Baaghi TV

Blog

  • عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ہوئی ہے، پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 3,094 روپے کمی ہو گئی ہے۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج کاروباری ہفتے کے پہلے دن فی اونس سونے کی قیمت 30ڈالر 94سینٹس کی کمی سے 4ہزار 297ڈالر کی سطح پر آگئی ،صرافہ بازاروں میں بھی پیر کے روز 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 3094روپے کی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 4لاکھ 52ہزار 233روپے کی سطح پر آگئی،اسی طرح مقامی سطح پر فی 10 گرام سونے کی قیمت 2785روپے گھٹ کر 3لاکھ 86 ہزار 987روپے ہوگئی-

    سونے کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 94 روپے کی کمی سے 7ہزار 173 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 86 روپے کی کمی سے 6ہزار 116روپے کی سطح پر آگئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری دن بھی سونے کی عالمی مارکیٹ میں 124 ڈالر فی اونس قیمت کم ہوئی تھی جبکہ مقامی سطح پر سونا 12489 روپے فی تولہ اور 11240 روپے فی 10 گرام سستا ہوگیا تھا،اسی طرح ہفتے کے روز چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ ہوئی تھی-

  • محبت سے عدالت تک،تحریر:صدف ابرار

    محبت سے عدالت تک،تحریر:صدف ابرار

    کبھی گھر محض اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ محبت، اعتماد، تحفظ اور وابستگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں زندگی کی تلخیاں بانٹی جاتی تھیں اور خوشیاں کئی گنا بڑھ جاتی تھیں۔ مگر آج اسی گھر کی دیواریں تو قائم ہیں، لیکن ان کے اندر بسنے والے رشتے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ نازک اور غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔

    اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں دائر ہونے والے ہزاروں طلاق، خلع اور نان نفقہ کے مقدمات محض قانونی کارروائیاں نہیں، بلکہ ایسے رشتوں کی خاموش داستانیں ہیں جو کبھی محبت، اعتماد اور مشترکہ خوابوں کی بنیاد پر قائم ہوئے تھے۔ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں 45 ہزار سے زائد فیملی مقدمات کا عدالتوں تک پہنچ جانا ایک ایسا اشارہ ہے جسے صرف اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ہر فائل کے پیچھے ایک الگ دنیا آباد ہوتی ہے۔ کہیں ایک عورت برسوں کی خاموش اذیت کے بعد انصاف کی تلاش میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، کہیں ایک مرد ناکام ازدواجی زندگی کے بوجھ تلے دب کر کسی حل کی امید لیے کھڑا ہوتا ہے، اور کہیں معصوم بچے ایسے فیصلوں کے اثرات سمیٹ رہے ہوتے ہیں جن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ عدالت کے ریکارڈ میں یہ صرف ایک مقدمہ ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ کئی زندگیوں کی کہانی ہوتی ہے۔

    یہ سوچنا آسان ہے کہ طلاقوں میں اضافہ صرف معاشی مشکلات یا سوشل میڈیا کا نتیجہ ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ معاشی دباؤ یقیناً ایک اہم وجہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ برداشت کی کمی، بڑھتی ہوئی انا، غیر حقیقی توقعات، ذہنی دباؤ، جذباتی فاصلے اور مؤثر مکالمے کا فقدان بھی رشتوں کو کمزور کر رہا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے سے زیادہ بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جب یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو رشتے بھی کمزور پڑنے لگتے ہیں۔

    سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اکثر اوقات رشتے اچانک نہیں ٹوٹتے۔ ان کے درمیان دراڑیں بہت پہلے پڑ چکی ہوتی ہیں۔ ایک نہ سنی جانے والی بات، ایک ادھورا احساس، ایک ٹوٹا ہوا وعدہ اور ایک غیر محسوس بے اعتنائی وقت کے ساتھ اتنی بڑی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ دو لوگ، جو کبھی ایک دوسرے کی دنیا ہوا کرتے تھے، اجنبی بن جاتے ہیں۔ عدالت میں جمع ہونے والی درخواست دراصل اس طویل سفر کا آخری مرحلہ ہوتی ہے۔

    ان مقدمات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اکثر بچے ہوتے ہیں۔ وہ بچے جو والدین کے اختلافات کو سمجھنے کی عمر نہیں رکھتے، مگر ان کے اثرات زندگی بھر اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ٹوٹتے ہوئے خاندان صرف دو افراد کو الگ نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات ایک پوری نسل کے جذباتی اور نفسیاتی مستقبل کو متاثر کر دیتے ہیں۔

    اسلام آباد کی عدالتوں میں جمع ہونے والی یہ فائلیں دراصل ہمارے معاشرے کے سامنے ایک آئینہ رکھتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی صرف بلند عمارتوں، جدید سہولیات اور معاشی اشاریوں کا نام نہیں۔ ایک معاشرے کی اصل طاقت اس کے مضبوط خاندان، صحت مند تعلقات اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
    اگر ہم اس بڑھتے ہوئے رجحان کو صرف عدالتی اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے تو شاید ہم اصل مسئلے کو کبھی سمجھ ہی نہ سکیں۔ کیونکہ یہ صرف طلاقوں میں اضافے کی کہانی نہیں، بلکہ ان انسانی رشتوں کی داستان ہے جو کہیں راستے میں کمزور پڑ گئے۔ سوال یہ نہیں کہ عدالتوں میں کتنے مقدمات دائر ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے گھروں کے اندر ایسا کیا بدل رہا ہے جو محبت کو فاصلے میں، گفتگو کو خاموشی میں اور ساتھ کو علیحدگی میں تبدیل کر رہا ہے۔

    شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اعداد و شمار گننے کے بجائے ان وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کریں جو ان اعداد و شمار کو جنم دے رہی ہیں۔ کیونکہ جب خاندان کمزور ہوتے ہیں تو اس کی قیمت صرف میاں بیوی نہیں، پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔

  • لاہور: خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس کا مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    لاہور: خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس کا مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    لاہور کے علاقے گجرپورہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس کا مرکزی ملزم عدنان پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ تقریباً ایک ماہ قبل گجرپورہ کے علاقے میں پیش آیا تھا، واقعے میں متاثرہ خاتون کو مبینہ طور پر زبردستی کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس دوران ملزمان نے ویڈیو بھی بناتے رہے،پولیس نے ملزمان عبداللہ، عدنان اور مبشر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے مدعی مقدمہ کے مطابق انہوں نے عزت کی خاطر پہلے پولیس رپورٹ درج نہیں کروائی تھی مگر اسکے باوجود ملزمان بلیک میل کر رہے تھے تو وہ قانونی کارروائی پر مجبور ہوگئے۔

    سی سی ڈی سول لائنز نے ملزم عدنان کی گرفتاری کے لیے ہربنس پورہ میں چھاپہ مارا اس دوران ملزم نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائرنگ کر دی جس پر جوابی کارروائی کی گئی، کراس فائرنگ کے تبادلے میں ملزم عدنان ہلاک ہو گیا، ہلاک ملزم کے ساتھیوں کی تلاش جاری ہے جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

  • کس قدر ارزاں ہوا خون مسلماں کا،تحریر: بینا علی

    کس قدر ارزاں ہوا خون مسلماں کا،تحریر: بینا علی

    کل سے خطے میں جو بےچینی، اضطراب اور بےسکونی کی فضا قائم ہے اس نے دل دہلا دیے ہیں۔ ایک گھٹن زدہ کیفیت نے پورے کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آزاد کشمیر میں نیٹ سروسز بند ہیں، اور یہ بندش صرف انٹرنیٹ کی نہیں بلکہ دلوں کی بھی ہے۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے ماں باپ اپنے بچوں کی خیریت جاننے سے قاصر ہیں۔ بہنیں اپنے بھائیوں کے لیے دعائیں مانگ رہی ہیں، بیویاں شوہروں کی سلامتی کی منتظر ہیں اور بچے اپنے پیاروں کی ایک آواز سننے کے لیے بےتاب ہیں۔ فون کی خاموشی اب دلوں میں خوف اور اندیشوں کی گونج بن چکی ہے۔خون، چاہے کشمیری کا ہو، پاکستانی کا، فوجی کا، پولیس والے کا، یا کسی عام شہری کا یا کسی غیر مسلم کا خون بہرحال خون ہوتا ہے۔ اس کا درد ایک جیسا ہوتا ہے۔ ہر لاش کے پیچھے ایک ماں کی اجڑی ہوئی دنیا ہوتی ہے، ایک باپ کی ٹوٹی ہوئی امید ہوتی ہے، ایک بیوی کا بکھرا ہوا سہارا اور معصوم بچوں کا لٹتا ہوا مستقبل ہوتا ہے۔ والدین کے لیے اولاد کا جنازہ اٹھانا زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ یہ ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور گہرا ہو جاتا ہے۔ ماں عمر بھر دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہے جیسے اس کا بیٹا ابھی لوٹ آئے گا۔ باپ اپنے آنسو چھپاتا ہے مگر اندر ہی اندر ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ بیوی زندگی بھر اس آواز کو ڈھونڈتی رہتی ہے جو کبھی اس کی زندگی کا سکون تھی۔ بچے ہجوم میں بھی اپنے باپ کا چہرہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔افسوس کہ ایسے نازک وقت میں بھی سوشل میڈیا پر نفرت، تلخی اور بدزبانی کا بازار گرم ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑک رہے ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے اور انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔خدارا! اب رک جائیے۔کتنا خون اور بہے گا؟ کتنی مائیں اپنے جوان بیٹوں کے انتظار میں دروازوں پر بیٹھی رہیں گی؟ کتنی بہنوں کی دعائیں ادھوری رہ جائیں گی؟ کتنے بچے یتیمی کی اذیت سہنے پر مجبور ہوں گے؟

    خون جب زمین پر گرتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں مرتا ایک خاندان بکھر جاتا ہے، کئی خواب دفن ہو جاتے ہیں اور بے شمار خوشیاں ماتم میں بدل جاتی ہیں۔اس وقت دل صرف غمزدہ نہیں، مضطرب بھی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا خطہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہو۔ ہر طرف خوف ہے، بے یقینی ہے اور دعاؤں کا ایک خاموش سلسلہ جاری ہے۔ایسے وقت میں ضرورت نفرت کے نعرے بلند کرنے کی نہیں بلکہ انسانیت کی آواز بلند کرنے کی ہے۔ ضرورت ایک دوسرے کو گرانے کی نہیں بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بننے کی ہے۔
    آئیے ایک ایسی تحریک کا آغاز کریں جس کا نام محبت ہو، جس کا مقصد امن ہو اور جس کا پیغام انسانیت ہو۔ ایک ایسی تحریک جو ہمیں یاد دلائے کہ خون کا کوئی مذہب، کوئی زبان اور کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ خون صرف خون ہوتا ہے، اور اس کا درد ہر دل یکساں محسوس کرتا ہے۔

    آئیے ایسی زبان بولیں جو زخموں پر مرہم رکھے، ایسے الفاظ لکھیں جو دلوں کو جوڑیں اور ایسی دعائیں کریں جو نفرت کی آگ کو ٹھنڈا کر سکیں۔کیونکہ قومیں نفرت سے نہیں، محبت سے بنتی ہیں۔ معاشرے انتقام سے نہیں، برداشت سے پروان چڑھتے ہیں۔ اور انسانیت کی سب سے بڑی فتح یہ نہیں کہ ہم اپنے مخالف کو ہرا دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بچا لیں۔خدایا! اس دھرتی پر امن نازل فرما۔ ماؤں کی گودیں اجڑنے سے بچا، بچوں کے سروں سے سایہ نہ اٹھا، بہنوں کی دعاؤں کو قبول فرما اور ہمیں اتنی انسانیت عطا فرما کہ ہم خون کے رنگ میں سیاست نہیں بلکہ انسانی جان کی حرمت دیکھ سکیں۔آمین
    خدارا اب بس کر دیں بس

  • کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بلوائیوں کے پرتشدد حملے،شہید کی لاش کی بے حرمتی

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بلوائیوں کے پرتشدد حملے،شہید کی لاش کی بے حرمتی

    7جون کو راولاکوٹ میں آزاد کشمیرپولیس اہلکاروں پرتشدد حملے اور لاش کی بے حرمتی کی ہوش ربا اور خوفناک ویڈیو منظرعام پر آ گئیں

    کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بلوائیوں نےراولاکوٹ میں پولیس اورقانون نافذ کرنے والے اداروں پرباقاعدہ منصوبہ بندی کےتحت سیدھی گولیاں چلائیں،ویڈیومیں پرتشدد حملے اورشیہد پولیس اہلکار کی لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئےدیکھا جاسکتا ہے اس گھناؤنے عمل سےکالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مکروہ اوردہشتگردانہ چہرہ بےنقاب ہوچکا ہے،بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حق میں بڑھ چڑھ کراعلامیہ بھی جاری کرچکاہے،بیرون ملک بیٹھا پاکستان مخالف سوشل میڈیا بھی فیک نیوز اور اے آئی مواد کے ذریعے گمراہ کن پروپیگنڈا میں مصروف ہے،بھارتی اور پاکستان مخالف غیر ملکی سوشل میڈیا نے جس طرح کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو سپورٹ کیا اس سے انکے بیرونی روابط اور عزائم بے نقاب ہو چکے ہیں،48 سے 72 گھنٹوں کے اندر کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی دہشتگردانہ سوچ اور بھارتی بیانیہ بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے.

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے مقدمے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    سول جج عباس شاہ نے کیس کی سماعت کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی مسلسل عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری برقرار رکھے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے،سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر ریاستی اداروں کے خلاف الزامات لگانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    سماعت کے دوران عدالت کو ملزم کی عدم پیشی سے متعلق آگاہ کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے وارنٹِ گرفتاری برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 18 جون تک ملتوی کر دی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔

  • دھاندلی پر احتجاج کا اعلان، حلف کے دن گلگت بلتستان میں یوم سیاہ منائیں گے، بیرسٹر گوہر

    دھاندلی پر احتجاج کا اعلان، حلف کے دن گلگت بلتستان میں یوم سیاہ منائیں گے، بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پری پول دھاندلی کی گئی، خاص منصوبے کے تحت پی ٹی آئی کو اس پورے عمل سے باہر نکالا گیا، اس وقت 70 فیصد پاکستانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں،دھاندلی پر احتجاج کا اعلان، حلف کے دن گلگت بلتستان میں یوم سیاہ منائیں گے،

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اپنے من پسند لوگوں کو پارلیمان تک پہنچانا لوگوں کا حق ہے اور یہی جمہوریت ہے،ووٹ میں ہیرا پھیری اور لوگوں کو اپنا حق استعمال کرنے سے روکنا جمہوریت کے خلاف سازش ہے، ان 70 فیصد لوگوں کو جمہوری عمل سے نکالا گیا، اس وقت تک ہمارے پاس 3 حلقوں کے فارم 47 موجود ہیں، ہم 8 نشستوں پر 100 فیصد جیت رہے تھے جن کا فارم 47 ملنا چاہیے تھا۔گلگت میں الیکشن نتائج کے بعد ہم ایک خاتون کی مخصوص نشست اور ایک ٹیکنوکریٹ نشست کے حقدار ہیں۔ ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں یہ سیٹیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ ہم استور کی سیٹ پر فی الفور دوبارہ الیکشن چاہتے ہیں، 8 فروری کو جس طرح پورے پاکستان میں روکا اس طرح یہاں پر بھی روکا یہ طریقہ کار جمہوریت میں نہیں اتا مئی 2025 کے بعد ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا اگر ہمارا مینڈیٹ قبول نہیں تو پھر کچھ بھی قبول نہیں،

  • گلگت بلتستان کی عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ پیپلز پارٹی پر اعتماد کرتے ہیں۔ سحر کامران

    گلگت بلتستان کی عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ پیپلز پارٹی پر اعتماد کرتے ہیں۔ سحر کامران

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پارٹی کی کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تاریخی فیصلہ دے کر جمہوریت پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    اپنے بیان میں سحر کامران نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی عوام دوست سیاست اور وژن کو گلگت بلتستان کے عوام نے بھرپور پذیرائی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج عوام کی ترقی، حقوق اور خوشحالی کے ایجنڈے کی حمایت کا واضح پیغام ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کامیابی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نظریات کی فتح ہے، جبکہ عوام نے نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کرکے خدمت، ترقی اور عوامی فلاح کے سفر کا انتخاب کیا ہے۔سحر کامران کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ اور بہتر مستقبل کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں عوامی خدمت کا سفر مزید مضبوط ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بلاول بھٹو زرداری اور بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی قیادت میں اپنے روشن، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ نوجوانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہونے کے ناطے پیپلز پارٹی عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کے لیے اپنی بھرپور صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔سحر کامران نے کہا کہ گلگت بلتستان کے ووٹرز نے جمہوری عمل کو کامیاب بنا کر سیاسی شعور کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ یہ کامیابی عوامی اعتماد، مسلسل جدوجہد اور پیپلز پارٹی کی عوامی سیاست کا ثمر ہے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں ترقی، روزگار اور بہتر طرزِ حکمرانی کے نئے دور کے آغاز کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی اور خطے کی خوشحالی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے،

  • خاتون پولیس افسر کی خفیہ کارروائی ،کلب کے نام پرغیر اخلاقی سرگرمیاں،متعدد گرفتار

    خاتون پولیس افسر کی خفیہ کارروائی ،کلب کے نام پرغیر اخلاقی سرگرمیاں،متعدد گرفتار

    بھارتی شہر حیدرآباد کے علاقے کوکٹ پلی میں ایک خاتون پولیس افسر کی خفیہ کارروائی کے نتیجے میں معروف کلب میں مبینہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کر متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون پولیس افسر نے اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے کئی مرتبہ کلب کا دورہ کیا اور وہاں جاری سرگرمیوں سے متعلق شواہد اکٹھے کیے۔ بعد ازاں انہی شواہد کی بنیاد پر پولیس نے کارروائی عمل میں لائی۔رپورٹس کے مطابق ڈپٹی کمشنر پولیس کوکٹ پلی ریتی راج کی ہدایت پر ’کنگز اینڈ کوئینز پب‘ المعروف ’کلب مستی‘ پر چھاپہ مارا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کلب میں مبینہ طور پر جسم فروشی، گاہکوں کو راغب کرنے کے لیے خواتین کے استعمال اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ پب مقررہ اوقات سے زیادہ دیر تک کھلا رہتا تھا، شراب اور کھانے کی فراہمی قواعد و ضوابط کے برعکس کی جا رہی تھی جبکہ ادارے کے پاس پولیس کا مطلوبہ این او سی بھی موجود نہیں تھا۔

    پولیس کارروائی کے دوران 9 ملازمین کو حراست میں لیا گیا، جن میں 4 خواتین اور 5 مرد شامل ہیں۔ تمام افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق مذکورہ پب کے خلاف سال 2025 میں بھی متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے، تاہم انتظامیہ کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے بعد تازہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

  • گلگت بلتستان انتخابات،پیپلز پارٹی کی نمایاں کامیابی پر وزیراعظم کی مبارکباد

    گلگت بلتستان انتخابات،پیپلز پارٹی کی نمایاں کامیابی پر وزیراعظم کی مبارکباد

    وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمایاں کامیابی پر پارٹی قیادت اور کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے جمہوری عمل کے کامیاب انعقاد کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

    اپنے بیان میں وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے عوام کو پرامن انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے بھرپور سیاسی شعور کا مظاہرہ کیا اور جمہوری عمل میں فعال شرکت کرکے جمہوریت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں اکثریتی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، اس کامیابی پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کامیابی جمہوری عمل پر عوامی اعتماد کا اظہار ہے۔

    شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدواروں کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی امیدواروں نے سخت مقابلہ کیا اور بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی انتخابی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کارکنان اور قیادت کی محنت قابل تحسین ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پرامن، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات جمہوریت کا حسن ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا، جو قابل تعریف ہے۔انہوں نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان اداروں کی مؤثر حکمت عملی اور انتھک محنت کے باعث انتخابات پرامن ماحول میں مکمل ہوئے۔