گے، جو پیرس کے ایک میوزیم میں منعقد کیا جائے گا۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ کی ملاقاتوں میں متحدہ عرب امارات اورقطرسمیت مشرق وسطیٰ کے دیگراہم رہنماؤں سے بھی بات چیت شامل ہے، جس میں خطے کی سیکیورٹی، توانائی اور سفارتی تعاون زیرغورآئے گا ٹرمپ فرانس اورمصر کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن کا مقصد عالمی سطح پر جاری کشیدگی، اقتصادی تعاون اور علاقائی تنازعات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
-

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026: پاک بھارت ٹاکرا کل ہو گا
ویمنز ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اپنا پہلا میچ روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم اپنا پہلا میچ کل 14 جون کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گی یہ اہم اور سنسنی خیز مقابلہ برمنگھم کے تاریخی ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے زیراہتمام ٹی 20 ویمن ورلڈ کپ 12 جون سے 5 جولائی تک جاری رہےگایہ ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سےبڑا ایونٹ ہےٹورنامنٹ میں پہلی بار 12 ٹیمیں حصہ لےرہی ہیں ۔
ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر 7 مختلف مقامات پر 33 میچز کھیلے جائیں گے، جبکہ فائنل 5 جولائی کو لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا روایتی حریف بھارت کے خلاف پہلے میچ کے بعد پاکستان اپنا دوسرا میچ 17 جون کو جنوبی افریقہ، تیسرا میچ 20 جون کو بنگلادیش، چوتھا میچ 23 جون کو آسٹریلیا اور پانچواں میچ 27 جون کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گا۔
پاکستانی ٹیم کو ’گروپ ون‘ میں رکھا گیا ہے، جہاں اسے 6 مرتبہ کی چیمپیئن آسٹریلیا، بھارت، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور نیدرلینڈز کا چیلنج درپیش ہوگا، ’گروپ ٹو‘ میں دفاعی چیمپیئن نیوزی لینڈ، میزبان انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ شامل ہیں۔ دونوں گروپس کی ٹاپ 2 ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی، جو 30 جون اور 2 جولائی کو کھیلے جائیں گے۔
قومی ٹیم کی قیادت نوجوان آل راؤنڈر فاطمہ ثنا کر رہی ہیں، جو مسلسل دوسرے ٹی20 ورلڈ کپ میں کپتانی کے فرائض انجام دیں گی 24 سالہ فاطمہ ثنا حالیہ عرصے میں شاندار فارم میں ہیں،انہوں نے گزشتہ ماہ کراچی میں زمبابوے کے خلاف سیریز کے دوران صرف 15 گیندوں پر نصف سنچری بنا کر ویمنز ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ کی ’تیز ترین ففٹی‘ کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کیا تھا۔
پاکستان ویمنز ٹیم کے مینٹور وہاب ریاض نے ٹیم کی صلاحیتوں پر پختہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کھلاڑیوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران سخت محنت کی ہے اور یہ نوجوان و پُرجوش ٹیم ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ہماری توجہ ’بے خوف‘ اور مثبت کرکٹ کھیلنے پر ہے اگر کھلاڑی اپنی اصل صلاحیتوں کے مطابق کھیلے، تو ٹیم سیمی فائنل تک لازمی رسائی حاصل کر سکتی ہے۔
-

حکومت کا 2 ایڈہاک الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے دو پرانے ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنا اور ان کی مالی مشکلات میں کمی لانا ہےسال 2022 کا 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس اور سال 2025 کا 10 فیصد ایڈہاک الاؤنس اب مستقل طور پر بنیادی تنخواہ کا حصہ بنا دیا گیا ہےاس فیصلے سےسرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہو گا جس کے اثرات مستقبل میں ملنے والی مراعات، پنشن اور دیگر الاؤنسز پر بھی مرتب ہوں گے۔
وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنسمیں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی ہے یہ فیصلہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور روزمرہ سفری اخراجات میں اضافے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے تاکہ ملازمین کو مالی سہولت فراہم کی جا سکے ان اقدامات سے ملازمین کے معیار زندگی میں بہتر ی آئے گی جبکہ بنیادی تنخواہ بڑھنے کے باعث ہاؤس رینٹ سمیت دیگر مراعات کا حجم بھی خود بخود بڑھ جائے گا حکومت نے اسے موجودہ معاشی حالا ت میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا ہے۔