Baaghi TV

Blog

  • پاکستان ریلویز کا مزید 15 ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    پاکستان ریلویز کا مزید 15 ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    پاکستان ریلویز نے مزید 15 ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان ریلویز نے ایک بار پھر پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر ریل گاڑیاں چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ اشتہار بھی جاری کر دیا گیا ہے لاہور میں ٹرینوں کی نیلامی 16 جون کو ریلوے ہیڈکوارٹر میں کی جائے گی جہاں اوپن بولی کے ذریعے عمل مکمل کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ٹرینوں کی نیلامی میں حصہ لینے کے لیے بعض نجی کمپنیوں کو اہل قرار دیا گیا ہے، جن ٹرینوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں ہزارہ ایکسپریس، عوام ایکسپریس، قراقرم ایکسپریس، کراچی ایکسپریس، ملت ایکسپریس، فرید ایکسپریس، بہاؤالدین زکریا ایکسپریس، راوی ایکسپریس، لاثانی ایکسپریس، تھل ایکسپریس، میانوالی ایکسپریس، سکھر ایکسپریس، نارووال پسنجر، سیالکوٹ ایکسپریس اور فیض احمد فیض پسنجر شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بعض ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے اوپن نیلامی کی گئی تھی، تاہم اس عمل میں محدود دلچسپی دیکھنے میں آئی ذرائع کے مطابق صرف چند ٹرینوں کی بولی دی گئی جبکہ دیگر ٹرینوں کے لیے کسی کمپنی نے دلچسپی ظاہر نہیں کی ایک کمپنی نے میانوالی ایکسپریس حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصے میں ہی مختلف وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اسے واپس کر دیا تھا۔

  • آزاد کشمیر سے متعلق تارکین وطن اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے بیانات مسترد

    آزاد کشمیر سے متعلق تارکین وطن اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے بیانات مسترد

    اسلام آباد: پاکستان نے برطانیہ میں مقیم بعض تارکین وطن کے آزادکشمیر پر غیرذمہ دارانہ بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور غیر ملکیوں کے بیانات غیر ذمہ دارانہ اور غلط ہیں،پاکستان اور آزاد کشمیر کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کیا جائے یہ افراد اپنے ملک کی مثبت ترقی میں کردار ادا کریں،پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کرتی ہیں پاکستان بعض برطانوی اراکین پارلیمنٹ کےغیر ضروری بیانات اور سوالات کا بھی نوٹس لیتا ہے، یہ بیانات برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے اس مسئلے کے تاریخی پس منظر سے عدم واقفیت کے عکاس ہیں، نوآبادیاتی دور کی سوچ رکھنے والوں کو یاد دلانا ضروری ہے پاکستان خودمختار اور جمہوری ریاست ہے ، پاکستان دیگرممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر یقین رکھتا ہے، پاکستان دوسروں سے بھی اسی طرز عمل کی توقع کرتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور آزاد کشمیر حکومتیں شہریوں کے پرامن اجتماع کا احترام کرتے ہیں، آزادی اظہار اور جمہوری عمل میں شرکت کے آئینی حقوق کو بھی مکمل طور پر تسلیم اور ان کا احترام کرتے ہیں توڑپھوڑ،عوامی خدمات خصوصاً اسپتالوں کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں، بے گناہ شہریوں یا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا قتل بھی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ پاکستان برطانوی حکومت سے مطا لبہ کرتا ہےکہ کالعدم تنظیموں کی حمایت کرنے والوں کو باز رہنےکی تلقین کرے، برطانوی حکومت ایسے افراد کو جمہوری عمل، عدالتی فیصلوں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے کی ہدایت دے، آزاد کشمیر اورپاکستان کے آئین، جمہوری اقدار، عدالتی فیصلوں اور قانون کی بالادستی کی ضمانت دیتے ہیں۔

  • تیزاب گردی کیس:سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کر دی،عمر قید کی سزا برقرار

    تیزاب گردی کیس:سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کر دی،عمر قید کی سزا برقرار

    سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ دے دیا، کہا کہ عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے، حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے "قومی بحالی فنڈ” قائم کرے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے سماعت کی کیس کا 13صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا فیصلے میں عدالت نے فیصل آباد کی خاتون اقرا پروین پر تیزاب پھینکنے والے عبدالمنان کی درخواست خارج کردی سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کی عمر قید کا فیصلہ برقرار رکھا، عدالت کا متاثرہ خاتون کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دے دیا۔

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ وحشیانہ اور پہلے سے منصوبہ بندی کیے گئے جرم میں کم عمری کی ڈھال استعمال نہیں ہوسکتی، تیزاب کا حملہ قتل سے بھی زیادہ ہولناک جرم ہے، قتل انسان کو ایک بار ختم کرتا ہے، تیزاب کا شکار شخص روز مرتا اور "زندہ لاش” بن جاتا ہے، سپریم کورٹ نے مجرم عبد المنان کو متاثرہ لڑکی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے ہائی کورٹس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ تیزاب گردی کے کیسز کا ٹرائل ہر صورت 4 ماہ میں مکمل کیا جائے، عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فرو خت پر مکمل پابندی لگائی جائے، تیزاب کی خرید و فروخت کے لیے بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل سسٹم قائم کیا جائے، تیزاب خریدنے والے کا نام، شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک (انگوٹھے کا نشان) لینا لازمی قرار دیا جائے، حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے "قو می بحالی فنڈ”(National Acid Survivors’ Rehabilitation Fund) قائم کرے، تیزاب حملے کے مستقل متاثرین کو معذوری سرٹیفکیٹ اور سرکاری نوکریوں میں کوٹا دیا جائے، ہائی کورٹس تیزاب گردی کے کیسز کی خود نگرانی کریں، متاثرین کو مزید ذہنی اذیت سے بچانے کے لیے تیز رفتار ٹرائل ناگزیر ہے۔

    عدالت نے فیصلے میں لکھاکہ متاثرین کی پلاسٹک سرجری اور نفسیاتی علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے، مستقل معذور یا بیروزگار ہو جانے والے متاثرین کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے، تیزاب کے حملے سے شدید متاثرہ افراد کو باقاعدہ "معذوری سرٹیفکیٹ” جاری کیے جائیں، متاثرین کو سرکاری نوکریوں، تعلیمی اداروں اور فلاحی اسکیموں میں خصوصی کوٹہ دیا جائے، تیزاب گردی کے متاثرین کی سوشل ڈیتھ سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی اور سما جی بحالی کے اقدامات کرے، تیزاب گردی کے متاثرین کے معاشی تحفظ کیلئے ماہانہ معاوضہ مقرر کیا جائے، قومی بحالی ہدایات مرتب کی جائیں جن میں متاثرین کی تاعمر علاج و بحالی مختص فنڈز سے ہوسکے۔

    عدالت نے رجسٹرار کو فیصلے کی کاپی تمام ہائیکورٹس کو بھجوانے کا حکم دے دیا سپریم کورٹ نے کہا فیصلے کی کاپی سیکریٹری قانون، چیئرمین قانون و انصاف کمیٹی، تمام صوبائی محکمہ قانون کو بھجوائی جائیں، فیصلے کی کاپی اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو بھیجی جائیں۔

  • عوام کو دھوکہ دینے والے فراڈیوں کے اب اخبارات میں تصویر کے ساتھ اشتہار دیں گے،چئیرمین نیب

    عوام کو دھوکہ دینے والے فراڈیوں کے اب اخبارات میں تصویر کے ساتھ اشتہار دیں گے،چئیرمین نیب

    چئیرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل(ر) نذیر احمد نے کہا کہ رئیل سٹیٹ مافیا کیلئے بڑے مہذب الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں حالانکہ یہ سخت سے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں یہ میرے ذاتی دشمن ہیں یہ قانون کی گرفت میں آئیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق چئیرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل(ر) نذیر احمد نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا بزنس کمیونٹی کو وہ مقام اور حیثیت نہیں دیا گیا جو ان کا حق ہے مجھے 20 کیسز چیمبز یا بزنس فورمز سے ملے تھے اور الحمد اللہ 20 میں سے 19 کیسز ختم کرادیئے ہیں،لاہور کی آدھی رنگ روڈ سرکاری زمین پرائیوٹ لوگوں کو دے کر پھر ان سے زمین حاصل کی گئی، 18 ارب ڈالر کی اکانومی صوبہ پنجاب میں جنریٹ کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ علامتی ایم او یوز نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہوں عوام کو دھوکہ دہی دینے والے فراڈیوں کے اب اخبارات میں تصویر کے ساتھ اشتہار دیں گے وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوں گے رئیل اسٹیٹ میں بھی نیب نے ایک جامع لائحہ عمل بنایا ہے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی ریفارمز لانے جا رہے ہیں رئیل اسٹیٹ کی ٹرانزیکشن تین لوگوں کے درمیان ہو گی پراپرٹی کی کوئی بھی ڈیل کیش پر نہیں ہو گی چار سے ماہ پانچ کے بعد فائل کی کوئی اوقات نہیں ہو گی۔

    چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ ہر پلاٹ پر بار کوڈ والا نمبر ہوگا کوئی فائل کی دھوکہ دہی نہیں دے سکے گا رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تمام منظوریاں ایک ہی چھت تلے ملیں گی نیب کا ڈائریکٹر لیول کا بندہ ریگولیٹری بورڈ میں شامل ہو گا 15 ہزار ارب روپے کی ریکوری ہم نے3 سالوں میں کی 1999 سے 2023 تک 880 ارب روپے کی ریکوری کی گئی ہم نے تین سال میں یہ ریکوری کو15 ہزار ارب روپے پر لے گئے ہیں رئیل سٹیٹ مافیا کیلئے بڑے مہذب الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں حالانکہ یہ سخت سے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں یہ میرے ذاتی دشمن ہیں یہ قانون کی گرفت میں آئیں گے۔

  • شوہر نے  بیوی اور 4 بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرل

    شوہر نے بیوی اور 4 بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرل

    کوئٹہ میں شوہر نے فائرنگ کرکے اپنی بیوی اور 4 بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی ہے۔

    پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ کوئٹہ کی وحدت کالونی میں ایک گھر کے اندر پیش آیا، جہاں شوہر نے فائرنگ کرکے اپنی بیوی اور 4 بچوں کی جان لے لی، واقعے کے بعد ملزم نے بھی خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے،اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    حکام کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں ضروری کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کی جا رہی ہیں جب کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقا ت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • عالمی یومِ غذائی تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    عالمی یومِ غذائی تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 7 جون کو عالمی یومِ غذائی تحفظ منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں محفوظ خوراک کے حوالے سے شعور بیدار کرنا، بیماریوں سے بچاؤ کے طریقے اجاگر کرنا اور خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کی اہمیت کو نمایاں کرنا ہے۔ موجودہ دور میں غذائی تحفظ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے کیونکہ غیر معیاری اور آلودہ خوراک نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ قومی معیشت اور صحت کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

    عالمی یومِ غذائی تحفظ منانے کی ابتدا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ہوئی۔ دسمبر 2018 میں اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ 7 جون کو عالمی یومِ غذائی تحفظ کے طور پر منانے کا اعلان کیا جبکہ اس دن کو عملی طور پر پہلی بار 2019 میں منایا گیا۔ اس مہم کی قیادت عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ اس دن کے قیام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں، ناقص غذائی نظام اور آلودہ خوراک کے خطرات کے بارے میں عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا تھا۔

    تاریخ گواہ ہے کہ صنعتی ترقی، آبادی میں اضافہ اور خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ملاوٹ اور غیر معیاری خوراک کے مسائل بھی بڑھتے گئے۔ مختلف ممالک میں آلودہ خوراک سے ہونے والی اموات اور وباؤں نے عالمی اداروں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو انسانی صحت، معیشت اور پائیدار ترقی سے جوڑا گیا۔

    عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا میں ہر سال کروڑوں افراد آلودہ خوراک کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں ملاوٹ شدہ دودھ، ناقص گھی، غیر معیاری مصالحہ جات، مضر صحت مشروبات اور کیمیکل ملے پھل و سبزیاں عوامی صحت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ بازاروں، ہوٹلوں اور کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے والے کئی مراکز پر صفائی کے ناقص انتظامات بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

    غذائی ماہرین کے مطابق غیر محفوظ خوراک ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، فوڈ پوائزننگ اور معدے کی متعدد بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں کیونکہ کم عمر بچوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آگاہی کی کمی اور شہروں میں فاسٹ فوڈ کے بڑھتے رجحان نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
    پاکستان میں پنجاب فوڈ اتھارٹی، سندھ فوڈ اتھارٹی اور دیگر ادارے خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، مگر صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں۔ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ گھروں میں صفائی، تازہ خوراک کا استعمال، صاف پانی، پھلوں اور سبزیوں کی اچھی طرح دھلائی، اور کھانے کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
    یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ دیہی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے روایتی طریقے اکثر غیر سائنسی ہوتے ہیں۔ دودھ میں ملاوٹ، مضر صحت رنگوں کا استعمال اور ناقص تیل میں تیار شدہ اشیاء انسانی صحت کو خاموشی سے تباہ کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچائی جا سکیں۔بدقسمتی سے وطن عزیز میں اس صورتحال کا جائزہ لیا تو جاتا ہے مگر بنیادی وجوہات کو نہیں دیکھا جاتا کہ یہ کیوں اور کیسے ہورہا ہے سب اچھا ہے سرکاری اعداد وشمار میں وجہ کوئی بھی ہوسکتی ہے آپ سب جانتے ہیں ۔

    عالمی یومِ غذائی تحفظ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صحت مند معاشرے کی بنیاد محفوظ خوراک ہے۔ اگر ہم آج اپنی خوراک کے معیار پر توجہ نہیں دیں گے تو آنے والی نسلیں بیماریوں اور کمزور صحت کا شکار رہیں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سخت قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے، فوڈ انسپیکشن کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے مسلسل آگاہی مہم چلائی جائے۔جو عام آدمی تک پہچنے میں مددگار ثابت ہو ۔
    محفوظ خوراک صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ صحت مند پاکستان کے لیے ہمیں ملاوٹ، غیر معیاری خوراک اور صفائی کی ناقص صورتحال کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔جو ہم سب کی ذمہداری ہے امید کا دامن تھامے رکھیں مگر کب تک

  • بہاولنگر، موبائل فون کے محفوظ استعمال سے متعلق تعلیمی اداروں میں آگاہی لیکچر

    بہاولنگر، موبائل فون کے محفوظ استعمال سے متعلق تعلیمی اداروں میں آگاہی لیکچر

    (بہاولنگر باغی ٹی وی محمد عرفان نامہ نگار )
    ڈی پی او محمد عمران کی ہدایت پر طلبا و طالبات کو ہراسمنٹ اور موبائل فون کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں سیمینارز کا انعقاد،
    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او بہاولنگر محمد عمران کی خصوصی ہدایت پر ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں نوجوان نسل کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے اور ہراسمنٹ کے خلاف شعور بیدار کرنے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف سرکلز میں معلوماتی سیمینارز کا انعقاد کیا گیا۔ایس ڈی پی او سرکل چشتیاں محمد اکمل بسرا اور ایس ایچ او سٹی اے ڈویژن چشتیاں بلال یونس نے ڈسٹرکٹ پبلک سکول چشتیاں کا دورہ کیا۔ وہاں منعقدہ سیمینار میں افسران نے طلبا و طالبات کو لیکچرز دیے۔ انہوں نے بچوں کو موبائل فون کے محفوظ استعمال، سائبر کرائمز سے بچاؤ اور ہراسمنٹ کے خلاف حاصل قانونی تحفظ کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں تاکہ ان میں خود اعتمادی اور شعور پیدا ہو سکے۔دوسری جانب ایس ڈی پی او منچن آباد زاہد علی نے کپس کالج منچن آباد میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ انہوں نے طالبات کو خصوصی لیکچر دیتے ہوئے موبائل فون کے مثبت و محفوظ استعمال کے طریقے بتائے اور ہراسمنٹ کی صورت میں دستیاب قانونی حقوق اور پولیس کے حفاظتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ اس لیکچر کا مقصد طالبات کے اندر خود اعتمادی کو فروغ دینا اور انہیں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے بااختیار بنانا تھا۔اس موقع پر ڈی پی او بہاولنگر محمد عمران کا کہنا تھا کہ طالبات کا تحفظ اور ڈیجیٹل شعور ہماری اولین ترجیح ہے تاکہ وہ موبائل فون کے محفوظ استعمال اور قانونی آگاہی کے ذریعے خود کو ہراسانی سے محفوظ رکھ سکیں۔

  • عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ہوئی ہے، پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 3,094 روپے کمی ہو گئی ہے۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج کاروباری ہفتے کے پہلے دن فی اونس سونے کی قیمت 30ڈالر 94سینٹس کی کمی سے 4ہزار 297ڈالر کی سطح پر آگئی ،صرافہ بازاروں میں بھی پیر کے روز 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 3094روپے کی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 4لاکھ 52ہزار 233روپے کی سطح پر آگئی،اسی طرح مقامی سطح پر فی 10 گرام سونے کی قیمت 2785روپے گھٹ کر 3لاکھ 86 ہزار 987روپے ہوگئی-

    سونے کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 94 روپے کی کمی سے 7ہزار 173 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 86 روپے کی کمی سے 6ہزار 116روپے کی سطح پر آگئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری دن بھی سونے کی عالمی مارکیٹ میں 124 ڈالر فی اونس قیمت کم ہوئی تھی جبکہ مقامی سطح پر سونا 12489 روپے فی تولہ اور 11240 روپے فی 10 گرام سستا ہوگیا تھا،اسی طرح ہفتے کے روز چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ ہوئی تھی-

  • محبت سے عدالت تک،تحریر:صدف ابرار

    محبت سے عدالت تک،تحریر:صدف ابرار

    کبھی گھر محض اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ محبت، اعتماد، تحفظ اور وابستگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں زندگی کی تلخیاں بانٹی جاتی تھیں اور خوشیاں کئی گنا بڑھ جاتی تھیں۔ مگر آج اسی گھر کی دیواریں تو قائم ہیں، لیکن ان کے اندر بسنے والے رشتے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ نازک اور غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔

    اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں دائر ہونے والے ہزاروں طلاق، خلع اور نان نفقہ کے مقدمات محض قانونی کارروائیاں نہیں، بلکہ ایسے رشتوں کی خاموش داستانیں ہیں جو کبھی محبت، اعتماد اور مشترکہ خوابوں کی بنیاد پر قائم ہوئے تھے۔ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں 45 ہزار سے زائد فیملی مقدمات کا عدالتوں تک پہنچ جانا ایک ایسا اشارہ ہے جسے صرف اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ہر فائل کے پیچھے ایک الگ دنیا آباد ہوتی ہے۔ کہیں ایک عورت برسوں کی خاموش اذیت کے بعد انصاف کی تلاش میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، کہیں ایک مرد ناکام ازدواجی زندگی کے بوجھ تلے دب کر کسی حل کی امید لیے کھڑا ہوتا ہے، اور کہیں معصوم بچے ایسے فیصلوں کے اثرات سمیٹ رہے ہوتے ہیں جن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ عدالت کے ریکارڈ میں یہ صرف ایک مقدمہ ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ کئی زندگیوں کی کہانی ہوتی ہے۔

    یہ سوچنا آسان ہے کہ طلاقوں میں اضافہ صرف معاشی مشکلات یا سوشل میڈیا کا نتیجہ ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ معاشی دباؤ یقیناً ایک اہم وجہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ برداشت کی کمی، بڑھتی ہوئی انا، غیر حقیقی توقعات، ذہنی دباؤ، جذباتی فاصلے اور مؤثر مکالمے کا فقدان بھی رشتوں کو کمزور کر رہا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے سے زیادہ بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جب یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو رشتے بھی کمزور پڑنے لگتے ہیں۔

    سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اکثر اوقات رشتے اچانک نہیں ٹوٹتے۔ ان کے درمیان دراڑیں بہت پہلے پڑ چکی ہوتی ہیں۔ ایک نہ سنی جانے والی بات، ایک ادھورا احساس، ایک ٹوٹا ہوا وعدہ اور ایک غیر محسوس بے اعتنائی وقت کے ساتھ اتنی بڑی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ دو لوگ، جو کبھی ایک دوسرے کی دنیا ہوا کرتے تھے، اجنبی بن جاتے ہیں۔ عدالت میں جمع ہونے والی درخواست دراصل اس طویل سفر کا آخری مرحلہ ہوتی ہے۔

    ان مقدمات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اکثر بچے ہوتے ہیں۔ وہ بچے جو والدین کے اختلافات کو سمجھنے کی عمر نہیں رکھتے، مگر ان کے اثرات زندگی بھر اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ٹوٹتے ہوئے خاندان صرف دو افراد کو الگ نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات ایک پوری نسل کے جذباتی اور نفسیاتی مستقبل کو متاثر کر دیتے ہیں۔

    اسلام آباد کی عدالتوں میں جمع ہونے والی یہ فائلیں دراصل ہمارے معاشرے کے سامنے ایک آئینہ رکھتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی صرف بلند عمارتوں، جدید سہولیات اور معاشی اشاریوں کا نام نہیں۔ ایک معاشرے کی اصل طاقت اس کے مضبوط خاندان، صحت مند تعلقات اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
    اگر ہم اس بڑھتے ہوئے رجحان کو صرف عدالتی اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے تو شاید ہم اصل مسئلے کو کبھی سمجھ ہی نہ سکیں۔ کیونکہ یہ صرف طلاقوں میں اضافے کی کہانی نہیں، بلکہ ان انسانی رشتوں کی داستان ہے جو کہیں راستے میں کمزور پڑ گئے۔ سوال یہ نہیں کہ عدالتوں میں کتنے مقدمات دائر ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے گھروں کے اندر ایسا کیا بدل رہا ہے جو محبت کو فاصلے میں، گفتگو کو خاموشی میں اور ساتھ کو علیحدگی میں تبدیل کر رہا ہے۔

    شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اعداد و شمار گننے کے بجائے ان وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کریں جو ان اعداد و شمار کو جنم دے رہی ہیں۔ کیونکہ جب خاندان کمزور ہوتے ہیں تو اس کی قیمت صرف میاں بیوی نہیں، پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔

  • لاہور: خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس کا مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    لاہور: خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس کا مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    لاہور کے علاقے گجرپورہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس کا مرکزی ملزم عدنان پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ تقریباً ایک ماہ قبل گجرپورہ کے علاقے میں پیش آیا تھا، واقعے میں متاثرہ خاتون کو مبینہ طور پر زبردستی کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس دوران ملزمان نے ویڈیو بھی بناتے رہے،پولیس نے ملزمان عبداللہ، عدنان اور مبشر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے مدعی مقدمہ کے مطابق انہوں نے عزت کی خاطر پہلے پولیس رپورٹ درج نہیں کروائی تھی مگر اسکے باوجود ملزمان بلیک میل کر رہے تھے تو وہ قانونی کارروائی پر مجبور ہوگئے۔

    سی سی ڈی سول لائنز نے ملزم عدنان کی گرفتاری کے لیے ہربنس پورہ میں چھاپہ مارا اس دوران ملزم نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائرنگ کر دی جس پر جوابی کارروائی کی گئی، کراس فائرنگ کے تبادلے میں ملزم عدنان ہلاک ہو گیا، ہلاک ملزم کے ساتھیوں کی تلاش جاری ہے جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔