Baaghi TV

Blog

  • امریکا میں فیسٹیول کے دوران فائرنگ، کم از کم 12 افراد زخمی

    امریکا میں فیسٹیول کے دوران فائرنگ، کم از کم 12 افراد زخمی

    امریکی ریاست اوہائیو کے شہر ٹولیڈو میں دو حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد زخمی ہو گئے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں پولیس نے بتایا ہے کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہےمتاثرین کی عمریں 14 سے 61 سال کے درمیان ہیں، اس واقعے میں دو افراد نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی۔

    پولیس لیفٹیننٹ ڈین گرکن نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ میں نے (جرائم کے) بہت سے مناظر دیکھے ہیں، لیکن یہ واقعہ حد سے زیادہ سنگین ہے،تفتیش کار متعدد افراد سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں-

    ڈپٹی چیف جوزف ہیفرنن نے اسے ایک “انتہائی سرگرم” تحقیقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشتبہ افراد کی تلاش تاحال جاری ہے ہیفرنن نے بتایا، ہمارے پاس کچھ شواہد موجود ہیں اور ہم کچھ اہم سراغوں پر کام کر رہے ہیں-

    ٹولیڈو کے ڈائریکٹر پبلک سیفٹی جارج کرال نے عوام سے موبائل فون کی فوٹیج فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ پولیس کو مشتبہ افراد کو تلاش کرنے میں مدد مل سکے میں جانتا ہوں کہ لوگوں کے پاس معلومات موجود ہیں، براہ کرم ہماری مدد کریں تاکہ ہم آپ کی مدد کر سکیں، اس تقریب میں چند سو لوگ موجود تھےیہ ٹولیڈو کے سب سے تاریخی اور معروف تہواروں میں سے ایک ہے، اور یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اس طرح کے واقعے نے اسے خراب کر دیا۔

    ٹولیڈو پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ایک فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ ‘اولڈ ویسٹ اینڈ فیسٹیول’ کے قریب ایک شخص کو گولی لگنے کی اطلاع پر شام تقریباً 5:37 بجے اہلکاروں کو روانہ کیا گیا ،متعدد زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے-

    ‘گن وائلنس آرکائیو’ ویب سائٹ کے مطابق، ٹولیڈو کے واقعے کے علاوہ، رواں سال امریکہ میں بڑے پیمانے پر فائرنگ (ماس شوٹنگ) کے 171 واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں یہ ویب سائٹ بڑے پیمانے پر فائرنگ کی تعریف ایک ایسے واقعے کے طور پر کرتی ہے جس میں حملہ آور کے علاوہ کم از کم چار افراد گولی لگنے سے زخمی یا ہلاک ہوئے ہوں۔

  • تونسہ میں ٹی ٹی پی متحرک،مساجد میں اعلانات،شہریوں میں‌خوف و ہراس

    تونسہ میں ٹی ٹی پی متحرک،مساجد میں اعلانات،شہریوں میں‌خوف و ہراس

    ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کے 14 سے 15 مسلح دہشتگرد بارڈر ملٹری پولیس (BMP) تھانہ چتروٹہ کی حدود میں واقع کچی لکھانی کے علاقے کی ایک مسجد میں موجود ہیں، جہاں وہ مقامی آبادی کے ساتھ ملاقاتیں اور اجتماعات منعقد کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر مقامی لوگوں کو بارڈر ملٹری پولیس میں جاری بھرتی مہم میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے عوامی اعلانات کے ذریعے نوجوانوں کو رضاکارانہ بھرتی سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے،اور کہا جا رہا ہے کہ علاقے پر ان کا اثر و رسوخ اور انتظامی کنٹرول موجود ہے۔

    اطلاعات کے مطابق شدت پسند اپنے خطابات میں مقامی آبادی کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی عوام کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں، تاہم وہ لوگوں کو اپنی تنظیم اور نظریات کی حمایت پر آمادہ کر رہے ہیں۔ ان اجتماعات کے دوران قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے، جس سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    سکیورٹی ذرائع صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ حساس مقامات کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • بیرونِ ملک جانے کی کوشش، صوبائی وزیر کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا

    بیرونِ ملک جانے کی کوشش، صوبائی وزیر کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا

    خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر تعلیم وبلدیات مینا خان آفریدی کو پشاور ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم وبلدیات میناخان آفریدی کو ایف آئی اے حکام نے پشاور ائیرپورٹ سے بیرون ملک جانے سے روک دیا میناخان جرمنی میں ایک یونیورسٹی کی تقریب میں شرکت کےلئے جارہے تھے،میناخان آفریدی کو پشاورباچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے ایف آئی اے حکام نے اس وقت بیرون ملک جانےسےروکا جبکہ وہ ابوظہبی کے لئے روانہ ہورہے تھے میناخان آفریدی کی ابوظہبی سے جرمنی پروازشیڈول تھی، وہ جرمنی کی ایک یونیورسٹی کی تقریب میں شرکت کے لئے جا رہے تھے انہیں ایف آئی اے حکام نے امیگریشن سے پہلے ہی روکا۔

    صوبائی وزیر نے ایکس پر بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کی واضح اجازت کے باوجود انہیں ایف آئی اے امیگریشن نے فلائٹ پر سوار ہونے سے روکا وہ جرمن یونیورسٹی کی خصوصی دعوت پر بیرون ملک جا رہے تھے، جہاں دورے کے دوران کئی اہم سرکاری و تعلیمی معاملات طے کیے جانے تھے۔

    انہوں نے ایئرپورٹ پر روکے جانے پر شدید مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک مقام ہے کہ اب ملک میں ہائیکورٹ کے احکامات کو بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران صوبائی وزیر مینا خان کو اپنے سرکاری فرائض کے سلسلے میں بیرون ملک دورے کی اجازت دے رکھی تھی، دو روز قبل جاری کیے گئے عدالتی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ مینا خان کا نام پی این آئی ایل میں شامل ہے، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان کو جرمنی میں تقریب میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے، درخواست گزار یونیورسٹی تقریب میں شرکت کے بعد 16 جون کو واپس آ ئیں گے، ایف آئی اے عارضی طور پر درخواست گزار کا نام لسٹ سے نکال دے۔

  • چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    ڈیرہ غازی خان: پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع قبائلی علاقہ چتروٹہ ایک مرتبہ پھر سکیورٹی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک تفصیلی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے چتروٹہ راہداری میں اپنی منظم موجودگی قائم کرتے ہوئے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے بھتہ وصولی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جسے دہشت گردی کی مالی معاونت کا مستقل ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چٹتوٹہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے تونسہ میں واقع ایک انتہائی اہم جغرافیائی مقام ہے جہاں پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں واقع یہ علاقہ اپنی پیچیدہ جغرافیائی ساخت، برساتی ندی نالوں اور خفیہ گزرگاہوں کی وجہ سے عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چتروٹہ میں قائم بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) چوکی پنجاب کی سرحدی دفاعی لائن کا اہم حصہ ہے، تاہم مئی 2026 میں ٹی ٹی پی کے حملے میں اس چوکی کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیم کا مقصد علاقے میں ریاستی رٹ کو کمزور کرنا اور اپنی مستقل موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چتروٹہ اور اس کے اطراف کے علاقے کم آبادی والے اور مکمل طور پر قبائلی نوعیت کے حامل ہیں جہاں روایتی قبائلی نظام اب بھی غالب ہے۔ قیصرانی بلوچ قبیلہ مقامی وادیوں اور پہاڑی راستوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے جبکہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایسوٹ اور زمری پشتون قبائل اہم پہاڑی گزرگاہوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ شمال میں خیبر پختونخوا کے علاقے خوئی پیوار اور خوئی بہارا استرانہ پشتون قبیلے کے زیر اثر ہیں۔انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے انہی پہاڑی علاقوں میں خفیہ ٹھکانے اور آپریشنل اڈے قائم کر رکھے ہیں جہاں سے وہ اسمگلنگ روٹس کی نگرانی اور بھتہ خوری کی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوزی سیکٹر میں تقریباً 18 سے 20 بھاری ہتھیاروں سے لیس ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں۔ یہ مقام پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان واقع مرکزی اسمگلنگ راستے سے محض 5 سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جس کے باعث دہشت گرد باآسانی نقل و حرکت کرنے والی گاڑیوں اور تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق تنظیم نان کسٹم پیڈ (این سی پی) سامان، خصوصاً سگریٹ اور ایرانی تیل لے جانے والی گاڑیوں سے 15 ہزار سے 20 ہزار روپے فی گاڑی کے حساب سے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ رپورٹ میں اس عمل کو ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے آنے والا غیر قانونی سامان مختلف راستوں سے چتروٹہ پہنچتا ہے اور وہاں سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔اسمگلنگ کے اہم راستوں میں مکھتر، موسیٰ خیل، کارکانہ، ڈب بینی، چتروٹہ، درہ وہوا، درہ کورہ، گوزی، خوئی پیوار، بستی بزدار اور رامک سمیت متعدد مقامات شامل ہیں۔ بعض راستے براہ راست درہ وہوا اور درہ کورہ سے ہوتے ہوئے بستی گرو، بستی متھوان اور بستی باجھہ تک پہنچتے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چتروٹہ سے قریبی سکیورٹی تنصیبات کے درمیان فاصلہ نسبتاً زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل مشکل ہو سکتا ہے۔ بی ایم پی چتروٹہ سے تھانہ وہوا 25 کلومیٹر، بی ایم پی لکھانی 28 کلومیٹر، پولیس پکٹ جھنگی 43 کلومیٹر جبکہ جوائنٹ چیک پوسٹ ٹریمن 48 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق گوزی سیکٹر کا چتروٹہ سے صرف 5 سے 6 کلومیٹر کا فاصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی مختصر وقت میں علاقے میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے۔

    انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی چتروٹہ اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں مستقل آپریشنل نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کو مستقل بنیادوں پر اپنے مالیاتی نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ رپورٹ میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

  • شوہر نے بہنوئی کے ساتھ مل کر بیوی اور بیٹی  پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی

    شوہر نے بہنوئی کے ساتھ مل کر بیوی اور بیٹی پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی

    ساہیوال کی شادمان کالونی میں ایک خاتون اور اس کی بیٹی کو اس کے شوہر اور بہنوئی نے مبینہ طور پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 نے زخمی ماں بیٹی کو علاج کے لیے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے سے گھر کا فرنیچر اور برتن بھی جل گئے اس سے پہلے کہ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔

    رپورٹس میں بتایا گیا کہ شکایت کنندہ محمد بلال کی بہن اور وہاڑی سٹی کی رہائشی ثوبیہ پروین نے تقریباً 15 سال قبل تحصیل ساہیوال کے چک 65/5-L کے شعبان بھٹی سے شادی کی، جوڑے کے پانچ بچے ہیں، مبینہ طور پر گھریلو تشدد ان کی پوری شادی شدہ زندگی کے دوران جاری رہا، ثوبیہ کو مبینہ طور پر اس کے شوہر اور بہنوئی کی طرف سے اکثر بدسلوکی اور شدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔

    چند ماہ قبل اس نے مسلسل تشدد کے باعث اپنے شوہر کا گھر چھوڑ دیا اور اپنے بچوں سمیت شادمان چوک کے قریب کرائے کے مکان میں رہنے لگی وہ خاندان کی کفالت کے لیے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی جمعہ کو شعبان اور اس کے بھائی محمد عظیم نے مبینہ طور پر کرائے کے مکان میں گھس کر ثوبیہ اور اس کی ایک بیٹی پر پٹرول چھڑک کر انہیں آگ لگا دی، ملزمان نے فرار ہونے سے قبل گھریلو سامان کو بھی مبینہ طور پر نذر آتش کیا۔

  • جنوبی کوریا میں دو دہائیوں میں پہلی بار  خاتون بطور وزیر اعظم نامزد

    جنوبی کوریا میں دو دہائیوں میں پہلی بار خاتون بطور وزیر اعظم نامزد

    جنوبی کوریا کی صدر لی جے میونگ نے کاروباری اور ٹیکنالوجی شعبے سے تعلق رکھنے والی ہان سیونگ سوک کو ملک کا نیا وزیرِ اعظم نامزد کر دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہان سیونگ سوک جنوبی کوریا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ناوِر کی سابق چیف ایگزیکٹو رہ چکی ہیں اور انہیں ملک کے ڈیجیٹل اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی نمایاں شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے،مزید برآں ہان سیونگ جنوبی کوریا میں 20 سال میں نامزد ہونے والی پہلی وزیر اعظم ہیں۔

    صدر لی جے میونگ کا کہنا ہے کہ ہان سیونگ سوک کی نامزدگی کا مقصد معیشت میں جدت، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ سیکٹر کو مزید فروغ دینا ہے۔

    مبصرین کے مطابق ایک کاروباری رہنما کو وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے منتخب کرنا نئی حکومت کی اقتصادی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے تاہم ان کی تقرری کو حتمی شکل دینے کے لیے جنوبی کوریا کی نیشنل اسمبلی میں سماعت اور توثیق کا عمل درکار ہے۔

  • سعودی ایئرلائن "سعودیہ”  پروازوں کی بروقت آمد و روانگی میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آگئی

    سعودی ایئرلائن "سعودیہ” پروازوں کی بروقت آمد و روانگی میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آگئی

    سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی ’سعودیہ‘ نے مئی 2026 کے دوران پروازوں کی بروقت آمد و روانگی کے حوالے سے عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

    بین الاقوامی فضائی تجزیاتی ادارے سیرئم (Cirium ) کی تازہ رپورٹ کے مطابق سعودیہ نے وقت کی پابندی کے میدان میں دنیا کی تمام بڑی ایئرلائنز کو پیچھے چھوڑ دیا، جو رواں سال کمپنی کے لیے ایک اور اہم اعزاز قرار دیا جا رہا ہے مئی کے دوران سعودیہ کی بروقت روانگی کی شرح 92.30 فیصد جبکہ بروقت آمد کی شرح 90.12 فیصد ریکارڈ کی گئی یہ اعداد و شمار چار براعظموں میں 100 سے زائد مقامات کے لیے چلائی جانے والی 13 ہزار 600 سے زائد پروازوں کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں یہ کامیابی ایسے وقت میں حاصل ہوئی جب حج 1447 ہجری کے موقع پر دنیا بھر سے عازمین کی آمد اور عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے باعث فضائی آپریشن اپنے عروج پر تھا۔

    رپورٹ کے مطابق سعودیہ نے شدید مصروفیت کے باوجود اپنے فلائٹ آپریشنز کو مؤثر انداز میں جاری رکھا اور اعلیٰ انتظامی معیار برقرار رکھا، اس سے قبل جنور ی 2026 میں بھی سیرئم نے 2025 کے دوران بروقت آمد کے حوالے سے سعودیہ کو دنیا کی دوسری بہترین ایئرلائن قرار دیا تھا۔

    1945 میں قائم ہونے والی سعودیہ سعودی عرب کی پہلی قومی ایئرلائن ہے اور وژن 2030 کے تحت مملکت کے فضائی، سیاحتی اور معاشی اہداف میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، ایئرلائن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جدید فلائٹ مینجمنٹ سسٹمز، مؤثر آپریشنل منصوبہ بندی اور سعودیہ گروپ کے مختلف شعبوں کے درمیان مربوط تعاون اس کامیابی کی بنیادی وجوہات ہیں۔

    سعودیہ آئندہ برسوں میں اپنے فضائی بیڑے میں مزید 116 طیارے شامل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جس سے اس کے طیاروں کی مجموعی تعداد 149 سے بڑ ھ جائے گی اس توسیع کے ذریعے نئی بین الاقوامی منزلوں کا اضافہ، نشستوں کی گنجائش میں توسیع اور پروازوں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہوگا، وقت کی پابند ی مسافروں کے اعتماد کا بنیادی عنصر ہے اور یہی حکمت عملی سعودی عرب کے 2030 تک سالانہ 15 کروڑ سیاحوں کو متوجہ کرنے کے ہدف کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگی۔

  • اسپین میں  121 سال کے بعد مکمل سورج گرہن

    اسپین میں 121 سال کے بعد مکمل سورج گرہن

    2026 کا مکمل سورج گرہن 12 اگست کو نظر آئے گا، اسپین میں 1905 کے بعد پہلی بار مکمل منظر دکھائی دے گا یورپ، گرین لینڈ اور آئس لینڈ سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں 12 اگست 2026 کو مکمل سورج گرہن دیکھا جائے گا-

    ماہرین فلکیات کے مطابق یہ حالیہ برسوں کے اہم ترین فلکیاتی واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے اور اس کی براہِ راست نشریات بھی کی جائیں گی، گرہن کا راستہ تقریباً 5,157 میل طویل ہوگا جو آرکٹک ساحل سے شروع ہو کر شمالی قطب، گرین لینڈ، آئس لینڈ، پرتگال اور شمالی اسپین سے گزرے گا گرین لینڈ میں مکمل گرہن تقریباً دو منٹ تک برقرار رہے گا، جبکہ شمالی اسپین میں یہ دورانیہ 20 سیکنڈ سے بھی کم ہوگا، افریقہ، یورپ اور شمالی امریکا کے وسیع علاقوں میں جزوی سورج گرہن بھی دیکھا جا سکے گا۔

    یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق یورپی براعظم میں آخری مکمل سورج گرہن 2006 میں دیکھا گیا تھا، جبکہ اسپین میں اگست کے مہینے میں مکمل سورج گرہن کا یہ پہلا واقعہ ہوگا جو 1905 کے بعد پیش آئے گا 2028 تک تین بڑے سورج گرہن متوقع ہیں اور 2026 کا گرہن ان میں پہلا ہوگا ، اسپین کے جاوالامبر فلکیاتی رصدگاہ سے گرہن کی براہِ راست ویڈیو نشر کی جائے گی تاکہ دنیا بھر کے شائقین اس فلکیاتی منظر کو محفوظ انداز میں دیکھ سکیں۔

    ناسا نے ہدایت کی ہے کہ مکمل مرحلے کے علاوہ پورے گرہن کے دوران خصوصی ’ایکلپس گلاسز‘ یا سولر ویوور استعمال کرنا ضروری ہے، جبکہ عام دھوپ کے چشمے آنکھوں کو تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ دوربین، کیمرہ یا بائنوکولر استعمال کرنے کی صورت میں ان پر منظور شدہ سولر فلٹر لگانا لازمی ہوگا۔

    سائنس دان اس موقع پر غباروں کے ذریعے چاند کے سائے کی تصاویر لینے کا بھی منصوبہ بنا رہے ہیں یہ تجربہ 1919 کے اس تاریخی سائنسی مشاہدے سے مشابہ ہوگا جس نے سورج کی کششِ ثقل کے باعث روشنی کے خم کھانے کے نظریے کو تقویت دی تھی۔

  • ملک بھر میں آج سے شدید گرمی، کئی شہروں میں درجہ حرارت 50 ڈگری کے قریب پہنچنے کا امکان

    ملک بھر میں آج سے شدید گرمی، کئی شہروں میں درجہ حرارت 50 ڈگری کے قریب پہنچنے کا امکان

    محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے 12 جون تک شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لہر کے خدشے کا انتباہ جاری کیا ہے-

    تازہ موسمی پیش گوئی کے مطابق بالائی فضاؤں میں بلند دباؤ کے نظام کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعدد علاقوں میں گرمی کی شدت میں نمایاں اضا فہ متوقع ہے ماہرین کے مطابق 8 سے 11 جون کے دوران ہیٹ ویو اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے جبکہ بعض علاقوں میں رات کے اوقات میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے-

    کراچی میں درجہ حرارت 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں پارہ 48 سے 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی شہروں میں بھی درجہ حرارت 44 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

    پنجاب کے وسطی اور بالائی علاقوں، بشمول راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات اور دیگر شہروں میں درجہ حرارت 41 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں پشاور، مردان، بنوں، لکی مروت، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں درجہ حرارت 41 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل کے خطرات بڑھ سکتے ہیں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی استعمال کریں اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں۔

    دوسری جانب (این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھل سکتے ہیں، جس سے بعض علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

  • تھانے کے اوپر پتنگیں نمودار،شہری سخت پریشان،کاروائی کا مطالبہ

    تھانے کے اوپر پتنگیں نمودار،شہری سخت پریشان،کاروائی کا مطالبہ

    قصور میں پتنگ بازی بدستور جاری، تھانہ سٹی اے ڈویژن کے اطراف بھی خلاف ورزیوں کا انکشاف
    قصور میں پتنگ بازی پر عائد پابندی کے باوجود یہ خطرناک سرگرمی تاحال نہ رک سکی جس کے باعث شہریوں کی جانیں مسلسل خطرے میں ہیں
    شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں صبح و شام کھلے عام پتنگیں اڑائی جا رہی ہیں جبکہ حیران کن طور پر تھانہ سٹی اے ڈویژن کے اطراف اور اس کے اوپر بھی پتنگیں اڑتے دیکھی گئی ہیں

    مقامی افراد نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود پتنگ بازی جاری ہے تو اس کی روک تھام کیوں نہیں کی جا رہی
    شہریوں کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی کے دوران استعمال ہونے والی ڈور موٹر سائیکل سواروں، راہگیروں اور بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی

    شہری حلقوں کا مؤقف ہے کہ پولیس عوامی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے اس لیے انتظامیہ اور پولیس کو چاہیے کہ پتنگ بازی میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے اور پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قصور میں پتنگ بازی کے خلاف جاری مہم کا ازسرنو جائزہ لیا جائے خصوصاً ان علاقوں میں جہاں قانون کی خلاف ورزیاں سرعام ہو رہی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے قبل مؤثر اقدامات کیے جا سکیں

    واضح رہے کہ پنجاب میں پتنگ بازی اور دھاتی یا کیمیکل لگی ڈور کے استعمال پر پابندی عائد ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے