واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکا مشرقِ وسطیٰ میں مزید 10 ہزار تک زمینی فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹ میں امریکی دفاعی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پینٹاگون خطے میں فوجی آپشنز کو وسعت دینے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف ایران کے ساتھ "مثبت” امن مذاکرات کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب تہران ان دعوؤں کو مسترد کر چکا ہے۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کی دھمکی کو 6 اپریل تک مؤخر کر دیا ہے۔ اس سے قبل امریکا نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کو متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے ممکنہ زمینی جنگ کے پیش نظر 10 لاکھ سے زائد افراد کو متحرک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوجوان بڑی تعداد میں بسیج، پاسدارانِ انقلاب اور فوجی مراکز کا رخ کر رہے ہیں۔فوجی ذرائع کے مطابق زمینی افواج کو منظم کر کے جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے اور اگر امریکی افواج ایران میں داخل ہوئیں تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سفارتی پیشکش کو عوامی سطح پر مسترد کر دیا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ادھر امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے دستے جلد مشرقِ وسطیٰ پہنچیں گے جبکہ ہزاروں میرینز پہلے ہی تعینات ہیں۔ علاوہ ازیں کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خیر سگالی کے طور پر امریکا کو تیل سے بھرے 10 جہاز لینے کی اجازت دی ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق جاری کشیدگی امریکا کے اسلحہ ذخائر پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔ ابتدائی 16 دنوں میں امریکا اور اس کے اتحادی تقریباً 11 ہزار ہتھیار استعمال کر چکے ہیں جن کی لاگت 26 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو امریکا کو اپنے پرانے ہتھیار استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں۔
