Baaghi TV

Blog

  • ایران نے ٹرمپ کے  جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران نے ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران نے جنگ بندی کی کوئی پیشکش نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرِ غور ہے۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’آئی آر آئی بی نیوز‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی فریق کو جنگ بندی کی پیشکش نہیں کی، امریکا اور اسرائیل کو سزا اور ایران کو ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ نہ ملنے تک جنگ جاری رہے گی، میڈیا میں سامنے آنے والے مبینہ پانچ نکاتی پلان کی خبریں سچائی پر مبنی نہیں بلکہ قیاس آرائی ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ابھی امریکا کے ساتھ مذاکرات یا سفارت کاری کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ امریکا نے ماضی میں بھی مذاکرات کو اپنے مطالبات منوانے یا حملوں کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

    مصر کے روزنامے ’المصری الیوم‘ کو دیے گئے انٹرویو اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں اب کسی کو بھی امریکی سفارت کاری پر بھروسہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ طاقت کے استعمال سے پہلے دھیان بھٹکانے کے لیے مذاکرات کرتے ہیں۔

    ایران کی جانب سے یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے نئے رہنما نے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، تاہم وہ جنگ بندی پر تب ہی غور کریں گے جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گااس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کے دعوے کرچکے ہیں تاہم ایرانی حکام مسلسل ان دعوؤں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

  • پاک نیوی اور چین کی مشترکہ بحری مشق سی گارڈین اختتام پذیر

    پاک نیوی اور چین کی مشترکہ بحری مشق سی گارڈین اختتام پذیر

    پاکستان اور چین کی بحریہ کی 7 روزہ مشترکہ مشق سی گارڈین کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک بحریہ اور پی ایل اے (چینی نیوی) کے مابین 25 مارچ تا یکم اپریل بحری مشق سی گارڈین 4 منعقد ہوئی۔ اس مشق کا مقصد دونوں بحری افواج کے مابین باہمی اشتراکِ اور میری ٹائم تعاون کو فروغ دینا تھا یہ مشق دو مراحل پر مشتمل تھی، جس میں پانچ روزہ کراچی پورٹ کا دورہ اور شمالی بحیرۂ عرب میں دو روزہ سی فیز شامل تھے مشق سی گارڈین 4 میں شمولیت کے لیے پی ایل اے (نیوی) کے جہاز داچنگ کی آمد پر پی این ایس تیمور نے پرتپاک استقبال کیا گیا تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مشق کے دوران مختلف دوطرفہ سرگرمیاں منعقد ہوئیں جن میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں پر دورے، بحری چیلنجز پر پیشہ ورانہ مباحثے، بحری تنصیبات کے دورے، پہلے ینگ آفیسرز سیمینار کا انعقاد اور سی فیز کی تیاری شامل تھی پورٹ وزٹ کے اختتام پر پاک بحریہ اور پی ایل اے (نیوی) کے جہازوں نے مشق سی گارڈین کے سی فیز میں حصہ لیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سی فیز کے دوران اہم سرگرمیوں میں فضائی دفاعی مشقیں بشمول متعدد محاذوں ہرحملوں سے نمٹنے کی حکمتِ عملی، پاک بحریہ کی آبدوز کے ساتھ مشقیں، روایتی جنگی مشقیں اور لائیو گنری فائرنگ شامل تھی، جس سے دونوں بحری افواج کے مابین تعاون مضبوط ہوا مشق سی گارڈین 4 کے کامیاب اختتام کے بعد پاک بحریہ اور پی ایل اے (نیوی) نے بحیرۂ عرب میں مشترکہ گشت بھی کیا، جو خطے میں سمندری سلامتی اور استحکام کے لیے دونوں بحری افواج کے عزم کا مظہر ہے۔

  • ایران کا اسرائیل کے ایئرپورٹ پر آواکس طیاروں پر حملے کا دعویٰ

    ایران کا اسرائیل کے ایئرپورٹ پر آواکس طیاروں پر حملے کا دعویٰ

    ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی فوج نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی عسکری تنصیبات، آواکس طیاروں اور ری فیولنگ جہازوں کے مقامات پر سو سے زائد میزائل اور ڈرونز داغے ہیں۔

    ایران کی اسلامی جمہوریہ کی فوج نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں، خصوصاً شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے بعد، ایرانی فوج نے صبح سے جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

    ایرانی فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اسرائیل کے تل ابیب، ایلات اور بنی براک میں فوجی مراکز، بن گوریون ایئرپورٹ پر موجود امریکی آواکس اور ری فیولنگ طیارے، میزائل اور ڈرون کی نگرانی کرنے والے ریڈار نظام، اور اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں ڈرون کے خلاف استعمال ہونے والے الیکٹرانک جنگی مراکز شامل ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سے قبل بھی ایرانی فوج خطے میں امریکی اڈوں اور مقبوضہ علاقوں میں فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنا چکی ہے سیٹلائٹ نگرانی اور دستیاب معلومات کے مطابق ان حملوں سے متعلقہ مراکز کو شدید نقصان پہنچا، جس سے فوجی کارروائیوں، فضائی مدد اور میزائل و ڈرون کی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہوئی۔

    ایرانی فوج نے مزید کہا کہ اس حملے میں دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے جدید ’آرش ٹو‘ ڈرون بھی استعمال کیے گئےایرانی فوج کے تمام اہلکار بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے اور دشمن کو اس کے اقدامات پر پچھتانے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    ایران کی ہلالِ احمر نے ملک میں حالیہ حملوں کے بعد شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق تازہ تفصیلات جاری کی ہیں۔ ہلالِ احمر کے مطابق حالیہ حملوں میں ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد شہری یونٹس متاثر یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جن میں رہائشی عمارتیں، طبی مراکز، تعلیمی ادارے اور امدادی مراکز شامل ہیں، متاثرہ عمارتوں کا ایک بڑا حصہ تہران صوبے میں واقع ہے، جہاں حملوں کے باعث خاصا نقصان ہوا۔ ہلالِ احمر نے مزید بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک کم از کم ایک ہزار پانچ سو چھبیس افراد کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔

    دریں اثنا، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں سو سے زائد بھاری میزائل اور حملہ آور ڈرون استعمال کیے گئے، جب کہ اس کے ساتھ کم از کم دو سو راکٹ بھی فائر کیے گئے۔ بیان کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے کیے گئے، جن میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت بھی شامل تھی۔

  • اوگرا کی ایل پی جی سرکاری قیمتوں پر فروخت کرنے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت

    اوگرا کی ایل پی جی سرکاری قیمتوں پر فروخت کرنے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی سرکاری قیمت میں فروخت کرنے کی سخت ہدایت کردی۔

    اوگرا نے مارکیٹنگ کمپنیوں کو سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ 11.8 کلو سلنڈر کی مقررہ قیمت نمایاں طور پر ظاہر کی جائیں، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی اس کے علاوہ اوگرا نے ایل پی جی پلانٹس اور ڈسٹری بیوٹرز کی چیکنگ کیلئے فیلڈ انسپیکشن بھی جاری کردیا۔

    اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیلز انوائسز اور گیٹ پاسز پر سلنڈر ریٹ واضح لکھنا لازمی ہے جبکہ صارفین سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔اوگرا انفورسمنٹ ٹیمیں ملک بھر میں متحرک،زائد قیمتوں پر ایکشن ہوگا۔

  • ٹیلی کام کمپنیاں بینکوں سےمیسجز کے بھاری چارجز وصول کر رہی ہیں،صدر  پنجاب بینک

    ٹیلی کام کمپنیاں بینکوں سےمیسجز کے بھاری چارجز وصول کر رہی ہیں،صدر پنجاب بینک

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیلی کام کمپنیوں سے بینک کی جانب سے بھیجے جانے والے پیغامات مکمل تفصیلات طلب کر لیں-

    تفصیلات کے مطابق چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کےاجلاس میں بینک صارفین کو بھیجے جانے والے ایس ایم ایس پیغامات پر ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے وصول کیے جانے والے چارجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں بینکنگ ایسوسی ایشن اور اسٹیٹ بینک حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔

    صدر بینک آف پنجاب نے بتایا کہ بینک صارفین سے دو طرح کے چارجز وصول کیے جاتے ہیں جن میں ریگولیٹری اور اختیاری چارجز شامل ہیں ان کے مطابق ریگولیٹری چارجز اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے تحت لازمی ہوتے ہیں جبکہ صارف کی مرضی سے بھیجے جانے والے پیغامات پر علیحدہ چارجز لیے جاتے ہیں،بینک صارفین کو فراہم کی جانے والی سروسز کے باوجود بینک اپنی مکمل لاگت بھی وصول نہیں کر پا رہے جبکہ 2021 سے اب تک چارجز میں 88 فیصد اضافہ ہو چکا ہے ٹیلی کام کمپنیاں بینکوں سے بھاری چارجز وصول کر رہی ہیں۔

    اس موقع پر اسٹیٹ بینک حکام نے وضاحت کی کہ لازمی نوعیت کے پیغامات پر صارفین سے کوئی چارجز وصول نہیں کیے جاتے اور بینکوں پر لازم ہے کہ وہ ایس ایم ایس سروس کے چارجز واضح طور پر صارفین کو آگاہ کریں بینکوں نے صارفین سے مجموعی طور پر 18 ارب 70 کروڑ روپے وصول کیے جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو 25 ارب 60 کروڑ روپے ادا کیے گئے یوں بینکوں کو تقریباً 7 ارب روپے اپنی جیب سے ادا کرنا پڑےمختلف ٹیلی کام کمپنیوں نے اربوں رو پے کی وصولی کی جن میں جاز، ایس سی او، یوفون اور زونگ شامل ہیں۔

    اسٹیٹ بینک حکام کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام کمپنیاں بینکوں سے ایس ایم ایس سروس کے لیے پانچ گنا زیادہ چارجز وصول کر رہی ہیں، جبکہ 2021 میں ایک ایس ایم ایس کی قیمت تقریباً 48 پیسے تھی جو 2026 میں بڑھ کر 3 روپے تک پہنچ چکی ہے، اجلاس کے اختتام پر قائمہ کمیٹی نے ٹیلی کام کمپنیوں سے مکمل تفصیلات طلب کر لیں تاکہ بڑھتے ہوئے چارجز کی وجوہات کا جائزہ لیا جا سکے اور صارفین کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔-

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ عنقریب ختم کرنے کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آگئی۔

    بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تین فی صد کمی کے بعد 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں تیل کی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیان کے بعد واقع ہوئی ہےامریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ’بہت جلد‘ ایران سے نکل جائے گا اور فوجی کارروائیاں دو یا تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہیں۔

    تاہم، برینٹ خام تیل کی قیمتیں ایران جنگ کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی 39 فی صد زیادہ ہیں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک اہم راستے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کیا ہوا ہے عالمی تیل کی تجارت کا 20 فی صد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

  • یو اے ای کا ایران کے 5 میزائل، 35 ڈرون گرانے کا دعویٰ

    یو اے ای کا ایران کے 5 میزائل، 35 ڈرون گرانے کا دعویٰ

    متحدہ عرب مارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ فضائی دفاع نے آج 5 بلیسٹک میزائل اور 35 ڈرونز مار گرائے ہیں

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے فائر کیے گئے 5 بلیسٹک میزائل اور 35 ڈرونز مار گرائے ہیں، جس کے بعد اب تک گرائے گئے ایرانی میزائلوں کی تعداد بڑھ کر 438 اور ڈرونز کی تعداد دو ہزار 12 ہوگئی ہے۔

    اس سے قبل مقامی میڈیا نے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے علاقے ال قووین میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک اور شہری جاں بحق ہوگیا ہے، اس کے علاوہ فجیرہ میں علی الصبح ناکارہ بنائے گئے ڈرون کا ملبہ لگنے سے بھی ایک شہری دم توڑ گیا تھا۔

    ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کی اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات پر ڈرونز اور میزائل گرنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں اور اسی دوران ایک ہزار 232 ایرانی شہر دبئی سے واپس ایران پہنچ گئے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ دبئی سے اکثر ایرانی افغانستان اور آرمینہ کے راستے واپس آ رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروزیں معطل ہیں جبکہ ایرانی حکومت نے متحدہ عرب امارات سے درخواست کی ہے کہ ان کے شہریوں کو بحری جہازوں کے ذریعے واپس بھیج دیا جائے۔

  • ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا

    ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے تاہم اس درخواست پر آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد ہی اس پر غور کیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے حال ہی میں امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے انہوں نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر اس وقت غور کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز پر آزادانہ آمد ورفت بحال ہوجائے گی اس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے اور انہیں پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔

    اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سے جلد نکل جائے گا اور ضرورت پڑنے پر صرف مخصوص اہداف پر حملے کرے گا انہوں نے نیٹو کے بارے میں بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں ایران کے معاملے میں دوست ممالک نے امریکا کی حمایت نہیں کی،ہم نے کبھی ان سے زیادہ کچھ نہیں مانگا، لیکن جب ہمیں ضرورت پڑی تو دو ستوں نے ساتھ نہیں دیا، ایران جنگ کے اختتام کے حتمی اوقات سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں بالکل نہیں بتا سکتا مگر ہم جلد ہی نکل جائیں گے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے قوم سے خطاب کریں گے، جس میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم اعلانات متوقع ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران جنگ کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں امریکا کے اہم ترین اتحادی ممالک (نیٹو) نے بھی اس جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔

  • سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے،جواد ظریف

    سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے،جواد ظریف

    ایران کے سابق وزیرخارجہ جواد ظریف نے خلیج میں اپنے پڑوسی عرب ممالک کو پیغام دیا ہے کہ سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تجزیے میں ایران کے سابق وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ جنوبی خلیج فارس میں ہمارے پڑوسیوں کو ایک یاد دہانی کہ سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے بلکہ وہ جنگ کے لیے میدان ہموار کرتے ہیں،خلیج تعاون تنظیم کے اکثر ممالک نے گزشتہ 50 سال سے ایران کے خلاف سیکیورٹی کو فروخت کیا ہوا ہے۔

    جواد ظریف نے ماضی میں پیش آنے والے واقعات کا سن وار جائزہ بھی پیش کیا اور بتایا کہ 1980 سے 88 تک صدام حسین کی ایران کے خلاف جنگ پر فنڈز دیے، 1985 میں ایران کی علاقائی سیکیورٹی تجاویز مسترد کردی 1990 سے 1992 کے دوران صدام حسین کے کویت پر مداخلت کو ختم کرنے میں مدد کے بعد ایران پر کشیدگی کا انتخاب کیا، جو ایران کے خلاف ان کے مرکزی مالی معاونت کرنے والے تھے۔

    سابق ایرانی وزیرخارجہ نے مزید واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2001 سے آج تک سانپ کا سر کاٹنے کی حکمت عملی اپنائی گئی، 2015 میں ایران کے جارحیت مخالف معاہدے کو مسترد کردیا جبکہ ایران کے خلاف امریکی بیسز کے لیے ادائیگیاں کیں، 2015 سے آج تک انہوں نے جے او پی او اے کی مخالفت میں لابنگ کی اور ایرانی عوام پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں عوام کی معاشی حالت متاثر ہوئی جبکہ ان کی ذاتی دولت میں اضافہ ہوا۔

    جواد ظریف نے حوالہ دیا کہ 2019 میں ہرمز امن معاہدہ مسترد کردیا گیا اور ایران پر پابندیوں کی حمایت کی گئی ہے جس سے ایران کے لیے آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہوجائےآج انہوں نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ میں دیگر تمام اتحادیوں سے بڑھ کر مدد کے لیے جلدی کی جبکہ اس کے بدلے انہیں ذلیل کیا گیا اور اسرائیل کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی چلاجائے گا لیکن ایران یہاں ہمیشہ رہے گا، سیکیورٹی سب کو ملنی چاہیے۔

  • چیچن قیادت نے ایران امریکا  کشیدگی کو ’’مذہبی جنگ‘‘ قرار دیا

    چیچن قیادت نے ایران امریکا کشیدگی کو ’’مذہبی جنگ‘‘ قرار دیا

    چیچن فوجی یونٹس نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر زمینی حملہ کیا تو وہ ایرانی افواج کی مدد کے لیے میدان میں اتریں گے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق رمضان قدیروف کے وفادار چیچن فوجی دستوں نے ایران میں تعیناتی کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے، یہ دستے اس صورت میں مداخلت کریں گے جب امریکا ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کرے گا، چیچن فورسز کا کہنا ہے کہ وہ جاری تنازع کو’’مذہبی جنگ‘‘ سمجھتے ہیں اور اگر براہ راست مداخلت ہوئی تو اسے “جہاد” تصور کریں گے، جسے انہوں نے ’’حق اور باطل کی جنگ‘‘ قرار دیا۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے امریکا زمینی کارروائی پر بھی غور کر رہا ہے، جبکہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات جاری تھے، اسی دوران ایران کی قیادت اور دیگر اعلیٰ فوجی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، جوابی کارروائی میں ایران نے ا سرا ئیلی فوجی ٹھکانوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر درجنوں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں الزام عائد کیا ہے کہ یوکر ین بھی اس تنازع میں شامل ہےاور اس نے سینکڑوں ماہرین خطے میں بھیجے ہیں، چیچن فورسز، جنہیں ’’کدیروفسی‘‘ بھی کہا جاتا ہے،ماضی میں روس کے ساتھ یوکرین سمیت مختلف تنازعات میں شریک رہ چکی ہیں، اور اب ممکنہ طور پر ایران کے حق میں بھی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔