Baaghi TV

Blog

  • کیپٹن(ر) صفدر کی اتنی بڑی سیاسی حیثیت نہیں کہ ان کی بات پر تبصرہ کروں، شرجیل میمن

    کیپٹن(ر) صفدر کی اتنی بڑی سیاسی حیثیت نہیں کہ ان کی بات پر تبصرہ کروں، شرجیل میمن

    ‎سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے بیانات کو اہمیت دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اتنی بڑی سیاسی حیثیت نہیں کہ ان کی باتوں پر تبصرہ کیا جائے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر ماضی میں مزار قائد کے تقدس اور حرمت کا خیال رکھنے میں بھی ناکام رہے تھے، اس لیے ان کے بیانات پر ردعمل دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی یادگاروں اور تاریخی مقامات کا احترام ہر سیاسی رہنما کی ذمہ داری ہے۔
    ‎گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کی حمایت اور پارٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں کلین سوئپ کرے گی اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئے گی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی ہے، اسی وجہ سے عوام کا اعتماد پارٹی پر برقرار ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام سیاسی شعور رکھتے ہیں اور وہ اپنے مستقبل کے لیے درست فیصلے کریں گے۔
    ‎کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ شہر پر آبادی اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے بہت زیادہ دباؤ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک کی آبادی بھی کراچی کی آبادی سے کم ہے، جس کی وجہ سے شہری انفراسٹرکچر اور وسائل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
    ‎انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ، خصوصاً کراچی، کو ترقیاتی منصوبوں میں وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا یہ حق دار ہے۔ شرجیل میمن کے مطابق صوبے میں موٹرویز اور مواصلاتی منصوبوں کے حوالے سے کئی مسائل موجود ہیں اور وفاقی سطح پر سندھ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
    ‎سینئر وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی اور سندھ کی ترقی پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کے انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • 
پاکستان کا تجارتی خسارہ 39 فیصد کم ہوگیا

    
پاکستان کا تجارتی خسارہ 39 فیصد کم ہوگیا

    ‎پاکستان کی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مئی 2026 کے دوران ملک کے تجارتی خسارے میں 39 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں نمایاں کمی کے باعث تجارتی توازن میں بہتری دیکھی گئی، جسے ماہرین معیشت استحکام کی جانب ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
    ‎ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مئی کے مہینے میں پاکستان کی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا، جس سے عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں بہتری کی نشاندہی ہوتی ہے۔ برآمدات میں اضافے سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملتا ہے بلکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوتا ہے۔
    ‎دوسری جانب درآمدات میں 22 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق غیر ضروری اشیاء کی درآمدات پر کنٹرول، مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی اور متبادل مصنوعات کے استعمال نے درآمدی بل میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
    ‎مشیر خزانہ خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی خسارے میں نمایاں کمی ملکی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی توجہ برآمدات بڑھانے، درآمدات کو متوازن رکھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے پر مرکوز ہے۔
    ‎خرم شہزاد نے مزید بتایا کہ معیشت کو صرف تجارتی شعبے سے ہی نہیں بلکہ دیگر ذرائع سے بھی تقویت مل رہی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آئی ٹی برآمدات اور ترسیلات زر بھی مثبت رجحان دکھا رہی ہیں۔
    ‎معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کسی بھی معیشت کے لیے خوش آئند اشارہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے تجارتی خسارہ کم ہوتا ہے اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ میں کمی آتی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی اقتصادی استحکام میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔
    ‎حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ حالیہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملکی معیشت بتدریج درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور معاشی اصلاحات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

  • جھوٹی گواہی اور غفلت پر تفتیشی افسر کو 10 سال قید

    جھوٹی گواہی اور غفلت پر تفتیشی افسر کو 10 سال قید

    ‎پشاور کی ایک مقامی عدالت نے جھوٹی گواہی اور تفتیش میں سنگین غفلت برتنے پر تفتیشی افسر ہدایت اللہ کو 10 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے سزا سنانے کے ساتھ ہی متعلقہ افسر کو فوری طور پر جیل منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔
    ‎عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق تفتیشی افسر نے کیس میں موجود اہم ڈیجیٹل شواہد فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری نہیں بھجوائے، جس کے باعث تحقیقات کا ایک اہم پہلو نظر انداز ہو گیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے شواہد کسی بھی مقدمے میں حقائق تک پہنچنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں نظر انداز کرنا سنگین غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔
    ‎عدالت نے مزید قرار دیا کہ تفتیشی افسر نے عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کیے، حالانکہ وہ مقدمے کے اہم گواہ تھے۔ فیصلے میں اس کو تفتیشی عمل میں بڑی کوتاہی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرز عمل نے انصاف کے تقاضوں کو متاثر کیا۔
    ‎عدالت کے مطابق ایک تفتیشی افسر کی بنیادی ذمہ داری غیر جانبدارانہ، مکمل اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا ہوتی ہے۔ اگر کوئی افسر جان بوجھ کر یا غفلت کے باعث اہم شواہد اور گواہوں کو نظر انداز کرے تو اس سے مقدمے کی ساکھ اور انصاف کی فراہمی دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
    ‎عدالت نے کیس میں مبینہ غفلت برتنے پر پراسیکیوٹر عبید الرحمٰن اور ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر جاوید علی کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ دونوں افسران سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ مقدمے کے دوران ان کی جانب سے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی تو نہیں ہوئی۔
    ‎قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کی اہم مثال ہے کہ عدالتیں تفتیش اور استغاثہ کے عمل میں غفلت یا بددیانتی کو سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات اور مضبوط شواہد ہی منصفانہ عدالتی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔
    ‎عدالتی فیصلے کے بعد قانونی حلقوں میں اس کیس پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پراسیکیوشن حکام کے لیے احتساب اور ذمہ داری کا واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

  • 
2050 تک لاہور دنیا کے گرم ترین شہروں میں شامل ہو سکتا ہے

    
2050 تک لاہور دنیا کے گرم ترین شہروں میں شامل ہو سکتا ہے

    ‎حالیہ تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے عالمی نظام ایل نینو سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 2050 تک لاہور اور فیصل آباد دنیا کے گرم ترین شہروں میں شمار ہو سکتے ہیں، جبکہ شدید گرمی کے باعث اموات کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
    ‎تحقیق کے مطابق ایل نینو کے اثرات کے باعث پاکستان میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور موسمیاتی نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی نہ صرف انسانی صحت بلکہ زراعت، آبی وسائل اور معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بھی ہیٹ ویوز کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ چیف میٹرولوجسٹ لاہور ڈاکٹر ظہیر بابر کے مطابق ایل نینو کے اثرات کے تحت درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور، فیصل آباد اور ملتان جیسے بڑے شہری مراکز میں بلند عمارتوں، گاڑیوں کے دھوئیں، سبزہ زاروں کی کمی اور تیزی سے بڑھتی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے باعث گرمی کی شدت مزید بڑھ رہی ہے۔
    ‎ماہر ماحولیات ڈاکٹر ذوالفقار احمد نے بتایا کہ عالمی سطح پر اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 1.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کے بڑے شہروں میں یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق کراچی میں درجہ حرارت میں 4.5 فیصد جبکہ لاہور میں 4.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
    ‎پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی لاہور کے حکام کا کہنا ہے کہ درخت لگانے کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو این او سی جاری کرنے کے لیے کم از کم 7 فیصد رقبے پر شجرکاری کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ شہری علاقوں میں سبزہ بڑھایا جا سکے۔
    ‎ماہرین نے زور دیا ہے کہ اگر آنے والی نسلوں کو شدید گرمی، ہیٹ ویوز اور موسمیاتی بحران کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے تو حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان میں بڑے پیمانے پر شجرکاری، ماحول دوست شہری منصوبہ بندی، آلودگی میں کمی اور موسمیاتی پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد شامل ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت، نجی شعبے اور عوام کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔

  • کوئٹہ: لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    کوئٹہ: لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    کوئٹہ کے سول اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کے دوران ملزم مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

    کوئٹہ کے سول اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی کا واقعہ پیش آیا ہے واقعے کی سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر اسپتال کے لفٹ آپریٹر کو ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،اس حملے میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر شدید زخمی ہو گئیں، جنہیں فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ ایک اور شخص بھی کر زخمی ہوا۔

    صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے واقعے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان کو ملزم کی جلد گرفتاری کا حکم دیا تھاجبکہ وزیر صحت نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت زخمی ڈاکٹر کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرے گی خاتون ڈاکٹر پر حملہ ناقابل برداشت ہے اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، زخمی ڈاکٹر کو مزید علاج کے لیے ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب واقعے کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کارروائی شروع کی پولیس کے مطابق ملزم ہمایوں شاہ فرار ہونے کی کوشش میں سریاب روڈ کے بس اسٹینڈ پہنچا، جہاں پولیس ٹیم نے اسے روکنے کی کوشش کی ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی کی گئی، اسی فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا ہلاک ہونے والے ملزم کے قبضے سے ایک پستول اور چار گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں،جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔

  • مومنہ نے سابق شادی کی معلومات چھپائی ،ویڈیو ڈیلیٹ کروائی جائیں،ثاقب چدھڑ

    مومنہ نے سابق شادی کی معلومات چھپائی ،ویڈیو ڈیلیٹ کروائی جائیں،ثاقب چدھڑ

    رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ نے این سی سی آئی اے کو جمع کرائے گئے بیان میں سنگین الزامات سامنے آگئے۔ کہتے ہیں مومنہ اقبال کے کہنے پر اس کی بہن کی یونیورسٹی فیس کیلئے 13 ہزار آسٹریلین ڈالر بھجوائے۔

    ثاقب چدھڑ کا کہنا ہے کہ مومنہ اقبال سے 2020ء میں ملاقات ہوئی، جلد قریبی تعلقات قائم ہوگئے، اداکارہ مومنہ اقبال کے ساتھ اندرون و بیرون ملک متعدد سفر کیے، سفر کے تمام اخراجات خود برداشت کیے۔مومنہ اقبال کو بی اسمارٹ اسٹور لاہور سے ایک کروڑ روپے کی شاپنگ کرائی، فارچیونر لیجنڈر، ہنڈا سوک گاڑی، رولیکس گھڑی بھی تحفے میں دی،انہوں نے کہا کہ مومنہ اقبال اور اہلخانہ نے سابقہ شادی اور طلاق کی معلومات چھپائیں، مومنہ اقبال کے شادی شدہ ہونے کا علم ہونے پر شادی سے انکار کیا اگست 2025ء میں مومنہ اقبال سے تعلقات ختم کردیئے۔رکن پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ مومنہ کی بہن رمشا اقبال کی یونیورسٹی فیس 13 ہزار آسٹریلین ڈالر ادا کی، رمشا نے بلیک میلنگ کے ذریعے 10 ہزار آسٹریلین ڈالر وصول کئے، مومنہ اقبال کے اکاؤنٹ میں مختلف اوقات میں 83 لاکھ روپے منتقل کیے، مومنہ اقبال کی درخواست جھوٹی، بے بنیاد ہے،ویڈیو میں کوئی قابل اعتراض مواد نہیں، 13 مئی کو انجان نمبر سے کال آئی، جس نے خود کو مومنہ کا منگیتر بتایا اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، خطرہ ہے میری تصاویر اور ویڈیوز کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، فوری ڈیلیٹ کرایا جائے،

  • سعودی عرب کی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت،کویت کا ردعمل بھی آ گیا

    سعودی عرب کی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت،کویت کا ردعمل بھی آ گیا

    ریاض: سعودی عرب نے بحرین اور کویت پر مبینہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے مسلسل حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ خطے میں سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے بحرین اور کویت کے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

    دوسری جانب کویتی وزارتِ خارجہ نے بھی ایران کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ملکی خودمختاری اور قومی سلامتی کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق صبح کے وقت کیے گئے حملے کھلی جارحیت کے مترادف ہیں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔کویتی حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے حملوں کو کسی بھی جواز کے تحت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وزارتِ خارجہ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ کویت اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق حملوں کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ خلیجی ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • کفایت شعاری مہم، وزیراعظم آفس نے وزارتوں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    کفایت شعاری مہم، وزیراعظم آفس نے وزارتوں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    اسلام آباد: وزیراعظم آفس نے وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کفایت شعاری مہم پر عملدرآمد کے نتائج سے متعلق تمام وزارتوں اور ڈویژنز سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران حاصل ہونے والی بچت کے مکمل اعداد و شمار اور تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیراعظم آفس نے مختلف اداروں سے یہ بھی پوچھا ہے کہ 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے کے فیصلے سے کتنی مالی بچت ہوئی، جبکہ بجلی کے استعمال میں کمی کے باعث ہونے والی بچت کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔وزیراعظم آفس نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی ہے کہ رواں ماہ کے اندر اپنی رپورٹس جمع کرائیں تاکہ کفایت شعاری اقدامات کے عملی نتائج کا جائزہ لیا جا سکے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے، جس کے مطابق ادارے نے کفایت شعاری اقدامات کے ذریعے ساڑھے چار ارب روپے سے زائد کی بچت کی ہے۔حکومتی حلقوں کے مطابق موصول ہونے والی رپورٹس کی روشنی میں آئندہ مالی نظم و ضبط اور اخراجات میں مزید کمی کے لیے نئی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

  • سونے اور چاندی کی قیمت میں  بڑی کمی

    سونے اور چاندی کی قیمت میں بڑی کمی

    سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی ،ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ڈالر کی قدر میں تبدیلی کے اثرات مقامی صرافہ بازار پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جس کے باعث سونے کے نرخوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    دو دن میں سونے کی قیمت میں 13 ہزار 958 روپے کی کمی ہوئی ہے، گزشتہ روز سونے کے فی تولہ نرخ میں 1469 روپے کی کمی ہوئی آج فی تولہ سونے کی قیمت 12 ہزار 489 روپے کم ہو گئی جس کے بعد فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 55 ہزار 327 روپے ہو گئی ہے اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 11 ہزار 240 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد 10 گرام سونے کی نئی قیمت 3 لاکھ 89 ہزار 772 روپے ہو گئی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ 124 ڈالر89سینٹ کم ہونے سے فی اونس قیمت 4328 ڈالر 92 سینٹ ہو گئی ہے-

    اسی طرح ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 463 روپے کی کمی سے 7ہزار 267 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 421روپے کی کمی سے 6ہزار 202روپے کی سطح پر آگئی۔

  • ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے،عظمیٰ بخاری

    ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے سوا کسی جماعت نے ایک اینٹ تک نہیں لگائی، ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے-

    گلگت بلتستان میں انتخابات کے حوالے سے اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جی بی میں ہر طرف شیر،شیر اور شیر کی آوازیں آرہی ہیں مسلم لیگ (ن) کو عوام ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں،مخالفین مسلم لیگ (ن) پر کیچڑ اچھال کر ووٹ مانگتے ہیں گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کے سوا کسی جماعت نے ایک اینٹ تک نہیں لگائی-

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کا صفر ووٹ بینک ہے ان کے لوگ ایک ہفتے سے شور مچا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کو کمپین نہیں کرنے دی جارہی جن کے امیدوار بھی پورے نہیں، وہ قبل از وقت دھندلی کا واویلا کس منہ سے کررہے؟ تحریک انصاف کا بطور جماعت ہر بیانیہ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے مسلم لیگ(ن) کا مقابلہ کارکردگی سے کریں، جھوٹ اور پروپیگنڈے ناکام سیاسی چالیں ہیں ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے۔

    دوسری جانب گلگت بلتستان کے انتخابی حلقے جی بی اے 17 داریل کے علاقے ڈوڈشال میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار ڈاکٹر محمد زمان کے حامیوں کی گاڑی پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہےنامعلوم افراد کی جانب سے کی جانے والی اس فائرنگ کے واقعے کی تصدیق خود ن لیگ کے امیدوار ڈاکٹر محمد زمان نے کر دی ہے۔

    ڈاکٹر محمد زمان کے مطابق فائرنگ کے اس حملے کے نتیجے میں خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے انہوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھلی دہشت گردی ہے اور وہ علاقے میں پُرامن انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں فائرنگ کے اس واقعے کے ذمہ دار پا کستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار محمد نسیم ہیں۔

    انہوں نے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    واضح رہے کہ کل ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں امن و امان کی صورتحال اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ دیامر لیفٹیننٹ (ر) محمد اویس نے ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔