پنجاب کے ضلع جھنگ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ ایشال فاطمہ کی ہلاکت کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ پولیس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طالبہ مبینہ طور پر اغواء اور جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد جان کی بازی ہار گئی۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ ملزم، امیش جوگی، کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں چند افراد طالبہ کو تشویشناک حالت میں اسپتال لاتے اور بعد ازاں وہاں سے جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس اس فوٹیج سمیت دیگر شواہد کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طالبہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور فرانزک شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ تفتیشی اداروں کے مطابق حتمی حقائق پوسٹ مارٹم، ڈی این اے اور فرانزک رپورٹس سامنے آنے کے بعد واضح ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کو میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مقتولہ کے اہل خانہ نے واقعے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرکے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ کیس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا مل سکے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر خواتین اور طالبات کے تحفظ، قانون کی عملداری اور جرائم کی روک تھام سے متعلق سنجیدہ سوالات کو اجاگر کر رہا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
چونکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے واقعے سے متعلق تمام الزامات کی حتمی تصدیق عدالتی اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گی۔
Blog
-

جھنگ میں طالبہ کی ہلاکت پر غم و غصہ، اغواء اور زیادتی کے الزامات کی تحقیقات جاری
-

کراچی میں جعلی دستاویزات پر پاسپورٹ بنانے والا نیٹ ورک بے نقاب
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ نے کراچی میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے جعلی دستاویزات کے ذریعے افغان شہریوں کے لیے پاکستانی پاسپورٹ بنوانے والے مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا۔ کارروائی کے دوران دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شارع فیصل پر عوامی مرکز کے قریب واقع پاسپورٹ آفس میں اچانک چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران ریکارڈ کی تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی جس میں متعدد مشتبہ کیسز سامنے آئے۔
حکام کے مطابق چھاپے کے دوران 70 سے زائد ایسے مشتبہ افراد کی دستاویزات برآمد ہوئیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کی بنیاد پر غیر ملکی شہریوں کے لیے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان افراد کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے، تاہم تمام معاملات کی مزید چھان بین جاری ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان سے نیٹ ورک کے دیگر ارکان، سہولت کاروں اور ممکنہ سرکاری معاونت کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق نیٹ ورک میں شامل ممکنہ ایجنٹوں اور سرکاری ملازمین کی نشاندہی کے لیے بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مقامات پر مزید چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ جعلی دستاویزات اور غیر قانونی پاسپورٹ سازی کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ قومی شناختی اور سفری دستاویزات کے نظام کو محفوظ بنانا ریاستی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ -

بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر کی جی ایچ کیو راولپنڈی آمد، فیلڈ مارشل سے ملاقات
بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، سکیورٹی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور بحرین کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام اور سکیورٹی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا۔
بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر نے اپنے دورے کے دوران پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر بحری سلامتی، مشترکہ تعاون اور خطے میں درپیش سکیورٹی چیلنجز پر گفتگو ہوئی۔ بحرینی وفد نے پاکستان نیوی کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے علاقائی بحری استحکام اور محفوظ سمندری راستوں کے قیام میں اہم شراکت دار قرار دیا۔
بعد ازاں بحرینی کمانڈر نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک فضائیہ کی جدید دفاعی صلاحیتوں، آپریشنل تیاریوں اور جدید جنگی حکمت عملیوں پر بریفنگ دی گئی۔
گفتگو کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید دفاعی نظام اور فضائی دفاع کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بحرینی وفد نے پاک فضائیہ کی جدید کاری اور دفاعی استعداد میں اضافے کے اقدامات کو سراہا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس اعلیٰ سطحی دورے سے پاکستان اور بحرین کے درمیان فوجی اور سکیورٹی تعاون کو مزید تقویت ملے گی، جبکہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔ دونوں ممالک پہلے ہی مختلف دفاعی اور تربیتی پروگراموں میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ -

اسرائیل کا رفح اور کرم ابوسالم کراسنگ کھولنے کا اعلان
اسرائیلی حکومت نے غزہ میں انسانی صورتحال کے پیش نظر آج رفح اور کرم ابوسالم (کرم شالوم) کراسنگ جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں سرحدی گزرگاہوں کو محدود پیمانے پر عوامی نقل و حرکت اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے فعال کیا جائے گا۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے لوگوں کی محدود آمد و رفت کے لیے کھولا جائے گا، جبکہ کرم ابوسالم کراسنگ کے ذریعے غزہ میں انسانی امدادی سامان مرحلہ وار داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کے باعث انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے کئی ہفتوں سے سرحدی راستے کھولنے کا مطالبہ کر رہے تھے تاکہ متاثرہ آبادی تک امداد پہنچائی جا سکے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق کراسنگز کی بحالی محدود اور نگرانی شدہ طریقہ کار کے تحت ہوگی، جبکہ سیکیورٹی اقدامات کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔ امدادی سامان کی ترسیل کے عمل کا مرحلہ وار جائزہ لیا جائے گا تاکہ صورتحال کے مطابق مزید فیصلے کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے مارچ میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد غزہ کی سرحدی گزرگاہیں بند کر دی تھیں، جس کے نتیجے میں انسانی امداد کی فراہمی شدید متاثر ہوئی تھی۔ اس دوران عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں امدادی رسائی بحال کرنے پر زور دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رفح اور کرم ابوسالم کراسنگ کی دوبارہ جزوی بحالی سے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں کچھ بہتری آ سکتی ہے، تاہم علاقے میں پائیدار استحکام اور مکمل امدادی رسائی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ -

جے اے اے سی کے دو رہنماؤں کے وارنٹ جاری، بغاوت کے الزامات پر تحقیقات شروع
آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے دو مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقات کی باضابطہ منظوری دی گئی ہے جبکہ دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد سمیت دیگر افراد کے خلاف دفعہ 124 اے کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد اور معلومات مزید تفتیش کی متقاضی ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
نوٹیفکیشن میں دونوں رہنماؤں کی گرفتاری میں معاونت فراہم کرنے والوں کے لیے انعامی اسکیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان پر تقاریر، تحریروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور بغاوت پر آمادہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
حکومت نے ایس ایس پی مظفرآباد کو شوکت نواز میر کے خلاف فوری تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ ایس ایس پی میرپور کو خواجہ مہران ارشد کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل چھان بین کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک مبینہ آڈیو کال منظرعام پر آنے کے بعد سامنے آئی ہے، جسے حال ہی میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔ آڈیو میں مبینہ طور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ایسی گفتگو سنائی دیتی ہے جس میں آزاد کشمیر میں بدامنی اور انتشار سے متعلق منصوبہ بندی پر بات کی جا رہی ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق آڈیو میں راولاکوٹ میں ممکنہ پرتشدد واقعات اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے۔ تاہم اس آڈیو کی آزادانہ تصدیق اور فرانزک جانچ کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ -

مظفرآباد میں مبینہ بھارتی نیٹ ورک بے نقاب، 5 افراد گرفتار
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سیکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے مبینہ طور پر منسلک پانچ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں ایک ممکنہ تخریبی منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاع پر مظفرآباد کے علاقے چہلہ میں ایک ہدفی آپریشن کیا گیا، جہاں سے پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تلاشی کے دوران ملزمان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر مواصلاتی آلات برآمد کیے گئے، جن کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ایک مشتبہ شخص کی نشاندہی پر اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔ برآمد شدہ سامان میں سات خودکار ہتھیار، متعدد دستی بم اور دیگر جنگی نوعیت کا سازوسامان شامل بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے ملزمان کے قبضے سے حساس مقامات اور اہم تنصیبات سے متعلق نقشے، دستاویزات اور مبینہ منصوبہ بندی کا ریکارڈ بھی حاصل کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان شواہد کو تحقیقات کا حصہ بنا لیا گیا ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تفتیشی ٹیمیں اس نیٹ ورک کے ممکنہ سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور دیگر ممکنہ رابطوں کی نشاندہی کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق جدید فرانزک اور ڈیجیٹل تجزیے کی مدد سے نیٹ ورک کے مزید روابط سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے باعث حساس تنصیبات اور عوامی سلامتی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنایا گیا۔ تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ -

فیفا ورلڈ کپ 2026: ٹرمپ حکومت نے ایرانی شائقین کے میچ ٹکٹس منسوخ کر دیے
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے قبل ایران اور امریکا کے درمیان ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔ ایرانی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی شائقین کے لیے مختص ورلڈ کپ ٹکٹس منسوخ کر کے کھیلوں کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق فیفا ورلڈ کپ 2026، جو 11 جون سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے، میں ایران کی قومی ٹیم بھی شریک ہے۔ ایران کے گروپ مرحلے کے تمام میچز امریکا میں شیڈول ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پہلے ایرانی ٹیم کے قیام سے متعلق مسائل پیدا کیے گئے اور اب ایرانی شائقین کے لیے مختص ٹکٹس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق تہران نے اس اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے امتیازی اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ فیفا اور ورلڈ کپ انتظامیہ پر لازم ہے کہ تمام ممالک کے شائقین کو برابر مواقع فراہم کریں۔ وزارت خارجہ کے مطابق کسی بھی ملک کے شہریوں کو سیاسی بنیادوں پر کھیلوں کے عالمی ایونٹ سے دور رکھنا فیفا کے اصولوں اور بین الاقوامی کھیلوں کی روح کے منافی ہے۔
ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کھیلوں کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جانا چاہیے اور شائقین کو اپنی قومی ٹیم کی حمایت کا حق حاصل ہے۔ حکام کے مطابق اگر ٹکٹس کی بحالی نہ کی گئی تو یہ اقدام کھیلوں میں غیر جانبداری کے اصول پر سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فٹبال فیڈریشن نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فیفا سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ایرانی شائقین کے حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے اور انہیں ورلڈ کپ کے میچز دیکھنے سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
تاحال فیفا یا امریکی حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ -

اپر سوات میں اسکول بس کھائی میں گر گئی، طالبہ جاں بحق
خیبرپختونخوا کے ضلع اپر سوات میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں ایک طالبہ جاں بحق جبکہ 20 سے زائد طالبات زخمی ہو گئیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طالبات کو لے جانے والی اسکول بس بریک فیل ہونے کے باعث بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ اپر سوات کے علاقے دارمئی میں پیش آیا، جہاں اسکول بس معمول کے مطابق طالبات کو لے جا رہی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس کی بریکیں اچانک ناکام ہو گئیں جس کے باعث ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور بس الٹتے ہوئے کھائی میں جا گری۔
حادثے کے وقت بس میں 40 سے زائد طالبات سوار تھیں۔ واقعے کے فوراً بعد مقامی افراد اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ زخمی طالبات کو فوری طور پر نکال کر مٹہ کے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں متعدد طالبات کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں ایک طالبہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی جبکہ 20 سے زائد طالبات مختلف نوعیت کی چوٹوں کا شکار ہوئیں۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی جبکہ والدین اور اہل خانہ اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور بس کی فنی حالت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس جانچ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمی طالبات کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور حادثے کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ -

گلگت بلتستان میں حکومت سازی، پیپلز پارٹی آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کیلئے متحرک
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی آزاد امیدواروں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آئندہ چند روز میں گلگت بلتستان کا دورہ کر سکتے ہیں، جہاں وہ پارٹی رہنماؤں اور نو منتخب ارکان سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس دوران حکومت سازی کے حوالے سے اہم مشاورت متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد پیپلز پارٹی اپنی عددی برتری کو حکومت کی تشکیل میں تبدیل کرنے کے لیے سیاسی رابطے بڑھا رہی ہے۔ آزاد امیدواروں کی حمایت اس عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ کئی حلقوں میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ حکومت سازی سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم پارٹی کی کوشش ہوگی کہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان کو ساتھ ملا کر ایک مضبوط سیاسی اتحاد قائم کیا جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوگی اور اسی وجہ سے آزاد ارکان کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں بھی ان ارکان سے رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکیں۔
واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بن کر ابھری ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدواروں نے بھی مختلف حلقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں حکومت سازی کے حوالے سے سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔ -

ٹرمپ کی اپیل پر ایران اور اسرائیل نے حملے روک دیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل کے بعد ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے خلاف حملے روکنے کا اعلان کیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں عارضی کمی آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ دوبارہ جوابی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان اپریل کے بعد یہ سب سے براہِ راست اور شدید تصادم تھا، جس نے خطے کو ایک وسیع جنگ کے خطرے سے دوچار کر دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کشیدگی نے واشنگٹن کی ان سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کیا جو ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حملوں کے تبادلے کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم جب ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے خلاف اس کی پہلی مرحلے کی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں تو عالمی منڈیوں میں صورتحال نسبتاً مستحکم ہو گئی اور تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
مالیاتی منڈیوں میں بھی اس پیش رفت کے اثرات سامنے آئے، جہاں امریکی ڈالر تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گیا۔ سرمایہ کاروں نے جنگی خطرات میں کمی کے بعد نسبتاً محفوظ ماحول کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے بھی ایران کے خلاف مزید حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کی جانب سے مکمل جنگ بندی کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم موجودہ صورتحال کو کشیدگی میں کمی کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف عارضی حملہ بندی کافی نہیں ہوگی بلکہ ایران، اسرائیل، امریکا اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان سنجیدہ سفارتی مذاکرات ناگزیر ہیں۔ آئندہ چند روز خطے کی صورتحال اور ممکنہ سیاسی پیش رفت کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔