Baaghi TV

Blog

  • روس نے دنیا بھر کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی

    روس نے دنیا بھر کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی

    یکم اپریل سے 31 جولائی تک پیٹرول کی برآمدات پر پابندی عائد کردی ہے،اس اقدام کا مقصد ملکی سپلائی کو برقرار رکھنا اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے وزارت توانائی کو پیٹرول برآمدات پر پابندی کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے نوو اک نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ نے تیل اور پیٹرولیم کی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو بڑھا دیا ہے اس کی وجہ سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ روس روزانہ 120,000 سے 170,000 بیرل پیٹرول برآمد کرتا ہے۔

    اس فیصلے سے چین، ترکی، برازیل، افریقی ممالک اور سنگاپور کے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے یہ ممالک روسی پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے خریدار ہیں، ہندوستان پر اس کا اثر کم سے کم ہوگا کیونکہ وہ ریفائنڈ پیٹرول کے بجائے خام تیل درآمد کرتا ہے۔

    نائب وزیر اعظم نوواک نے اجلاس کے دوران بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں تیل کمپنیو ں نے توثیق کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ دستیاب ہے اور یہ کہ ریفائنریز پوری صلاحیت پر یا اس سے بھی زیادہ کام کر رہی ہیں، اس طرح موجودہ طلب کو پورا کیا جا رہا ہے۔

  • مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر گوجرانوالہ سے گرفتار

    مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر گوجرانوالہ سے گرفتار

    
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے انسانی سمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کے اہم رکن کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم قاصد علی کو گوجرانوالہ سے حراست میں لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر مراکش کشتی حادثے میں بھی ملوث تھا۔
    ایف آئی اے کے بیان کے مطابق ملزم کا نام ریڈ بک میں شامل تھا اور وہ طویل عرصے سے مطلوب تھا۔ اس کے خلاف انسانی سمگلنگ، بھتہ خوری، جبری مشقت، فراڈ اور تارکین وطن کی اموات جیسے سنگین مقدمات درج ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق ملزم شہریوں کو یورپ بھجوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کرتا تھا۔ متاثرین سے سپین بھجوانے کے نام پر فی کس تقریباً 33 لاکھ روپے لیے جاتے تھے، جبکہ انہیں غیر قانونی اور خطرناک راستوں سے افریقی ممالک منتقل کیا جاتا تھا۔
    ‎تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نیٹ ورک متاثرہ افراد کو موریطانیہ منتقل کرنے کے بعد تشدد، جبری مشقت اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بناتا تھا، جس کے باعث کئی افراد اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔
    ‎ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

  • لاہور:آپریشن کے دوران ویڈیو بنانے کا معاملہ، متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ معطل

    لاہور:آپریشن کے دوران ویڈیو بنانے کا معاملہ، متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ معطل

    لاہور میں لیڈی ولنگڈن ہسپتال سے سامنے آنے والے ویڈیو اسکینڈل نے صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے-

    لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مبینہ ویڈیو اسکینڈل نے تہلکہ مچا دیا، جہاں دورانِ آپریشن ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کی ویڈیوز بنانے کا انکشاف سامنے آیا، نہ صرف طبی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ ڈاکٹرز کے درمیان مبینہ مقابلہ بازی نے مریضوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

    معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ایک سیکیورٹی گارڈ کے مبینہ طور پر مریض کو اسپائنل اینستھیزیا دینے کی ویڈیو بھی سامنے آئی، جو کہ صرف ماہر ڈاکٹر کا کام ہوتا ہےیہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، مریضوں کی پرائیویسی اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

    واقعے کے بعد حکومت پنجاب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایم ایس اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے جواب طلب کر لیا، جبکہ متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کو معطل کر دیا گیا ہے 5 ڈاکٹرز کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ فوری طور پر ختم کر دی،یہ اقدام پالیسی اینڈ پروسیجر مینوئل کی شق 13.2 کے تحت غفلت اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اٹھایا گیا۔

    متاثرہ ڈاکٹرز میں ڈاکٹر طیبہ فاطمہ، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر، ڈاکٹر عائشہ افضل اور ڈاکٹر آمنہ رشید شامل ہیں، جبکہ معاملہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کو بھی بھجوا دیا گیا ہے ادھر شہری جنید ستار بٹ ایڈووکیٹ نے پولیس میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف طبی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ مریضوں کے وقار اور اعتماد کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔

  • 
اردن کی پروازیں منسوخ، سیکڑوں اسرائیلی مسافر عقبہ ائیرپورٹ پر پھنس گئے

    
اردن کی پروازیں منسوخ، سیکڑوں اسرائیلی مسافر عقبہ ائیرپورٹ پر پھنس گئے

    
اردن کی جانب سے پروازیں اچانک منسوخ کیے جانے کے بعد سیکڑوں اسرائیلی مسافر عقبہ کے کنگ حسین ائیرپورٹ پر پھنس گئے، جس کے باعث ائیرپورٹ پر شدید بدنظمی اور ہجوم کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی شہری بیرون ملک سفر کے لیے متبادل راستوں کی تلاش میں اردن کے شہر عقبہ کا رخ کر رہے ہیں، کیونکہ اسرائیل کے مرکزی بن گوریون ائیرپورٹ سے پروازوں کی تعداد انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ اسرائیلی شہر ایلات اور اردن کے شہر عقبہ کے درمیان فاصلہ صرف 15 کلومیٹر ہے، جس کی وجہ سے یہ راستہ زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق سرحد عبور کرنے میں مسافروں کو 4 سے 5 گھنٹے تک کا وقت لگ رہا ہے، جبکہ ائیرپورٹ پر بڑھتے ہوئے رش کے باعث ٹرمینل کے اندر اور باہر لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ مسافروں کو پروازوں کی منسوخی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق کئی اسرائیلی مسافر دبئی اور ابوظبی کے ذریعے یورپ اور دیگر ممالک جانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پروازوں کی غیر یقینی صورتحال نے ان کے سفر کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
    ‎مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں انتظامیہ کی جانب سے بروقت اور واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب تل ابیب کے بن گوریون ائیرپورٹ سے پروازوں میں سخت پابندیاں عائد ہیں اور ہر پرواز میں محدود تعداد میں مسافروں کو سفر کی اجازت دی جا رہی ہے۔
    ‎یہ صورتحال خطے میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی سفری رکاوٹوں کی عکاسی کرتی ہے، جس نے عام شہریوں کی نقل و حرکت کو شدید متاثر کیا ہے۔

  • پنجاب:  چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کا آغاز

    پنجاب: چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کا آغاز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صحت کے شعبے میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت دل کے مریضوں کو مفت اور بروقت علاج فراہم کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پروگرام شروع کیا، جبکہ منظوری کے بعد اس کا باقاعدہ اجرا بھی کر دیا گیا ہے، پروگرام کے تحت منتخب سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں دل کے امراض کا مفت علاج فراہم کیا جائے گاپنجاب کے 9 سرکاری اور 15 نجی کارڈیک ادارے اس پروگرام میں شامل ہیں، جبکہ یہ سہولت صوبے کے مستقل رہائشی دل کے مریضوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔

    چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کے تحت پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں پہلے مریض کی کامیاب اوپن ہارٹ سرجری بھی مکمل کر لی گئی ہے حکومت نے اس پروگرام کے لیے سالانہ 3 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے ہیں، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اوپن ہارٹ سرجری کی طویل ویٹنگ لسٹوں کو 6 ماہ میں ختم کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

    پروگرام سے متعلق معلومات کے لیے 0800-09009 ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے، جبکہ مریض پیر تا ہفتہ صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک 042-99066000 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے واٹس ایپ نمبر 0333-6756390 پر بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت دل کے ہزاروں مریضوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور یہ پروگرام امراض قلب میں مبتلا افراد کو مفت اور بروقت علاج کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگا۔

  • 
جنوبی لبنان میں حزب اللہ حملہ، اسرائیلی فوجی ہلاک

    
جنوبی لبنان میں حزب اللہ حملہ، اسرائیلی فوجی ہلاک

    
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے راکٹ حملے کے نتیجے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گیا ہے، جبکہ متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
    فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت 22 سالہ سارجنٹ موشے یتزحاق کاٹز کے نام سے ہوئی ہے، جو پیراٹروپرز بریگیڈ کی 890ویں بٹالین کا حصہ تھا۔ رپورٹس کے مطابق وہ امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کے شہر نیو ہیون کا رہائشی بھی تھا۔
    ‎اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کیا گیا، جس میں مزید تین فوجی زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمی اہلکاروں کی حالت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
    ‎اس سے قبل بھی اسی رات حزب اللہ کی جانب سے ایک علیحدہ حملہ کیا گیا تھا، جس میں 20 اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
    ‎ماہرین کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں حالیہ دنوں میں شدت آئی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
    ‎یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی مختلف محاذوں پر تنازعات کا شکار ہے، اور اس طرح کے حملے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

  • اسرائیل پر حوثی حملے صرف وارننگ ہیں جنگ میں شمولیت نہیں،سابق امریکی سفیر

    اسرائیل پر حوثی حملے صرف وارننگ ہیں جنگ میں شمولیت نہیں،سابق امریکی سفیر

    سابق امریکی سفارتکار نبیل خوری کے مطابق یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملے مکمل جنگی شمولیت نہیں بلکہ محض انتباہ ہیں۔

    الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے یمن میں امریکی مشن کے سابق نائب سربراہ نبیل خوری نے کہا کہ حوثیوں نے صرف چند میزائل فائر کیے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک پیغام دیا جا سکے خطے میں امریکی افواج کی آمد اور ممکنہ بڑے پیمانے پر کشیدگی کی باتوں کے پیش نظر یہ اقدام ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جیسا کہ اس سے قبل نہیں دیکھا گیا۔

    نبیل خوری کے مطابق حوثی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اب بھی موجود ہیں، اور اگر ایران کے خلاف مکمل کارروائی کی گئی تو ہم بھی اس میں شامل ہو جائیں گے، تاہم فی الحال وہ عملی طور پر مکمل جنگ میں شامل نہیں ہوئے اگر حوثی اس تنازع میں مکمل طور پر شامل ہوتے ہیں تو ان کا سب سے اہم اور خطرناک اقدام آبنائے باب المندب کو بند کرنا ہو سکتا ہے، جو بحیرہ احمر کا داخلی راستہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حوثی کشتیوں، بارودی سرنگوں یا میزائلوں کے ذریعے اس اہم گزرگاہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں نبیل خوری کے بقول انہیں صرف چند بحری جہاز وں پر حملہ کرنا ہوگا، جس کے بعد بحیرہ احمر سے گزرنے والی تمام تجارتی جہاز رانی رک سکتی ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا اقدام ایک سرخ لکیر ثابت ہوگا، جس کے بعد یمن کے خلاف فوری فوجی کارروائیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے ہفتے کو پہلی بار اسرائیل پر میزائل حملہ داغا تھا، جس کی حوثی فوجی ترجمان یحیی ساری نے تصدیق کی تھی۔

  • پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں جاری

    پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں جاری

    
اسلام آباد میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اجلاس شروع ہو گیا ہے، جس میں پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اس اجلاس کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں، جبکہ شریک ممالک کے وزرائے خارجہ موجودہ کشیدگی، ممکنہ سفارتی حل اور مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور بات چیت کا عمل آگے بڑھ سکے۔
    ‎یہ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکا کی جانب سے تیار کردہ 15 نکاتی مجوزہ امن منصوبہ اسلام آباد کے ذریعے تہران تک پہنچایا گیا تھا، جس سے پاکستان کے فعال سفارتی کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے علاقائی اجلاس خطے میں اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پلیئر کے طور پر سامنے لا رہی ہیں۔

  • سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے،عطا تارڑ

    سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے۔

    سوشل میڈیا پر اسمارٹ لاک ڈاؤن سے منسوب ایک مبینہ جعلی نوٹیفکیشن گردش کر رہا ہے جس حوالے سے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ وہ نوٹیفکیشن جعلی ہے، وفاقی حکومت نے ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے حوالے سے صوبوں اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ مشاورت شروع کر د ی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن کا حتمی فیصلہ تمام صوبوں اور وفاقی اکائیوں کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا وزارت خزانہ کو اس حوالے سے خصوصی ٹاسک دے دیا گیا ہے تاکہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں پر لاک ڈاؤن کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے فیصلے کے بعد کاروباری، تجارتی، صنعتی اور سر وس سیکٹر پر اس کے اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    ذرائع نے بتایا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران شادی بیاہ اور دیگر تقریبات محدود کر دی جائیں گی جبکہ قومی شاہراہیں عام ٹریفک کے لیے بند کی جا سکتی ہیں تاکہ لاک ڈاؤن کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں، لاک ڈاؤن کے نفاذ کی مدت اور شیڈول تمام متعلقہ اکائیوں کی منظوری کے بعد طے کیا جائے گا اور ا س کے بعد باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر زیر گردش مبینہ جعلی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ملک میں توانائی اور ایندھن کی بچت کے پیش نظر ہفتے میں دو روزہ اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جو آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں، لاک ڈاؤن ہر ہفتے ہفتہ کی دوپہر 12 بجے سے اتوار کی رات 12 بجے تک نافذ کیا جائے گا، جبکہ شادی بیاہ سمیت تمام کمرشل سرگرمیاں معطل رکھنے کی سفارش شامل کی گئی تھی اس کے علاوہ جعلی نوٹیفکیشن میں کاروباری مراکز، دفاتر اور دیگر غیر ضروری سرگرمیاں بھی بند رکھنے کی ہدایات شامل کی گئی تھیں، ابتدائی طور پر اسمارٹ لاک ڈا ؤن کے نفاذ کا آغاز 4 اپریل سے کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔

  • 
ایران میں حملوں سے شہادتیں 2076 تک پہنچ گئیں، 216 بچے بھی شامل

    
ایران میں حملوں سے شہادتیں 2076 تک پہنچ گئیں، 216 بچے بھی شامل

    
ایران کی وزارت صحت نے حالیہ حملوں کے بعد جانی نقصانات سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق اسرائیلی اور امریکی حملوں کے نتیجے میں اب تک 2076 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں 216 بچے بھی شامل ہیں، جو اس صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔
    وزارت صحت کے مطابق حملوں میں مجموعی طور پر 26 ہزار 500 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد 1767 بتائی گئی ہے، جبکہ متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎اعداد و شمار میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران ایران کے 336 طبی مراکز کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے طبی سہولیات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت کے مراکز پر حملے کسی بھی جنگی صورتحال میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔
    ‎ایرانی حکام نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہری آبادی اور بنیادی سہولیات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔