Baaghi TV

Blog

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے-

    منگل کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت 91 سینٹ کمی کے ساتھ 93.34 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 1.13 ڈالر کمی کے بعد 90.17 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

    یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب ایران اور اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل پر حملے روکنے کا اعلان کیا، اگرچہ دونوں ممالک نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔

    اس سے قبل قیمتوں میں 5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تھا جب اسرائیل کے ایران اور لبنان میں حملوں نے جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو کمزور کر دیا تھا، تاہم بعد ازاں ایران کی جانب سے فوجی کارروائیاں روکنے کے اعلان پر قیمتیں نیچے آ گئیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق وقتی طور پر کشیدگی میں کمی سے مارکیٹ کو کچھ ریلیف ملا ہے؛ یہ صورتحال دیرپا ثابت ہوئی تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کا امکان ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ اگر لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنایا گیا تو وہ کارروائی دوبارہ شروع کرے گاادھر امریکا ایران سے مذاکرات میں آبنائے آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دے رہا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی گزرتی ہے۔

  • 12 جون تک گرمی کی شدت برقرار، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارش کی بھی پیشگوئی

    12 جون تک گرمی کی شدت برقرار، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارش کی بھی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے 12 جون تک ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بالائی علاقوں میں دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیریں علاقوں میں 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی توقع ہے، اسلام آباد، شمالی پنجاب اور بالائی خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کل تک شدید گرمی برقرار رہے گی، تاہم اسلام آباد میں 11 اور 12 جون کو بارش کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا اور شمالی پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی 11 اور 12 جون کو بارش متوقع ہے، راولپنڈی، لاہور اور دیگر اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور سندھ کے بیشتر اضلاع میں گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے بلوچستان کے اضلاع ژوب اور موسیٰ خیل میں 11 اور 12 جون کو گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے پشاور، سوات، چترال، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں بھی 11 اور 12 جون کو بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 12 جون سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کی توقع ہے۔

  • گلگت بلتستان:الیکشن کمیشن نے  5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے

    گلگت بلتستان:الیکشن کمیشن نے 5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے

    الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان کے 5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے پانچ انتخابی حلقوں کے نتائج روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ ریٹرننگ افسران کو حتمی نتائج جاری کرنے سے منع کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے انعقاد تک نتائج روک دیے گئے ہیں، فیصلے کے تحت ضلع دیامر کے حلقوں جی بی اے 15، جی بی اے 16 اور جی بی اے 17 کے نتائج روک دیے گئے ہیں اسی طرح سکردو کے حلقہ جی بی اے 8 اور استور کے حلقہ جی بی اے 13 کے نتائج بھی تاحکمِ ثانی جاری نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ پوسٹل بیلٹس کی اسکروٹنی اور گنتی کا عمل بھی نہ کریں، اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • وفاقی  بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا

    قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا جبکہ سالانہ بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔

    صدر پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 5 بجے طلب کیا گیا ہے جبکہ سینیٹ کا اجلاس کل سہ پہر 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ بجٹ جمعہ12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں مالی سال 2026.27 کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔

  • 9 جون کی شام آسمان پر شاندار اور نایاب منظردیکھائی دے گا

    9 جون کی شام آسمان پر شاندار اور نایاب منظردیکھائی دے گا

    ماہرین فلکیات کے مطابق 9 جون کی شام ایک شاندار اور نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا، جب سیارہ زہرہ اور سیارہ مشتری مغربی افق پر ایک دوسرے کے بے حد قریب نظر آئیں گے۔

    ناسا کے مطابق اس مظہر کو "قران” (Conjunction) کہا جاتا ہے جس میں دو سیارے زمین سے دیکھنے پر بہت قریب دکھائی دیتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ان کے درمیان کروڑوں کلومیٹر کا فاصلہ ہوتا ہے،یہ دلکش منظر 8 اور 9 جون کو اپنے عروج پر ہوگا، جب دونوں سیارے تقریباً 1.5 سے 2 ڈگری کے فاصلے پر نظر آئیں گے جو کہ دوربین کے بغیر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق زہرہ، جو رات کے آسمان کا سب سے روشن سیارہ ہے، اور مشتری، جو دوسرے نمبر پر روشن ہے، صاف موسم کی صورت میں آسانی سے نظر آئیں گے یہ دونوں سیارے غروب آفتاب کے بعد تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے تک مغربی سمت میں دکھائی دیں گے یہ نظارہ شمالی نصف کرے میں 2028 تک زہرہ اور مشتری کا سب سے قریبی ملاپ ہوگا، جس کے باعث اسے خاص اہمیت حاصل ہے ، اسی دوران سیارہ عطارد بھی ان کے نیچے نظر آ سکتا ہے، جبکہ یہ منظر برج جوزا کے قریب وقوع پذیر ہوگا، جہاں پولکس اور کاسٹر ستارے بھی دیکھے جا سکتے ہیں،یہ ایک آسانی سے نظر آنے والا فلکیاتی مظہر ہے جس کے لیے کسی خاص آلات کی ضرورت نہیں۔

  • اغوا برائے تاوان کا کیس،اداکار منیب بٹ کی عدالت میں پیشی

    اغوا برائے تاوان کا کیس،اداکار منیب بٹ کی عدالت میں پیشی

    عدالت نے اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں اداکار منیب بٹ کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک حفاظتی ریلیف برقرار رکھا۔

    اداکار منیب بٹ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت کے دوران پیش ہوئےائیرپورٹ پولیس کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے میں اداکار منیب بٹ کو نامزد کیا گیا ہے مقدمہ 23 اپریل کو متعال خان کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ منیب بٹ نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر مدعی کو مبینہ طور پر اغوا کیا۔

    پولیس کے مطابق مقدمے میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ملزمان نے مغوی کو اغوا کے بعد اس کے اکاؤنٹ سے لاکھوں روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کی کرپٹو کرنسی کی مبینہ منتقلی کے بعد متاثرہ شخص کو کورنگی کے علاقے میں چھوڑ دیا گیا،عدالت میں سماعت کے دور ان منیب بٹ نے عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست دائر کی، جسے منظور کرتے ہوئے عدالت نے ان کی ضمانت میں توسیع کر دی۔

    واضح رہے کہ مقدمہ ابتدائی مرحلے میں ہے اور پولیس کی جانب سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کر لی ہے-

  • نیپرا کا ملک بھر میں بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان

    نیپرا کا ملک بھر میں بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان

    ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں کمی کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی ایک روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، یہ فیصلہ بجلی حکومتی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

    نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں یہ کمی جنوری تا مارچ 2026 کی سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے، جبکہ اس کا اطلاق جون سے اگست 2026 تک تین ماہ کے لیے ہوگا اس ریلیف کا اطلاق ملک بھر کے تمام صارفین پر ہوگا، جس میں کے الیکٹرک کے صارفین بھی شامل ہیں۔

    بجلی کی قیمت میں کمی کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 67 ارب 17 کروڑ 30 لاکھ روپے کا ریلیف ملے گا، یہ اقدام سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد صارفین پر بجلی کی لاگت کا بوجھ کم کرنا ہے۔

  • الزام تراشی کی سیاست اور قومی ذمہ داریوں سے فرار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    الزام تراشی کی سیاست اور قومی ذمہ داریوں سے فرار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوریت کی اصل روح شکست کو تسلیم کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ہے، نہ کہ ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈالنے میں

    جو سیاست عوام کی خدمت کے بجائے الزام تراشی کے گرد گھومنے لگے، وہاں مسائل بڑھتے ہیں اور حل دور ہوتے چلے جاتے ہیں

    قومی ترقی تب ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں اپنے گریبان میں جھانکیں، کارکردگی کو معیار بنائیں اور جوابدہی کو شعار بنائیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ یہاں اقتدار میں آنے والی جماعت اپنے پیش روؤں کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے، جبکہ اقتدار سے محروم ہونے والی جماعت نئی حکومت پر ناکامیوں کا بوجھ ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ روایت کوئی نئی نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری ایک سیاسی طرزِ عمل بن چکی ہے جس نے عوامی مسائل کے حقیقی حل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ انتخابات کے بعد شکست تسلیم کرنے کا سیاسی ظرف بھی ہمارے ہاں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے بجائے دھاندلی، مداخلت اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا بیانیہ اختیار کر لیتی ہیں۔ اگر کسی مخصوص انتخاب میں مداخلت کے واضح شواہد موجود نہ ہوں، تب بھی الزامات کی گرد اڑائی جاتی ہے۔ یہ رویہ جمہوری عمل پر عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور سیاسی سنجیدگی کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مضبوط جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کی پہلی ذمہ داری عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان برسوں سے بجلی کے بحران، گیس کی قلت، مہنگائی، ناقص تعلیم، کمزور صحت کے نظام اور دیگر بنیادی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ مسائل کسی ایک حکومت یا ایک ادارے کی پیداوار نہیں بلکہ طویل عرصے کی پالیسی ناکامیوں اور اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح خوراک میں ملاوٹ، ادویات میں جعل سازی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری جیسے جرائم بھی قومی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ان جرائم کے پیچھے کون لوگ ہیں اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ اگر سیاسی جماعتیں واقعی عوامی خدمت کا دعویٰ کرتی ہیں تو انہیں ایسے عناصر کی سرپرستی کے بجائے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا چاہیے۔ ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف اسٹیبلشمنٹ یا کسی ایک ادارے کو قرار دینا نہ تو حقیقت پسندانہ رویہ ہے اور نہ ہی قومی مفاد کے مطابق۔ پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر ریاستی ادارے اپنی اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر شہری اور سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن بلا ثبوت الزامات، مسلسل کردار کشی اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں پر ڈال دینا مسائل کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت اپنے گریبان میں جھانکے، اپنی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے اور عوام کے سامنے جوابدہی کا رویہ اختیار کرے۔ قومیں الزام تراشی، نفرت اور سیاسی ضد سے نہیں بلکہ دیانت دار قیادت، مؤثر حکمرانی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست کا ایک حصہ اب سنجیدہ قومی مباحث کے بجائے سوشل میڈیا کی شوریدہ فضا اور وقتی مقبولیت کے گرد گھومنے لگا ہے۔ ایسے ماحول میں اصل سوالات پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ نعروں کے بجائے کارکردگی کو معیار بنائیں اور سیاسی جماعتوں سے سوال کریں کہ انہوں نے عوامی فلاح، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے لیے کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کو آج الزاموں کی سیاست نہیں بلکہ جوابدہی، خدمت اور قومی یکجہتی کی سیاست کی ضرورت ہے۔ جب تک سیاسی قوتیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں کریں گی اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں پر ڈالتی رہیں گی، تب تک عوامی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے اور ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔

  • روس کا افغانستان میں موجود   ٹی ٹی پی اور داعش خراسان سے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار

    روس کا افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی اور داعش خراسان سے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے متعلق بریفنگ کے دوران روس نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں بالخصوص ٹی ٹی پی اور داعش خراسان (ISIS-K) سے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    روس کی مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشتگرد سرگرمیوں کے پس منظر میں پیدا ہو رہی ہے،انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان میں داعش خراسان کی مسلسل موجودگی کو بھی علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشتگرد عناصر خطے کے امن و استحکام کے لیے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے حالیہ ریمارکس پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہ علاقائی سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں، ماہرین کے مطابق افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور سرحد پار حملوں کے خدشات خطے کے ممالک کے لیے ایک مشترکہ سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے۔

    ایران کے ساتھ معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے،ٹرمپ

    مبصرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں روس کے بیان نے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال اور وہاں موجود شدت پسند دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے جاری عالمی بحث کو مزید تقویت دی ہے، روس کی جانب سے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے خطرات کا ذکر اس معاملے پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشو یش کی عکاسی کرتا ہے۔

    کالعدم ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی رکن توصیف جرال خود کو پولیس کے حوالے کردیا

  • ایران کے ساتھ معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کی صبح صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کو روکنے پر اتفاق کے بعد بھی امریکا اور ایران کی بات چیت جاری رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک باضابطہ معاہدے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے امید ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے اور معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا کے ساتھ تعلقات فوری طور پر معمول پر آ جائیں گے، تاہم ان کے مطابق ایران معا ہدے میں دلچسپی رکھتا ہے اور سفارتی حل کی طرف پیش رفت ممکن ہے اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایک باضابطہ اور دستخط شدہ دستاویز موجود ہوگی جو ان کے بقول فوجی کارروائی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔

    امریکی صدر نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر امریکا چاہے تو بمباری کرنا بہت آسان ہے اور چند ہفتوں کی کارروائی میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، تاہم وہ ایسا نہیں چاہتے اگر چند ہفتے بمباری کی جائے تو مخالف فریق کے پاس کچھ باقی نہیں بچے گا، جبکہ اس کے برعکس آبنائے ہرمز مہینوں تک بند رہ سکتی ہےایسی صورتحال میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہو سکتا ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا کا اصل مقصد جنگ نہیں بلکہ ایسا معاہدہ ہے جو خطے میں استحکام اور دیرپا حل فراہم کرے-