Baaghi TV

Blog

  • امریکی کلب ڈانسر نے  ایران کے خلاف نئی ممکنہ فوجی تعیناتیوں کا پردہ فاش کر دیا

    امریکی کلب ڈانسر نے ایران کے خلاف نئی ممکنہ فوجی تعیناتیوں کا پردہ فاش کر دیا

    امریکا کے شہر سان ڈیاگو سے تعلق رکھنے والی ایک کلب ڈانسر چارم ڈیز نے ٹک ٹاک ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ نوجوان امریکی فوجی اپنی اگلی تعیناتیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف ممکنہ جنگی مشن کے حوالے سے حساس معلومات عام جگہوں پر شیئر کر رہے ہیں۔

    ویڈیو میں چارم نے بتایا کہ حال ہی میں بڑی فوجی چھاؤنیوں کے قریب واقع کلبوں میں اُداس اور پریشان حال فوجیوں کا رش بڑھ گیا ہے جو اپنی روانگی سے قبل بڑی رقم خرچ کر رہے ہیں کئی نوجوان فوجیوں نے انہیں صاف بتایا کہ وہ اگلے ہفتے ایران کے خلاف محاذ پر روانہ ہو رہے ہیں، جن میں سے کئی بہت ہی کم عمر اور معصوم شکلوں والے ہیں۔

    سان ڈیاگو کا علاقہ امریکا کے بڑے فوجی مراکز کے قریب واقع ہے جہاں بحری اور زمینی فوج کے اہم اڈے موجود ہیں اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد یہ قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے پیشِ نظر امریکا کسی بڑی عسکری کارروائی کی تیاری کر رہا ہے،ہزاروں اضافی امریکی فوجی، جن میں میرین یونٹس اور ایلیٹ فورسز شامل ہیں، پہلے ہی خطے میں پوزیشن سنبھال چکے ہیں۔

    امریکی عوام میں اس ممکنہ جنگ کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور کئی خاندان اسے ایک غیر ضروری تنازع قرار دے کر اپنے پیاروں کی زندگیوں کے بارے میں فکر مند ہیں اگرچہ پینٹاگون کی جانب سے ان معلومات کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی اور ویڈیو بنانے والی خاتون نے اسے محض ایک ذاتی مشاہدہ قرار دیا ہے، لیکن اس واقعے نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے دور میں فوجی رازوں کو چھپانا کتنا مشکل ہو چکا ہے۔

  • ناسا کا  مشن ’آرٹیمس ٹو‘ 53 سال بعد انسان کو لے کر چاند کی جانب روانہ

    ناسا کا مشن ’آرٹیمس ٹو‘ 53 سال بعد انسان کو لے کر چاند کی جانب روانہ

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے 53 سال بعد پہلی بار انسانوں کو چاند کے گرد بھیجنے کے لیے آرٹیمس ٹو مشن کامیابی سے لانچ کر دیا ہے۔

    یہ راکٹ فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے یکم اپریل 2026 کو 6 بجکر 35 منٹ پر روانہ ہوا، جس میں چار خلا باز سوار ہیں یہ مشن مستقبل میں چاند پر دوبارہ انسان اتارنے کی تیاری کا اہم حصہ ہے یہ سفر کئی لحاظ سے تاریخی ہے کیونکہ یہ خلا میں اب تک کے طویل ترین فاصلے، یعنی 2 لاکھ 52 ہزار (4 لاکھ 6 ہزارکلومیٹر) تک سفر کرے گا، جو اپولو 13 کے ریکارڈ سے بھی آگے ہے آخری بار جب انسانوں نے چاند کی سطح پر قدم رکھے تھے، وہ 1972 میں ’اپولو‘ کا آخری مشن تھا –

    مشن ’آرٹیمس ٹو‘ میں ٹیم کی قیادت ریڈ وائزمین بطور کمانڈر کر رہے ہیں، جبکہ کرسٹینا کوچ چاند کے کسی بھی مشن کا حصہ بننے والی پہلی خاتون خلانورد بن گئی ہیں ان کے ہمراہ وکٹر گلوور چاند کی جانب سفر کرنے والے پہلے سیاہ فام خلانورد کے طور پر اپنی شناخت بنا رہے ہیں، اور جیرمی ہینسن کا تعلق کینیڈا سے ہے جو اس مشن میں شامل ہونے والے پہلے غیر ملکی خلانورد ہیں۔

    ناسا حکام کے مطابق یہ مشن نہ صرف چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے خواب کو حقیقت کے قریب لانے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں مریخ تک انسانی رسائی کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

    ادارے کے ایڈمنسٹریٹر جیریڈ آئزک مین نے کہا کہ امریکہ 2028 تک چاند کے جنوبی قطب پر انسان اتارنے کا ہدف رکھتا ہے، تاکہ چین کے متوقع 2030 کے مشن سے پہلے برتری حاصل کی جا سکے۔ یہ کوشش چین کے ساتھ ایک نئی خلائی دوڑ کا بھی حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

    لانچ کے بعد خلائی جہاز نے کامیابی سے اپنے ابتدائی مراحل مکمل کیے، اور خلا بازوں نے دستی طور پر جہاز کو کنٹرول کرنے کی مشق بھی کی اس سے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ اگر خودکار نظام میں کوئی خرابی ہو جائے تو خلا باز خود جہاز کو سنبھال سکیں یہ مشن نہ صرف سائنسی لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہ مستقبل میں مریخ جیسے سیاروں تک انسانی سفر کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ اس کامیابی کو دنیا بھر میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • بھارت انٹرنیٹ بندش کرنے والے بدترین ممالک میں سرفہرست

    بھارت انٹرنیٹ بندش کرنے والے بدترین ممالک میں سرفہرست

    بھارت آمرانہ طرز حکومت کے تحت انٹرنیٹ بندش کرنے والے بدترین ممالک میں سرفہرست آگیا،انتہا پسند نظریات اور اندرونی خلفشار میں ڈوبا بھارت انٹرنیٹ بندش سے حقائق کو چھپانے میں مصروف ہے عالمی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم ایکسز ناؤ کی رپورٹ نے بھارتی نام نہاد جمہوریت کے دعوے کو عیاں کر دیا۔

    بھارتی جریدے دی انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت 2025میں 65مرتبہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن سے بدترین ممالک میں سرفہرست ہے گزشتہ سال میں بھارت میں کیا گیا انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کسی بھی جمہوری ملک میں سب سے زیادہ ہے بھارت میں 2018میں 134اور2019میں 121مرتبہ انٹرنیٹ مکمل طور پر معطل کیا گیا 12ریاستوں اور علاقوں میں بار بار اندرونی خلفشار، تشدد اور تنازعات پر انٹرنیٹ بند کیا گیا بھارت اب بھی لوگوں کی آواز پر کنٹرول کو ترجیح دیتا ہے جو قطعاً جمہوری اقدار نہیں ۔

    عالمی ماہرین کے مطابق تلخ حقائق کو چھپانے کے لیے بار بار انٹرنیٹ کی بندش بھارت میں بڑھتے اندرونی خلفشار کا واضح ثبوت ہے بی جے پی حکومت ہندوتوا کے انتہاپسند ایجنڈے کے تحت جاری ظلم و جبر کو چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈےاختیار کر رہی ہے۔

  • سوئٹزرلینڈ کا امریکی فضائی دفاعی نظام  کی خریداری روکنے پر غور

    سوئٹزرلینڈ کا امریکی فضائی دفاعی نظام کی خریداری روکنے پر غور

    سوئٹزرلینڈ نے امریکا سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے لیے ادائیگیاں روکنے کا فیصلہ کرلیا ہے-

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوئس حکومت نے بدھ کو جاری بیان میں کہا ہے کہ پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی فراہمی کا شیڈول تاحال غیر یقینی کا شکار ہے، جبکہ ادائیگیوں کے مراحل بھی واضح نہیں ہیں، جس کے باعث ادائیگی روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے حکومت نے یہ بھی عندیہ دیا کہ معاہدہ ختم کرنا بھی ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیر غور ہے۔

    سوئٹزرلینڈ کے وزیر دفاع مارٹن فِسٹر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت اب بھی اس دفاعی نظام کے حصول کی خواہاں ہے، تاہم تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لیا جارہا ہےہم اس وقت امریکا کے ساتھ تمام ممکنہ راستوں پر بات چیت کر رہے ہیں، جن میں معاہدہ ختم کرنے کا امکان بھی شامل ہے، کسی بھی ممکنہ منسوخی کی شرائط ابھی واضح نہیں ہیں اور اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔

    دوسری جانب سوئس حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ایف-35 اے لڑاکا طیاروں کی خریداری سے متعلق ادائیگی کو مارچ 2026 کے اختتام تک پہلے ہی منتقل کردیا گیا ہے، تاکہ پیٹریاٹ سسٹم سے متعلق فیصلوں کے باعث اس اہم دفاعی منصوبے کی فراہمی متاثر نہ ہو پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی خریداری کے حوالے سے آئندہ کے اقدامات سے متعلق جون کے اختتام تک وفاقی کونسل کو آگاہ کردیا جائے گا۔

  • کوہ پیماؤں کو جان بوجھ کر بیمار کر کے  مہنگے ہیلی کاپٹر ریسکیو کے نام پر کروڑوں ڈالر کا فراڈ

    کوہ پیماؤں کو جان بوجھ کر بیمار کر کے مہنگے ہیلی کاپٹر ریسکیو کے نام پر کروڑوں ڈالر کا فراڈ

    نیپال میں ایورسٹ ٹریکنگ کے دوران سیاحوں کو مبینہ طور پر جان بوجھ کر بیمار کیا جاتا رہا تاکہ مہنگے ہیلی کاپٹر ریسکیو کے نام پر کروڑوں ڈالر کا فراڈ کیا جا سکے۔

    نیپالی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ پر ٹریکنگ کروانے والے گائیڈز پر الزام ہے کہ وہ سیاحوں کے کھانے میں بیکنگ سوڈا ملا کر انہیں بیمار کرتے تھے، جس سے شدید معدے کے مسائل پیدا ہوتے اور یہ علامات بلندی کی بیماری یا فوڈ پوائزننگ جیسی محسوس ہوتی تھیں جب سیاح بیمار ہو جاتے تو انہیں فوری طور پر مہنگے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کے لیے آمادہ کیا جاتا اس دوران مبینہ طور پر جعلی میڈیکل رپورٹس اور فلائٹ دستاویزات کے ذریعے بین الاقوامی انشورنس کمپنیوں سے بھاری رقوم وصول کی جاتی تھیں۔

    نیپال پولیس نے اس بڑے فراڈ میں ملوث 32 افراد پر فردِ جرم عائد کر دی ہے، جن میں ٹریکنگ کمپنیوں کے مالکان، ہیلی کاپٹر آپریٹرز اور ہسپتالوں کے افسران شامل ہیں اس منظم نیٹ ورک کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم گائیڈز، کمپنیوں، ہسپتالوں اور دیگر متعلقہ افراد میں تقسیم کی جاتی تھی تحقیقات کا آغاز جنوری میں ہوا جب تین بڑی ریسکیو کمپنیوں کے 6 افسران کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ اس اسکیم کے ذریعے کم از کم 1 کروڑ 96 لاکھ 90 ہزار ڈالر حاصل کیے گئے۔کوہ

    ایک کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے 1,248 ریسکیو دعووں میں سے 171 جعلی بنائے اور 1 کروڑ ڈالر سے زائد رقم وصول کی، جبکہ دوسری کمپنی نے 471 میں سے 75 جعلی دعوے کر کے 80 لاکھ ڈالر حاصل کیے۔ اسی طرح ایک اور کمپنی نے 71 جعلی کیسز کے ذریعے 10 لاکھ ڈالر سے زائد بٹورے ،استغاثہ نے ملزمان پر مجموعی طور پر 1 کروڑ 13 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کرنے کی استدعا کی ہے، جبکہ عدالت نے کیس کو اہم قرار دیتے ہوئے اسے ترجیحی بنیادوں پر سنا جا رہا ہے۔

    یہ نیپال کی سیاحت کی صنعت میں پہلا اسکینڈل نہیں، جہاں دس لاکھ سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے بڑھتے ہوئے فراڈ کے باعث کئی بین الاقوامی انشورنس کمپنیوں نے حالیہ عرصے میں نیپال میں ٹریکنگ کرنے والے سیاحوں کو انشورنس فراہم کرنا بھی بند کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ 2018 میں نیپال حکومت نے ایمرجنسی ریسکیو کے نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے درمیانی ایجنٹس کو ختم کیا تھا اور ٹور آپریٹرز کو سیاحوں کی مکمل ذمہ داری سونپی تھی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ فراڈ جاری رہا۔

  • اقوامِ متحدہ کے امن مشنز پر حملے ایک خطرناک  رجحان کا حصہ ہیں،عاصم افتخار احمد

    اقوامِ متحدہ کے امن مشنز پر حملے ایک خطرناک رجحان کا حصہ ہیں،عاصم افتخار احمد

    پاکستان نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے تحت خدمات انجام دینے والے 3 انڈونیشین اہلکاروں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ عالمی قانون، امن مشنز اور بین الاقوامی برادری کے اجتماعی امن کے عزم پر کاری ضرب ہے۔

    جنوبی لبنان میں 2 اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں گزشتہ 2 روز کے دوران 3 انڈونیشین امن اہلکار جاں بحق ہوئے، خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب حزب اللہ نے مارچ کے آغاز میں اسرائیل پر حملے کیے، جس کے بعد لبنان بھی تنازع کا حصہ بن گیا۔

    پاکستانی مندوب نے کہا کہ امن دستوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکار غیر جانبدار ہوتے ہیں اور ان پر حملہ عالمی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 600 سے زائد شہری ہلاک، 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر جبکہ بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے ایسے اقدامات لبنان کی حکومت کی امن و استحکام کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    انہوں نے زور دیا کہ امن اہلکاروں کی حفاظت میں ناکامی نہ صرف سلامتی کونسل بلکہ عالمی قانون اور امن مشنز کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے، لہٰذا ذمہ داران کا احتساب ناگزیر ہے،پاکستان نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے،اقوامِ متحدہ کے امن مشنز پر حملے کوئی الگ واقعات نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کا حصہ ہیں، جسے معمول نہیں بننے دیا جا سکتا۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان امن مشنز میں نمایاں کردار ادا کرنے والا ملک ہے اور اب تک 182 اہلکار فرض کی ادائیگی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، اس لیے پاکستان اس نقصان کے درد کو بخوبی سمجھتا ہے،پاکستان نے انڈونیشیا کی حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی، آخر میں پاکستانی مندوب نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور نومبر 2024 کے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔

  • ٹرمپ کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی

    ٹرمپ کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں مندی دیکھی گئی ہے –

    جاپان کی نکی 225 میں 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ کوسپی 2.6 فیصد نیچے آ گئی، اسی طرح ہانک کانگ کی ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی تقریباً 1 فیصد کمی دیکھی گئی،مارکیٹ ماہرین کے مطابق خطے کی اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ اس وقت سے جاری ہے جب فروری کے آخر میں ایران سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہواایشیا کی معیشتیں توانائی کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتی ہیں، اسی لیے کسی بھی تنازع کے اثرات فوری طور پر مالیاتی منڈیوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی خطاب کے دوران وائٹ ہاؤس کے کراس ہال میں اعلیٰ امریکی عسکری اور سیاسی قیادت بھی موجود رہی برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق خطاب کے دوران امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین اور پیٹ ہیگسیٹ نے بھی خطاب کو براہ راست سنا اس کے علاوہ وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت ٹرمپ کابینہ کے دیگر ارکان نے بھی اس موقع پر شرکت کی تقریب کے دوران اعلیٰ فوجی حکام کی موجودگی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب قوم سے خطاب میں امریکا کی معیشت، ایران کی صورتحال اور تیل سے متعلق کئی بڑے دعوے کیے، تاہم حقائق جانچنے والے تجزیوں میں ان کے کئی بیانات کو گمراہ کن یا مبالغہ آمیز قرار دیا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ حکومت میں امریکا ایک مردہ اور تباہ حال ملک تھا جسے انہوں نے دنیا کی سب سے مضبوط معیشت میں تبدیل کردیا اور مہنگائی کا مکمل خاتمہ کردیا تاہم حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے آخری سال 2024 میں امریکی معیشت (جی ڈی پی) میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا، جو دنیا کے امیر ممالک میں نمایاں تھا۔ 2021 سے 2023 کے دوران بھی امریکی معیشت مستحکم رہی۔

    خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں تھا، تاہم جنگ کے نتیجے میں وہاں رجیم چینج ہوچکا اور نئی قیادت پہلے سے زیادہ معتدل ہےحقیقت میں یہ دعویٰ بھی متنازع قرار دیا جارہا ہے۔ جنگ کے آغاز پر 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے، جس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر بنایا گیا، جنہیں زیادہ سخت مؤقف رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب (ریولوشنری گارڈ) کا اثر و رسوخ مزید بڑھا ہے، جبکہ سویلین حکومت کا کنٹرول محدود بتایا جاتا ہےیہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا اشارہ دیا گیا تھا، تاہم ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت نے حالیہ مظاہروں میں اپنے ہی 45 ہزار شہریوں کو ہلاک کیا، تاہم اس تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    امریکا میں قائم تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسنی کے مطابق ملک گیر مظاہروں میں تقریباً 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ہزاروں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ان کی تصدیق ممکن نہیں۔ اسی تنظیم کے مطابق 53 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ایرانی حکومت نے 21 جنوری کو اپنی رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 113 بتائی تھی اس سے قبل بھی ٹرمپ 32 ہزار ہلاکتوں کا دعویٰ کرچکے ہیں، تاہم اس کے لیے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

  • ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر کی عدم فعالیت پر صحافی برادری کا اظہار تشویش

    ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر کی عدم فعالیت پر صحافی برادری کا اظہار تشویش

    قصور میں ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر کی عدم فعالیت، انتظامیہ اور صحافیوں کے درمیان رابطے متاثر
    قصور: ضلع قصور میں ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر کی پوسٹ عملاً غیر فعال ہونے کے باعث انتظامیہ اور صحافتی حلقوں کے درمیان روابط شدید تعطل اور بدنظمی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اطلاعات کی بروقت فراہمی، سرکاری مؤقف کی وضاحت اور میڈیا کو آگاہی دینے کا نظام تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، جس سے نہ صرف صحافی برادری کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ عوام تک درست اور بروقت معلومات کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔
    صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفس کی غیر مؤثر کارکردگی کے باعث خبریں حاصل کرنے اور تصدیق کرنے میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہے، جبکہ کئی اہم معاملات میں سرکاری موقف سامنے نہ آنے سے افواہوں کو بھی تقویت مل رہی ہے۔
    مزید برآں، ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفس کے لیے لاکھوں روپے ماہانہ کرایہ پر حاصل کی گئی کوٹھی حکومتی وسائل پر بوجھ بنی ہوئی ہے، جبکہ اس کے برعکس کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس صورتحال پر صحافیوں اور شہری حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    مقامی صحافیوں نے تجویز دی ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہنی ہے تو مذکورہ دفتر کو ختم کر کے ڈی سی آفس کے کسی حصے میں ایک سادہ سی ورک اسٹیشن قائم کر دیا جائے، تاکہ حکومت کی جاری کفایت شعاری مہم کے تحت بجلی، کرایہ اور پٹرول کی مد میں ماہانہ لاکھوں روپے کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔
    صحافتی و سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیا جائے، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفس کو فعال بنایا جائے اور میڈیا و انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ عوام کو بروقت اور مستند معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

  • آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا،فرانس

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا،فرانس

    فرانس کے نیول چیف ایڈمرل نکولس ووجور نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل بحال کرنے کے موجودہ اقدامات ناکافی ہیں، اس معاملے پر چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز پیرس میں منعقدہ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی نیول چیف نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے چین کو کردار ادا کرنا پڑے گا، اب تک چین کی بحریہ کو آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے عملی اقدام کرتے نہیں دیکھا گیا، چینی اور ایرانی حکام کے درمیان جہازوں کی محدود آمد و رفت کے حوالے سے سیاسی سطح پر رابطے جاری ہیں تاہم یہ اقدامات معمول کی بحر ی ٹریفک بحال کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے، اسی لیے چین کو اس معاملے میں براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے اپنی بے چینی ظاہر کرنا ہوگی۔

    ایڈمرل ووجور کے مطابق فرانس اس معاملے پر دیگر ممالک کو ایک میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ سیاسی سطح پر یہ طے کیا جا سکے کہ آبنائے ہرمز کو مستقل بنیادوں پر کن شرائط کے تحت دوبارہ کھولا جا سکتا ہے ،طے ہوجانے کے بعد شرائط طے ہوجانے کے بعد اس عمل کی نگرانی کے لیے فوجی کردار بھی ضروری ہوگا، جس کے لیے ماضی میں یورپی یونین کے تحت چلنے والے ’ایجینور مشن‘ جیسے ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ماہرین آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائے کے حوالے سے بھی جائزہ لے رہے ہیں، جنہیں ہٹانا ضروری ہوگا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوئی، یہ معاملہ صرف فرانس کا نہیں بلکہ خلیجی ممالک، امریکا اور دیگر یورپی ممالک سمیت تمام شراکت داروں کے لیے اہم ہے اور اس پر مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔

  • میشا شفیع کا علی ظفر کے حق میں عدالتی فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کر نے کا اعلان

    میشا شفیع کا علی ظفر کے حق میں عدالتی فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کر نے کا اعلان

    لاہور: گلوکارہ میشا شفیع نے علی ظفر کے حق میں سیشن کورٹ کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔

    گلوکارہ میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے سیشن کورٹ کے حالیہ فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے، پہلے سیشن کورٹ کے فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کی جائے گی، اور اس کا تفصیلی قانونی جائزہ لیا جائے گاتمام قانونی نکات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد فیصلے کے خلاف باقاعدہ اپیل دائر کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے گلوکار علی ظفر کے دائر کردہ ہتک عزت کے دعوے میں میشا شفیع کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے انہیں 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا یہ کیس 2018 میں سامنے آنے والے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد شروع ہوا تھا اور کئی برسوں تک عدالت میں زیر سماعت رہا،مقدمے کی طوالت میں 283 پیشیاں ہوئیں اور 20 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، کیس کی سماعت کے دوران 8 سالوں میں 9 بار جج تبدیل ہوئے، اور بالآخر عدالت نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ دیا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ میشا شفیع کا 19 اپریل 2018 کو علی ظفر کے خلاف کیا گیا ٹوئٹ ہتک آمیز، غلط اور جھوٹا ثابت ہوا۔ میشا شفیع کے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ جبکہ درخواست گزار عزت نفس مجروح ہونے، شہرت کو نقصان پہنچنے اور ذہنی ازیت کا شکار ہونے پر ہرجانے کا حق دار ہے،میشا شفیع سوشل میڈیا یا کسی اور پلیٹ فارم پر دوبارہ علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات نہیں لگائیں گی۔