Baaghi TV

Blog

  • شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تاریخ طے

    شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تاریخ طے

    تہران: ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

    رپورٹس کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے عمل کا باقاعدہ آغاز4 جولائی کو تہران سے ہوگا، جہاں عوام اورسرکاری شخصیات کوآخری دیدارکا موقع فراہم کیا جائے گا، بعد ازاں انکے جسد خاکی کومختلف مراحل سے گزارنے کے بعد مشہد منتقل کیا جائے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق تدفین کی مرکزی تقریب 9 جولائی کو مشہد میں منعقد ہوگی، جہاں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے،حکام کی جانب سے سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جبکہ ملک بھر میں مختلف مذہبی اور سرکاری تقریبات کے انعقاد کی بھی اطلاعات ہیں، آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق شیڈول سامنے آنے کے بعد ایران سمیت دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کی توجہ اس تاریخی موقع پر مرکوز ہو گئی ہے۔

  • محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    محرم الحرام 1448 ہجری کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 15 جون بروز پیر طلب کر لیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے اجلاس بادشاہی مسجد لاہور کے اقبال ہال میں منعقد ہوگا، جہاں ملک بھر سے موصول ہونے والی چاند کی رویت سے متعلق شہادتوں کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ زونل رویت ہلال کمیٹی اسلام آباد کا اجلاس بھی اسی وقت کوہسار بلاک اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں زونل اور ضلعی رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی بیک وقت ہوں گے۔

    مرکزی رویت ہلال کمیٹی ملک بھر سے موصول ہونے والی اطلاعات اور محکمہ موسمیات کی رپورٹس کی روشنی میں محرم الحرام کے چاند کی رویت کے بارے میں حتمی اعلان کرے گی۔

    دوسری جانب پیشگوئی کی گئی ہے کہ 15 جون بروز پیر کو چاند نظر آنے کا امکان کم ہے، چاند 16 جون بروز منگل کو نظر آنے کا امکان ہے اس طرح یکم محرم الحرام 17 جون کو ہو سکتا ہے چاند کی رویت سے متعلق حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے۔

  • پاکستان امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے لیے تیاری کر رہا ہے،وزیراعظم

    پاکستان امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے لیے تیاری کر رہا ہے،وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایران امریکا تنازع پر ہم ایک امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں، معاہدے کو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے لیے تیاری کر رہا ہے، اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات منعقد ہوں گے،مسلسل عزم اور مذاکرات کے دوران تعمیری کردار پر امریکا اور ایران کے شکر گزار ہیں، ہم خطے میں اپنے برادر ممالک کی مسلسل حمایت اور تعاون پر بھی شکر گزار ہیں،ہمیں یقین ہے یہ تاریخی امن معاہدہ خطے میں دیرپا امن، استحکام اور باہمی تعاون کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

  • حکومت جواب دے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی،بیرسٹر گوہر

    حکومت جواب دے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں آج ہی بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے، جبکہ خبردار کیا ہے کہ اگر ملاقات نہ کروائی گئی تو پارٹی بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ پر غور کرے گی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ملک ہمارا ہے اور ہم اس ملک کے ہیں، لیکن ہمارے اراکین کو نااہل کیا گیا، ہم کس سے شکوہ کریں؟‘‘چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اکتوبر کے بعد سے ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی اور اس حوالے سے واضح جواب دیا جائے۔بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ اس معاملے پر وہ پہلے بھی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے بات کر چکے ہیں، تاہم انہیں بتایا گیا تھا کہ مشاورت کے بعد جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اب کوئی جواب موجود ہے تو اسے عوام اور پارلیمان کے سامنے رکھا جائے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے وفاقی بجٹ پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں غریب طبقے کے لیے کوئی ریلیف نہیں رکھا گیا اور عوام کو بجلی، اشیائے ضروریہ اور دیگر بنیادی سہولتوں کی قیمتوں میں کمی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے مؤثر انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بیرسٹر گوہر نے سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض جماعتوں نے بھی حکومتی نشستوں اور انتخابی نتائج پر سوالات اٹھائے ہیں، جس سے سیاسی ماحول مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے مطالبے پر پیش رفت نہ ہوئی تو پارٹی بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ سمیت دیگر سیاسی آپشنز پر غور کر سکتی ہے۔

  • مجوزہ معاہدے کے 14 نکات،ایران کا ایٹمی معاملہ ملتوی کر دیا گیا ہے،ایرانی وزیرخارجہ

    مجوزہ معاہدے کے 14 نکات،ایران کا ایٹمی معاملہ ملتوی کر دیا گیا ہے،ایرانی وزیرخارجہ

    ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا اہم بیان سامنے آگیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ تاحال ایران اور امریکا کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، تاہم مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط کیے جائیں گے اور اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

    سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ معاہدے کی تمام تفصیلات طے ہونے کے بعد عوام کو مکمل طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدہ 14 نکات پر مشتمل ہوگا، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ عبوری معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کا پہلا مرحلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عبوری معاہدہ نافذ العمل نہ ہو سکا تو جوہری مذاکرات کا عمل بھی آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

    عباس عراقچی کے مطابق عبوری معاہدے میں ایران کے منجمد مالیاتی فنڈز کی بحالی، امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے سمیت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران عالمی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنائے گا، تاہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایران اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدے میں خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے کو بھی شامل کیا جائے گا، جن میں لبنان کی صورتحال بھی اہم ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطلب اسرائیلی افواج کا قبضہ شدہ علاقوں سے انخلاء ہے۔ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران لبنان میں حزب اللہ کی حمایت جاری رکھے گا اور اسے کسی بھی مرحلے پر تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ان کے بقول خطے میں امن و استحکام کے لیے سیاسی حل اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔

  • توانائی کے انفرااسٹرکچر پر دباؤ موجود ہے،وزیرخزانہ

    توانائی کے انفرااسٹرکچر پر دباؤ موجود ہے،وزیرخزانہ

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات کے فروغ اور معاشی استحکام کو ترجیح دی ہے، جبکہ برآمدی شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی مختص کی گئی ہے۔

    اسلام آباد میں وفاقی وزراء کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں ایسے قابلِ عمل اقدامات شامل کیے ہیں جن سے برآمدات میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹرز کو ساڑھے چار فیصد شرح پر فنانسنگ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 70 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے زرعی مشینری پر عائد کسٹم ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ زرعی قرضوں کی فراہمی کا حجم 20 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرے گی اور ٹیکس وصولی کے لیے جدید خودکار نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ توانائی کے انفرااسٹرکچر پر دباؤ موجود ہے اور آئندہ مالی سال میں بھی یہ دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ انہوں نے صوبوں کی جانب سے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کی معاونت کا موجودہ انتظام آئندہ تین مالی سال تک جاری رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے اب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کے مطابق حکومتِ سندھ نے اس شعبے میں کامیاب مثال قائم کی ہے، جبکہ حکومت صرف انہی ترقیاتی منصوبوں پر سرکاری وسائل خرچ کرے گی جنہیں تجارتی بنیادوں پر مکمل کرنا ممکن نہ ہو۔

    اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بجٹ کو "عوامی اور صنعت دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے، صنعت کاروں، ایکسپورٹرز اور تعمیراتی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کاروباری برادری سے مشاورت کے بعد مختلف شعبوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا گیا، جبکہ شپنگ انڈسٹری کے لیے بھی ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے۔بلال اظہر کیانی کے مطابق ماہانہ دو لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد پر مجموعی ٹیکس 13 ہزار 500 روپے ماہانہ بنتا ہے، جبکہ ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد پر صرف 500 روپے ماہانہ ٹیکس عائد ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سالانہ چھ لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح صفر رکھی گئی ہے۔

    وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت نے ایف بی آر میں اصلاحات کے ذریعے سفارش کلچر کا خاتمہ کر دیا ہے اور وزیرِ اعظم نے بجٹ سے متعلق اپنے وعدے پورے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور لیکیج کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔عطاء تارڑ نے دعویٰ کیا کہ شوگر انڈسٹری میں تقریباً 60 ارب روپے کی لیکیج موجود تھی، جس کا بوجھ بالآخر عام ٹیکس دہندگان خصوصاً تنخواہ دار طبقے کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ متوسط طبقے کو ریلیف دینے کے اقدامات سے معاشی حالات میں بہتری آئے گی اور پاکستان معاشی استحکام کے بعد اب ترقی اور معاشی نمو کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

  • سلمان خان کی درخواست پر  فلم ‘کالا ہرن’ کیخلاف عدالت کا نوٹس جاری

    سلمان خان کی درخواست پر فلم ‘کالا ہرن’ کیخلاف عدالت کا نوٹس جاری

    نئی دہلی: بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی جانب سے فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ کی نمائش روکنے کے لیے دائر درخواست پر دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے فلم کے پروڈیوسر امت جانی اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت 19 جون کو مقرر کر دی ہے۔

    یہ سماعت جسٹس نینا بنسل کرشنا کی سربراہی میں قائم واحد رکنی بینچ کے روبرو ہوئی۔ دورانِ سماعت سلمان خان کے وکیل، سینئر ایڈووکیٹ نظام پاشا نے مؤقف اختیار کیا کہ اداکار کے پرسنالٹی رائٹس پہلے ہی دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت محفوظ قرار دیے جا چکے ہیں، جن میں ان کی شناخت، شبیہ، ظاہری انداز اور دیگر شخصی خصوصیات شامل ہیں۔سلمان خان کی قانونی ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ 29 مئی کو فلم کا ایک پوسٹر جاری کیا گیا تھا، جس میں ایک کردار کو سلمان خان سے مشابہ انداز میں پیش کیا گیا۔ وکیل کے مطابق مذکورہ کردار نے وہ مخصوص بریسلٹ بھی پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی شناخت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ فلم کی تشہیری مہم میں ان کی شناخت اور عوامی شہرت کو بغیر اجازت استعمال کیا جا رہا ہے۔

    عدالت میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متعلق چار مقدمات میں سے تین میں سلمان خان کو ریلیف مل چکا ہے، جبکہ ایک مقدمہ اب بھی اپیل کے مرحلے میں زیر التوا ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ فلم اور اس کے تشہیری مواد کے ذریعے اداکار کا نام مسلسل ایک متنازع مقدمے سے جوڑا جا رہا ہے، جس سے ان کی ساکھ اور عوامی امیج متاثر ہو رہا ہے۔درخواست میں پروڈیوسر امت جانی، جانی فائر فاکس فلمز، ہدایت کار بھارت ایس شرینیت، اکشے پانڈے اور دیگر متعلقہ افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔ سلمان خان نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ فلم کی تیاری، تشہیر، تقسیم اور نمائش پر فوری پابندی عائد کی جائے۔درخواست گزار کے مطابق فلم کے پوسٹرز اور دیگر پروموشنل مواد ان کے پرسنالٹی رائٹس کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں اور ان کی شناخت کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو قانونی طور پر قابل اعتراض ہے۔

    واضح رہے کہ ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ کو 1998 کے معروف کالا ہرن شکار مقدمے اور اس سے جڑے واقعات پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں فلم کا فرسٹ لک اور ٹریلر بھی جاری کیا گیا تھا۔ سلمان خان کی قانونی ٹیم اس سے قبل فلم سازوں کو قانونی نوٹس بھی بھجوا چکی ہے، جبکہ اب یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر غور ہے۔ عدالت 19 جون کو کیس کی مزید سماعت کرے گی۔

  • موجودہ حالات میں قومی وحدت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے،طاہر اشرفی

    موجودہ حالات میں قومی وحدت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے،طاہر اشرفی

    لاہور: چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ بھارت کے پاس پاکستان میں بے امنی پھیلانے کے علاوہ اب کچھ نہیں بچا، تاہم دشمن کی تمام سازشیں ناکامی سے دوچار ہو رہی ہیں۔

    لاہور چیمبر میں خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ محرم الحرام کو پرامن انداز میں منانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم کا مقدس مہینہ امت مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور باہمی ہم آہنگی کا درس دیتا ہے اور موجودہ حالات میں قومی وحدت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جو عناصر ملک میں انتشار، فساد اور انارکی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں وہ درحقیقت ملک دشمن ہیں اور ان کے عزائم کو ناکام بنانا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل کا کہنا تھا کہ ’’معرکۂ حق‘‘ کے بعد اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت اور وقار سے نوازا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرتے ہوئے تیسری عالمی جنگ کے خدشات کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالا، جبکہ امریکی صدر کی جانب سے مسئلہ کشمیر کا متعدد بار ذکر بھی پاکستان کے مؤقف کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

    حافظ طاہر محمود اشرفی نے مزید کہا کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے بھاری وسائل خرچ کر رہے ہیں، تاہم پاکستانی قوم، سیکیورٹی اداروں اور ریاستی قوتوں کے اتحاد کے باعث دشمن کے تمام منصوبے ناکام ہو رہے ہیں۔انہوں نے خوارج کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر ڈرون حملوں اور دیگر کارروائیوں کے ذریعے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن دشمن جتنی بھی کوشش کر لے، اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنائے گی۔

  • ن لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑقبضہ مافیا نکلے،کینسر کی مریضہ ضعیف العمرخاتون کی جائیداد پر قبضہ

    ن لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑقبضہ مافیا نکلے،کینسر کی مریضہ ضعیف العمرخاتون کی جائیداد پر قبضہ

    وزیر اعلی پنجاب کے موجودہ ایم پی اے ثاقب چدھڑ قبضہ مافیا نکلے ،ایم پی اے ثاقب چدھڑ نے وزیر اعلی پنجاب کی ریڈ لائن کراس کر دی ،ڈیوس روڈ پر اربوں روپے کی اراضی فراڈ سے بیوہ خاتون سے ہتھیا لی گئی ،ملزم نے 60 کروڑ روپے مالیت کا پلاٹ خریدا، 16 کروڑ روپے ادا کیے، باقی رقم کی ادائیگی سے انکاری ،دیے گئے چیک کے ڈس آنر ہونے پر ضعیف العمر بیوہ و بیمار خاتون کی درخواست پر تھانہ ڈیفنس اے بلاک لاہور نے مقدمہ درج کر لیا۔

    لاہور کے علاقے ڈیفنس اے میں 10 کروڑ روپے مالیت کا چیک ڈس آنر ہونے اوردھوکہ دہی کے الزام میں ن لیگی رکن اسمبلی ثاقب چدھڑ سمیت دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمہ خاتون ماہ روح عارف علی کی درخواست پر زیر دفعہ 489-F تعزیراتِ پاکستان کے تحت درج کیا گیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ضعیف العمر ہیں اور کینسر کے آخری مرحلے میں مبتلا ہیں،انہوں نے اپنی ملکیتی جائیداد، جو ڈیوس روڈ لاہور پر واقع ہے، 60 کروڑ روپے میں محمد ثاقب خان،(ثاقب چدھڑ) اور زوہیر اکبر کے ہاتھ فروخت کرنے کا معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت 16 کروڑ روپے بطور بیعانہ وصول کیے گئے۔ ملزمان نے اعتماد میں لے کر جائیداد سے متعلق دستاویزات پر دستخط اور انگوٹھے لگوائے، جبکہ ادائیگی کے لیے دیے گئے چیکس میں سے 10 کروڑ روپے مالیت کا ایک چیک مقررہ تاریخ پر بینک میں پیش کرنے پر اکاؤنٹ میں رقم نہ ہونے کے باعث ڈس آنر ہوگیا۔چیک کی واپسی کے بعد ملزمان سے متعدد بار رابطہ کیا گیا، تاہم وہ مختلف حیلے بہانوں سے ٹالتے رہے اور بالآخر رقم کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ ملزمان کو گرفتار کرکے مبینہ طور پر تیار کیا گیا بوگس بیع نامہ برآمد کیا جائے، جائیداد کا قبضہ واپس دلایا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  • کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک نے مودی کی نااہل حکومت کو ہلا کر رکھ دیا

    کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک نے مودی کی نااہل حکومت کو ہلا کر رکھ دیا

    کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں بھارتی نوجوان نسل سڑکوں پر، مودی حکومت کیخلاف لکھنؤ میں احتجاج کیا گیا ہے

    بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک نے مودی کی نااہل حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ،بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے کرپٹ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا،دہلی اور پونے میں بھی جین زی مودی کے بدترین سیاسی نظام کیخلاف احتجاج کر چکی ہے، بانی کاکروچ پارٹی کا کہنا ہے کہ ہم کوئی غلط کام نہیں کر رہے صرف اپنا مؤقف پیش کرنا چاہتے ہیں،

    عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کی تحریک نے بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اور حکومتی نااہلی کیخلاف شدید غصے کا ثبوت دے دیا،بھارت کا نوجوان مودی کی مفاد پرست سیاست، مذہبی کارڈ اور ہندوتوا سوچ کیخلاف آواز اٹھا چکا ہے،