Baaghi TV

Blog

  • صحافیوں کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے ،ساجد انصاری پی آر او ٹو ڈی پی او

    صحافیوں کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے ،ساجد انصاری پی آر او ٹو ڈی پی او

    قصور
    صحافیوں کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے ،ساجد حسین انصاری، پی آر او ٹو ڈی پی او قصور
    تفصیلات کے مطابق پی آر او ٹو ڈی پی او قصور ساجد حسین انصاری نے کہا ہے کہ ضلع بھر کے سینئر اور جونئیر صحافیوں کے جائز مسائل کا حل ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ صحافی برادری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
    اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کا اہم ستون ہیں ان کی مثبت تنقید اور جرائم کی نشاندہی ایک تعمیری عمل ہے جس سے پولیس کو بہتری کا موقع ملتا ہے
    انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر حقائق پر مبنی رپورٹنگ کریں تاکہ معاشرے میں درست معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے
    ساجد حسین انصاری کا مذید کہنا تھا کہ پولیس اور صحافیوں کا باہمی تعاون جرائم کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے
    اگرچہ جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں تاہم مؤثر حکمت عملی سے اسے کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے
    انہوں نے واضح کیا کہ ان کے دفتر کے دروازے چوبیس گھنٹے ضلع بھر کے صحافیوں کے لیے کھلے ہیں اور وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ صحافیوں کے جائز کام فوری طور پر حل کئے جائیں

  • ‎تہران میں بجلی معطل، انفراسٹرکچر پر حملے کے بعد اندھیرا

    ‎تہران میں بجلی معطل، انفراسٹرکچر پر حملے کے بعد اندھیرا

    
ایران کے صوبہ البرز میں بجلی کے اہم نظام کو نقصان پہنچنے کے بعد تہران اور کرج کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہو گئی۔ حکام کے مطابق شارپنل کے ٹکڑے ایک ہائی وولٹیج ٹاور اور دوشن تپے سب اسٹیشن سے ٹکرائے، جس کے باعث بجلی کا نظام جزوی طور پر معطل ہو گیا۔
    رپورٹس کے مطابق اس نقصان کے نتیجے میں کئی علاقوں میں اچانک بجلی بند ہو گئی، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
    حکام کا کہنا ہے کہ مسئلے کی فوری نشاندہی کر لی گئی ہے اور تکنیکی ٹیمیں بجلی کی بحالی کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہیں۔ ابتدائی اقدامات کے بعد کچھ علاقوں میں بجلی بحال بھی کر دی گئی ہے جبکہ باقی متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل جاری ہے۔
    ماہرین کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان نہ صرف فوری مسائل پیدا کرتا ہے بلکہ اس کے اثرات وسیع پیمانے پر شہری زندگی اور معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

  • 
بیرون ملک پاکستانیوں کی دولت واپس لانے پر حکومتی غور

    
بیرون ملک پاکستانیوں کی دولت واپس لانے پر حکومتی غور

    
حکومت نے بیرون ملک موجود پاکستانیوں کی بڑی مالیاتی رقوم کو واپس لانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے، جسے معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں تفصیلی مشاورت جاری ہے۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں پاکستانیوں کے تقریباً 20 ارب ڈالر موجود ہیں، جو 2018 اور 2019 کی ایمنسٹی اسکیموں کے دوران ظاہر کیے گئے تھے لیکن ملک میں منتقل نہیں کیے گئے۔ ان اسکیموں کے تحت مجموعی طور پر 82 ہزار 889 گوشوارے جمع کرائے گئے تھے جبکہ حکومت کو تقریباً 194 ارب روپے ٹیکس حاصل ہوا تھا۔
    ‎حکام کے مطابق خطے میں حالیہ کشیدگی، خاص طور پر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد، بیرون ملک پاکستانی اپنی رقوم کو زیادہ محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں، جسے پاکستان کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق حکومت روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کے ذریعے اس سرمایہ کو واپس لانے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس اسکیم کو مزید وسعت دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ نہ صرف اوورسیز پاکستانی بلکہ غیر ملکی کمپنیاں اور ملک کے اندر مقیم افراد بھی اس میں سرمایہ کاری کر سکیں۔
    ‎اس کے علاوہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں اوورسیز پاکستانیوں کو ٹیکس میں رعایت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے خریدی جانے والی جائیداد پر 10 فیصد ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز ہے، تاہم یہ سہولت غیر قانونی یا کالے دھن رکھنے والوں کو حاصل نہیں ہوگی۔
    ‎حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آئندہ بجٹ سے قبل یا اسی کے ساتھ متعارف کرائے جا سکتے ہیں، جن کا مقصد سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور ملکی معیشت کو مستحکم بنانا ہے۔

  • 
امریکا دوہری پالیسی اپنا رہا ہے، ایران کا زمینی جنگ کی تیاری کا الزام

    
امریکا دوہری پالیسی اپنا رہا ہے، ایران کا زمینی جنگ کی تیاری کا الزام

    
ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک طرف امن مذاکرات کی بات کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب خفیہ طور پر زمینی حملے کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن سفارتکاری کو ایک پردے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ امریکا بظاہر بات چیت کا پیغام دے رہا ہے لیکن پس پردہ زمینی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ قالیباف کے مطابق ایران کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر امریکی فوج نے زمینی مداخلت کی تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    ‎ایرانی اسپیکر نے خبردار کیا کہ امریکی فوجیوں کی خطے میں تعیناتی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، اور ایران اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اشارہ دیا تھا کہ توانائی کے انفرااسٹرکچر پر حملوں میں وقفہ دے کر کسی ممکنہ حل کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
    ‎تاہم ایرانی قیادت نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اسے نفسیاتی حربہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اس حکمت عملی کے ذریعے وقت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنی فوجی تیاریوں کو مکمل کر سکے۔
    ‎ادھر اطلاعات کے مطابق امریکی بحری جہاز یو ایس ایس تریپولی خطے میں پہنچ چکا ہے، جس کے ساتھ ہزاروں میرینز اور جنگی طیارے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ممکنہ محدود زمینی کارروائیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں سفارتکاری اور عسکری تیاری ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، جس سے کسی بھی وقت کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • 
پی آئی اے کی لندن پروازیں 6 سال بعد بحال

    
پی آئی اے کی لندن پروازیں 6 سال بعد بحال

    
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن نے طویل انتظار کے بعد 6 سال کے وقفے کے بعد لندن کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں، جسے قومی ہوا بازی کے شعبے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    پی آئی اے کی پہلی پرواز پی کے 785 اسلام آباد سے 325 مسافروں کو لے کر لندن کے لیے روانہ ہوئی۔ اس موقع پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک خصوصی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی، جس میں سیکریٹری دفاع اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے شرکت کی اور پرواز کو روانہ کیا۔
    ‎تقریب کے دوران کیک کاٹا گیا اور مسافروں میں تحائف تقسیم کیے گئے، جبکہ ایک خوش نصیب مسافر کو قرعہ اندازی کے ذریعے 660 سی سی گاڑی انعام میں دی گئی، جس نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔
    ‎اس موقع پر پی آئی اے کنسورشیم کے چیئرمین عارف حبیب سمیت اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں چلائی جائیں گی جبکہ 30 مارچ سے لاہور سے بھی ہفتے میں ایک پرواز کا آغاز کیا جائے گا، یوں مجموعی طور پر چار پروازیں ہفتہ وار آپریٹ ہوں گی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ لندن روٹ کی بحالی سے نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ قومی ایئر لائن کی ساکھ اور آمدنی میں بھی بہتری آئے گی۔

  • 
ایرانی ڈرون پر امریکا کیلئے پیغام

    
ایرانی ڈرون پر امریکا کیلئے پیغام

    
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ایک شاہد ڈرون کی تصویر جاری کی ہے جس پر امریکا کے حوالے سے ایک پیغام درج ہے، جس نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
    ایرانی میڈیا کے مطابق یہ ڈرون ایران کے جاری آپریشن “وعدہ صادق 4” کی 86ویں لہر میں استعمال کیا گیا۔ تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ڈرون پر تحریر ہے کہ “جب تک ٹرمپ کا ٹولا امریکا کو تباہ کر رہا ہے، ہمارے میزائلوں کو امریکا پہنچنے کی ضرورت نہیں ہے۔”اس پیغام کو ایران کی جانب سے ایک علامتی اور سیاسی ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو موجودہ کشیدہ حالات میں بیانیے کی جنگ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات اور علامات نہ صرف عسکری بلکہ نفسیاتی اور سفارتی دباؤ کا حصہ بھی ہوتے ہیں، جن کا مقصد مخالف فریق کو پیغام دینا ہوتا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف محاذوں پر بیانات اور کارروائیاں جاری ہیں۔

  • 
یو اے ای میں ویڈیوز شیئر کرنے پر 70 برطانوی شہری گرفتار

    
یو اے ای میں ویڈیوز شیئر کرنے پر 70 برطانوی شہری گرفتار

    
متحدہ عرب امارات میں ایرانی حملوں سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے کے الزام میں 70 برطانوی شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
    برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار افراد میں سیاح، یو اے ای میں مقیم برطانوی شہری اور ایوی ایشن عملہ بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد ہونے والے نقصانات کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے شیئر کیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق بعض افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے، تاہم ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے ہیں تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جا سکیں۔ اماراتی قوانین کے تحت حساس نوعیت کی تصاویر یا ویڈیوز کو شیئر کرنا ہی نہیں بلکہ انہیں وصول کرنا بھی جرم تصور کیا جا سکتا ہے۔
    ‎قانونی ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں 10 سال تک قید اور 2 لاکھ درہم تک جرمانہ بھی ہو سکتا ہے، جو ان قوانین کی سختی کو ظاہر کرتا ہے۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار برطانوی شہری دبئی میں مقیم تھے، تاہم ایران سے کشیدگی بڑھنے کے بعد ان میں سے بڑی تعداد واپس برطانیہ جا چکی ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگی یا حساس حالات میں معلومات کے پھیلاؤ پر سخت کنٹرول رکھا جا رہا ہے، اور غیر ذمہ دارانہ شیئرنگ سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

  • 
یوکرینی ڈرون حملہ، روسی آئل ریفائنری بڑا  کو نقصان

    
یوکرینی ڈرون حملہ، روسی آئل ریفائنری بڑا کو نقصان

    
روس کی اہم تیل برآمدی بندرگاہ اُست لوگا یوکرین کے تازہ ڈرون حملے کے بعد ایک بار پھر متاثر ہوئی ہے، جس سے روس کی توانائی سپلائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    لینن گراڈ ریجن کے گورنر الیگزینڈر دروزڈینکو کے مطابق رات کے وقت ہونے والے حملے میں روسی فضائی دفاع نے 36 ڈرونز کو مار گرایا، تاہم اس دوران بندرگاہ پر آگ بھڑک اٹھی جسے بجھانے کے لیے ہنگامی سروسز نے فوری کارروائی کی۔ بعد ازاں اضافی وسائل، بشمول فائر فائٹنگ ٹرینز، طلب کر کے آگ پر قابو پا لیا گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اُست لوگا بندرگاہ کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا تھا جس کے باعث بدھ سے یہاں لوڈنگ کا عمل معطل ہے۔ اس نئی پیش رفت نے روس کی تیل برآمدات کو مزید متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
    ‎اسی خطے میں واقع ایک اور اہم بندرگاہ پرائمورسک بھی حالیہ حملوں میں متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دونوں بندرگاہیں روس کی سمندری تیل برآمدات کا تقریباً 45 فیصد حصہ سنبھالتی ہیں، جو یومیہ تقریباً 17 لاکھ بیرل بنتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی سے جنگ کا دائرہ معاشی محاذ تک پھیل رہا ہے، جس کے عالمی تیل مارکیٹ پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
کویت ایئرویز کی لاہور پروازیں یکم اپریل سے بحال

    
کویت ایئرویز کی لاہور پروازیں یکم اپریل سے بحال

    
کویت ایئرویز نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم اپریل سے لاہور کے لیے اپنی کمرشل پروازیں دوبارہ شروع کر رہی ہے، جو سعودی عرب کے شہر دمام کے راستے آپریٹ کی جائیں گی۔ اس فیصلے کو پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان فضائی روابط میں بہتری کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ایئر لائن کے مطابق یہ پروازیں ہفتے میں دو دن، بدھ اور ہفتہ کو چلائی جائیں گی، جس سے مسافروں کو سفری سہولت میں اضافہ ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مسافروں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور خطے میں بہتر کنیکٹیویٹی فراہم کرنا ہے۔
    ‎کویت ایئرویز کے قائم مقام سی ای او عبدالوہاب الشطی نے کہا کہ ایئر لائن موجودہ حالات کے مطابق لچکدار حکمت عملی اختیار کر رہی ہے تاکہ آپریشنل چیلنجز کے باوجود مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ ایئر لائن مسافروں کے لیے سعودی ویزا درخواست کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہے، تاہم یہ سہولت صرف ان افراد کے لیے ہوگی جو کویت ایئرویز کی پروازوں کی پیشگی بکنگ کروائیں گے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس روٹ کی بحالی سے نہ صرف پاکستانی مسافروں کو فائدہ ہوگا بلکہ کاروباری اور سفری روابط میں بھی بہتری آئے گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

  • 
کراچی میں ٹریفک حادثات، خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق

    
کراچی میں ٹریفک حادثات، خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق

    
کراچی میں ٹریفک حادثات کا سلسلہ تھم نہ سکا، شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے دو افسوسناک واقعات میں خاتون سمیت دو افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
    پہلا حادثہ کورنگی کے علاقے بلال چورنگی میں پیش آیا جہاں ایک واٹر ٹینکر نے موٹرسائیکل سوار باپ اور بیٹی کو ٹکر مار دی۔ حادثے کے نتیجے میں بیٹی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی جبکہ باپ زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد ٹینکر ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
    ‎دوسرا حادثہ بلدیہ ٹاؤن کے علاقے یوسف گوٹھ میں پیش آیا جہاں ٹریلر اور گاڑی کے درمیان تصادم ہوا۔ اس حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 5 افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
    ‎شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عید الفطر کے تین دنوں کے دوران بھی مختلف حادثات میں 16 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جبکہ رواں سال کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ہیوی ٹریفک کی زد میں آکر 83 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں ٹرالرز کی ٹکر سے ہوئیں جبکہ واٹر ٹینکرز بھی شہریوں کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور ہیوی گاڑیوں کی نگرانی کے بغیر ایسے حادثات کو روکنا ممکن نہیں۔