Baaghi TV

Blog

  • پنجاب میں ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی رپورٹ جاری، مظفرگڑھ پہلے نمبر پر،چکوال کا 28 واں نمبر

    پنجاب میں ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی رپورٹ جاری، مظفرگڑھ پہلے نمبر پر،چکوال کا 28 واں نمبر

    پنجاب حکومت کی جانب سے فروری کے مہینے کے لیے ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں صوبے بھر کے اضلاع کی انتظامی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کارکردگی کے لحاظ سے سب سے آخری، یعنی 41ویں نمبر پر رہے۔
    رپورٹ میں صفائی ستھرائی، ریونیو ریکوری، عوامی شکایات کے ازالے، پرائس کنٹرول اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد جیسے اہم شعبوں کو بنیاد بنایا گیا۔ مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ نے ان تمام شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
    دوسری جانب راولپنڈی کی کارکردگی رپورٹ میں کئی شعبوں میں کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی، جس کے باعث اسے فہرست میں آخری نمبر پر رکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق کمزور مانیٹرنگ، عوامی مسائل کے حل میں تاخیر اور پرائس کنٹرول میں ناکامی اہم وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔
    حکومت نے تمام اضلاع کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں، جبکہ بہتر کارکردگی دکھانے والے افسران کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی

  • 
سونے کی قیمتوں میں تیزی، فی تولہ 4 لاکھ 72 ہزار سے تجاوز

    
سونے کی قیمتوں میں تیزی، فی تولہ 4 لاکھ 72 ہزار سے تجاوز

    
ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے خریداروں اور سرمایہ کاروں دونوں کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ گیا ہے، جس سے جیولری مارکیٹ میں سست روی کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 800 روپے کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ قیمت بڑھ کر 4 لاکھ 72 ہزار 62 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 4 ہزار 116 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 4 ہزار 717 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، اور خطے میں جاری کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ عالمی بازار میں بھی سونے کی قیمت 48 ڈالر اضافے کے ساتھ 4 ہزار 493 ڈالر فی اونس ہوگئی ہے، جو اس رجحان کی بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق غیر یقینی معاشی صورتحال میں سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور قیمتیں اوپر جاتی ہیں۔ دوسری جانب مقامی سطح پر روپے کی قدر میں کمی بھی سونے کی قیمت بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
    ‎جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عام خریدار مارکیٹ سے دور ہو رہے ہیں، جبکہ شادی بیاہ کے سیزن میں بھی خریداری محدود ہو سکتی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

  • ایران پر حملے گریٹر اسرائیل منصوبے کا حصہ ہیں، مشاہد حسین

    ایران پر حملے گریٹر اسرائیل منصوبے کا حصہ ہیں، مشاہد حسین

    
پاکستان کے سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے اسرائیل کے سابق قومی سلامتی مشیر یاکوف امیڈرور کو ایک ٹی وی مباحثے کے دوران سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے دراصل ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہیں۔
    عرب ٹی وی کے ایک پروگرام میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی پر گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دلچسپ اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ مشاہد حسین سید نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران پر حملے گریٹر اسرائیل منصوبے کے تحت کیے جا رہے ہیں اور اس جنگ میں ایران کو برتری حاصل ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ یہ دراصل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جنگ ہے، جس میں انہوں نے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی شامل کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو اس تنازع میں مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن زمینی حقائق ان کی توقعات سے مختلف ثابت ہو رہے ہیں۔
    ‎مشاہد حسین سید نے مزید کہا کہ نہ ٹرمپ اور نہ ہی نیتن یاہو نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ ایران چوتھے ہفتے میں بھی اسی شدت کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر انداز میں بند رکھنا بھی ایک اہم پیش رفت ہے، جس نے عالمی سطح پر توانائی کی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔
    ‎اس مباحثے کے بعد مختلف حلقوں میں اس بیان پر بحث شروع ہوگئی ہے، جہاں اسے خطے کی موجودہ صورتحال پر ایک اہم تجزیہ قرار دیا جا رہا ہے۔

  • 
یونان کے قریب کشتی حادثہ، 22 تارکین وطن ہلاک

    
یونان کے قریب کشتی حادثہ، 22 تارکین وطن ہلاک

    ‎یونان کے ساحل کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک کشتی حادثے میں تارکین وطن کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی ہے، جس نے ایک بار پھر سمندری راستوں سے یورپ جانے کی خطرناک کوششوں کو اجاگر کر دیا ہے۔
    ‎یونانی کوسٹ گارڈ کے مطابق یہ حادثہ یونان کے قریب پیش آیا، جہاں ایک ربڑ کی کشتی میں سوار تارکین وطن کئی دنوں سے سمندر میں پھنسے ہوئے تھے۔ امدادی کارروائی کے دوران یورپی سرحدی ایجنسی کے جہاز نے کریٹ کے قریب 26 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
    ‎بچ جانے والے افراد نے حکام کو بتایا کہ وہ تقریباً 6 روز تک سمندر میں انتہائی مشکل حالات میں محصور رہے، جہاں نہ مناسب خوراک تھی اور نہ ہی پانی کی فراہمی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سفر کے دوران کچھ افراد جان کی بازی ہار گئے اور ان کی لاشیں سمندر میں پھینک دی گئیں۔
    ‎حکام کے مطابق اس حادثے میں کم از کم 2 افراد ہلاک ہوئے، تاہم اصل تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
    ‎یہ واقعہ ایک بار پھر اس خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس میں بہتر زندگی کی تلاش میں لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر غیر قانونی راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت اقدامات اور محفوظ قانونی راستوں کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

  • 
ایران نے امریکی طیارہ بردار جہاز پر شدید حملہ کیا، ٹرمپ

    
ایران نے امریکی طیارہ بردار جہاز پر شدید حملہ کیا، ٹرمپ

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ حملہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس میں جہاز کو مختلف زاویوں سے نشانہ بنایا گیا۔
    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز پر بیک وقت 17 مختلف زاویوں سے حملہ کیا، جس کے باعث جہاز پر موجود عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے دوران جہاز پر موجود افراد اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے رہے۔
    ‎امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ حملہ غیر معمولی شدت کا حامل تھا اور اس کے اثرات کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کے بیان کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • تبصرہ کتب،دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات

    عبدالمالک مجاہد کانام کسی تعارف کامحتاج نہیں ۔ وہ بلاشبہ بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں ۔ انہوں نے ’’ دارالسلام ‘‘ کے نام سے ایک ایسے ادارے کی بنیادرکھی جوآج پوری دنیامیں پاکستان کی نیک نامی کا سبب بن رہاہے ۔ عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں کہ آج میں جس مقام پرہوں یہ میرے والدین کی دعائوں کانتیجہ ہے ۔عبدالمالک مجاہد کی پیش نظرکتاب’’ دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات ‘‘ بھی دعائوں کی قبولیت اور فضائل پرلکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے موضوع کے اعتبار اس سے کہیں زیادہ مفید ، دیدہ زیب ، لوں کو موہ لینے والی اور سبق آموز ہے ۔ 150موضوعات و واقعات پر مشتمل اس میں بتایا گیاہے کہ دعا۔۔۔در اصل وہ التجا ہے جو بندہ اپنے رب سے کرتا ہے ۔ بندہ جس وقت بھی رب سے مانگے اس کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا ۔ یوں تو دعا کیلئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے۔مگر پھر بھی کچھ اوقات ایسے ہیں جن میں اللہ تعالی کی رحمتیں زیادہ وسیع ہوجاتی ہیں ۔ اس کی مہربانیوں کے دروازے مزید کھول دیے جاتے ہیں۔ان اوقات میں دعائوں کی قبولیت کے امکانات یقینی ہو جاتے ہیں ۔کتاب میں ان اوقات کاذکر تفصیل سے کیاگیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں روزمرہ کی دعائیں بھی مذکورہیںاور دعائوں کی قبولیت کے نہایت ہی سبق آموز واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں جنہیں پڑھ کریقین کامل ہوجاتاہے کہ سب سے بڑاہتھیاردعا ہی ہے ۔ کتاب میں دعاکی قبولیت کاایک نہایت ہی سبق آموز واقعہ ’’ اے اللہ اس کاخاتمہ بالخیر ہو ‘‘ کے عنوان سے بیان کیاگیا ہے ۔ اس واقعہ میں بتایاگیاہے کہ سعودی عرب کے ایک شخص نے کئی دن تک ایک خواب دیکھا۔ خواب میں اسے کہاجارہاتھاکہ فلاں بستی کے فلاں شخص کو عمرہ کرائو ۔ خواب دیکھنے والے شخص نے مذکورہ شخص سے رابطہ کیااوراسے بتایا کہ مجھے خواب میں تمہیں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیا ہے ۔ یہ سن کروہ شخص زورسے ہنسااور کہنے لگاتم کون سے عمرے کی بات کرتے ہومیں نے توکبھی زندگی میں نماز بھی نہیں پڑھی اور تم مجھے عمرہ کرواناچاہتے ہو۔ جس شخص نے خواب دیکھاتھاوہ کہنے لگابس مجھے خواب میں تمہیں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیا ہے ۔ میں تمہاری منت سماجت کرتاہوں کہ تم عمرے کے لئے تیارہوجائوسارے اخراجات میرے ذمہ ہوں گے ۔ آخر وہ خواب دیکھنے والے کے بے حداصرار پر راضی ہوگیا ۔ غسل کیا، احرام باندھااور حرم شریف کی جانب دونوں روانہ ہوگئے ۔ وہاں پہنچ کر بیت اللہ کاطواف کیا، مقام ابراہیم پردورکعت نماز اداکی، سعی کی ، سروں کومنڈوایااور اس طرح سے عمرہ مکمل ہوگیا ۔ واپسی کے لئے رخت سفرباندھا ۔ حرم سے نکلنے لگے تووہ شخص جسے بہت کوشش سے عمرے پرآمادہ کیاگیاتھاکہنے لگا: دوست حرم چھوڑنے سے پہلے میں دورکعت نفل اداکرناچاہتاہوں ۔ سواس نے نفل اداکرناشروع کئے سجدے میں گیاتواس کاسجدہ لمباہوتاچلاگیا جب کافی دیر گزرگئی تواس کے دوست نے اسے بلایا۔ جب کوئی حرکت اس کے جسم میں نہ ہوئی تواس نے اسے ٹٹولا۔ اچانک اس پرانکشاف ہواکہ اس کے ساتھی کی روح حالت سجدہ ہی میں پرواز کرچکی تھی ۔اسے آب زم زم سے غسل دیاگیا ، احرام پہناکر حرم میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ لاکھوں فرزندان اسلام نے حرم کعبہ میں اس کاجنازہ پڑھا اوراس کی مغفرت کے لئے دعاکی گئی ۔ ادھر عمرہ کروانے والے کواپنے ساتھی کی ایسی موت پر بڑارشک آیا وہ روپڑاکہ کاش ایسی موت میرے نصیب میں ہوتی ۔خواب دیکھنے والے شخص نے فوت شدہ کی میت کواس کے گائوں پہنچادیا جہاں اسے دفن کردیاگیا ۔ چند ایام گزرنے کے بعد جس شخص کوخواب میں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیاتھا اس نے فوت ہونے والے کی بیوہ کوفون کیا۔تعزیت کے بعداس نے کہامیں جانناچاہتاہوں کہ تمہارے خاوند کی کون سی ایسی نیکی تھی کہ اس کاانجام اس قدرعمدہ ہوا۔ بیوہ نے کہابھائی تم درست کہتے ہومیراخاوندکوئی اچھاآدمی نہ تھا۔ اس نے ایک لمبی مدت سے نمازروزہ چھوڑرکھاتھا ۔ میں اس کی کوئی خاص خوبی بیان نہیں کرسکتی ۔ ہاں ایک خوبی اس میں یہ تھی کہ ہمارے ہمسایہ میں ایک نہایت فقیربیوہ رہتی ہے ۔جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ میراخاوندجب بھی بازارکوجاتاتو جہاں وہ اپنے بچوں کے لئے روزہ مرہ کی اشیا راشن وغیرہ خریدتاتووہاں وہ بیوہ اوراس کے یتیم بچوں کے لئے بھی راشن خریدلاتااوراس کے دروازے پر سامان رکھ کرآوازدیتاکہ سامان اٹھالو۔ بیوہ عورت جب سامان اٹھاتی توساتھ ہی میرے خاوند کے لئے دعاکرتی ’’اللہ تمہاراخاتمہ بخیر کرے ۔‘‘ اللہ تعالی ہم سب کو صرف اپنے ہی در پر جھکنے اور اسی سے مانگنی کی توفیق عطا فرمائے ۔ میرے علم میں خاوندکی یہی ایک نیکی ہے جس وجہ سے اس کاخاتمہ خیر پرہواہے ۔ کتاب میں دعائوں کی قبولیت کے اس طرح کے بیشمار واقعات لکھے ہیں ۔ جنہیں پڑھنی سے ہماری زندگیاں بدل سکتی ہیں ۔ اس طرح کے سب آموز واقعات کے لئے یہ کتاب ہرگھر اور ہرفرد کی ضرورت ہے ۔آرٹ پیپر ، چہار رنگ اور خوبصورت طباعت سے آراستہ کتاب کی قیمت 3750 روپے ہے ۔ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئرمال نزدسیکرٹریٹ سٹاپ پردستیاب ہے یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر042-37324034پر رابطہ کیاجاسکتاہے ۔

  • ٹرمپ کی سعودی عرب کو معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے کی اپیل

    ٹرمپ کی سعودی عرب کو معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے کی اپیل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت اختیار کرے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور اقتصادی مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔

    بلومبرگ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے کہا کہ "مشرقِ وسطیٰ تبدیلی کے دہانے پر ہے” اور موجودہ حالات میں خطے کی حفاظت اور ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ خطے کو ایٹمی خطرے سے آزاد کر سکتی ہے اور اس کے بعد خطے میں نئی اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ٹرمپ کے اس بیان کو عالمی تجزیہ کار مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے اس معاملے پر ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ کئی ممالک پہلے اس معاہدے میں شامل ہو چکے ہیں، امریکہ کی سعودی عرب کو معاہدے میں شامل کرنے کی کوشش کافی عرصے سے جاری ہے

  • یونان کے ساحل کے قریب کشتی حادثہ، 2 تارکین وطن ہلاک، 26 کو بچا لیا گیا

    یونان کے ساحل کے قریب کشتی حادثہ، 2 تارکین وطن ہلاک، 26 کو بچا لیا گیا

    یونان کے ساحل کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک کشتی حادثے میں کم از کم 2 تارکین وطن ہلاک ہو گئے، جبکہ 26 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔

    یونانی کوسٹ گارڈ کے مطابق یہ واقعہ جزیرہ کریٹ کے قریب پیش آیا، جہاں یورپی سرحدی ایجنسی کے ایک جہاز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کشتی میں سوار 26 افراد کو بچا لیا۔حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی ربڑ کی بنی ہوئی تھی، جس میں سوار افراد کئی روز سے سمندر میں مشکلات کا شکار تھے۔ بچ جانے والے افراد نے بتایا کہ وہ تقریباً 6 دن تک کھلے سمندر میں محصور رہے، جہاں انہیں خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا تھا۔ریسکیو کیے گئے افراد نے مزید انکشاف کیا کہ کشتی میں موجود 2 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن کی لاشیں بعد ازاں سمندر میں پھینک دی گئیں۔

    یونانی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے حوالے سے بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کو اکثر خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث ایسے حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ تارکین وطن کے تحفظ اور محفوظ راستوں کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

  • آپریشن غضب لِلحق کے بعد دہشتگردی میں نمایاں کمی

    آپریشن غضب لِلحق کے بعد دہشتگردی میں نمایاں کمی

    خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات میں آپریشن غضب لِلحق کے آغاز کے بعد 65 فیصد کمی آئی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں سال آپریشن سے پہلے صوبے میں دہشت گردی کے 240 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ آپریشن کے بعد اب تک یہ تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے،سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات رواں سال کے نویں ہفتے میں 48 درج ہوئے، جو آپریشن کے بعد بارہویں ہفتے میں کم ہوکر 12 رہ گئے،وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے سے دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے، آپریشن کے دوران اسلام آباد اور بنوں میں دہشت گردی حملوں کے ماسٹر مائنڈز اور خطرناک دہشت گرد ہلاک ہوئے جنہوں نے پاکستان پر حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کی۔

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی رکوانے میں پاکستان کا کرداراہم،بھارت خبردار ہو جائے،مبشر لقمان

    مشرق وسطیٰ کشیدگی رکوانے میں پاکستان کا کرداراہم،بھارت خبردار ہو جائے،مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال ، پاکستان کے ثالثی کے کردار بارے پوسٹ کی ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان، ترکی اور مصر ممکنہ عالمی جنگ کو روکنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تینوں ممالک مشکل حالات کے باوجود امن کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، جن میں پاکستان کی کاوشیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، ان حالات میں بھارت باز نہیں آیا اور مثبت اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، افغانستان اور بھارت خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھانے میں مصروف ہیں،مبشر لقمان نے خبردار کیا کہ آنے والے وقت میں دنیا کے نقشے میں بڑی تبدیلیاں ممکن ہیں۔ کچھ ممالک کی جغرافیائی حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے اور بھارت کو بھی اس حوالے سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کے فوجی اڈوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور آنے والے برسوں میں کچھ اڈے بند کیے جا سکتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تین ممالک کو اپنی شناخت کے حوالے سے سنگین خطرات لاحق ہیں، جبکہ دو ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی تقریباً یقینی دکھائی دیتی ہے، آنے والا وقت ہی ان پیشگوئیوں کی حقیقت کو واضح کرے گا۔