امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف ’نو کنگز‘ کے نام سے ایک بڑی احتجاجی تحریک زور پکڑ رہی ہے، جس کے تحت آج ملک بھر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس تحریک کے منتظمین نے بتایا ہے کہ امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد مظاہرے ترتیب دیے گئے ہیں، اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ ایک ہی دن میں ہونے والا امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا پُرامن احتجاج بن سکتا ہے۔
منتظمین کے مطابق بڑے احتجاجی اجتماعات نیویارک، لاس اینجلس، واشنگٹن ڈی سی اور مینیسوٹا کے ٹوین سٹیز میں ہوں گے، تاہم اس تحریک کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بڑی تعداد چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے شریک ہو رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دو تہائی مظاہرین بڑے شہروں سے باہر کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
تحریک کی بانی لیا گرین برگ کا کہنا ہے کہ اس بار احتجاج کی اہمیت صرف شرکاء کی تعداد میں نہیں بلکہ ان مقامات میں بھی ہے جہاں لوگ آواز اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق چھوٹی کمیونٹیز میں شرکت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اس تحریک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر ان مظاہروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ ریپبلکن اکثریتی ریاستوں جیسے آئیڈاہو، وائیومنگ، مونٹانا اور یوٹاہ میں بھی بڑی تعداد میں لوگ اس مہم میں شامل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ افراد جو ووٹرز کو متحرک کرتے ہیں اور انتخابی عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس وقت سڑکوں پر موجود ہیں اور اپنی ناراضی کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں۔
Blog
-

امریکا میں ’نو کنگز‘ تحریک کے تحت ٹرمپ کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان
-

لبنان میں صحافیوں کی گاڑی پر حملہ، دو صحافی جاں بحق
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں صحافیوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث دو لبنانی صحافی جاں بحق ہو گئے۔ اس واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران صحافیوں کی سلامتی پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق حملے میں المنار ٹی وی کے رپورٹر علی شعیب اور المیادین ٹی وی کی نمائندہ فاطمہ فتونی جان کی بازی ہار گئے۔ اطلاعات کے مطابق فاطمہ فتونی کے بھائی، جو کیمرہ مین کے طور پر کام کر رہے تھے، وہ بھی اس حملے میں جاں بحق ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق صحافی ایک گاڑی میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے بعد میڈیا تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں صحافیوں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے کیونکہ وہ زمینی حقائق دنیا تک پہنچاتے ہیں، تاہم ایسے واقعات ان کی جانوں کو لاحق خطرات کو واضح کرتے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے، اور اس طرح کے حملے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ -

ایران کو خطے اور عالمی معیشت یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اماراتی سفیر
امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العُتیبہ نے ایک امریکی اخبار میں شائع مضمون میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو خطے اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے اپنے مضمون میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں صرف جنگ بندی کافی نہیں ہے بلکہ ایک ایسا جامع اور دیرپا حل ضروری ہے جو ایران سے وابستہ تمام خطرات کا احاطہ کرے۔ ان کے مطابق ان خطرات میں ایران کا جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل، ڈرون ٹیکنالوجی اور خطے میں موجود پراکسی نیٹ ورکس شامل ہیں۔
یوسف العُتیبہ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ وقتی اقدامات کے بجائے ایسے فیصلے کیے جائیں جو مستقبل میں کسی بھی ممکنہ بحران کو روک سکیں۔
سفیر امارات نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے اس مسئلے کا سنجیدہ اور مؤثر حل ناگزیر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور ایران سے متعلق عالمی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں مختلف ممالک اپنے اپنے مفادات اور سیکیورٹی خدشات کے مطابق مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔ -

ادویات مہنگی نہیں ہوئیں، قلت کی خبریں بے بنیاد، پی پی ایم اے
پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچرز ایسوسی ایشن نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور قلت سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے وضاحت جاری کر دی ہے۔ ادارے کے مطابق ملک بھر میں نہ تو ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی فراہمی میں کوئی کمی آئی ہے۔
پی پی ایم اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافے کے باوجود ادویات کی قیمتیں کئی ماہ سے برقرار ہیں۔ اس دوران ایندھن، فریٹ اور خام مال کی درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن اس کا بوجھ مریضوں پر منتقل نہیں کیا گیا۔
ادارے کے مطابق انسولین، اینٹی بایوٹکس، دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور ویکسینز سمیت تمام اہم ادویات ملک بھر میں بلا تعطل دستیاب ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 90 فیصد ادویات مقامی سطح پر تیار کی جاتی ہیں اور صنعت کے پاس خام مال اور تیار ادویات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے، جس سے طلب پوری کی جا رہی ہے۔
پی پی ایم اے نے کہا کہ ادویہ ساز صنعت نے بڑھتی لاگت کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لیے خود دباؤ برداشت کیا ہے تاکہ قیمتوں میں اضافہ نہ کرنا پڑے۔ تاہم کچھ جدید اور جان بچانے والی ادویات جیسے کینسر کے علاج، ویکسینز اور امیونوگلوبیولنز کی محدود دستیابی کی وجہ سرکاری سطح پر قیمتوں کے نوٹیفکیشن میں تاخیر ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے منظور شدہ قیمتوں کا بروقت اعلان کر دیا جائے تو ان ادویات کی دستیابی بہتر ہو سکتی ہے۔
پی پی ایم اے نے حکومت سے پالیسی رکاوٹیں دور کرنے اور میڈیا سے غیر مصدقہ خبروں سے گریز کرنے کی اپیل کی تاکہ عوام میں بے چینی نہ پھیلے اور ادویات کے حوالے سے درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔ -

خطے کے ممالک اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، ایرانی صدر
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ ترقی اور امن کے خواہاں ہیں تو انہیں اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت میں پہل نہیں کرتا۔
صدر پزشکیان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران ہمیشہ خطے میں استحکام اور تعاون کا حامی رہا ہے، لیکن اگر اس کے بنیادی ڈھانچے یا اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا سخت اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر سے دور رہیں جو ایران کے خلاف سرگرم ہیں، کیونکہ اس طرح کی سرگرمیاں پورے خطے کے امن کو متاثر کر سکتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ باہمی احترام اور تعاون ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، اور کسی بھی ملک کو اپنی زمین دشمن قوتوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ -

ایران معاہدہ چاہتا ہے، مذاکرات جاری ہیں، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جن کا نتیجہ سامنے آنے کی توقع ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنی ہوگی اور دعویٰ کیا کہ ایران مستقبل میں بحری جنگی جہاز بنانے کے قابل نہیں رہے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایرانی حکومت کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسے اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا تھا۔
بعد ازاں میامی میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کی زبان پھسل گئی اور انہوں نے آبنائے ہرمز کو “اسٹریٹ آف ٹرمپ” کہہ دیا، تاہم فوراً اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معذرت کرلی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اب میڈیا اس معاملے کو اچھالے گا اور اسے بڑا مسئلہ بنا دے گا۔
نیٹو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اسے ہمیشہ ایک کمزور اتحاد سمجھتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ہمیشہ نیٹو کی مدد کی لیکن نیٹو نے کبھی امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔ اس کے برعکس انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت نے امریکا کا ساتھ دیا اور عملی تعاون کیا۔ -

ایران کا 500 امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حالیہ کارروائیوں کے دوران 500 سے زائد امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق دو مختلف مقامات پر امریکی فوجی تنصیبات کو ٹارگٹ کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں امریکی اہلکار موجود تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ ایک مقام دبئی میں تھا جہاں تقریباً 400 امریکی فوجی موجود تھے، جبکہ دوسرے مقام پر 100 سے زائد اہلکار تعینات تھے۔ ان کے مطابق ان دونوں مقامات کو گائیڈڈ میزائلز اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد امدادی کارروائیاں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں اور ایمبولینسز لاشوں اور زخمیوں کو منتقل کرتی رہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
ترجمان ایرانی فوج نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ یہ خطہ امریکی افواج کے لیے محفوظ نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو خطہ امریکی فوجیوں کے لیے “قبرستان” ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر ان دعوؤں کے بعد تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ -

ناکام لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا پسند ہے، ٹرمپ کا متنازع بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میامی میں منعقدہ ’فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو‘ کے دوران ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ناکام لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا پسند ہے کیونکہ اس سے وہ خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں۔ ان کے اس بیان پر تقریب میں موجود افراد کی جانب سے قہقہے بھی لگائے گئے۔
اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا اچھا لگتا ہے جو کامیاب نہیں ہوتے، کیونکہ اس سے ان کی اپنی اہمیت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ایسے افراد پسند ہیں جو ان کی کامیابی کی کہانیاں سننا چاہتے ہیں، جبکہ وہ ان لوگوں سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے جو اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔
ایک موقع پر انہوں نے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ”عظیم لیڈر“ اور ”پاگل جینیئس“ قرار دیا، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سوال و جواب کے سیشن میں جب ان سے پوچھا گیا کہ دنیا میں قیادت کی کون سی اہم خصوصیت کی کمی ہے، تو انہوں نے مختصر جواب دیا ”جیتنا“۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کی دنیا میں یہ خوبی ہے کہ نتیجہ جلد سامنے آ جاتا ہے، جبکہ حقیقی زندگی میں یہ فیصلہ کرنے میں وقت لگتا ہے کہ کون کامیاب ہے اور کون نہیں۔
بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے بیان کو جزوی طور پر مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ہلکے پھلکے انداز میں بات کر رہے تھے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کی بات میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہے۔
ان کے اس بیان کے بعد سوشل اور سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہونے کا امکان ہے، جہاں اسے مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ -

روس کا پیٹرول برآمدات پر پابندی کا اعلان
روس نے عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کرنے والا ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یکم اپریل 2026 سے پیٹرول کی برآمدات پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ پابندی ابتدائی طور پر 31 جولائی 2026 تک نافذ رہے گی، تاہم صورتحال کے مطابق اس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت یہ اقدام ملکی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس میں زرعی سیزن کے دوران ایندھن کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ اسی عرصے میں آئل ریفائنریز کی مرمت اور دیکھ بھال بھی جاری رہتی ہے، جس کے باعث سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ گھریلو صارفین اور صنعتی شعبے کو سستا اور وافر ایندھن فراہم کیا جائے تاکہ مہنگائی پر قابو رکھا جا سکے اور معیشت پر دباؤ کم ہو۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا تعلق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے بھی ہے۔ روس نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر یعنی بفر اسٹاک کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اندرونی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
چونکہ روس دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس فیصلے کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو روسی ریفائنڈ پیٹرول پر انحصار کرتے ہیں، انہیں متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے باعث عالمی مارکیٹ میں سپلائی کم ہو سکتی ہے، جس سے پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور توانائی بحران کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ -

پاکستان کا عالمی کردار بڑھے گا، ماہر نجوم کی پیشگوئی
پاکستان کی معروف ماہر علمِ نجوم سامعہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات میں پاکستان ایک اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 21 مارچ کے بعد پاکستان کا ستارہ ایک محفوظ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کا نام نمایاں ہونا شروع ہوگیا ہے۔
سامعہ خان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی اہمیت مزید بڑھے گی اور دنیا بھر میں اس کا اثر و رسوخ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگلے 12 سال پاکستان کے لیے ترقی اور استحکام کے سال ہوں گے، جن میں ملک مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرے گا۔
انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق کہا کہ اگر کوئی معاہدہ ہوا بھی تو وہ عارضی نوعیت کا ہوگا۔ ان کے مطابق مئی کا مہینہ اس حوالے سے خاصا حساس ثابت ہوسکتا ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
مزید گفتگو میں سامعہ خان نے عالمی صورتحال کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں امن کی صورتحال غیر یقینی کا شکار رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے خطے میں بڑے حملوں کا خطرہ موجود ہے، حتیٰ کہ نیوکلیئر جنگ کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی پیشگوئیوں کو سائنسی یا حتمی بنیادوں پر نہیں پرکھا جا سکتا اور انہیں محض رائے یا ذاتی تجزیہ سمجھا جاتا ہے۔