Baaghi TV

Blog

  • گلوبل ساوتھ کی قیادت کا دعویٰ دھوکہ ثابت، مودی کی شرمناک معاشی پسپائی بے نقاب

    گلوبل ساوتھ کی قیادت کا دعویٰ دھوکہ ثابت، مودی کی شرمناک معاشی پسپائی بے نقاب

    مودی کے نااہل دور میں بھارت کو سفارتی اور دفاعی ناکامیوں کے بعد تجارتی میدان میں بھی ذلت آمیز شکست ہوئی ہے

    خودمختاری اورگلوبل ساوتھ کی قیادت کا نام نہاد دعویدار بھارت، معاشی ترجیحات پس پشت ڈال کربڑی طاقتوں کے دباو کے سامنے ڈھیر ہو گیا،بھارتی جریدہ دی وائر نے بھارت کی ناکامیوں کو مودی سرکار کے ڈبلیوٹی او کانفرنس سے خالی ہاتھ لوٹنے کے مترادف قرار دیا، جریدہ نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کانفرنس میں گھٹنے ٹیکنے پر نااہل مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیاکہ بھارت نے ڈیجیٹل مواد کی ترسیل پر کسٹم ڈیوٹی نہ لگانے کی امریکی شرط کو قبول کرنے کا واضح اشارہ دیا،ڈبلیو ٹی او کانفرنس میں بھارت نے سرمایہ کاری سہولت معاہدہ کسی مزاحمت کے بغیر ہی قبول کرلیا، بھارت نے اپنے کسانوں سے غداری اور امریکہ کی وفاداری کرکے خوراک کی عوامی ذخیرہ اندوزی پربھی شکست قبول کی

    خلیجی جنگ کے تناظر میں بھی مودی کو ملکی مفادات اسرائیل سے دوستی کی بھینٹ چڑھانے پر آڑےہاتھوں لیا جارہا ہے،ماہرین کے مطابق مودی کی نااہلی کے باعث بھارتی معیشت کوتوانائی بحران،کرنسی پر دباؤاورترسیلاتِ زر میں کمی جیسے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے،بھارت کا اقتصادی قوت بننے کا مضحکہ خیزخواب نااہل مودی کی ناکام اور تباہ کن پالیسیوں کے باعث خاک میں مل چکاہے

  • اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی کاروائیاں جاری،اسرائیل پر حملے

    اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی کاروائیاں جاری،اسرائیل پر حملے

    ایران نے اسرائیلی و امریکی حملوں کے جواب میں کاروائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے

    ایرانی حملوں کی گزشتہ روز پہلی لہر کا نشانہ جنوبی نیگیو، اراوا، بحیرہ مردار، یہودیہ، وسطی نیگیو، مغربی نیگیو، اور اشکلون تھے، اس ابتدائی لہر نے ابتدائی سائرن بجائے اور شہریوں کو آنے والے حملوں کے لیے تیار کیا۔دوسری لہر،
    بیر شیبہ اور جنوبی مقبوضہ علاقوں کے 125 دیگر مقامات پر سائرن بجنے لگے۔ اس ایرانی میزائل لہر کے بعد جنوب میں ایک اندازے کے مطابق 1,096,000 رہائشیوں کو پناہ لینے کی ضرورت پڑی۔تیسری لہر،
    جنوبی نیگیو، اراوا، بحیرہ مردار، یہودیہ، وسطی نیگیو اور مغربی نیگیو میں الرٹس دوبارہ فعال کر دیے گئے۔ یروشلم اور تل ابیب سمیت وسطی اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا، نابلس اور مودین میں دھماکوں کی اطلاع ہے۔ جھرمٹ کے گولہ بارود نے تل ابیب کو نشانہ بنایا، اشدود، رمت گان اور گش دان میں جھریاں بکھیر رہے تھے۔ حزب اللہ کے دو راکٹ گلیلی فنگر پر گرے۔ تل ابیب کی ایک عمارت میں راکٹ لگنے کے بعد آگ لگ گئی، جس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ایک اسرائیلی آباد کار ہلاک، 14 زخمی، اور 10 مقامات پر عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ حزب اللہ کے مشتبہ ڈرونز کے درمیان بالائی گلیلی میں مالکیہ میں سائرن بج رہے تھے۔ راکٹوں نے لبنان کی سرحدی حدود میں اجتماعات کو بھی نشانہ بنایا۔

    چوتھی لہر ایران کی طرف سے راکٹوں نے غزہ کے لفافے کو نشانہ بنایا، جن میں زیکیم، نیتیو ہاسارا، ایریز، سڈروٹ، میفلسم، نیر ام، نیریم، بیری، کسوفیم، عین ہشلوشا، نہل اوز، الیوم، ریئم، کفار عزا، کفار میمون اور شوکیدہ شامل ہیں۔ گش دان کو ایرانی ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے راکٹوں نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد زخمی ہوئے، جن میں ایک انتہائی سنگین اور ایک اسرائیلی ہلاک ہوا۔ مغربی رام اللہ کے قریب مودین بستی کے قریب دھماکوں کی اطلاع ہے۔ ایرانی حملوں میں شیخ بندرگاہ پر چھ امریکی جنگی لینڈنگ کرافٹ (LCU) کو نشانہ بنایا گیا، جس میں تین ڈوبنے اور باقی میں آگ لگنے کی اطلاع ہے۔ پانچویں لہر، راکٹ لانچوں کی کھوج نے جنوبی نیگیو، اراوا، بحیرہ مردار، یہودیہ، وسطی نیگیو، اور مغربی نیگیو میں الرٹ جاری کر دیا۔ غزہ کے لفافے، بحیرہ مردار، دیمونا اور بیر شیبہ میں فضائی دفاع کو فعال کیا گیا تھا۔ بیر شیبہ اور 71 دیگر جنوبی مقامات پر سائرن بجنے لگے، جس سے تقریباً 1,121,000 رہائشیوں کو پناہ لینے کی ضرورت پڑی۔ لبنان سے متولہ بستی کی طرف راکٹ داغے گئے، اور میزائل کے خطرات کی وجہ سے F-16 کی ہنگامی لینڈنگ ہوئی۔چھٹی لہر ، شمالی اور جنوبی گولان کی پہاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جب حزب اللہ نے ایک زبردست گھات لگا کر حملہ کیا، جس سے اسرائیلی ہیلی کاپٹروں کو ہلاک اور زخمیوں کو نکالنے پر مجبور کیا گیا۔ ڈرون اور بیلسٹک حملوں نے اربیل (چار ہٹ)، اردن (پانچ ہٹ)، بحرین، سعودی عرب (دو ہٹ) اور دبئی میں متعدد مقامات پر امریکی اور اتحادیوں کے اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بحرین کے جفیر بیس اور باپکو ریفائنری میں دس زوردار دھماکے ہوئے۔ امریکی حکام نے سعودی اڈے پر ایرانی حملوں کے نتائج کی اشاعت پر پابندی لگاتے ہوئے ایک گیگ آرڈر جاری کیا۔

    خلیجی خطے میں متعدد امریکی اور اتحادی فوجی اڈے ایرانی ڈرون اور بیلسٹک حملوں کی زد میں آئے۔ اربیل امریکی ہیڈکوارٹر پر چار بار حملہ کیا گیا، جبکہ اردن میں امریکی اڈے پر پانچ حملے ہوئے۔ بحرین میں جفیر بیس اور باپکو ریفائنری میں دس زبردست دھماکے ہوئے۔ سعودی عرب کو امریکی اثاثوں پر دو ضربیں لگیں۔ متعدد حملوں میں دبئی اور شہر کے گہرے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے بعد، امریکی حکام نے مبینہ طور پر سعودی اڈے پر ایرانی حملوں کے نتائج کی اشاعت پر پابندی لگانے کا حکم جاری کیا۔

  • ایران میں صنعتی و رہائشی علاقوں پر اسرائیلی حملے

    ایران میں صنعتی و رہائشی علاقوں پر اسرائیلی حملے

    ایران کے مختلف شہروں میں اسرائیل نے متعدد اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں صنعتی تنصیبات، تعلیمی ادارے اور رہائشی علاقے شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق صوبہ خوزستان اور اصفہان میں قائم اسٹیل فیکٹریوں پر حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں ان صنعتی یونٹس کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ اسی طرح تہران میں واقع امیر کبیر یونیورسٹی بھی حملوں کی زد میں آئی۔رپورٹس کے مطابق دو دھماکے رہائشی علاقوں میں ہوئے، جن میں ایک تہران کے مہرآباد ایریا کے قریب جبکہ دوسرا شہرکِ غرب میں پیش آیا، علاوہ ازیں کرج کے جنوب مغربی علاقے مہرشہر میں بھی حملہ رپورٹ ہوا ہے۔جنوبی ایران میں واقع بوشہر پاور پلانٹ کے قریب ایک میزائل یا پروجیکٹائل گرنے کی اطلاع ملی ہے، تاہم حکام کے مطابق اس سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔

    دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جارحیت کے دوران اراک اور خنداب کے ہیوی واٹر ریسرچ ری ایکٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق اراک ری ایکٹر پر حملے کے باوجود کسی قسم کی تابکاری کا اخراج یا جانی نقصان نہیں ہوا۔حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

  • سعودی عرب کے فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملہ، متعدد امریکی فوجی زخمی

    سعودی عرب کے فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملہ، متعدد امریکی فوجی زخمی

    سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئربیس پر ایران کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی زخمی ہوگئے۔

    امریکی اخبار کے مطابق حملے میں امریکی فوج کے کم از کم 12 اہلکار زخمی ہوئے، جس کی تصدیق امریکی حکام نے بھی کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حملے کے باعث امریکی فضائیہ کے کئی ری فیولنگ طیاروں کو بھی نقصان پہنچا، جس سے فوجی آپریشنز متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب سعودی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ریاض کی طرف فائر کیا جانے والا ایک بیلسٹک میزائل بروقت کارروائی کرتے ہوئے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔

    علاوہ ازیں ایران کی جانب سے اسرائیل پر کلسٹر بموں سے حملے کیے گئے۔ اسرائیل نے حملے میں ایک شخص کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی،ایران نے کویت میں امریکا کے 6 بحری جہاز تباہ کرنے اور دبئی میں ساحل اور ہوٹل پر حملے کرکے کئی امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے،اس سے پہلے 3 کنٹینر جہازوں کی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی،ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مختلف ملکوں کے 3 کارگو جہاز واپس بھیج دیے گئے۔

  • ایرانی ہیکرز نےایف بی آئی ڈائریکٹر کا ای میل ہیک کرلیا

    ایرانی ہیکرز نےایف بی آئی ڈائریکٹر کا ای میل ہیک کرلیا

    واشنگٹن: ایرانی ہیکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کا ذاتی ای میل اکاؤنٹ ہیک کر لیا ہے، جس کے بعد سائبر سیکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران سے منسلک ہیکرز گروپ نے کہا ہے کہ وہ ایف بی آئی کے سربراہ کے ای میل ان باکس تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ہیکرز نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر مبینہ طور پر ڈائریکٹر کی ذاتی تصاویر اور اہم دستاویزات انٹرنیٹ پر شائع بھی کر دی ہیں۔رپورٹس کے مطابق لیک ہونے والی معلومات کی نوعیت اور حساسیت کا مکمل اندازہ تاحال نہیں لگایا جا سکا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوئے تو یہ امریکی سیکیورٹی نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایف بی آئی یا امریکی حکام کی جانب سے اس واقعے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ سائبر سیکیورٹی ماہرین اس معاملے کی تحقیقات اور ممکنہ نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ برسوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس نوعیت کے سائبر حملے جیوپولیٹیکل تنازعات کا نیا محاذ بن چکے ہیں، جس سے عالمی سطح پر ڈیجیٹل سیکیورٹی کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • آئی ایم ایف اور پاکستان کے مابین اسٹاف لیول معاہدہ طے

    آئی ایم ایف اور پاکستان کے مابین اسٹاف لیول معاہدہ طے

    عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔

    آئی ایم ایف کے مطابق منظوری کے بعدپاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی یعنی پاکستان کو مجموعی طور پر 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالر ملیں گے، پاکستان کو رقم آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد جاری ہوگی اور نئی قسط ملنے سے پاکستان کو ملنے والی رقم 4.5 ارب ڈالر ہو جائے گی،عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت میں بہتری، منہگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول میں ہے تاہم مشرق وسطیٰ کشیدگی سے معیشت کو خطرات لاحق ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان مالی خسارہ کم کرنے کا عزم رکھتی ہے اور اس حوالے سے ٹیکس نظام بہتر بنانے کیلئے اصلاحات جاری ہیں، غریب عوام کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع کی گئی، منہگائی کے اثرات کم کرنے کیلئے امداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، اسٹیٹ بینک منہگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا، ضرورت پڑنے پر شرح سود مزید بڑھائی جا سکتی ہے،زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، معاشی استحکام بہتر ہوا ہے، تاہم توانائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ منہگائی بڑھا سکتا ہے۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اخراجات کنٹرول کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد شروع ہونے سے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، پاکستان ڈیجیٹل انوائسنگ اور ٹیکس آڈٹ نظام مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، ٹیکس پالیسی آفس درمیانی مدت کی اصلاحاتی حکمت عملی تیار کر رہا ہے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی بہتر تقسیم پر کام جاری ہے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم پر کام جاری ہے،مالی سال 2026 میں 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف ہے، پاکستان کا مالی سال 2027 میں سرپلس 2 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے،پاکستان نے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، غربت میں کمی اور سماجی تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جبکہ منہگائی سے متاثرہ طبقے کو ہدفی امداد دینے کی کوششیں جاری ہیں، پاکستان نے بینکاری نظام کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے مستحکم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ پاکستان نے توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے روکنے کا عزم کیا ہے،پاکستان کی سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری اہم ترجیح ہے، حکومت پاکستان نے مارکیٹ میں حکومتی مداخلت کم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے، پاکستان بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششیں کر رہا ہے،موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات تیز کیے جائیں گے جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے گرین ٹرانسپورٹ اور کاربن اخراج میں کمی پر بھی زور دیا جا رہا ہے، پانی کے نظام کی بہتری اور آفات سے نمٹنے کے لیے مالی نظام کی تیاری جاری ہے، پاکستان میں موسمیاتی اہداف کے مطابق توانائی اصلاحات جاری ہیں۔

  • نانبائیوں کی من مانی،مکھیوں کا راج،فوڈ اتھارٹی و پیرا فورس  سے نوٹس کا مطالبہ

    نانبائیوں کی من مانی،مکھیوں کا راج،فوڈ اتھارٹی و پیرا فورس سے نوٹس کا مطالبہ

    قصور
    نانبائیوں کی من مانیاں عروج پر، شہری مہنگے اور ناقص نان لینے پر مجبور

    قصور کے نواحی علاقے موضع کھارا نزد بائی پاس میں نانبائیوں کی من مانیاں کھل کر سامنے آ گئی ہیں جہاں سادہ نان سرکاری نرخوں کے برعکس 25 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ اس کا وزن بھی مقررہ معیار سے کم ہو کر صرف 80 سے 90 گرام رہ گیا ہے
    اہل علاقہ کے مطابق نان نہ صرف مہنگا دیا جا رہا ہے بلکہ اس کی کوالٹی بھی انتہائی ناقص ہے جبکہ متعدد دکانوں پر صفائی کی صورتحال تشویشناک ہے اور نان پر مکھیوں کا راج ہے جو صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے
    مقامی آبادی، جس کی تعداد تقریباً 40 ہزار ہے، اس صورتحال سے شدید پریشانی کا شکار ہے
    شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث نانبائی کھلے عام من مانی کر رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں
    اہلیان علاقہ نے ڈپٹی کمشنر قصور، پیرا فورس اور پنجاب فوڈ اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری نرخوں اور وزن پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے صفائی کے ناقص انتظامات کا خاتمہ کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے

  • گلگت بلتستان دنیا کے ٹاپ 25 سیاحتی مقامات میں شامل

    گلگت بلتستان دنیا کے ٹاپ 25 سیاحتی مقامات میں شامل

    ‎پاکستان کی سیاحتی حکمتِ عملی کے مثبت اثرات نمایاں طور پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان کو دنیا کے بہترین 25 سیاحتی مقامات میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کی قدرتی خوبصورتی اور سیاحتی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی گرین ٹورازم پالیسی اور مربوط حکمتِ عملی نے سیاحت کے شعبے میں نئی جان ڈال دی ہے۔ انفراسٹرکچر کی بہتری، سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات اور سیاح دوست اقدامات نے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث سیاحت کے شعبے میں واضح ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں 10 لاکھ سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے پاکستان کا رخ کیا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 820 فیصد کا حیران کن اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف پالیسی اقدامات کا نتیجہ ہے بلکہ سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا میں پاکستان کے مثبت تاثر نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
    ‎عالمی میڈیا اداروں بی بی سی اور سی این این نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات، خصوصاً گلگت بلتستان کو دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات میں شامل کر کے اس خطے کی قدرتی خوبصورتی، بلند پہاڑوں، جھیلوں اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے، جس سے پاکستان کی ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
    ‎اس کامیابی میں ویزا پالیسی میں نرمی بھی ایک اہم عنصر ثابت ہوئی ہے، جہاں 126 ممالک کے شہریوں کو ویزا آن ارائیول اور آسان آن لائن ویزا سہولت فراہم کی گئی، جس سے سیاحوں کے لیے پاکستان کا سفر پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور پرکشش ہو گیا۔
    ‎مزید برآں گرین ٹورازم پرائیویٹ لمیٹڈ نے گزشتہ دو سالوں میں ملک بھر میں 17 بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں، جن میں سیاحتی سہولیات کی بہتری، ہوٹلنگ سیکٹر کی اپ گریڈیشن اور نئے ریزورٹس کی تعمیر شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘ٹورازم آن دی پام’ ای پورٹل بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے سیاح آسانی سے بکنگ، معلومات اور رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق مستقبل میں سیاحت کے فروغ کے لیے مزید اقدامات بھی زیر غور ہیں، جن میں 2026-27 کے دوران 10 نئے ہوٹلز اور ریزورٹس قائم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ ان منصوبوں میں ہنزہ کی دلکش وادیاں اور گڈانی و سونمیانی کے ساحلی علاقے شامل ہیں، جس سے پہاڑی اور ساحلی سیاحت دونوں کو یکساں فروغ ملے گا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات پاکستان کو ایک مستحکم عالمی سیاحتی مرکز بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہیں اور اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں پاکستان سیاحت کے میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔

  • مقابلۂ حسن میں امیدوار کے نقلی دانت اسٹیج پرگر گئے

    مقابلۂ حسن میں امیدوار کے نقلی دانت اسٹیج پرگر گئے

    ‎تھائی لینڈ کے معروف مقابلۂ حسن ’مس گرینڈ تھائی لینڈ‘ میں ایک دلچسپ اور غیر متوقع واقعہ پیش آیا جب ایک امیدوار کے نقلی دانت اسٹیج پر گر گئے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق امیدوار کمولوان چاناگو اپنی تعارفی تقریر کر رہی تھیں کہ اچانک ان کے ڈینٹل وینیئرز نکل گئے، جس سے چند لمحوں کے لیے ماحول میں خلل پیدا ہوا۔
    یہ منظر ججز اور حاضرین کے سامنے پیش آیا، تاہم امیدوار نے گھبراہٹ کا شکار ہونے کے بجائے انتہائی اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ وہ لمحہ بھر کے لیے مڑیں، اپنے دانت درست کیے اور دوبارہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنی پرفارمنس جاری رکھی۔ان کے اس پیشہ ورانہ انداز اور حوصلے نے حاضرین کو متاثر کر دیا اور ہا تالیوں سے گونج اٹھا۔
    بعد ازاں انہوں نے ایوننگ گاؤن میں بھی بھرپور انداز میں پرفارم کیا اور مسکراتے ہوئے اپنی واک مکمل کی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جہاں صارفین ان کے اعتماد اور مضبوط اعصاب کی تعریف کر رہے ہیں۔
    یاد رہے کہ مقابلے کا حتمی نتیجہ ہفتے کے روز سامنے آئے گا اور فاتح امیدوار مس گرینڈ انٹرنیشنل 2026 میں تھائی لینڈ کی نمائندگی کرے گی جو بھارت میں منعقد ہوگا۔

  • اے سی کو کم ترین درجہ حرارت پر چلانا نقصان دہ، ماہرین کی وارننگ

    اے سی کو کم ترین درجہ حرارت پر چلانا نقصان دہ، ماہرین کی وارننگ

    گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ اے سی کا استعمال بھی عام ہو چکا ہے، مگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایک عام عادت آپ کے اے سی کی عمر کم کر سکتی ہے اور بجلی کے بل میں بھی اضافہ کر دیتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اکثر لوگ اے سی کو ہمیشہ کم ترین درجہ حرارت پر چلاتے ہیں، جو کہ ایک بڑی غلطی ہے۔ اس سے مشین پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے اور اسے اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔
    ‎اس عمل کے باعث اے سی کا آؤٹ ڈور یونٹ بار بار بند اور دوبارہ چلتا ہے، جس سے نہ صرف مشین کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کی عمر بھی کم ہو جاتی ہے۔
    ‎خاص طور پر شدید گرمی اور حبس کے دنوں میں اگر اے سی کو 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم پر چلایا جائے تو سسٹم زیادہ محنت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کا ضیاع اور بل میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اے سی کو مسلسل 24 گھنٹے چلانے کے بجائے وقفے دینا چاہیے تاکہ مشین کو آرام مل سکے اور اوور ہیٹنگ سے بچا جا سکے۔
    ‎مزید یہ کہ اگر باہر کا درجہ حرارت 34 سے 38 ڈگری کے درمیان ہو تو اے سی کو اس سے تقریباً 8 سے 10 ڈگری کم پر رکھنا کافی ہوتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق 26 سے 28 ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت نہ صرف آرام دہ ہوتا ہے بلکہ یہ بجلی کی بچت اور اے سی کی لمبی عمر کے لیے بھی بہترین ہے۔