Baaghi TV

Blog

  • گلگت بلتستان میں  24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں 24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پرپولنگ کا عمل جاری ہے،پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا،جبکہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 404 امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں پیپلز پارٹی کے 23 جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار شامل ہیں مجلس وحدت المسلمین کے 7، جما عت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں، جبکہ سب سے زیادہ 266 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے گلگت بلتستان بھر میں 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں ان میں خواتین کے لیے 1112، مردوں کے لیے 1268 جبکہ 68 مشترکہ پولنگ بوتھ مختص کیے گئے ہیں جن میں 551 کو انتہائی حساس اور 349 کو حساس قرار دیا گیا ہے، 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کے اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

    حلقہ جی بی اے-1 گلگت میں 23 امیدوار میدان میں ہیں، اس حلقے میں 47 ہزار 373 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 25 ہزار 412 مرد اور 21 ہزار 961 خواتین ووٹرز شامل ہیں، یہاں 80 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 49 انتہائی حساس اور 31 حساس ہیں۔ پولنگ کے شفاف انعقاد کے لیے 1300 پولنگ عملہ اور 550 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-2 گلگت میں 40 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55 ہزار 849 ہے، جن میں 29 ہزار 839 مرد اور 26 ہزار 10 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے میں 91 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور حساس مراکز پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-3 گلگت میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 122 ہے۔ یہاں 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 27 ہزار 351 مرد اور 24 ہزار 810 خواتین شامل ہیں اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 16 انتہائی حساس اور 16 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔

    حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

    حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔

    حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔

    حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔

    حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 24 میں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شفاف، آزادانہ و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    جاری کردہ احکامات کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی عملہ، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز موبائل فون نہیں لے جا سکیں گے۔ یہ اقدام ووٹ کی رازداری کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ میڈیا نمائندگان اور مبصرین اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے چیف الیکشن کمشنر نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹر ننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    گلگت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں میں ہاتھا پائی اور تلخ کلامیا

    گلگت کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھ پائی ہوئی ہےگلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں سکردو کے حلقہ GBA-9 میں پولنگ کا عمل جاری ہے، تاہم گلگت میں سر سید اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پا لیا۔

    دوسری جانب استور کے عیدگاہ فیمیل پولنگ اسٹیشن پر شدید بدنظمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ووٹرز نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزاما ت عائد کر دیے، مبینہ طور پر اپنی مرضی کے ٹھپے لگائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں متعلقہ انتخابی حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل پرامن انداز میں جاری ہے-

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ عوام پرامن طریقے سے انتخابات کوانجام تک پہنچائیں۔

    مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شہباز خان نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلا تعطل جاری ہے اور مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے عوام انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ لیڈیز پولنگ اسٹیشنز پر خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پہنچ رہی ہےووٹرز کی سہولت اور سیکیورٹی کے پیش نظر بہترین انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل کو شفاف، آزادانہ اور پرامن ماحول میں یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں اور جمہوری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں اور علاقے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • 
لبنانی آرمی چیف پاکستان کے دورے پر روانہ

    
لبنانی آرمی چیف پاکستان کے دورے پر روانہ

    ‎لبنان کے آرمی چیف جنرل روڈولف ہیکل فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خصوصی دعوت پر سرکاری دورے کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون کے فروغ کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لبنانی فوج نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ کمانڈر جنرل روڈولف ہیکل پاکستان کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔
    ‎لبنانی فوج کے مطابق دورے کے دوران دونوں ممالک کی عسکری قیادت کے درمیان مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ دفاعی تعاون، پیشہ ورانہ تربیت، علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور فوجی اداروں کے درمیان روابط کے فروغ جیسے موضوعات ملاقاتوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔
    ‎یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ لبنان اور پاکستان کے درمیان ماضی میں بھی دفاعی شعبے میں تعاون موجود رہا ہے اور دونوں ممالک کی افواج مختلف بین الاقوامی فورمز پر رابطے میں رہی ہیں۔
    ‎دفاعی ماہرین کے مطابق اعلیٰ عسکری قیادت کے تبادلہ دورے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ تجربات اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے کا بھی اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں جنرل روڈولف ہیکل کا دورہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
    ‎توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں قیام کے دوران لبنانی آرمی چیف اعلیٰ سیاسی اور عسکری شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق معاملات زیر بحث آئیں گے۔
    ‎دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے اس دورے کو اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتائج مستقبل میں عسکری روابط کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • 
محسن نقوی اہم پیغام لے کر تہران پہنچ گئے

    
محسن نقوی اہم پیغام لے کر تہران پہنچ گئے

    ‎وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان کے دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور دیگر اہم امور پر مشاورت کرنا ہے۔
    ‎عرب میڈیا کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان منجمد ایرانی اثاثوں کے معاملے میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران ایک ممکنہ مفاہمتی یادداشت اور اس سے متعلق پیش رفت کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق ایرانی منجمد فنڈز کے اجرا کے معاملے پر ابھی بھی بعض اختلافات موجود ہیں، جن میں فنڈز کے حجم اور ان کے اجراء کے وقت سے متعلق نکات شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق مختلف فریقین ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    ‎ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کردار ادا کرنے والے حلقوں کو آگاہ کیا ہے کہ مذاکرات کا عمل غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رکھا جائے گا اور اس حوالے سے محدود وقت کی بات کی گئی ہے۔ تاہم اس بارے میں باضابطہ سطح پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق محسن نقوی ایران کے سپریم لیڈر کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی پیغام بھی ساتھ لے کر گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی وزیر داخلہ کو دورے سے قبل اہم ہدایات دی تھیں تاکہ علاقائی صورتحال اور باہمی تعلقات سے متعلق امور پر مؤثر انداز میں بات چیت کی جا سکے۔
    ‎یاد رہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران محسن نقوی نے ایرانی حکام سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے بھی ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی، سرحدی تعاون اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ دونوں ممالک علاقائی استحکام، سیکیورٹی تعاون اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔

  • 
مومنہ اقبال کی شادی کی تقریبات سے متعلق حقیقت سامنے آگئی

    
مومنہ اقبال کی شادی کی تقریبات سے متعلق حقیقت سامنے آگئی

    ‎پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی شادی کی تقریبات سے متعلق افواہوں اور قیاس آرائیوں پر وضاحت پیش کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ تمام تقریبات دراصل مومنہ اقبال کے نکاح کی خوشی میں منعقد کی گئی تھیں اور ان کے حوالے سے پھیلائی جانے والی کئی باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
    ‎مومنہ اقبال کی مہندی، نکاح اور دیگر تقریبات کی ویڈیوز گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جس کے بعد ان کی ذاتی زندگی اور شادی سے متعلق مختلف تبصرے سامنے آنا شروع ہو گئے تھے۔ اس دوران اداکارہ کا نام ایم پی اے ثاقب چدھڑ سے متعلق تنازع کے باعث بھی خبروں میں رہا۔
    ‎ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے رمشا اقبال نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے ثاقب چدھڑ کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد انہیں اطمینان حاصل ہوا ہے کیونکہ ان کے بقول کیس مضبوط شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے۔
    ‎رمشا اقبال نے دعویٰ کیا کہ ملزم کے پاس مومنہ اقبال کی کوئی نجی یا ذاتی ویڈیوز موجود نہیں ہیں۔ ان کے مطابق صرف مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے جعلی ویڈیوز تیار کرکے انہیں سوشل میڈیا پر پھیلانے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، جن کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
    ‎شادی کی تقریبات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جن تقریبات کو رخصتی یا شادی کی مکمل رسومات قرار دیا جا رہا ہے، وہ دراصل نکاح کی خوشی میں منعقد ہونے والی تقریبات تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان اور قریبی عزیزوں نے اس خوشی کے موقع پر مختلف تقریبات کا اہتمام کیا تھا۔
    ‎رمشا اقبال کے مطابق مومنہ اقبال کی رخصتی ابھی نہیں ہوئی اور اس کا انعقاد آئندہ چند ماہ میں متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رخصتی کی تقریب ممکنہ طور پر نومبر یا دسمبر میں منعقد کی جائے گی۔

  • 
انتشار پھیلانے والوں سے مزید بات نہیں ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

    
انتشار پھیلانے والوں سے مزید بات نہیں ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

    ‎آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے واضح کیا ہے کہ سیاست کے نام پر انتشار پھیلانے والے عناصر سے اب مزید کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاست میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    ‎اپنے بیان میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ ریاست میں بے چینی اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو اصل اعتراض کس بات پر ہے۔ ان کے مطابق کچھ مخصوص سیاسی گروہ اور سوشل میڈیا پر سرگرم عناصر آزاد کشمیر میں افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔
    ‎فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ دھرنوں، جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کی سیاست کرنے والے عناصر جمہوری اقدار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے بعض عناصر شدت پسند سوچ رکھنے والے گروہوں کے مؤقف کی حمایت کرتے رہے ہیں، جس سے ریاستی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ماضی میں ہونے والے مذاکرات کے خود گواہ ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے کئی بار مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، لیکن متعلقہ گروپ نے متعدد مواقع پر مذاکراتی عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے مختلف بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں اور بعض مواقع پر ایسے بیانات سامنے آئے جن سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے، تاہم بلیک میلنگ، دباؤ کی سیاست اور عوامی زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
    ‎فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ آزاد کشمیر انسانی، سیاسی اور سماجی حقوق کے حوالے سے پاکستان کے کئی علاقوں سے بہتر سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بجلی اور آٹے کی نسبتاً کم قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو مختلف شعبوں میں ریلیف دیا جا رہا ہے اور حکومت فلاحی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • 
ایران کا امریکی کارگو جہاز قبضے میں لینے کا دعویٰ

    ‎ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی کمپنی سے منسلک کارگو جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق جہاز کو ٹرانزٹ قوانین اور سمندری ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر روکا گیا۔
    ‎ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق واقعہ آبنائے ہرمز میں پیش آیا، جہاں امریکی فوج کی مبینہ سرپرستی میں چار تجارتی جہاز گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک جہاز کو نشانہ بنا کر روک لیا گیا جبکہ دیگر تین جہاز اپنا راستہ تبدیل کرکے واپس چلے گئے۔
    ‎ایرانی میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں ایک کارگو جہاز کو دکھایا گیا ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک امریکی کمپنی سے وابستہ ہے۔ تاہم جہاز کی ملکیت اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
    ‎پاسدارانِ انقلاب کے مطابق کارروائی بین الاقوامی بحری قوانین اور ایرانی ضوابط کے تحت کی گئی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی جاری ہے اور اس حوالے سے مزید معلومات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔
    ‎دوسری جانب خبر لکھے جانے تک امریکا کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکی حکام نے نہ تو جہاز کی تحویل میں لیے جانے کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی ایرانی دعوے کی تردید کی ہے۔
    ‎آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس حساس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں اور سمندری تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

  • 
کوہ سلیمان میں سی ٹی ڈی آپریشن، دو دہشت گرد ہلاک

    
کوہ سلیمان میں سی ٹی ڈی آپریشن، دو دہشت گرد ہلاک

    ‎انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کوہ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں کارروائی کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل ہے، جبکہ دیگر دہشت گرد زخمی ساتھیوں کو ساتھ لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ‎سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔ ادارے کو مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی تھیں کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 سے 15 مسلح افراد پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں سے ہوتے ہوئے تمن قیصرانی کے قبائلی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ گروہ تحصیل کوہ سلیمان، وہوا اور تونسہ کے مختلف آبادی والے علاقوں میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اطلاعات ملنے کے بعد جدید اسلحہ، نگرانی کے آلات اور ڈرون ٹیکنالوجی سے لیس سی ٹی ڈی کی خصوصی ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کیا گیا۔
    ‎ترجمان کے مطابق اہلکاروں نے جنڈوگا کے قریب کاچی گورو اور لکھنی کے پہاڑی علاقوں میں رات بھر خفیہ نگرانی جاری رکھی۔ بعد ازاں دن کے وقت ڈرونز اور دیگر جدید ذرائع کی مدد سے مشتبہ دہشت گردوں کی موجودگی کا سراغ لگایا گیا، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
    ‎سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ شدید فائرنگ کے دوران دو دہشت گرد موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کے لیے کارروائی جاری ہے۔ حکام کے مطابق باقی دہشت گرد ناہموار پہاڑی راستوں اور قدرتی آڑ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ فرار ہونے والے عناصر کی گرفتاری کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں موجود ممکنہ دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف ہیں تاکہ کسی بھی خطرے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔

  • 
پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، اسد قیصر

    
پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، اسد قیصر

    ‎پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ہونے والے انتخابی عمل کو حقیقی معنوں میں آزاد اور منصفانہ انتخابات قرار نہیں دیا جا سکتا۔
    ‎اپنے بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق پارٹی کے خلاف مختلف رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔
    ‎انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لیا گیا، مختلف پابندیاں عائد کی گئیں اور انتخابی عمل کو غیر مساوی ماحول میں آگے بڑھایا گیا۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد پر سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔
    ‎سابق اسپیکر نے مزید کہا کہ بعض عناصر اپنی پسند کے نتائج حاصل کرنے کے لیے انتخابی عمل کو مخصوص سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انتخابات سے قبل ہی مختلف حلقوں میں نتائج کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جو انتخابی شفافیت کے بارے میں خدشات کو بڑھاتی ہیں۔
    ‎اسد قیصر نے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ناکامیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق عوام کو معاشی مشکلات، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روزگار کے محدود مواقع کا سامنا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ووٹر آزادانہ طور پر اپنے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔
    ‎واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے کل پولنگ ہوگی۔ الیکشن کمیشن اور صوبائی انتظامیہ کی جانب سے انتخابی عمل کے لیے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں انتخابی میدان میں سرگرم ہیں اور نتائج کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • 
لبنانی فوج پر اسرائیلی حملہ، ایران کی شدید مذمت

    
لبنانی فوج پر اسرائیلی حملہ، ایران کی شدید مذمت

    ‎ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنانی فوج پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری اور ریاستی اداروں کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حملے سے یہ بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ اسرائیل لبنان کے تمام ریاستی اور قومی اداروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
    ‎سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنانی فوج کے دو افسران اور ایک اہلکار کی ہلاکت ایک سنگین اور افسوسناک واقعہ ہے۔ انہوں نے اس حملے کو لبنان، اس کی فوج اور قومی خودمختاری کے خلاف ایک "بھیانک جرم” قرار دیا۔
    ‎ایرانی ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ایک واضح پیغام ہے کہ اسرائیل لبنان میں امن، استحکام اور خوشحالی نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔
    ‎اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل اپنے حملوں میں فوجیوں، مزاحمتی عناصر اور عام شہریوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا اور ہر طبقہ اس کی کارروائیوں کا نشانہ بنتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کے منافی ہیں۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حملے میں جان بحق ہونے والے لبنانی فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے لبنانی فوج، حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی اور حمایت کا پیغام بھی دیا۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اور لبنان و اسرائیل کے درمیان سرحدی تناؤ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی حلقے صورتحال میں مزید بگاڑ کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سفارتی کوششوں اور امن کے اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے اور علاقائی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

  • غزہ میں شادی کی تقریب پر حملہ، 5 افراد شہید

    غزہ میں شادی کی تقریب پر حملہ، 5 افراد شہید

    ‎غزہ سٹی میں ایک شادی کی تقریب اس وقت المناک سانحے میں تبدیل ہو گئی جب ایک شادی کے خیمے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں کم از کم 5 افراد شہید ہو گئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    ‎عینی شاہدین اور متاثرہ خاندانوں کے مطابق شادی کی تقریب میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے اور خیمہ مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ خوشی کا یہ موقع چند لمحوں میں خوفناک منظر میں بدل گیا جب دو میزائل خیمے کے اندر آ کر پھٹ گئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں نہ صرف شادی کے خیمے کو شدید نقصان پہنچا بلکہ میزائلوں کے ٹکڑے تیز رفتاری سے اطراف کے علاقوں میں بھی پھیل گئے۔ قریبی بے گھر افراد کے لیے قائم ایک اسکول، جہاں بڑی تعداد میں متاثرہ خاندان پناہ لیے ہوئے تھے، بھی اس حملے سے متاثر ہوا۔
    ‎طبی ذرائع کے مطابق اب تک تقریباً 15 زخمیوں کو مختلف نوعیت کے زخموں کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں کو غزہ سٹی کے الشفا اسپتال اور ایک فیلڈ اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر غزہ میں جاری خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کے احساس کو اجاگر کر دیا ہے۔ ان کے مطابق عام شہری مسلسل اس اندیشے میں زندگی گزار رہے ہیں کہ کسی بھی وقت کوئی بھی مقام حملے کی زد میں آ سکتا ہے۔
    ‎متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ شادی جیسی خوشی کی تقریب پر حملے نے علاقے میں شدید صدمہ اور غم کی فضا پیدا کر دی ہے۔ امدادی کارکن ملبہ ہٹانے اور مزید متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔