ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے ایک سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جہاں کہیں بھی امریکی فوجی موجود ہوں گے، ان مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس میں وہ ہوٹل بھی شامل ہو سکتے ہیں جہاں امریکی اہلکار قیام پذیر ہوں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایران اپنی جوابی حکمت عملی کو مزید وسیع کرنے پر غور کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گا اور اگر امریکا کی جانب سے حملے یا دباؤ جاری رہا تو ایران کے پاس جواب دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ایران اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور جہاں بھی امریکی موجود ہوں گے، وہاں کارروائی کی جا سکتی ہے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ اصفہان میں حساس معلومات لیک کرنے کے الزام میں 15 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں عمل میں آئی ہیں جب ملک میں سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں اور حکام اندرونی سطح پر سخت نگرانی کر رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے فوجی تنصیبات کی لوکیشنز، حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تصاویر اور دیگر حساس معلومات بیرونی ذرائع تک پہنچائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ معلومات دشمن کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی تھیں، اس لیے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
یہ تمام بیانات اور اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے، اور ماہرین کے مطابق اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے دنوں میں تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
Blog
-

امریکی فوجیوں کے قیام گاہیں بھی نشانے پر، ایران کا سخت اعلان
-

امریکی و اسرائیلی حملوں میں 120 تاریخی و ثقافتی مقامات متاثر: ایران
ایران نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں کم از کم 120 اہم ثقافتی اور تاریخی مقامات کو نقصان پہنچا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ سکتی ہے۔
تہران سٹی کونسل کی ہیریٹیج کمیٹی کے سربراہ احمد علوی کے مطابق ان حملوں میں مختلف صوبوں میں واقع عجائب گھروں، تاریخی عمارتوں اور ثقافتی ورثے کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مقامات کو پہنچنے والا نقصان نہ صرف ایران بلکہ عالمی ثقافت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔
سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ مقامات میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل گلستان پیلس بھی شامل ہے، جسے ایرانی تاریخ کا ایک اہم شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مرمر پیلس، تیمور تاش ہاؤس اور سعد آباد پیلس کمپلیکس جیسے نمایاں مقامات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
سعد آباد پیلس کمپلیکس تہران کا ایک اہم سیاحتی اور تاریخی مرکز ہے جہاں وسیع پارک، عجائب گھر اور ایرانی تاریخ کے مختلف ادوار کی جھلک پیش کی جاتی ہے۔ اس کمپلیکس کے قریب اہم سرکاری عمارتیں بھی موجود ہیں جن میں صدارتی رہائش گاہ اور دیگر حساس اداروں کے دفاتر شامل ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقہ مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں سے نہ صرف عمارتوں کے ڈھانچے متاثر ہوئے بلکہ کئی قیمتی نوادرات اور تاریخی اشیاء کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جن کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہوتی ہے تو یہ عالمی ثقافتی ورثے کے لیے ایک سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر یونیسکو سمیت بین الاقوامی ادارے اس معاملے پر ردعمل دے سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال شدت اختیار کر چکی ہے اور سفارتی کوششوں کے باوجود کشیدگی کم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ -

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار، وزیراعظم کا بڑا فیصلہ
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ انہیں پیٹرول پر 95 روپے اور ڈیزل پر 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم انہوں نے یہ تجویز مسترد کر دی تاکہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے اس فیصلے کے تحت اس ہفتے مزید 56 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی قیمتوں کے مطابق اضافہ کیا جاتا تو آج پیٹرول کی قیمت 544 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 790 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی تھی، مگر حکومت عوام کو پیٹرول 322 روپے اور ڈیزل 335 روپے فی لیٹر میں فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح عوام کا معاشی تحفظ ہے اور حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ مہنگائی کے اثرات عوام تک کم سے کم پہنچیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن پاکستان میں حکومت نے اس دباؤ کو خود برداشت کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں خطے کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان سفارتی محاذ پر بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیک وقت دو محاذوں پر کامیابی سے کام کر رہا ہے، ایک طرف عوام کو معاشی ریلیف دینا اور دوسری جانب خطے کو جنگ سے بچانے کی کوشش کرنا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ایران، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی رہنماؤں سے متعدد بار رابطے کیے ہیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔ ان کے مطابق یہ سفارتی کوششیں صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہیں۔
وزیراعظم نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما خلوص نیت اور مکمل محنت کے ساتھ ملک کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔ -

جنگی جنون میں مبتلا بھارت، 25 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی خریداری
صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان منصوبوں میں درمیانے درجے کے ٹرانسپورٹ طیاروں، روسی ساختہ S-400 فضائی دفاعی نظام اور بغیر پائلٹ حملہ آور طیاروں کی خریداری شامل ہے، جو بھارت کی فضائی اور دفاعی طاقت کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
بھارتی حکومت کے مطابق دفاعی خریداری کونسل نے بری فوج کے لیے جدید ائیر ڈیفنس ٹریکڈ سسٹم، آرمر پیئر سنگ ٹینک ایمونیشن، ہائی کیپیسٹی ریڈیو ریلے سسٹم، دھنوش گن سسٹم اور رن وے انڈیپینڈنٹ ایریل سرویلنس سسٹم جیسے اہم منصوبوں کی بھی منظوری دی ہے، جن کا مقصد زمینی دفاع کو مؤثر بنانا ہے۔
اسی طرح بھارتی فضائیہ کے لیے درمیانے درجے کے ٹرانسپورٹ طیارے، طویل فاصلے تک مار کرنے والے S-400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز، بغیر پائلٹ ڈرونز اور Su-30 طیاروں کے انجن کی اوورہالنگ کی تجاویز بھی منظور کی گئی ہیں، جس سے فضائی دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے گا۔
مزید برآں بھارتی کوسٹ گارڈ کے لیے ہیوی ڈیوٹی ائیر کشن وہیکلز کی خریداری کی منظوری بھی دی گئی ہے تاکہ ساحلی نگرانی اور سمندری سیکیورٹی کو بہتر بنایا جا سکے۔ماہرین کے مطابق یہ دفاعی منصوبے خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک ماحول کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔ -

اصفہان میں حساس معلومات لیک کرنے کا بڑا کیس، 15 افراد گرفتار
ایران کے صوبے اصفہان میں حساس معلومات لیک کرنے کے ایک بڑے معاملے میں سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے 15 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو چکا ہے اور حکام ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے متحرک ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے فوجی تنصیبات کی اہم لوکیشنز، حالیہ حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تصاویر اور دیگر حساس معلومات بیرونی ذرائع تک پہنچائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ معلومات انتہائی خفیہ نوعیت کی تھیں جن کے افشا ہونے سے قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ملزمان نے یہ معلومات ایران مخالف میڈیا نیٹ ورکس اور ممکنہ طور پر دیگر بیرونی عناصر کو فراہم کیں، جس سے سیکیورٹی اداروں کی تشویش میں اضافہ ہوا۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کے مکمل ڈھانچے کو بے نقاب کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی ادارے اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ ایک منظم گروہ تھا یا انفرادی سطح پر معلومات لیک کی جا رہی تھیں، اور کیا اس میں مزید افراد بھی ملوث ہیں۔ ممکنہ طور پر آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں۔
حکام کے مطابق موجودہ کشیدہ حالات کے پیش نظر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حساس تنصیبات کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی معلومات کے اخراج کو روکا جا سکے۔ -

کویت کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت
کویت نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے، جسے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کویت پر ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مشکل وقت میں کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت بھی کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے واقعات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں اور ان کا فوری تدارک ضروری ہے۔
گفتگو کے دوران وزیراعظم نے کویت کے ولی عہد کو مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل مختلف ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد الصباح نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے موجودہ بحران میں پاکستان کے فعال کردار کی تعریف کی اور پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ماہرین کے مطابق کویت کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے اور ممکنہ طور پر امن مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ -

افغانستان سے متعلق بیان، وزیراعلیٰ بلوچستان کا سخت مؤقف
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے افغانستان سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغانستان پاکستان کا برادر ہمسایہ ملک ضرور ہے، تاہم گزشتہ چالیس سال سے پاکستان نے افغان عوام کی جس طرح خدمت اور میزبانی کی، اس کا صلہ توقعات کے مطابق نہیں ملا۔
پشین کے علاقے برشور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں افغان بھائیوں کا ساتھ دیا، انہیں پناہ دی اور ہر ممکن سہولت فراہم کی، مگر اس کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات میں وہ بہتری نہیں آ سکی جس کی امید کی جا رہی تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس کے باوجود پاکستان افغان عوام کو اپنے مسلمان بھائی سمجھتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، تاہم قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور کوئی بھی ملک پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا -

یوکرین اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ، ایران پر کشیدگی کے دوران سفارتی کشیدگی میں اضافہ
یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جسے خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اس نوعیت کے معاہدے نہ صرف علاقائی طاقت کے توازن پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرینی صدر نے کہا کہ یہ معاہدہ صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کے دفاعی ٹھیکوں، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں کا بھی احاطہ کرے گا۔ اس معاہدے سے قبل یوکرینی صدر اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دفاعی تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق یوکرین نے سعودی عرب کو جدید دفاعی نظام، عسکری مہارت اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر سیکیورٹی کو بہتر بنانے، دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ اس تعاون سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات مزید گہرے ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سعودی عرب نے ایک سخت سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی ملٹری اتاشی سمیت سفارتخانے کے پانچ اہلکاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں سفارتی سطح پر بھی تناؤ بڑھ رہا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ان افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تمام پیش رفتیں مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں اور اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ -

دیپالپور روڈ حادثہ، 5 طلبہ سمیت 7 افراد زخمی
دیپالپور روڈ پر پیش آنے والے اس افسوسناک ٹریفک حادثے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی، جہاں 5 طلبہ سمیت مجموعی طور پر 7 افراد زخمی ہو گئے۔ حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بھی بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ ایک رکشہ اور تیز رفتار ٹرک کے درمیان شدید تصادم کے باعث پیش آیا۔ زخمی ہونے والوں میں نہ صرف طلبہ بلکہ ایک خاتون ٹیچر اور رکشہ ڈرائیور بھی شامل ہیں، جو اس وقت تعلیمی ادارے سے واپسی یا روانگی کے دوران سفر کر رہے تھے۔
ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ رکشہ مبینہ طور پر غلط سمت میں جا رہا تھا، جس کے باعث سامنے سے آنے والے ٹرک سے اس کی ٹکر ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی غلط ڈرائیونگ سڑکوں پر حادثات کی بڑی وجہ بنتی ہے، جس سے قیمتی جانوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
حادثے کے فوراً بعد ٹرک ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، جبکہ ریسکیو اور پولیس حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مفرور ڈرائیور کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ ذمہ دار شخص کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ -

ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی لاہور میں کامیاب سرجری
قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی لاہور کے ایک معروف مقامی اسپتال میں کامیاب سرجری مکمل کر لی گئی ہے، جس کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے اطمینان بخش اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اس اہم طبی عمل کے بعد ٹیم انتظامیہ اور شائقین کرکٹ نے بھی ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مائیک ہیسن کافی عرصے سے کمر میں گلٹی کی شکایت کا شکار تھے، جس کے باعث انہیں تکلیف اور مشکلات کا سامنا تھا۔ انہوں نے علاج کے لیے اپنے آبائی ملک نیوزی لینڈ واپس جانے کے بجائے لاہور میں ہی علاج کروانے کو ترجیح دی، جہاں انہیں فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرجری نہایت کامیاب رہی اور ڈاکٹروں کی ٹیم نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تاہم مکمل صحت یابی کے لیے انہیں کم از کم دو ہفتے تک مکمل آرام کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ وہ دوبارہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں سنبھال سکیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ علاج اور بحالی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مائیک ہیسن نیوزی لینڈ واپس روانہ ہو جائیں گے، جہاں وہ کچھ عرصہ آرام کرنے کے بعد دوبارہ اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔
دوسری جانب قومی ٹیم کے منیجر نوید اکرم چیمہ کی صحت کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جن کی آج انجیوگرافی متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں دل کی تکلیف کی شکایت ہے، جس کے پیش نظر ڈاکٹروں نے احتیاطی طور پر یہ ٹیسٹ تجویز کیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ مسئلے کی بروقت تشخیص کی جا سکے۔