Baaghi TV

Blog

  • سعودی عرب اور کویت کے  وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات

    سعودی عرب اور کویت کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات

    سعودی وزیر خارجہ نے کویت کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی-

    سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے حالیہ علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، دونوں ممالک کے رہنماؤں نے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر بھی غورکیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پربات چیت کی۔

    ملاقات کے دوران اقتصادی، تجارتی اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی زور دیا گیا سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ کویت کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اوراعتماد کو مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہےملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

  • سعودی شہزادی   انتقال کر گئیں

    سعودی شہزادی انتقال کر گئیں

    سعودی شہزادی الجوہرا بنت فیصل بن عبداللہ العبدالرحمان آل سعود انتقال کر گئیں-

    سعودی شاہی دیوان کی جانب سے جاری بیان میں اس افسوسناک خبر کی تصدیق کی گئی ہے،بیان کے مطابق مرحومہ شہزادہ محمد بن سعود بن فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کی والدہ تھیں اور شاہی خاندان میں ان کا ایک نمایاں مقام تھا، شہزادی الجوہرا کی نمازِ جنازہ آج بروز جمعرات عصر کی نماز کے بعد ریاض کی معروف امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی جائے گی، جس میں شاہی خاندان کے افراد اور دیگر اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

    ان کے انتقال پر سعودی عرب میں غم کی فضا پائی جا رہی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے،مرحومہ کی خدمات اور خاندانی حیثیت کے باعث ان کا انتقال سعودی معاشرے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے-

  • یو اے ای آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے، وال سٹریٹ جرنل

    یو اے ای آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے، وال سٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایران کے حملوں کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے۔

    امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کے لیے لابنگ کر رہا ہے جس کے تحت اس کارروائی کی اجازت حاصل کی جاسکے اماراتی سفارتکاروں نے امریکا اور یورپ و ایشیا کی عسکری طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک مشترکہ اتحاد قائم کریں جو طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھول سکےیو اے ای کے ایک عہدیدار نے کہا کہ امارات نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کے لیے اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے جس میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر معاون خدمات شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ کو اس اہم آبی گزرگاہ میں واقع بعض جزائر، بشمول ابو موسیٰ جزیرے پر قبضہ کرنا چاہیے جو گزشتہ نصف صدی سے ایران کے کنٹرول میں ہے جبکہ امارات بھی اس پر دعویٰ کرتا ہے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک بھی اب ایرانی حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے جب تک ایران کو کمزور یا اس کی حکومت کو ختم نہ کر دیا جائے بحرین جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور جہاں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈ کوارٹر ہے اس قرارداد کی تیاری کر رہا ہے اور اس پر ووٹنگ جمعرات کو متوقع ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اب یو اے ای اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کے قریب آ رہا ہے جس میں اتحادی ممالک سے جنگ کا زیادہ سے زیادہ بوجھ اٹھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہےٹرمپ اپنے مشیروں سے کہہ چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوائے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ ہیں اور اس معاملے کو دیگر ممالک پر چھوڑ سکتے ہیں۔

    وال سٹریٹ جرنل کے مطابق خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ یو اے ای کو یقین ہے کہ ایشیا اور یورپ کے وہ ممالک جو اس وقت ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کی صورت میں اس کارروائی میں شامل ہو جائیں گےروس اور چین اس قرارداد کو ویٹو کر سکتے ہیں جبکہ فرانس ایک متبادل مسودہ پیش کر رہا ہے تاہم اگر قرارداد منظور نہ بھی ہو تو بھی یو اے ای آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی کسی بھی کوشش میں شامل ہونے کے لیے تیار رہے گا۔

  • فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا ،اقوام متحدہ

    فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا ،اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا-

    وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی نئی شدید امتیازی سزائے موت کی قانون سازی کو فوری طور پر واپس لےانہوں نے خبردار کیا کہ اس قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا سرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے اس بل کی منظوری انتہائی مایوس کن ہے، اگر اس قانون کا اطلاق امتیازی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، جبکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے رہائشیوں پر اس کا نفاذ جنگی جرم تصور کیا جائے گا،90 دن کی حد خود بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ عالمی قوانین کے مطابق سزا میں معافی یا رعایت کی گنجائش ہونی چاہیے،یہ قانون زندگی کے حق سمیت اسرائیل کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم ہے اور اس میں منصفانہ عدالتی عمل پر بھی سنگین خدشات موجود ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل کے نئے قانون کے خلاف مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے اس قانون کے تحت مغربی کنارے میں فوجی عدالتوں سے دہشتگردی کے مقدمات میں سزا پانے والے فلسطینیوں کے لیے پھانسی کو لازمی سزا قرار دیا گیا ہے،قانون میں اپیل کے مواقع محدود کر دیے گئے ہیں، معافی یا سزا میں نرمی کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے، اور یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ حتمی فیصلے کے 90 دن کے اندر سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ وزیراعظم کی خصوصی منظوری کی صورت میں یہ مدت 180 دن تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے 1954 میں سزائے موت ختم کر دی تھی، تاہم نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور غداری جیسے جرائم کے لیے یہ قانون برقرار تھا انہی قوانین کے تحت 1962 میں ہولوکاسٹ کے مرکزی منتظم ایڈولف آئخمن کو سزائے موت دی گئی تھی۔

  • اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر اسماعیل ہاشم شہید

    اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر اسماعیل ہاشم شہید

    بیروت میں اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر یوسف اسماعیل ہاشم شہید ہو گئے، جس کی تنظیم نے تصدیق کی ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بیروت میں ایک حملے کے دوران حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر الحاج یوسف اسماعیل ہاشم (الحاج صادق) کو شہید کر دیا ہے، جس کی بعد میں حزب اللہ نے بھی تصدیق کرتے ہوئے انہیں اسلامی مزاحمت کا چراغ قرار دیا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق اسماعیل ہاشم حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے کمانڈر تھے اور انہیں اسرائیلی بحریہ نے نشانہ بنایا، یہ حالیہ جنگ کے دوران حزب اللہ کو پہنچنے والے بڑے دھچکوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

    لبنانی حکام کے مطابق اسماعیل ہاشم اس وقت دیگر کمانڈرز کے ساتھ ایک اجلاس میں موجود تھے جب حملہ کیا گیا، جس میں مزید کئی اہلکار بھی مارے گئے۔ اس حملے میں کم از کم سات افراد جاں بحق اور 26 بھی زخمی ہوئے ہیں-

    ادھر اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ لبنان میں جاری جھڑپوں کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں 48 اہلکار زخمی ہوئے، جب کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 10 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 309 زخمی ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے، جن میں رباعہ ثلاثین کے علاقے میں ایک توپ خانے کے مرکز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جنگجوؤں نے عیناتا کے قریب ایک اسرائیلی ڈرون مار گرایا اور بفلے کے علاقے میں ایک جنگی طیارے کا بھی مقابلہ کیا۔

  • اسپتال کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو بے بنیاد پروپیگنڈا ہے، سروسز اسپتال انتظامیہ

    اسپتال کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو بے بنیاد پروپیگنڈا ہے، سروسز اسپتال انتظامیہ

    سروسز اسپتال اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے سوشل میڈیا پر اسپتال کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو کو بے بنیاد پروپیگنڈا ہے-

    پرنسپل سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر زہرہ اور ایم ایس سروسز اسپتال ڈاکٹر رانا خرم آفتاب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں اسپتال کے حوالے سے چلنے والی حالیہ ویڈیو کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور انکوائری رپورٹ میں ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ویڈیو سروسز اسپتال کی نہیں ہے۔

    ڈاکٹر زہرہ نے اسپتال کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا کہ سروسز اسپتال پر عوام کا اعتماد مثالی ہے اور گزشتہ روز 7 ہزار سے زائد مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں، جن میں 2100 سے زائد ایمرجنسی کیسز تھے جبکہ 300 سے زائد آپریشنز کیے گئے غریب مریضوں کو ہر ممکن ریلیف دیا جا رہا ہے اور عید کے ایام میں فالج کے مریضوں کو لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی انجکشنز بالکل مفت فراہم کیے گئے تاکہ کوئی غریب مریض خود کو بے بس نہ سمجھے۔

    ترکیہ نے دو دہائیوں بعد فیفا ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کرلیا

    ڈاکٹر زہرہ نے میڈیا پر زور دیا کہ کسی بھی خبر کو چلانے سے پہلے اس کی تصدیق لازمی کریں کیونکہ ایک غلط خبر پورے محکمے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہےآپریشن تھیٹر میں مریض اور ڈاکٹر کے درمیان صرف خدا کی ذات ہوتی ہے، اس لیے اس مقدس رشتے اور اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے، اگرچہ سسٹم میں بہتری کی گنجا ئش ہمیشہ رہتی ہے اور ہم اس کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

    اس موقع پر ایم ایس سروسز اسپتال ڈاکٹررانا خرم آفتاب نے وضاحت کی کہ جیسے ہی مبینہ ویڈیو سامنے آئی، فوری طور پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور انکوائری رپورٹ کے مطابق مذکورہ ویڈیو سروسز اسپتال کی نہیں ہے حالیہ بارشوں اور شٹ ڈاؤن کے باوجود اسپتال میں علاج معالجے کا عمل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکا اور تمام مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کی گئیں، عوامی خدمت کا سفر جاری رہے گا اور کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوں گے۔

    ایران نے ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

  • ترکیہ نے  دو دہائیوں بعد فیفا ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کرلیا

    ترکیہ نے دو دہائیوں بعد فیفا ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کرلیا

    ترکیہ نے 24 سال بعد فیفا ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

    ترکیہ نے منگل کو پلے آف فائنل میں کوسوو کے خلاف کھیلے گئے میچ میں 1-0 سے یادگار فتح حاصل کی، جس کے ساتھ ہی ورلڈ کپ کے لیے کولیفائی کر لیا، ترکیہ آخری بار 2002 میں فیفا ورلڈکپ میں شرکت کر چکا تھا اور اب 24 سال بعد دوبارہ فٹ بال کے سب سے بڑے ایونٹ کے لیے کوالیفائی کر لیا ترکیہ کے شائقین نے اس تاریخی کامیابی پر جشن منایا اور ٹیم کی کارکردگی کو سراہا –

    اس سے قبل عراق نے انٹر کنفیڈریشن پلے آف میں بولیویا کو 1-2 سے شکست دے کر 40 سال بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا، عراق اس سے قبل صرف ایک بار 1986 میں میکسیکو میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شریک ہوا تھا جہاں اسے اپنے گروپ کے تمام میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • ایران نے ٹرمپ کے  جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران نے ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران نے جنگ بندی کی کوئی پیشکش نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرِ غور ہے۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’آئی آر آئی بی نیوز‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی فریق کو جنگ بندی کی پیشکش نہیں کی، امریکا اور اسرائیل کو سزا اور ایران کو ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ نہ ملنے تک جنگ جاری رہے گی، میڈیا میں سامنے آنے والے مبینہ پانچ نکاتی پلان کی خبریں سچائی پر مبنی نہیں بلکہ قیاس آرائی ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ابھی امریکا کے ساتھ مذاکرات یا سفارت کاری کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ امریکا نے ماضی میں بھی مذاکرات کو اپنے مطالبات منوانے یا حملوں کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

    مصر کے روزنامے ’المصری الیوم‘ کو دیے گئے انٹرویو اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں اب کسی کو بھی امریکی سفارت کاری پر بھروسہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ طاقت کے استعمال سے پہلے دھیان بھٹکانے کے لیے مذاکرات کرتے ہیں۔

    ایران کی جانب سے یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے نئے رہنما نے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، تاہم وہ جنگ بندی پر تب ہی غور کریں گے جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گااس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کے دعوے کرچکے ہیں تاہم ایرانی حکام مسلسل ان دعوؤں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

  • پاک نیوی اور چین کی مشترکہ بحری مشق سی گارڈین اختتام پذیر

    پاک نیوی اور چین کی مشترکہ بحری مشق سی گارڈین اختتام پذیر

    پاکستان اور چین کی بحریہ کی 7 روزہ مشترکہ مشق سی گارڈین کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک بحریہ اور پی ایل اے (چینی نیوی) کے مابین 25 مارچ تا یکم اپریل بحری مشق سی گارڈین 4 منعقد ہوئی۔ اس مشق کا مقصد دونوں بحری افواج کے مابین باہمی اشتراکِ اور میری ٹائم تعاون کو فروغ دینا تھا یہ مشق دو مراحل پر مشتمل تھی، جس میں پانچ روزہ کراچی پورٹ کا دورہ اور شمالی بحیرۂ عرب میں دو روزہ سی فیز شامل تھے مشق سی گارڈین 4 میں شمولیت کے لیے پی ایل اے (نیوی) کے جہاز داچنگ کی آمد پر پی این ایس تیمور نے پرتپاک استقبال کیا گیا تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مشق کے دوران مختلف دوطرفہ سرگرمیاں منعقد ہوئیں جن میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں پر دورے، بحری چیلنجز پر پیشہ ورانہ مباحثے، بحری تنصیبات کے دورے، پہلے ینگ آفیسرز سیمینار کا انعقاد اور سی فیز کی تیاری شامل تھی پورٹ وزٹ کے اختتام پر پاک بحریہ اور پی ایل اے (نیوی) کے جہازوں نے مشق سی گارڈین کے سی فیز میں حصہ لیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سی فیز کے دوران اہم سرگرمیوں میں فضائی دفاعی مشقیں بشمول متعدد محاذوں ہرحملوں سے نمٹنے کی حکمتِ عملی، پاک بحریہ کی آبدوز کے ساتھ مشقیں، روایتی جنگی مشقیں اور لائیو گنری فائرنگ شامل تھی، جس سے دونوں بحری افواج کے مابین تعاون مضبوط ہوا مشق سی گارڈین 4 کے کامیاب اختتام کے بعد پاک بحریہ اور پی ایل اے (نیوی) نے بحیرۂ عرب میں مشترکہ گشت بھی کیا، جو خطے میں سمندری سلامتی اور استحکام کے لیے دونوں بحری افواج کے عزم کا مظہر ہے۔

  • ایران کا اسرائیل کے ایئرپورٹ پر آواکس طیاروں پر حملے کا دعویٰ

    ایران کا اسرائیل کے ایئرپورٹ پر آواکس طیاروں پر حملے کا دعویٰ

    ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی فوج نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی عسکری تنصیبات، آواکس طیاروں اور ری فیولنگ جہازوں کے مقامات پر سو سے زائد میزائل اور ڈرونز داغے ہیں۔

    ایران کی اسلامی جمہوریہ کی فوج نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں، خصوصاً شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے بعد، ایرانی فوج نے صبح سے جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

    ایرانی فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اسرائیل کے تل ابیب، ایلات اور بنی براک میں فوجی مراکز، بن گوریون ایئرپورٹ پر موجود امریکی آواکس اور ری فیولنگ طیارے، میزائل اور ڈرون کی نگرانی کرنے والے ریڈار نظام، اور اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں ڈرون کے خلاف استعمال ہونے والے الیکٹرانک جنگی مراکز شامل ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سے قبل بھی ایرانی فوج خطے میں امریکی اڈوں اور مقبوضہ علاقوں میں فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنا چکی ہے سیٹلائٹ نگرانی اور دستیاب معلومات کے مطابق ان حملوں سے متعلقہ مراکز کو شدید نقصان پہنچا، جس سے فوجی کارروائیوں، فضائی مدد اور میزائل و ڈرون کی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہوئی۔

    ایرانی فوج نے مزید کہا کہ اس حملے میں دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے جدید ’آرش ٹو‘ ڈرون بھی استعمال کیے گئےایرانی فوج کے تمام اہلکار بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے اور دشمن کو اس کے اقدامات پر پچھتانے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    ایران کی ہلالِ احمر نے ملک میں حالیہ حملوں کے بعد شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق تازہ تفصیلات جاری کی ہیں۔ ہلالِ احمر کے مطابق حالیہ حملوں میں ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد شہری یونٹس متاثر یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جن میں رہائشی عمارتیں، طبی مراکز، تعلیمی ادارے اور امدادی مراکز شامل ہیں، متاثرہ عمارتوں کا ایک بڑا حصہ تہران صوبے میں واقع ہے، جہاں حملوں کے باعث خاصا نقصان ہوا۔ ہلالِ احمر نے مزید بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک کم از کم ایک ہزار پانچ سو چھبیس افراد کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔

    دریں اثنا، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں سو سے زائد بھاری میزائل اور حملہ آور ڈرون استعمال کیے گئے، جب کہ اس کے ساتھ کم از کم دو سو راکٹ بھی فائر کیے گئے۔ بیان کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے کیے گئے، جن میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت بھی شامل تھی۔