Baaghi TV

Blog

  • میرے بچوں نے شرمندگی  کو محض اس لیے برداشت کیا کہ وہ  اسرائیلی وزیر اعظم کے بچے ہیں،سارہ نیتن یاہو

    میرے بچوں نے شرمندگی کو محض اس لیے برداشت کیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بچے ہیں،سارہ نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ میرے بچوں نے شرمندگی کو محض اس لیے برداشت کیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بچے ہیں-

    یہ ریمارکس کا انہوں نے امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے زیر اہتمام تقریب میں دیئے، انہوں نے کہا کہ خاتون اول میلانیا، آپ کی قیادت کے لیے، آپ کے وژن کے لیے، اور نہ صرف امریکہ کی آنے والی نسل پر بلکہ دنیا بھر کے بچوں کے مستقبل پر بھی توجہ مرکوز کرنے کے آپ کے فیصلے کے لیے۔ یہ اجتماع اخلاقی موقف اختیار کرنے کا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تمام بچوں کے ساتھ ہماری وابستگی کا اظہار کرتا ہے، اور یہ سمجھنا کہ ٹیکنالوجی آنے والی نسل کو بہت فائدہ پہنچاتی ہے، لیکن ٹیکنالوجی بڑے چیلنجز بھی لاتی ہے اسرائیل کے وزیر اعظم کی اہلیہ کے طور پر اپنے کردار کے ساتھ ساتھ، میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے یروشلم شہر میں بچوں کی ماہر نفسیات کے طور پر کام کر رہی ہوں۔ اپنے کام کے ذریعے، میں بچوں اور نوعمروں سے ان کی زندگی کے انتہائی نازک لمحات میں، پریشانی اور جاری تناؤ کے دوران، اور خاص طور پر اب، جنگ کے دنوں میں ملتی ہوں۔

    سارہ نیتن یاہو نے کہا کہ دن بہ دن، میں ان کے خوف، ان کی مخمصے، ان کی خاموشی اور ان کے خوابوں کو سنتی ہوں۔ میں ان کا درد دیکھتی ہوں، لیکن میں ان کی طاقت بھی دیکھتی ہوں سالوں کے دوران میں نے کچھ آسان لیکن ضروری سیکھا ہے: ہر بچے کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے دیکھے، ان پر یقین کرے، اور انہیں نئے دروازے کھولنے کے لیے ضروری اوزار فراہم کرے۔ اور آج، ان میں سے کچھ دروازے ڈیجیٹل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی لوگوں کو الگ کر سکتی ہے، لیکن یہ انہیں قریب بھی لا سکتی ہے یہ کچھ کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، لیکن دوسروں کو بچا سکتی ہے، جب مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ خلا کو کم کر سکتی ہے، مشکلات کی جلد شناخت کر سکتی ہے، اور بچوں کو زبان، علم، اعتماد اور تخلیقی صلاحیتوں کے نئے اوزار دے سکتی ہے۔

    جیسا کہ ونسٹن چرچل نے ایک بار کہا تھا کہ بڑے مواقع کے ساتھ بڑی ذمہ داری آتی ہے۔” بچے ڈیجیٹل دنیا میں اکیلے تشریف نہیں لے سکتے انہیں تحفظ، رہنمائی، اور ایک ذمہ دار بالغ کی ضرورت ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ آن لائن جگہ مثبت، اخلاقی اور تعلیمی ہے۔

    نیتن یاہو کی اہلیہ نے کہا کہ ایک ماں کے طور پر، میں اسے ذاتی سطح پر محسوس کرتی ہوں جب میں نے اپنے بیٹوں یائر اور ایونر کی پرورش کی تو میں نے سیکھا کہ ہر نسل میں نئے چیلنجز ہوتے ہیں اور میرے اپنے تجربے میں، میرے بچوں نے شرمندگی اور تشدد کو محض اس لیے برداشت کیا کہ وہ وزیر اعظم کے بچے ہیں، ہمیں کسی بھی ماحول میں بچوں پر ذاتی حملوں کی مذمت کرنی چاہیے چاہے وہ ذاتی طور پر ہو یا آن لائن میں اس اجتماع کو ذمہ داری کے بندھن کے طور پر دیکھتی ہوں قوموں کے درمیان، خواتین کے رہنماؤں کے درمیان، اور ماؤں کے درمیان جو سمجھتے ہیں کہ ایک مضبوط مستقبل کی تعمیر کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آج ہمارے بچوں میں سرمایہ کاری کی جائے۔

  • تل ابیب کے آسمان پر کوؤں کے بڑے جھنڈ منڈلانے لگے،شہری  خوفزدہ  ہو گئے

    تل ابیب کے آسمان پر کوؤں کے بڑے جھنڈ منڈلانے لگے،شہری خوفزدہ ہو گئے

    اسرائیل کے شہر تل ابیب کے آسمان پر کوؤں کے بڑے جھنڈ کے منڈلانے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے-

    رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور حالیہ دنوں میں اسرائیل پر میزائل حملوں کے باعث صورتحال پہلے ہی حساس بنی ہوئی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوؤں کا ایک بڑا غول غیر معمولی انداز میں شہر کے اوپر چکر لگا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر بعض صارفین اس منظر کو بدشگونی سے تعبیر کر رہے ہیں اور اسے آنے والے کسی بڑے واقعے یا تباہی کی علامت قرار دے رہے ہیں،جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پرواز کو متعدد ثقافتوں میں ایک شگون اور کچھ ہونے والی چیز کی نشاندہی کرنے کے لیے سمجھا جاتا ہے،جبکہ کچھ افراد نے تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی پرندوں کی غیر معمولی حرکات کو جنگوں یا سلطنتوں کے زوال سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

    کفایت شعاری مہم: رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ سے 100 ارب روپے کی کٹوتی

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات عموماً قدرتی وجوہات کی بنا پر ہوتے ہیں، جیسے موسم میں تبدیلی، خوراک کی تلاش یا ماحولیاتی عوامل۔ ان کے مطابق اس قسم کی ویڈیوز کو محض سائنسی تناظر میں دیکھنا چاہیے اور غیر ضروری خوف یا افواہوں سے گریز کرنا چاہیے۔

    ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

  • کفایت شعاری مہم: رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ سے 100 ارب روپے کی  کٹوتی

    کفایت شعاری مہم: رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ سے 100 ارب روپے کی کٹوتی

    اسلام آباد:وفاقی حکومت نےکفایت شعاری مہم کے تحت وفاقی ترقیاتی بجٹ میں سے 100 ارب روپے کی بڑی کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس کٹوتی کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے انہوں نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب وزارتِ خزانہ ذرائع کے مطابق پی ایس ڈی پی میں شامل تمام ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ میں 10 فیصد کمی کی جائے گی، اس اقدام سے مجموعی حجم ایک ہزار ارب سے گھٹ گیا ہےاب رواں مالی سال کے لیے مختص وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم کم ہو کر 900 ارب روپے رہ گیا ہے،یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس وقت جاری کفایت شعاری مہم اور مالیاتی استحکام کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت عالمی مارکیٹ کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر کے عوام کو ریلیف دینے کی خاطر 72 ارب روپے کی بھار ی سبسڈی پہلے ہی دے چکی ہےوزیراعظم نے اپنے حالیہ خطاب میں بھی واضح کیا تھا کہ عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کا بوجھ منتقل کرنے کے بجائے تر قیاتی بجٹ میں کمی کی جائے گی، حکومت اسی حکمت عملی کے تحت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھے ہوئے ہے۔

  • ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی ایف ایٹین لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی جنگی طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ روس کے خبررساں ادارے آر ٹی نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے،اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے-

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اس قسم کے دعوے معلوماتی جنگ کا حصہ ہو سکتے ہیں، جس میں غلط یا غیر مصدقہ ویڈیوز اور خبریں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوامی رائے کو متاثر کیا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق موجودہ جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ معلوماتی محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے، جہاں دونوں فریق اپنی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔

  • امریکا کے ساتھ جنگ کا اختتام کیا ہو گا؟ایران کی جانب سے جاری اے آئی ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی

    امریکا کے ساتھ جنگ کا اختتام کیا ہو گا؟ایران کی جانب سے جاری اے آئی ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی

    ایران کی جانب سے جاری کی گئی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی ہے-

    53 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں امریکا سے بدلہ لینے کے مناظر دکھائے گئے ہیں ویڈیو کا اختتام ایک میزائل حملے پر ہوتا ہے جو نیویارک میں نصب مشہورِ زمانہ مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ویڈیو میں مجسمہ آزادی کا سر بدل کر اس کی جگہ ایک قدیم شیطانی دیوتا ’بعل‘ کا سر لگا دکھایا گیا ہے، جسے مذ ہبی اور تاریخی حوالے سے طاقت اور برائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    روسی خبر رساں ادارے ’آر ٹی‘ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے یہ کلپ شیئر کیا ہے جس کا عنوان ’سب کی طرف سے ایک ہی انتقام‘ رکھا گیا ہے، ویڈیو دراصل امریکا کی جانب سے جاری طویل مظالم اور ماضی کے مختلف تنازعات کو ایک کہانی کی شکل میں پیش کرتی ہے،ویڈیو کا آغاز شمالی امریکا کے مقا می قبائل کی زمینوں سے ہوتا ہے جس کے بعد جاپان کے شہر ہیروشیما کے مناظر دکھائے جاتے ہیں جہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا نے ایٹمی بمباری کی تھی۔

    اس کے بعد کہانی ویتنام کے جنگ زدہ کھیتوں، یمن کی تباہی اور غزہ کے پناہ گزین کیمپوں تک پہنچتی ہے ہر منظر میں وہاں موجود کردار آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں، جو ان ممالک میں امریکی فوجی مداخلت یا مدد سے ہونے والی مبینہ تباہی کی طرف اشارہ ہےاس ویڈیو میں ایپسٹین جزیرے میں کھڑی ایک بچی کو بھی دکھایا گیا ہے جو آسمان کی جانب دیکھ رہی ہے، اس کا مقصد امریکی اشرافیہ اور عالمی رہنماؤں کے غلیظ کارناموں کی طرف اشارہ دلانا تھا۔

    ویڈیو میں جنوبی ایران کے شہر میناب کے ایک اسکول کی بچی کو دکھایا جاتا ہےیہ منظر اس اسکول پر ہونے والے اس ٹوما ہاک میزائل حملے کی یاد دلاتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 160 سے زائد بچیاں جاں بحق ہوئیں اور اس کا الزام امریکا پر لگایا گیا تھا ویڈیو میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں، جو بالترتیب 2020 اور فروری 2026 میں امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہوگئے تھےویڈیو کے آخر میں ایک میزائل بادلوں کو چیرتا ہوا مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے تباہ کر دیتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس میں ’بعل‘ کا سر دکھانا ایک گہرا علامتی پیغام ہے، کیونکہ یہ کردار تاریخی طور پر بت پرستی اور اخلاقی بگاڑ سے منسوب کیا جاتا ہے۔

  • آبنائےسے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائدکرنے کی قانون سازی کی تیاری شروع

    آبنائےسے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائدکرنے کی قانون سازی کی تیاری شروع

    ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    ’الجزیرہ‘ کے مطابق، پارلیمنٹ میں ایک قانونی مسودہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں اور آئل ٹینکرز سے فیس وصول کی جائے گی ایرانی پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹی کے سربراہ کے مطابق یہ اقدام اس بنیاد پر کیا جا رہا ہے کہ ایران اس بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا ہے، اس لیے دیگر عالمی تجارتی راہداریوں کی طرح یہاں بھی فیس لینا ایک ”فطری عمل“ ہے ایران پہلے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ آبنا ئے ہرمز پر اس کے اختیار کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے، اور یہ مطالبہ اس کی جنگ بندی کی شرائط میں بھی شامل ہے۔

    دوسری جانب اس پیش رفت کے عالمی معیشت پر اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی اس سے متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے ماہر معاشیات ولیم لی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسٹریٹیجک ذخائر سے 172 ملین بیرل تیل جاری کرنا ایک ”نفسیاتی چال“ ہے تاکہ مارکیٹ کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ تیل کی سپلائی برقرار رہے گی۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ خلیج کے علاقے سے روزانہ 10 سے 15 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا خود تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے وہ کسی حد تک محفوظ ہے، لیکن عالمی منڈی میں خلا کو مکمل طور پر پُر کرنا آسان نہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی ذخائر کے استعمال سے وقتی طور پر قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں سپلائی کی کمی برقرار رہ سکتی ہے۔ ولیم لی کے مطابق اصل مسئلہ جنگ کا دورانیہ ہے، اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دیگر بڑی معیشتیں بھی کردار ادا کریں، خاص طور پر چین، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں تاہم اب تک چین کی جانب سے اپنے ذخائر استعمال کرنے کے کوئی واضح اشارے نہیں ملے۔

  • برازیل میں تیار کردہ پہلے سُپر سونک لڑاکا طیارے کی رونمائی

    برازیل میں تیار کردہ پہلے سُپر سونک لڑاکا طیارے کی رونمائی

    برازیل نے دفاعی ہوا بازی کی دنیا میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے اور پہلی بار ملک کے اندر تیار ہونے والا سپرسونک لڑاکا طیارہ پیش کر دیا ہے-

    برازیل کے شہر گاویاو پیکسوٹو میں بدھ کے روز ایک تقریب میں اس جدید لڑاکا طیارے کی رونمائی کی گئی یہ طیارہ گریپن ماڈل کا ہے، جسے پہلی بار مکمل طور پر برازیل میں اسمبل کیا گیا ہے اس کامیابی کے ساتھ برازیل لاطینی امریکہ کا پہلا ملک بن گیا ہے جو سپرسونک لڑاکا طیارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    برازیل نے سن 2014 میں سویڈن کی دفاعی کمپنی ’صاب‘ کے ساتھ گریپن طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا اس معاہدے کے تحت برازیل نے امر یکی کمپنی بوئنگ کے ایف-18 سپر ہارنیٹ اور فرانس کے رافیل طیاروں کے بجائے سویڈن کے گریپن کا انتخاب کیا اس کا مقصد ملک کے پرانے ہو تے ہوئے لڑاکا طیاروں کے بیڑے کو جدید بنانا تھا۔

    سویڈن کے ساتھ ہونے والے اس دفاعی معاہدے کی خاص بات ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے، جس کے تحت برازیل کو کُل 36 طیاروں میں سے 15 طیارے مقامی سطح پر تیار کرنے کی اجازت ملی ہے سویڈش کمپنی صاب کے سربراہ میکائل یوہانسن کا کہنا ہے کہ کمپنی کی تقریباً 90 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی لڑاکا طیارہ سویڈن سے باہر تیار کیا جا رہا ہے برازیل میں قائم یہ پروڈکشن لائن مستقبل میں دیگر ممالک کو طیارے برآمد کرنے کے لیے بھی استعما ل کی جا سکتی ہےجبکہ ہمسایہ ملک کولمبیا نےبھی گریپن طیارے خریدنےمیں دلچسپی ظاہر کی ہے،جس سے برازیل کے لیے برآمدی مواقع بڑھ سکتے ہیں۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ برازیل کی فوجی ہوا بازی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور صلاحیت کا مظہر ہے اسی کے ساتھ ایمبریئر کا تیار کردہ C-390 ملینیم کارگو طیارہ بھی یورپی ممالک میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے، جو برازیل کی فضائی صنعت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

  • ایران نے اسرائیل اورامریکا پر  400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران نے اسرائیل اورامریکا پر 400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران کے اسرائیل اورامریکا پر وارجاری، صرف 40 منٹ کے دوران 400 میزائل داغ دیے،کویت، اردن، بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا گیا-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل پر حملوں کی ایک اور بڑی لہر میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی شہر میں خطرے کے سائرن طویل وقت تک بجتے رہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    اسرائیلی ذرائع کے مطابق بنی براک کے علاقے میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم 12افراد زخمی ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زخمیوں کی تعداد 2 سو تک پہنچ گئی ہے ایران نے حدیرہ میں واقع ایک بڑے پاور پلانٹ کو بھی میزائل حملے میں نشانہ بنایا، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی، یہ ایک ہی دن میں ہونے والا پانچواں بڑا حملہ تھاایران نے 40 منٹ کے دوران سینکڑوں میزائل داغے۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اور کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    عرب ممالک کی جانب سے دفاعی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ایران سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو ناکام بنانے کا اعلان کیا، عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ 20 سے زائد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔

    اُدھر لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جس کے نتیجے میں شمالی شہر کرمیل میں دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ مقامی اسپتالوں میں متعدد زخمیوں کو منتقل کیا گیا،لبنانی فوج کے مطابق ایرانی میزائلوں کے کچھ حصے لبنانی علاقے میں گرے ہیں، لبنان ان حملوں کا ہدف نہیں تھا میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد ان کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا۔

  • پی ایس ایل 11 کا آج سے آغاز، لاہور قلندرز اور حیدرآباد کنگز کے درمیان افتتاحی میچ کھلا جائے گا

    پی ایس ایل 11 کا آج سے آغاز، لاہور قلندرز اور حیدرآباد کنگز کے درمیان افتتاحی میچ کھلا جائے گا

    پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے ایونٹ، پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 کا آغاز آج سے ہو گا-

    قذافی سٹیڈیم لاہور میں دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز اور نئی ٹیم حیدرآباد کنگز کے درمیان افتتاحی میچ سے ہو رہا ہے۔ میچ شام 7 بجے شروع ہوگا، جس کے لیے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    افتتاحی میچ سے قبل دونوں ٹیموں نےایل سی سی اے گراؤنڈ میں بھرپور پریکٹس سیشن کیے، جس میں بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ کی مشقیں شامل تھیں ،حیدرآباد کنگز کے کپتان مارنوس لبوشین نے کہا کہ ٹیم مضبوط کھیل پیش کرے گی اور کھلاڑی جلد ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں گے، لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی نے کہا کہ تیاری اچھی ہے اور مقابلہ سنسنی خیز ہوگا۔

    واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 میں پہلی بار 8 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، اور 44 میچز صرف 2 شہروں، لاہور اور کراچی میں 39 دنوں کے دوران بغیر تماشائیوں کے کھیلے جائیں گے، لاہور قذافی سٹیڈیم 22 میچز کی میزبانی کرے گا جبکہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں بھی اتنے ہی میچز ہوں گے، پی سی بی نے خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث افتتاحی تقریب منسوخ کر دی ہے،پی ایس ایل 11 میں دنیا بھر کے نامور کھلاڑی اور سابق اسٹارز پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

  • قصور کا رہائشی بلوچستان میں اغواء ،ویڈیو میں آرمی چیف و وزیر اعلی سے اپیل کر دی

    قصور کا رہائشی بلوچستان میں اغواء ،ویڈیو میں آرمی چیف و وزیر اعلی سے اپیل کر دی

    قصور
    نواحی گاؤں کا رہائشی بی ایل اے کے ہاتھوں اغواء،ایک کروڑ تاوان کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی قصبہ راؤخانوالہ کے قریبی گاؤں مرزے والا حدود تھانہ راجہ جمگ کا رہائشی احسن علی ولد غلام علی کو دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے بلوچستان میں اغوا کر لیا
    احسن علی قصور سٹی میں ڈاکٹر ناصر صدیق کے ہیرنگ سینٹر پر کام کرتا ہے اور بلوچستان میں میڈیکل کیمپ میں آیا تھا
    اغواء کاروں نے احسن علی کی ویڈیو بنا کر لواحقین کو بھیج دی ہے جس میں ایک کروڑ روپیہ تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے
    واضع رہے کہ احسن کے دو ساتھیوں کو اغوا کاروں نے قتل کر چکے ہیں
    احسن نے دہشت گردوں کی جانب سے کی گئی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کیلئے اپنے ورثاء ،وزیر اعلی پنجاب و آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی ہے