Baaghi TV

Blog

  • 
پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، اسد قیصر

    
پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، اسد قیصر

    ‎پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ہونے والے انتخابی عمل کو حقیقی معنوں میں آزاد اور منصفانہ انتخابات قرار نہیں دیا جا سکتا۔
    ‎اپنے بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق پارٹی کے خلاف مختلف رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔
    ‎انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لیا گیا، مختلف پابندیاں عائد کی گئیں اور انتخابی عمل کو غیر مساوی ماحول میں آگے بڑھایا گیا۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد پر سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔
    ‎سابق اسپیکر نے مزید کہا کہ بعض عناصر اپنی پسند کے نتائج حاصل کرنے کے لیے انتخابی عمل کو مخصوص سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انتخابات سے قبل ہی مختلف حلقوں میں نتائج کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جو انتخابی شفافیت کے بارے میں خدشات کو بڑھاتی ہیں۔
    ‎اسد قیصر نے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ناکامیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق عوام کو معاشی مشکلات، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روزگار کے محدود مواقع کا سامنا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ووٹر آزادانہ طور پر اپنے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔
    ‎واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے کل پولنگ ہوگی۔ الیکشن کمیشن اور صوبائی انتظامیہ کی جانب سے انتخابی عمل کے لیے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں انتخابی میدان میں سرگرم ہیں اور نتائج کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • 
لبنانی فوج پر اسرائیلی حملہ، ایران کی شدید مذمت

    
لبنانی فوج پر اسرائیلی حملہ، ایران کی شدید مذمت

    ‎ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنانی فوج پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری اور ریاستی اداروں کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حملے سے یہ بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ اسرائیل لبنان کے تمام ریاستی اور قومی اداروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
    ‎سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنانی فوج کے دو افسران اور ایک اہلکار کی ہلاکت ایک سنگین اور افسوسناک واقعہ ہے۔ انہوں نے اس حملے کو لبنان، اس کی فوج اور قومی خودمختاری کے خلاف ایک "بھیانک جرم” قرار دیا۔
    ‎ایرانی ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ایک واضح پیغام ہے کہ اسرائیل لبنان میں امن، استحکام اور خوشحالی نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔
    ‎اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل اپنے حملوں میں فوجیوں، مزاحمتی عناصر اور عام شہریوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا اور ہر طبقہ اس کی کارروائیوں کا نشانہ بنتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کے منافی ہیں۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حملے میں جان بحق ہونے والے لبنانی فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے لبنانی فوج، حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی اور حمایت کا پیغام بھی دیا۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اور لبنان و اسرائیل کے درمیان سرحدی تناؤ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی حلقے صورتحال میں مزید بگاڑ کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سفارتی کوششوں اور امن کے اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے اور علاقائی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

  • غزہ میں شادی کی تقریب پر حملہ، 5 افراد شہید

    غزہ میں شادی کی تقریب پر حملہ، 5 افراد شہید

    ‎غزہ سٹی میں ایک شادی کی تقریب اس وقت المناک سانحے میں تبدیل ہو گئی جب ایک شادی کے خیمے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں کم از کم 5 افراد شہید ہو گئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    ‎عینی شاہدین اور متاثرہ خاندانوں کے مطابق شادی کی تقریب میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے اور خیمہ مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ خوشی کا یہ موقع چند لمحوں میں خوفناک منظر میں بدل گیا جب دو میزائل خیمے کے اندر آ کر پھٹ گئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں نہ صرف شادی کے خیمے کو شدید نقصان پہنچا بلکہ میزائلوں کے ٹکڑے تیز رفتاری سے اطراف کے علاقوں میں بھی پھیل گئے۔ قریبی بے گھر افراد کے لیے قائم ایک اسکول، جہاں بڑی تعداد میں متاثرہ خاندان پناہ لیے ہوئے تھے، بھی اس حملے سے متاثر ہوا۔
    ‎طبی ذرائع کے مطابق اب تک تقریباً 15 زخمیوں کو مختلف نوعیت کے زخموں کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں کو غزہ سٹی کے الشفا اسپتال اور ایک فیلڈ اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر غزہ میں جاری خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کے احساس کو اجاگر کر دیا ہے۔ ان کے مطابق عام شہری مسلسل اس اندیشے میں زندگی گزار رہے ہیں کہ کسی بھی وقت کوئی بھی مقام حملے کی زد میں آ سکتا ہے۔
    ‎متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ شادی جیسی خوشی کی تقریب پر حملے نے علاقے میں شدید صدمہ اور غم کی فضا پیدا کر دی ہے۔ امدادی کارکن ملبہ ہٹانے اور مزید متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

  • 
ایورسٹ پر 6 دن پھنسے شیرپا نے زندگی کی داستان سنا دی

    
ایورسٹ پر 6 دن پھنسے شیرپا نے زندگی کی داستان سنا دی

    ‎دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر لاپتہ ہونے کے بعد چھ روز تک انتہائی خطرناک حالات میں زندہ رہنے والے نیپالی شیرپا گائیڈ نے اپنی بقا کی حیران کن داستان بیان کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے شدید سردی، آکسیجن کی کمی اور خوراک نہ ہونے کے باوجود برف اور جیب میں موجود چند چاکلیٹس کے سہارے زندگی برقرار رکھی۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 52 سالہ داوا شیرپا نے بتایا کہ وہ دراصل لاپتہ نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کے آکسیجن سلنڈر ختم ہو جانے کے باعث وہ واپس آنے والے گروپ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہائی مشکل حالات میں زندہ رہنے کے لیے وہ برف چباتے رہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور وقتاً فوقتاً جیب میں موجود چاکلیٹس کھا کر توانائی حاصل کرتے رہے۔
    ‎داوا شیرپا اس وقت نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں ان کا ڈی ہائیڈریشن، فروسٹ بائیٹ اور ایک ٹوٹی ہوئی ہڈی کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ بتدریج صحت یاب ہو رہے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق داوا شیرپا ایک پولش کوہ پیما کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش کے بعد واپس آ رہے تھے، جب وہ کیمپ تھری اور کیمپ فور کے درمیان شدید موسمی حالات کے باعث پھنس گئے۔ دونوں کوہ پیما چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
    ‎ان کی گمشدگی کے بعد اہل خانہ اور ساتھی کوہ پیماؤں نے انہیں مردہ تصور کر لیا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے خاندان نے آخری رسومات کی تیاری بھی شروع کر دی تھی۔ تاہم ایک ہفتے بعد ان کا زندہ مل جانا نہ صرف خاندان بلکہ کوہ پیمائی کی دنیا کے لیے بھی ایک حیران کن واقعہ ثابت ہوا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کے انتہائی بلند اور سرد علاقوں میں خوراک اور اضافی آکسیجن کے بغیر کئی دن تک زندہ رہنا غیر معمولی بات ہے۔ اسی وجہ سے داوا شیرپا کی بقا کو ایک معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎نیپالی شیرپا دنیا بھر میں اپنی کوہ پیمائی کی مہارت اور برداشت کے لیے مشہور ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد شیرپا گائیڈز نے ایورسٹ پر اہم ریکارڈ بھی قائم کیے ہیں اور دنیا کے بلند ترین پہاڑ پر کوہ پیماؤں کی رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

  • 
جاپان میں ریچھ کا فیکٹری پر حملہ، 4 افراد زخمی

    
جاپان میں ریچھ کا فیکٹری پر حملہ، 4 افراد زخمی

    ‎جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جہاں ایک ریچھ الیکٹرانکس فیکٹری میں داخل ہو گیا اور حملہ کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا۔ واقعے کے بعد ریچھ کئی گھنٹوں تک فیکٹری کے اندر موجود رہا اور حکام کی تمام کوششوں کے باوجود فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریچھ اچانک فیکٹری میں داخل ہوا اور وہاں موجود ملازمین پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ واقعے کے بعد فیکٹری میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ریچھ فیکٹری کے اندر ہی چھپا رہا۔ امدادی اور جنگلی حیات کے ماہرین نے اسے پکڑنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، تاہم وہ ہر کوشش سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ رات کے وقت ریچھ نے کھڑکی کی کنڈی کھول کر فیکٹری سے فرار ہونے کا راستہ بنایا اور موقع سے نکل گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ریچھ نے فیکٹری کے اندر موجود پانی کے نل کو اپنے پنجوں سے کھول کر پانی بھی پیا، جس نے حکام اور ماہرین کو حیران کر دیا۔ اس غیر معمولی رویے کے باعث جانور کی ذہانت پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔
    ‎ریچھ کو قابو کرنے کے لیے حکام نے پہلے بے ہوش کرنے والے انجیکشن گن کا استعمال کیا، لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ بعد ازاں اسے شہد اور اس کے پسندیدہ پھلوں کی مدد سے پھانسنے کی کوشش بھی کی گئی، مگر یہ تدبیر بھی کامیاب نہ ہو سکی۔
    ‎فوکوشیما کے میئر نے ریچھ کے فرار پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے "انتہائی ذہین” قرار دیا اور کہا کہ جانور نے غیر معمولی چالاکی کا مظاہرہ کیا۔ حکام اب بھی علاقے میں ریچھ کی تلاش میں مصروف ہیں تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
    ‎واضح رہے کہ جاپان میں حالیہ برسوں کے دوران ریچھوں کے حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے دوران ریچھوں کے حملوں میں کم از کم 13 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس کے بعد جنگلی حیات اور انسانی آبادیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق جنگلات کے سکڑنے اور خوراک کی تلاش میں جنگلی جانوروں کے شہری علاقوں کا رخ کرنے کے باعث ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • اپنا کماؤ،مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام صحافیوں کے لئے عملی ٹریننگ ورکشاپ

    اپنا کماؤ،مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام صحافیوں کے لئے عملی ٹریننگ ورکشاپ

    اپنا کماؤ،مرکزی مسلم لیگ اور لاہور پریس کلب کے اشتراک سے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے لیے منعقد کی جانے والی خصوصی اور عملی ٹریننگ ورکشاپ "Journalism in the Age of AI” کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی،ورکشاپ سے ترجمان مرکزی مسلم لیگ ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی ،اپنا کماؤ کے ہیڈ ملک وقاص سعید نے خطاب کیا،

    لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں منعقدہ ورکشاپ میں میڈیا انڈسٹری سے وابستہ افراد کو مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ٹولز کے ذریعے ریسرچ کو تیز کرنے، فیک نیوز کے سدباب کے لیے فوری حقائق کی تصدیق (Fact-checking) کرنے، اور ایک مضبوط ڈیجیٹل شناخت قائم کرنے کی عملی تربیت دی گئی، اپنا کماؤ کے سیشن میں صحافیوں اور پریس کلب کے ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ڈیجیٹل دور کے ان جدید تقاضوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا،ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی مسلم کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام صحافیوں کو سکلز سکھائیں گے، مرکزی مسلم لیگ صحافیوں کے بچوں کو بھی اے آئی کے استعمال کی تربیت دے گی،مرکزی مسلم لیگ اہل صحافت کے ساتھ کھڑی ہے،لاہور پریس کلب میں یہ دوسری ورکشاپ ہے، باقی شہروں میں صحافیوں کے لئے تربیتی کورسز کا انعقاد کریں گے، میڈیا کے نمائندوں کو جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے سچائی، تحقیق اور قومی مفاد کو اپنی پیشہ ورانہ ترجیحات میں شامل رکھنا چاہیے، ملک وقاص سعید، آئی ٹی ہیڈ مرکزی مسلم لیگ اور لیڈ اپنـا کماؤ نے شرکاء کو مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز کے صحافتی استعمال، ڈیجیٹل ریسرچ، فیکٹ چیکنگ، کنٹینٹ ویریفکیشن، ذاتی برانڈنگ اور میڈیا کے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل منظرنامے کے بارے میں عملی تربیت فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت صحافیوں کے لیے متبادل نہیں بلکہ ایک طاقتور معاون ہے، جو تحقیق کے عمل کو تیز، معلومات کو زیادہ قابلِ تصدیق اور صحافی کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو مزید مؤثر بنا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کا کامیاب صحافی وہ ہوگا جو روایتی صحافتی اصولوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

  • صحافت، ٹیکنالوجی اور بدلتی دنیا،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    صحافت، ٹیکنالوجی اور بدلتی دنیا،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    دنیا تیزی سے ایک نئے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت یعنی Artificial Intelligence (AI) صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ معیشت، تعلیم، صحت، کاروبار اور صحافت سمیت ہر شعبے کی بنیادی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ وہ ممالک جو اے آئی کو جلد اپنائیں گے، مستقبل کی عالمی معیشت اور علمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کریں گے، جبکہ اس دوڑ میں پیچھے رہ جانے والی قومیں ترقی کے سفر میں مشکلات کا شکار ہوں گی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اے آئی اب کوئی فیشن یا اضافی سہولت نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکا ہے۔

    اسی تناظر میں ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور اپنا کماؤ کے اشتراک سے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے لیے منعقد کی جانے والی خصوصی تربیتی ورکشاپ “Journalism in the Age of AI” ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ثابت ہوئی۔ اس پروگرام نے واضح کر دیا کہ مستقبل کی صحافت اب صرف قلم اور کیمرے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اے آئی ٹیکنالوجی سے جڑی مہارتیں ہی کامیابی کی ضمانت بنیں گی۔اس ورکشاپ کے انعقاد میں سر ملک وقاص اور ان کی ٹیم کی کاوشیں خصوصی طور پر قابلِ تحسین رہیں، جنہوں نے صحافیوں اور نوجوان میڈیا پروفیشنلز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم مہیا کیا۔ بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور میں ایسے افراد اور ادارے ہی دراصل معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علمبردار بنتے ہیں جو وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نئی نسل کو جدید علوم اور مہارتوں سے روشناس کرائیں۔

    لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں ہونے والی اس عملی ورکشاپ میں میڈیا انڈسٹری سے وابستہ افراد کو جدید اے آئی ٹولز کے استعمال کی تربیت دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ذریعے تحقیق کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے، فیک نیوز کی فوری تصدیق کی جا سکتی ہے، اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں اپنی مضبوط شناخت یعنی Personal Brand قائم کی جا سکتی ہے۔ یہ تربیت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ موجودہ دور میں خبر کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ روایتی طریقے کئی مواقع پر ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا پلیٹ فارم بھی اس حوالے سے ایک مثبت اور جدید سوچ کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ سیاسی اور سماجی پلیٹ فارمز اگر نوجوانوں کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں کردار ادا کریں تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے دوری بھی ہے۔ ایسے میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ ،اپنا کماؤ جیسے پلیٹ فارمز کا AI اور ڈیجیٹل جرنلزم جیسے موضوعات پر عملی سرگرمیوں کا انعقاد مستقبل کے لیے ایک امید افزا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کے بعد سب سے بڑا چیلنج جھوٹی خبروں اور من گھڑت پروپیگنڈے کا ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور معاشرے میں بے چینی پیدا کر دیتی ہے۔ ایسے حالات میں AI پر مبنی Fact-checking ٹیکنالوجی صحافت کے لیے ایک مضبوط ہتھیار بن سکتی ہے۔ جدید AI سسٹمز تصاویر، ویڈیوز اور بیانات کی صداقت جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو صحافت کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    ورکشاپ میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے معاشرتی ذمہ داریوں پر زور دیا۔ ان کا یہ جملہ کہ “معاشرہ ایک فرد سے نہیں چلتا” دراصل اجتماعی شعور اور قومی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں AI انسان کی زندگی کو آسان بنا رہا ہے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال صرف ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے کیا جائے۔

    حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں AI انقلاب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ، چین، جاپان اور یورپی ممالک اربوں ڈالر اس شعبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ تعلیم، زراعت، دفاع، بینکنگ، میڈیکل سائنس اور میڈیا ہر شعبہ AI سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان نے اس میدان میں سنجیدہ منصوبہ بندی نہ کی تو ہم آنے والے برسوں میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اب بھی AI کے حوالے سے شعور محدود ہے اور بیشتر نوجوان صرف سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ دنیا AI کے ذریعے نئی معیشت تعمیر کر رہی ہے۔
    پاکستان میں AI کے فروغ کے لیے سب سے پہلے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں Artificial Intelligence، Data Science اور Digital Journalism جیسے مضامین کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ عملی مہارتیں دینا ہوں گی تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں اپنا مقام بنا سکیں۔

    صحافت کے میدان میں AI صحافیوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک طاقتور معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ جو صحافی AI کو سیکھ لیں گے وہ تیزی سے تحقیق، ڈیٹا اینالیسس، ویڈیو ایڈیٹنگ اور ڈیجیٹل پبلشنگ جیسے شعبوں میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جو لوگ نئی ٹیکنالوجی سے دور رہیں گے وہ وقت کے ساتھ پیچھے رہ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور پریس کلب میں ہونے والی یہ ورکشاپ محض ایک تربیتی سیشن نہیں بلکہ مستقبل کی صحافت کی سمت متعین کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔

    پاکستان ایک نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے اور یہی نوجوان ہماری اصل طاقت ہیں۔ اگر انہیں AI اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف راغب کیا جائے تو پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں ایک اہم ڈیجیٹل معیشت بن سکتا ہے۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، AI ریسرچ اور ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔وقت آ چکا ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کو صرف ایک مشین یا سوفٹ ویئر نہ سمجھیں بلکہ اسے قومی ترقی کے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھیں۔ AI سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے سیکھنا، سمجھنا اور مثبت انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔ کیونکہ آنے والا دور اسی کا ہے جو علم، ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں سے خود کو ہم آہنگ کرے گا۔اگر پاکستان نے آج AI کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا تو یہی ٹیکنالوجی ہمارے نوجوانوں کے خواب، معیشت کی ترقی اور مستقبل کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔

  • اوکاڑہ،اے سی کی زیر صدارت اجلاس،  انسدادِ ڈینگی مہم ،مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ

    اوکاڑہ،اے سی کی زیر صدارت اجلاس، انسدادِ ڈینگی مہم ،مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اسسٹنٹ کمشنر مرزا راحیل بیگ کی زیر صدارت تحصیل ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اجلاس، اجلاس میں تحصیل بھر کے تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تحصیل میں ڈینگی کی موجودہ صورتحال، انسدادِ ڈینگی مہم اور مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر مرزا راحیل بیگ نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگی کے خاتمے کے سلسلہ میں انڈور اور آؤٹ ڈور سرویلنس، ویکٹر سرویلنس اور تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن سمیت تمام امور کی کڑی نگرانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی ہاٹ اسپاٹس کی چیکنگ میں کسی قسم کی سستی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور لاپرواہی برتنے والے عملے کے خلاف سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے مزید کہا کہ مون سون کے آغاز سے قبل تمام حفاظتی انتظامات مکمل کیے جائیں اور فیلڈ ٹیمیں اینٹی ڈینگی ایس او پیز پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا شہریوں کو آگاہی فراہم کی جائے کہ وہ اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول کو صاف اور خشک رکھیں تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکا جا سکے۔

  • بہاولنگر پولیس میں بڑا ایکشن، دو افسران کے خلاف سخت کارروائی

    بہاولنگر پولیس میں بڑا ایکشن، دو افسران کے خلاف سخت کارروائی

    سابق ایس ایچ او نواز وٹو نوکری سے فارغ، ریاض بھٹی جبری ریٹائر

    (بہاولنگر باغی ٹی وی محمد عرفان نامہ نگار ))بہاولنگر پولیس میں احتساب کا بڑا عمل شروع ہوگیا۔ ڈی پی او بہاولنگر محمد عمران نے فرائض میں غفلت اور ناقص تفتیش پر سخت کارروائی کرتے ہوئے تھانہ فورٹ عباس میں تعینات سب انسپکٹر نواز احمد وٹو کے خلاف بڑا ایکشن لے لیا۔

    ڈی پی او آفس سے جاری ہونے والے مراسلے کے مطابق سب انسپکٹر نواز احمد B/474 کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر اے ایس آئی کے عہدے پر تنزلی دی گئی اور انہیں نوکری سے فارغ کرتے ہوئے پولیس لائن بہاولنگر رپورٹ کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔سرکاری حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ نواز احمد پہلے OSI رپورٹ جمع کروائیں گے، جس کے بعد انہیں RI/LO پولیس لائن بہاولنگر رپورٹ کرنا ہوگا۔ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری وردی، اسلحہ اور دیگر سرکاری سامان فوری طور پر واپس لے کر تصدیقی رپورٹ پیش کی جائے۔ذرائع کے مطابق سابق SHO تھانہ صدر ہارون آباد اور موجودہ تعینات فورٹ عباس نواز وٹو کے خلاف کارروائی فیضان مظہر ملکیرہ کیس میں مبینہ ناقص تفتیش اور فرائض میں سنگین غفلت کے باعث عمل میں لائی گئی ہے۔

    اسی کیس میں ایک اور پولیس افسر ریاض بھٹی سب انسپکٹر کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے جبری ریٹائرمنٹ کی سفارش اور کارروائی کی گئی ہے، جس سے محکمہ پولیس میں کھلبلی مچ گئی ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی پی او بہاولنگر نے واضح پیغام دیا ہے کہ ناقص تفتیش، اختیارات کے غلط استعمال اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور ذمہ دار افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔اس اچانک اور سخت کارروائی کے بعد ضلع بھر کے پولیس افسران میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ شہری حلقوں نے ڈی پی او بہاولنگر کے اس اقدام کو احتساب کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے

  • بہاولنگر،محرم الحرام کے پرامن انعقاد کیلیے ڈی پی او،ڈی سی کا چشتیاں شہر کا دورہ

    بہاولنگر،محرم الحرام کے پرامن انعقاد کیلیے ڈی پی او،ڈی سی کا چشتیاں شہر کا دورہ

    (بہاولنگر باغی ٹی وی محمد عرفان نامہ نگار )محرم الحرام کے پرامن انعقاد اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ڈی پی او بہاولنگر محمد عمران اور ڈی سی بہاولنگر ذوالفقار احمد بھون کا چشتیاں شہر کا اہم دورہ۔

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولنگر محمد عمران نے ڈپٹی کمشنر بہاولنگر ذوالفقار احمد بھون کے ہمراہ چشتیاں شہر کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی انتظامات، جلوسوں اور مجالس کے روٹس کا جائزہ لینا تھا۔ دورانِ وزٹ دونوں افسران نے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کو فول پروف بنانے کے لیے فیلڈ افسران کو اہم ہدایات جاری کیں۔ڈی پی او اور ڈی سی نے چشتیاں شہر میں محرم الحرام کے روایتی اور لائسنس یافتہ جلوسوں کے راستوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ڈی پی او محمد عمران نے واضح کیا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے۔ سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔حساس مقامات اور جلوس کے راستوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور مانیٹرنگ کو یقینی بنانے کے احکامات دیے گئے۔