Baaghi TV

Blog

  • سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا ریمارکس،صارفین کی ٹرمپ پر شدید تنقید ،علامہ طاہر اشرفی کی بھی سخت مذمت

    سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا ریمارکس،صارفین کی ٹرمپ پر شدید تنقید ،علامہ طاہر اشرفی کی بھی سخت مذمت

    میامی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں دیے گئے ریمارکس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق میامی میں منعقدہ سعودی انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ولی عہد کے حوالے سے سخت اور نازیبا انداز میں گفتگو کی،انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں میری چاپلوسی کرنی پڑے گی، محمد بن سلمان سمجھتے تھےکہ ٹرمپ بھی دوسرے امریکی صدور کی طرح کوئی ناکام آدمی ہو گا جن کے دور میں ملک زوال کا شکار تھا ، اب سعودی ولی عہد کو ان کے ساتھ احترام سے بات کرنا پڑتی ہے اور انہیں ایسا کرنا ہی ہوگا، ان کے اس بیان کو سفارتی آداب کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر ٹرمپ کے ان ریمارکس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے،بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایسے بیانات امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک خطے میں اہم اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔

    ادھر چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد سے متعلق نازیبا الفاظ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی ولی عہد سے متعلق نازیبا الفاظ افسوسناک ہیں، ولی عہد بہادر ہیں، فیصلہ اور صبر کی صلاحیت رکھتے اور عالمی شازشوں کو سمجھتے ہیں، سعودی ولی عہد ایران پرحملہ کرنےکےحامی نہیں اور امن کےلیےکوشاں ہیں، امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پورا عالم اسلام غم کی کیفیت میں ہے۔

    علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان اور ترکیے خطے میں امن کے لیے کوشاں ہیں، امریکا اور صہیونی لابی اس لیے پروپگینڈا کر رہی ہےکہ وہ ان کے ہاتھوں استعمال نہیں ہو رہے صہیونی میڈیا اور عالمی رہنما جتنا بھی چاہیں عرب دنیا اس جنگ میں نہیں آئےگی۔

  • اسحاق ڈار سے مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ،ایران سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار سے مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ،ایران سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات ہوئی ہے، جس میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے مصری وزیر خارجہ کا دفتر خارجہ آمد پر پرتپاک استقبال کیا اور کہاکہ پاکستان مصر کے ساتھ دیرینہ اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، جو مشترکہ تاریخ، مذہب اور خطے و عالمی امور پر ہم آہنگی پر قائم ہیں۔

    ملاقات میں دونوں جانب سے دوطرفہ تعلقات کا مکمل جائزہ لیا گیا اور گزشتہ اعلیٰ سطحی رابطوں، بشمول نومبر 2025 میں مصر کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان، کے مثبت اثرات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا،دونوں رہنماؤں نے تعاون کو تمام شعبوں میں مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    دونوں وزرا نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا اس ضمن میں دوطرفہ طریقۂ کار کو فعال بنانے، مشترکہ وزارتی کمیشن اور کاروباری اداروں کے مابین روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ہیپاٹائٹس سی کے خلاف صحت کے شعبے میں مصر کی جاری حمایت کی تعریف کی اور اس تعاون کو خوش آئند قرار دیا۔

    دونوں فریقین نے دفاع اور سیکیورٹی تعاون میں موجودہ مثبت پیش رفت پر اطمینان ظاہر کیا اور تربیتی تبادلوں اور دیگر ادارہ جاتی میکنزم کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا انہوں نے خطے اور عالمی سطح پر جاری حالات، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور زور دیا کہ تنازعات کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی فوج کی غزہ اور مغربی کنارے میں جاری جارحیت کی سخت مذمت کی، انہوں نے غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کرنے میں مصر کے کردار کی بھی تعریف کی، جس میں پاکستان کی امدادی کوششوں میں تعاون شامل ہے۔

    دونوں ممالک نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت کثیر الجہتی فورمز پر قریبی ہم آہنگی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ملاقات میں پاکستان اور مصر کے قریبی اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کو دہرایا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ ملاقات حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں بشمول 19 مارچ 2026 کو ریاض میں ہونے والی بات چیت کی پیشرفت کے طور پر ہوئی اور یہ خطے میں بڑھتی ہوئی پیش رفت پر پاکستان اور مصر کے قریبی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔

    بعد ازاں ترکیہ کے وزیر خارجہ دفتر خارجہ پہنچے جہاں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں وہ خطے کی بدلتی صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر مشاورت کر رہے ہیں ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔

    انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہر شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیادونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا دونوں رہنماؤں نے ایران سمیت خطے میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امن و استحکام کے لیے مکالمہ اور مسلسل سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔

    پاکستان اور ترکیہ نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • اسرائیل ڈوب رہا ہے: تنہائی کا شکار اور جنگ کے خاتمے کا شدت سے محتاج،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    اسرائیل ڈوب رہا ہے: تنہائی کا شکار اور جنگ کے خاتمے کا شدت سے محتاج،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید،دفاعی اور اسٹریٹجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا میں عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹجی اور دفاعی جدیدکاری کے ماہر، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    طویل جنگوں اور علاقائی محاذ آرائی کے مسلسل سلسلے نے اسرائیل کے اندر گہرے ساختی دباؤ کو بے نقاب کرنا شروع کر دیا ہے۔ جو ریاست کبھی تکنیکی طور پر برتر اور عسکری لحاظ سے غالب سمجھی جاتی تھی، وہ اب بڑھتے ہوئے آبادیاتی، معاشی اور اسٹریٹجک دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جو اس کے مستقبل کے سیکیورٹی منظرنامے کو ازسرِ نو تشکیل دے سکتے ہیں۔

    بڑھتی ہوئی ہجرت اور برین ڈرین
    حالیہ تعلیمی مشاہدات اور ہجرت کے اعداد و شمار اسرائیل کے لیے ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد ملک چھوڑ رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق صرف 2023 میں تقریباً ایک لاکھ اسرائیلی ملک چھوڑ گئے، جبکہ 2024 میں بھی تقریباً اتنی ہی تعداد میں لوگ ہجرت کر گئے۔

    ان مہاجرین میں بڑی تعداد تعلیم یافتہ اور پیشہ ور طبقے سے تعلق رکھتی ہے—جن میں ڈاکٹر، انجینئر، ماہرین تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ماہر شامل ہیں—جو زیادہ تر United Kingdom، United States اور Europe کے دیگر ممالک میں جا کر آباد ہو رہے ہیں۔جاری جنگی ماحول نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث ہزاروں افراد پہلے ہی ملک چھوڑ چکے ہیں جبکہ بہت سے دیگر نقل مکانی پر غور کر رہے ہیں۔ یہ ابھرتا ہوا برین ڈرین اسرائیل کے ٹیکنالوجی اور طبی شعبوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جو اس کی معیشت کے بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔

    اندرونی اختلافات اور نظریاتی تقسیم
    ایک اور بڑا چیلنج اسرائیلی معاشرے کے اندر سے سامنے آ رہا ہے۔ مختلف طبقات کی جانب سے جنگی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    خاص طور پر آرتھوڈوکس یہودی برادری کے کچھ حلقوں—چاہے وہ اسرائیل کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک—نے Zionism کی سیاسی سوچ کی مخالفت کی ہے۔
    آرتھوڈوکس یہودی گروہوں نے Europe اور United States کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ سیاسی پالیسیاں ان کے مذہبی عقائد کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ یہ نظریاتی اختلافات اب زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں اور اسرائیلی قیادت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

    متعدد محاذوں پر سیکیورٹی دباؤ
    سیکیورٹی کے محاذ پر صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ Lebanon سے ملحقہ شمالی اسرائیل کے علاقوں میں بار بار راکٹ حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جس کے باعث بہت سے شہریوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔
    سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کے باعث بعض شمالی بستیوں کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے کیونکہ شہری محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

    اسی دوران Israel Defense Forces کئی برسوں سے مسلسل عسکری کارروائیوں میں مصروف ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کو تقریباً 20 ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔
    مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ریزرو فورس کی طلبی پر ردعمل بھی کمزور بتایا جا رہا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ ریزرو فوجیوں کو طلب کیا گیا مگر ان میں سے صرف چند ہزار نے جواب دیا۔ بہت سے افراد سے رابطہ نہیں ہو سکا جبکہ کچھ ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں باقاعدہ فوجیوں کے فرار اور غیر حاضری کے واقعات پر بھی بحث ہو رہی ہے۔

    جنگ کا معاشی بوجھ
    مسلسل جنگ نے اسرائیل کی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جاری جنگ پر اب تک تقریباً 57 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جس سے قومی بجٹ پر شدید دباؤ پڑا ہے۔
    اگر یہ تنازعہ جاری رہا تو معاشی استحکام کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔
    اطلاعات کے مطابق کچھ بین الاقوامی سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری واپس لے رہے ہیں یا نئے منصوبے روک رہے ہیں جبکہ غیر یقینی صورتحال کے باعث داخلی معاشی سرگرمیاں بھی سست پڑ گئی ہیں۔
    اس کے علاوہ مزدوروں کی کمی کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے کیونکہ بہت سے افراد ملک چھوڑ چکے ہیں یا فوجی خدمات کے لیے طلب کیے جا چکے ہیں۔

    اسٹریٹجک تنہائی
    سفارتی سطح پر بھی اسرائیل خود کو بڑھتی ہوئی تنہائی میں محسوس کر رہا ہے۔ اگرچہ United States اس کا سب سے بڑا اتحادی ہے اور Narendra Modi کی قیادت میں India نے بھی حمایتی مؤقف برقرار رکھا ہے، تاہم کئی یورپی حکومتوں نے جاری جنگ کے حوالے سے زیادہ محتاط یا تنقیدی رویہ اختیار کیا ہے۔
    اسرائیل کے اندر بھی عوامی مباحثے میں جنگ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کچھ حلقے پوچھ رہے ہیں کہ اسرائیل اپنے مخالفین کے خلاف براہِ راست عسکری کارروائی کے بجائے اتحادیوں پر زیادہ انحصار کیوں کر رہا ہے۔

    نتیجہ
    آج اسرائیل بیک وقت کئی غیر معمولی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے: آبادی کا انخلا، بڑھتا ہوا داخلی اختلاف، معاشی دباؤ اور طویل جنگی تھکن۔

    یہ تصور کہ جنگیں تیزی سے اور فیصلہ کن انداز میں لڑی جا سکتی ہیں، اب ایک طویل اور مہنگے تنازعے کی حقیقتوں کے سامنے چیلنج ہو رہا ہے۔
    اگر جنگ بغیر کسی واضح حکمتِ عملی کے جاری رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اسرائیل کی معیشت، سماجی ہم آہنگی اور عالمی حیثیت کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔

    اسرائیلی قیادت کے لیے اصل سوال اب صرف جنگ جیتنے کا نہیں رہا بلکہ یہ ہے کہ کیا ملک سیاسی، معاشی اور سماجی اخراجات کو مزید برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

  • آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہےکہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ روزانہ 2 جہاز آبنائے ہرمز عبور کریں گے اسحاق ڈار نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو ووٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پوسٹ میں ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ایران کا یہ اقدام خوش آئند اور تعمیری ہے، اس کی تعریف ہونی چاہیے،یہ پیشرفت خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کا پیش خیمہ ہے، یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک اہم قدم ہے جو اجتماعی کوششوں کو مضبوط کرےگا، مذاکرات، سفارتکاری اور اعتماد سازی ہی آگے بڑھنےکا واحد راستہ ہے۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے-

  • پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت،امریکی صدرنے اسحاق ڈار کی ٹوئٹ شیئر کر دی

    پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت،امریکی صدرنے اسحاق ڈار کی ٹوئٹ شیئر کر دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے بعد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایک اہم ٹویٹ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر خبروں کی زینت بن گیا اور سفارتی حلقوں میں اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ ایران نے 20 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ روزانہ 2 پاکستانی جہاز اس اہم بحری راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں گے یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی بلکہ توانائی کی سپلائی بھی مستحکم ہوگی۔

    اس پیش رفت کو موجودہ ایران-امریکا کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے حالیہ جنگی صورتحال کے باعث اس راستے پر سخت نگرانی اور پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی۔

    trumptrump

    ماہرین کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے اس ٹویٹ کو شیئر کرنا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ رابطوں میں سہولت فراہم کر رہا ہےاس اقدام سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی مثبت امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    امریکی صدر اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ بھی شیئر کر چکے ہیں، جس میں انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا خیرمقدم کیا تھا اس تسلسل کو ماہرین پاکستان اور امریکا کے درمیان بہتر ہوتے سفارتی روابط کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے۔

    ادھر حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور تمام فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات کو برقرار رکھنے کی پالیسی جاری رکھی جائے گی ، موجودہ حالات میں ایسے اقدامات کشیدگی کم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

  • پاکستان کی سفارتی پیش رفت اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی پیش رفت اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی موجودہ کاوشیں نہ صرف بروقت بلکہ عالمی امن کے لیے ایک امید افزا قدم بھی قرار دی جا سکتی ہیں

    کشیدگی کے دہکتے میدان میں پاکستان کی حکمت و تدبر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے بیچ امن کا ابھرتا ہوا ثالث

    تجزیہ شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جغرافیائی و عسکری کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں اسرائیل، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان نے ایک ذمہ دار اور متوازن سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا ہے—ایک ایسا کردار جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال اور سنجیدہ فریق کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ترکی، سعودیہ اورمصر جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی پاکستان کی کوششوں کو ایک وسیع تر سفارتی فریم ورک فراہم کر رہی ہے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی متوازن خارجہ پالیسی ہے، جو اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتی ہے۔ ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ گہرے علاقائی اور ثقافتی روابط ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات اسے دونوں اطراف کے لیے قابلِ قبول رابطہ کار بناتے ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو اس پیچیدہ بحران میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ تاہم، سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز کم نہیں۔ فریقین کے درمیان گہری بداعتمادی، متضاد اسٹریٹیجک مفادات، اور زمینی سطح پر جاری عسکری کارروائیاں کسی بھی فوری پیش رفت کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ ایران کی جانب سے مغربی تجاویز پر تحفظات، اسرائیل کی مسلسل فوجی حکمتِ عملی، اور امریکہ کے علاقائی مفادات اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، اگرچہ قلیل مدت میں مکمل اور پائیدار جنگ بندی کے امکانات محدود ہیں، تاہم پاکستان اور اس کے شراکت دار ممالک کی کوششیں ایک عارضی سیزفائر یا کم از کم کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس تناظر میں، پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کو ایک مثبت اور تعمیری پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بالآخر، اس بحران کا حل انہی بڑی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے جو براہِ راست اس میں ملوث ہیں۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ پیچیدہ تنازعات میں اکثر درمیانی قوتیں ہی مکالمے کا دروازہ کھولتی ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کی موجودہ کاوشیں نہ صرف بروقت بلکہ عالمی امن کے لیے ایک امید افزا قدم بھی قرار دی جا سکتی ہیں۔

  • 
پی ایس ایل نئے دور میں داخل، ویلیو اور مقبولیت میں ریکارڈ اضافہ

    
پی ایس ایل نئے دور میں داخل، ویلیو اور مقبولیت میں ریکارڈ اضافہ

    
پاکستان سپر لیگ نے اپنی شاندار کامیابیوں کے ساتھ ایک نئے دور میں قدم رکھ دیا ہے، جہاں اس کی مقبولیت، معیار اور مالی قدر میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں پی ایس ایل نہ صرف کرکٹ کے میدان میں بلکہ تجارتی لحاظ سے بھی ایک مضبوط برانڈ کے طور پر ابھری ہے۔
    2016 میں آغاز کے بعد سے لے کر 2026 تک لیگ نے کئی اہم سنگ میل عبور کیے۔ ویورشپ کے حوالے سے پی ایس ایل نے مسلسل نئے ریکارڈ قائم کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شائقین کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا بھر میں کرکٹ کے مداح اب اس لیگ کو خاص توجہ سے دیکھتے ہیں، جس نے اسے بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان دلائی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق گزشتہ دہائی میں پی ایس ایل کی ٹائٹل اسپانسر شپ میں 505 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برانڈ پارٹنرشپ ویلیو میں 1200 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ لیگ کی مارکیٹ ویلیو میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
    ‎پی ایس ایل کے معیار اور شفاف نظام کی بدولت نئی ٹیموں کی فروخت بھی بھاری قیمتوں پر ہوئی، جو اس کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور سرمایہ کاری کے مواقع کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی دلچسپی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس سے لیگ کا معیار مزید بلند ہوا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو پی ایس ایل مستقبل میں دنیا کی بڑی کرکٹ لیگز میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔ یہ لیگ نہ صرف کھیل بلکہ پاکستان کے مثبت امیج کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

  • 
وزیراعظم اور ایرانی صدر کا رابطہ، امن کوششوں پر اتفاق

    
وزیراعظم اور ایرانی صدر کا رابطہ، امن کوششوں پر اتفاق

    
وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک گھنٹے سے زائد وقت تک خطے کی صورتحال اور امن کے قیام سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس رابطے کو موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ان حملوں کے نتیجے میں 1900 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔
    ‎وزیراعظم نے ایرانی صدر کو پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سفارتی رابطوں کا مقصد تمام فریقین کے درمیان مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
    ‎انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی اور مشترکہ کوششوں سے ہی خطے میں پائیدار امن ممکن ہے۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اور عسکری قیادت کی جانب سے کیے جانے والے سفارتی اقدامات سے بھی ایرانی صدر کو آگاہ کیا۔
    ‎دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اعتماد سازی اور سنجیدہ مذاکرات انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے ثالثی کے عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ یہ کوششیں خطے میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

  • 
زیلنسکی کا دورہ قطر، دفاعی تعاون میں اہم پیش رفت

    
زیلنسکی کا دورہ قطر، دفاعی تعاون میں اہم پیش رفت

    
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی خلیجی ممالک کے اہم دورے کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے بعد قطر پہنچ گئے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس پیش رفت کو خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
    قطری وزارت دفاع کے مطابق اس معاہدے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے ماہرین کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
    ‎دورے کے دوران یوکرینی صدر کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں خطے کی صورتحال، ایران سے متعلق کشیدگی اور عالمی امن کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور ٹیکنالوجی، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
    ‎یوکرین نے اس موقع پر قطر کے دفاع کے لیے مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ادھر غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق زیلنسکی نے اس سے قبل متحدہ عرب امارات کا غیر اعلانیہ دورہ بھی کیا تھا، جہاں دفاعی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا۔ اس کے علاوہ وہ سعودی عرب کا بھی دورہ کر چکے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے طے پائے تھے۔
    ‎ماہرین کے مطابق زیلنسکی کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب خلیجی ممالک یوکرین کی فضائی دفاعی ٹیکنالوجی میں دلچسپی لے رہے ہیں، جس سے خطے میں نئے دفاعی اتحاد بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔

  • 
اسرائیل کو ایرو میزائل انٹرسیپٹرز کی کمی، دفاعی دباؤ میں اضافہ

    
اسرائیل کو ایرو میزائل انٹرسیپٹرز کی کمی، دفاعی دباؤ میں اضافہ

    
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیل کو اپنے جدید دفاعی نظام میں مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافے کے باعث اسرائیل کے اعلیٰ صلاحیت کے حامل "ایرو میزائل انٹرسیپٹرز” کم پڑنے لگے ہیں۔
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے اپنے جدید ترین انٹرسیپٹرز کے استعمال کو محدود کرتے ہوئے انہیں محفوظ رکھنے کے لیے راشننگ شروع کر دی ہے، تاکہ کسی بڑے یا طویل تنازع کی صورت میں ان کا استعمال کیا جا سکے۔
    ‎ذرائع کے مطابق اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اسرائیل نے نسبتاً کم صلاحیت والے انٹرسیپٹرز کو اپ گریڈ کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے، تاہم یہ حکمت عملی مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں دیمونا اور اراد کے علاقوں پر ہونے والے حملوں کے دوران انہی کم صلاحیت والے لیکن ترمیم شدہ انٹرسیپٹرز کا استعمال کیا گیا، جو کئی مواقع پر ناکام رہے، جس سے دفاعی نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اسرائیل کو اپنے دفاعی وسائل کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہوگی، کیونکہ جدید انٹرسیپٹرز کی کمی طویل المدتی دفاعی چیلنج بن سکتی ہے۔
    ‎یہ صورتحال نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے کی سیکیورٹی کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے، جہاں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔