Baaghi TV

Blog

  • آزادکشمیرکی عوام نے  احتجاجی کال مستردکردی،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 72 گرفتار

    آزادکشمیرکی عوام نے احتجاجی کال مستردکردی،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 72 گرفتار

    مظفرآباد سمیت پورے آزادکشمیرمیں عوام اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہیں،کوئی دکان بھی بند نہیں ،تمام مارکیٹیں کھلی ہیں،بازاروں میں رش ہے، سڑکوں پر ٹریفک بھی رواں دواں ہے،باشعورعوام نے آزاد کشمیرکا امن وامان خراب کرنے کی مذموم کوششوں کو مسترد کردیا.

    آزادکشمیر کے باشعورعوام کاکہنا تھاکہ پورے آزادکشمیرمیں حالات معمول کے مطابق چل رہے ہیں،آزادکشمیر میں بازارکھلے اور لوگوں اپنے معمولات زندگی میں مصروف ہیں،کوئی دکان بھی بند نہیں ،تمام مارکیٹیں کھلی ہیں،بازاروں میں رش ہے، لوگ خریدو فروخت کیلئے باہرنکلے ہوئے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی رواں دواں ہے، بازاروں میں رونق اور ٹریفک کی روانی نے ثابت کر دیا کہ باشعورعوام نےآزادکشمیرکا امن وامان خراب کرنے کی مذموم کوششوں کو مسترد کردیا

    راولاکوٹ سمیت آزادکشمیر کے مختلف شہروں میں معمولاتِ زندگی معمول کے مطابق جاری، بازار اور کاروباری مراکز کھلے ہیں،راولاکوٹ میں ٹریفک رواں دواں، تعلیمی، کاروباری اور سماجی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں،شہر بھر میں مرکزی بازاروں میں تجارتی او کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں، راولاکوٹ شہر میں بازاروں کی رونق اور شہری سرگرمیوں نے معمول کی زندگی کی عکاسی کر دی،راولاکوٹ کے عوام پر امن ماحول میں مطمئن اور معمول کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں

    آزاد جموں کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر نے عوامی ایکشن کمیٹی کی حقیقت سامنے رکھ دی
    شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ عوام ایکشن کمیٹی نے پہلے بھی دو تین بار امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی،ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنا چاہتی ہے، آزاد کشمیر کی عوام نے ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال کو مسترد کر دیا ہے،ایکشن کمیٹی کا امن مخالف ایجنڈا ناکام عوام نے احتجاج کا بائیکاٹ کر دیا، آج پورے آزاد کشمیر میں کاروبار معمول کے مطابق کھلے ہیں،آزاد کشمیر کے عوام مکمل امن و امان کے ساتھ اپنے روزگار میں مصروف ہیں، شاہ غلام قادر نے کہا کہ شرپسند عناصر کے سامنے آزاد کشمیر پولیس نے امن و امان کو یقینی بنایا، آزاد کشمیر میں تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں،آزاد کشمیر میں انتخابات پُرامن اور جمہوری انداز میں مکمل ہوں گے

    دوسری جانب آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے سے تعلق رکھنے والے 72 افراد کو گرفتار کر لیا گیاہے ، ترجمان انسپیکٹر جنرل پولیس کے مطابق عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں،گرفتار افراد کے قبضے سے اسلحہ، مواصلاتی آلات اور مشتبہ دستاویزات برآمد ہوئی ہیں،ترجمان آئی جی پی کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کے بعض عناصر عوامی مسائل کے نام پر امن و امان خراب کر رہے ہیں۔

  • سوریا کمار یادیو آؤٹ، شریاس ائیر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا نیا کپتان مقرر

    سوریا کمار یادیو آؤٹ، شریاس ائیر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا نیا کپتان مقرر

    سوریا کمار یادیو سے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی کپتانی واپسی لے لی گئی، بھارتی بورڈ نے شریاس ائیر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا نیا کپتان مقرر کر دیا۔

    بھارت نے آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹی20 سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں 15 سالہ ابھرتے ہوئے بیٹر ویبھوو سوریا ونشی کو پہلی بار شامل کر لیا گیا ہے جبکہ شریاس ائیر کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ کے مطابق سوریا ونشی نے حالیہ انڈین پریمیئر لیگ سیزن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 16 میچز میں 776 رنز بنائے اور کرس گیل کا ایک سیزن میں سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ بھی توڑ دیا،وہ راجستھان رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے لیگ کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی بنے جنہیں بیک وقت موسٹ ویلیوایبل پلیئر اور بہترین ابھرتا ہوا کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    اگر سوریاونشی کو آئرلینڈ یا انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو کا موقع ملتا ہے تو وہ بھارت کی مردوں کی سینئر ٹیم کی نمائندگی کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن جائیں گے اور سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑ دیں گے، جنہوں نے 16 سال کی عمر میں ڈیبیو کیا تھا،سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین اجیت اگارکر نے کہا کہ سوریاونشی نے نہ صرف سیزن کے آغاز سے ہی عمدہ کھیل پیش کیا بلکہ دباؤ والے مقابلوں میں بھی ٹیم کو تقریباً تنہا کامیابیوں سے ہمکنار کرایا۔

    دوسری جانب کپتان سوریا کمار یادو کو ناقص فارم کے باعث ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا ہے، جبکہ ان کی جگہ 31 سالہ مڈل آرڈر بلے باز شریاس آئیر کو باقاعدہ طور پر انڈین ٹیم کا نیا کپتان مقرر کیا گیا ہے یہ فیصلہ رواں ماہ جون اور جولائی میں ہونے والے دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے کیا گیا ہے۔

    شریاس ائیر کو کپتانی سونپنے کا فیصلہ ان کی قیادت میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو 2024 کا آئی پی ایل ٹائٹل جتوانے کے بعد کیا گیابھارت اس ماہ کے آخر میں آئرلینڈ کے خلاف دو ٹی20 میچز کھیلے گا، جس کے بعد جولائی میں انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز شیڈول ہے۔

    قیادت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ نائب کپتانی کے عہدے پر بھی تبدیلی کی گئی ہے اور آل راؤنڈر اکشر پٹیل کی جگہ تلک ورما کو ٹیم کا نیا نائب کپتان نامزد کیا گیا ہے۔

    حال ہی میں ٹیم کو اپنی قیادت میں عالمی کپ جتوانے والے 35 سالہ سوریا کمار یادو کے لیے حالیہ عالمی کپ اور انڈین پریمیئر لیگ کا سیزن انتہائی مایوس کن رہا، جہاں وہ رنز بنانے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے، سلیکٹرز کا ماننا ہے کہ اگلا عالمی کپ آنے تک ان کی عمر 38 برس ہوجائے گی، اس لیے مستقبل کے لیے ابھی سے نوجوان قیادت کو تیار کرنا ضروری ہے۔

    دوسری جانب نئے کپتان شریاس آئیر نے دسمبر 2023 کے بعد سے کوئی بین الاقوامی 20 اوورز کا میچ نہیں کھیلا تھا، تاہم ان کے پاس انڈین پریمیئر لیگ میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو چیمپیئن بنانے اور دیگر فرنچائزز کی کامیاب قیادت کا وسیع تجربہ موجود ہے، جس کی وجہ سے سلیکٹرز نے انہیں اس منصب کے لیے بہترین امیدوار قرار دیا ہے۔

    نئے اسکواڈ میں ہاردک پانڈیا اور جسپریت بمراہ جیسے سینیئر کھلاڑیوں کو آرام دیا گیا ہے، جبکہ رنکو سنگھ اور کلدیپ یادو کو اس بار ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیانتیش کمار ریڈی، روی بشنوئی اور پرنس یادو جیسے نوجوان کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے –

  • محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    گلگت بلتستان: محکمہ موسمیات کے بروقت پیشگی الرٹس اور ارلی وارننگ کے باعث سیکڑوں قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔

    محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ نگر میں واقع ہِسپر ہوُپر گلیشیئر کے پھٹنے اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر قبل از وقت الرٹ جاری کیا گیا تھا الرٹ کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 5 جون کی رات 8 بج کر 52 منٹ پر ہِسپر گلیشیئر سے پانی کا اخراج شروع ہوا جو بعد ازاں خطرناک گلیشیائی سیلابی ریلے میں تبدیل ہوگیا،تاہم بروقت وارننگ اور مؤثر اقدامات کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • نیب کا کھڑاک، بحرِیہ ٹاؤن سے منسلک 45 لاکھ ڈالر مالیت کے اکاؤنٹس منجمد

    نیب کا کھڑاک، بحرِیہ ٹاؤن سے منسلک 45 لاکھ ڈالر مالیت کے اکاؤنٹس منجمد

    اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے بحرِیہ ٹاؤن سے منسلک ماریشس میں موجود 45 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے دو بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔

    نیب ذرائع کے مطابق ملزمان احمد علی ریاض اور مبشرہ علی ملک کے ماریشس میں واقع سلور بینک کے دو غیر ملکی اکاؤنٹس کو احتساب عدالت کراچی کی باقاعدہ اجازت اور منظوری کے بعد منجمد کیا گیا۔ یہ کارروائی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت عمل میں لائی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ بحرِیہ ٹاؤن نے مبینہ طور پر غیر قانونی حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورک کے ذریعے جرائم سے حاصل شدہ رقوم پاکستان سے بیرون ملک منتقل کیں۔ ابتدائی طور پر یہ رقم متحدہ عرب امارات منتقل کی گئی اور بعد ازاں منی لانڈرنگ کے ذریعے ماریشس پہنچائی گئی۔

    نیب کے مطابق پاکستان سے منتقل ہونے والی رقوم مشترکہ بینک اکاؤنٹس میں جمع کی گئیں، جن میں اس وقت تقریباً 45 لاکھ امریکی ڈالر موجود ہیں۔ اثاثہ جات کی بازیابی کے جاری عمل کے تحت ان رقوم کو قانونی طور پر منجمد کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ نیب نے وزارتِ خارجہ کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جبکہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مذکورہ رقوم کی ضبطی اور پاکستان واپسی کے لیے اقدامات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

    نیب حکام کے مطابق یہ کارروائی ادارے کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے اثاثوں کا دنیا بھر میں تعاقب کیا جائے گا اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والی رقوم کی بازیابی یقینی بنائی جائے گی۔نیب ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ غیر قانونی اثاثوں کی واپسی کے لیے متعلقہ بین الاقوامی اداروں اور حکام سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ منجمد رقوم کو جلد از جلد پاکستان منتقل کیا جا سکے۔

  • پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پر ڈرامہ بنایا جائے،حنا پرویز بٹ

    پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پر ڈرامہ بنایا جائے،حنا پرویز بٹ

    لاہور : مسلم لیگ ن کی رہنما اور چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے مبینہ طور پر منشیات فروشی میں ملوث کردار ‘انمول عرف پنکی’ پر ڈرامہ بنانے کی خبروں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ پروڈکشن ہاؤسز کو آڑے ہاتھوں لے لیا، کہا پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پرڈرامہ بنایا جائے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک بیان میں حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ اگر ‘پنکی’ پر واقعی کوئی ڈرامہ یا سیریل بنائی جا رہی ہے تو یہ ایک انتہائی شرمناک اور چھچھوری حرکت ہے،ایک جرائم پیشہ اور منشیات فروش خاتون معاشرے کے لیے کسی صورت رول ماڈل نہیں ہو سکتی جس کی زندگی کو سکرین پر پیش کیا جائے۔

    چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے اس اقدام کو ملک کی باوقار خواتین کی تذلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ان تمام عورتوں کی صریحاً بے عزتی ہے جنہوں نے معاشرے کی ترقی اور سدھار میں مثبت کردار ادا کیا ہے اور آج بھی کر رہی ہیں۔

    انہوں نے میڈیا انڈسٹری کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم کب تک صرف ویورشپ اور پیسے کے لالچ میں ایسے منفی اور جرائم پیشہ افراد کو ہیرو یا رول ماڈل بنا کر پیش کرتے رہیں گے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی کسی بھی کوشش کو فوری طور پر روکا جانا چاہیےجبکہ معاشرے میں بے شمار مثبت اور قابلِ تقلید شخصیات موجود ہیں جن کی جدوجہد اور کامیابیاں اجاگر کیے جانے کی مستحق ہیں۔

  • سائنسدانوں نے 5 ہزار سال پرانی ممی کےخمیر کی مدد سے روٹی تیارکر لی

    سائنسدانوں نے 5 ہزار سال پرانی ممی کےخمیر کی مدد سے روٹی تیارکر لی

    سائنسدانوں نے ایک حیران کن تجربے میں 5 ہزار سال پرانی ممی سے حاصل کیے گئے خمیر کی مدد سے کھٹی روٹی (سورڈو بریڈ) تیار کر لی ہےمحققین اب اسی قدیم خمیر کو استعمال کرتے ہوئے بیئر بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

    یوراک ریسرچ کے انسٹی ٹیوٹ برائے ممی اسٹڈیز میں کام کرنے والے ماہرِ حیاتیات محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی سے حاصل شدہ خمیر کے نمونوں پر تحقیق کے بعد روٹی تیار کی محمد سرحان کے مطابق تجربات کے دوران بالآخر ایسا آٹا تیار کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی جو 24 گھنٹوں کے اندر عام خمیر کی طرح اچھی طرح پھول گیا، انہوں نے اس سے قبل کبھی روٹی نہیں بنائی تھی، اس لیے ابتدائی نتائج میں مزید بہتری کی گنجائش موجود تھی، تاہم یہ تجربات اپنی نوعیت کے پہلے تجربات تھے اور ان کے نتائج حوصلہ افزا ثابت ہوئے۔

    محققین اب جرمنی کی معروف بریونگ کمپنی کے ماہرین خوراک کے ساتھ مل کر یہ جانچنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ آیا یہی قدیم خمیر بیئر کی تیاری میں بھی استعما ل کیا جا سکتا ہے یا نہیں یہ مخصوص خمیر سرد ماحول میں بہتر نشوونما پاتا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ خمیر ممی کے جسم میں اس کی زندگی کے دورا ن نہیں بلکہ موت کے کچھ عرصے بعد داخل ہوا تھا۔

    یہ ممی، جسے ’اوٹزی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یورپ کی قدیم انسانی زندگی کے بارے میں اہم معلومات کا خزانہ سمجھی جاتی ہے تقریباً 5 ہزار سال پرانی یہ لاش غیر معمولی طور پر محفوظ حالت میں دریافت ہوئی تھی، اس کے جسم پر 61 ٹیٹو کے نشانات موجود ہیں، جو اب تک دریافت ہونے والے قدیم ترین ٹیٹوز میں شمار ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اوٹزی کو پہاڑوں میں ایک تیر مار کر قتل کیا گیا تھا، جس کے باعث اس کی موت کو دنیا کے قدیم ترین حل طلب قتل کے واقعات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ نئی تحقیق قدیم مائیکرو آرگینزمز اور خوراک کی تاریخ کے مطالعے میں ایک دلچسپ پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔

  • دو اسرائیلی وزرا کےآئرلینڈ  میں داخلے پر پابندی

    دو اسرائیلی وزرا کےآئرلینڈ میں داخلے پر پابندی

    آئرلینڈ کے وزیر انصاف جم او کالگھن نے اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزالیل سموٹرچ پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی تصدیق آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کی ہے۔

    آئرش نشریاتی ادارے آر ٹی ای کے مطابق وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ ان کے خیال میں یورپی یونین کو بھی ان وزرا کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنی چاہئیں فرانس، اسپین اور اٹلی پہلے ہی یورپی یونین سے بن گویر پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر چکے ہیں بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور آئرلینڈ اس سلسلے میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گا دونوں وزرا کا رویہ یورپی یونین کی سطح پر پابندیوں کا جواز فراہم کرتا ہے، تاہم یہ الگ بات ہے کہ آیا اس مقصد کے لیے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی مطلوبہ حمایت حاصل ہو سکے گی یا نہیں۔

    دوسری جانب آئرلینڈ کے وزیر انصاف کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں اسرائیلی وزرا پر سفری پابندیاں اس ہفتے کابینہ کے باضابطہ فیصلے کے بغیر آئرش حکومت کی منظوری کے بعد نافذ کی گئی ہیں وزیر انصاف نے امیگریشن حکام کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ اگر اتمار بن گویر یا بیزالیل سموٹرچ آئرلینڈ میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق گزشتہ ماہ فرانس نے بھی بن گویر کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی یہ اقدام ایک ایسی ویڈیو کے بعد کیا گیا تھا جس میں بن گویر غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے سے گرفتار کیے گئے پابند کارکنوں کا مذاق اڑاتے دکھائی دیے تھے اس واقعے پر امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی بن گویر کے طرزِ عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدامات اسرائیل کی اقدار کے مطابق نہیں ہیں۔

    گزشتہ برس برطانیہ، آسٹریلیا، ناروے، کینیڈا اور نیوزی لینڈ نے بھی بن گویر اور سموٹرچ پر فلسطینی برادریوں کے خلاف بار بار تشدد پر اکسانے کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کی تھیں ان پابندیوں کے تحت دونوں وزرا کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی جبکہ ان کے اثاثے منجمد کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مغربی ملک کی حکومت نے اسرائیلی وزرا کے خلاف اس نوعیت کی پابندیاں عائد کی تھیں۔

    اُس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا تھا کہ وزیر خزانہ سموٹرچ اور وزیر قومی سلامتی بن گویر نے انتہاپسندانہ تشدد کو ہوا دی اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی کی،جمعے کو مونٹی نیگرو میں یورپی یونین اور مغربی بلقان سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئر ش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ دونوں اسرائیلی وزرا کے بیانات اور اقدامات فلسطینیوں کو فلسطین سے ختم کرنے کی خواہش کے مترادف ہیں۔

  • بھارت ، 35 سال پرانے قتل کیس  میں85 سالہ ملزم کو ملی سزا

    بھارت ، 35 سال پرانے قتل کیس میں85 سالہ ملزم کو ملی سزا

    بھارت کی ایک عدالت نے 35 سال پرانے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 85 سالہ ملزم دیپ رائے کو تین سال قید اور 25 ہزار بھارتی روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے دیپ رائے کو قتل اور آرمز ایکٹ کی خلاف ورزی کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا۔ عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے بعد ضعیف ملزم کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں انہیں سکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔وائرل ویڈیو میں ملزم کی کمر جھکی ہوئی نظر آتی ہے جبکہ وہ انتہائی دشواری کے ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ دیپ رائے کی عمر اور جسمانی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا میں نرمی کی جائے۔ عدالت نے اس درخواست کو جزوی طور پر قبول کرتے ہوئے نسبتاً کم مدت کی سزا سنائی،عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ ملزم کی عمر 85 سال ہے اور وہ جسمانی طور پر شدید کمزوری اور معذوری کا شکار ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ جیل میں سخت سزا برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تاہم قانون کے تقاضوں کے مطابق جرم پر سزا دینا بھی ضروری تھا۔

    عدالت نے مزید کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملزم کو کم سزا دی گئی، تاہم انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سزا کا نفاذ ناگزیر تھا۔ فیصلے کے بعد یہ مقدمہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ جرم کے وقوع پذیر ہونے اور سزا سنائے جانے کے درمیان تقریباً 35 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔

  • گرفتار فتنہ الخوارج دہشتگرد کے تہلکہ خیز انکشافات

    سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں تنظیم کے ڈھانچے، مالی معاونت، تربیتی مراکز اور دہشتگرد کارروائیوں سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ خوارجی نیٹ ورک کو افغانستان سے تربیت اور مالی مدد حاصل ہوتی ہے جبکہ تنظیم کے ارکان بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں بھی ملوث ہیں اس نے 12 جنوری 2025 کو اپنے والد کے ساتھ جھگڑے کے بعد ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    عمر دین کے مطابق تنظیم کے تمام اہم کمانڈروں کے ساتھ 60 سے 70 افغان جنگجو موجود ہیں جنہوں نے افغانستان میں تربیت حاصل کی ہے اس نے اعتراف کیا کہ خوارجی نیٹ ورک مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، جن میں شادی خیل بیس پر حملہ اور کوٹہ خواہ روڈ پر دھماکا بھی شامل ہے کوٹہ خواہ روڈ پر ہونے والے دھماکے میں ماہ رمضان کے دوران 7 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔

    عمر دین عرف جذبہ دعویٰ کیا کہ تنظیم کے ارکان منشیات کے عادی ہیں اور اپنے مراکز کے اندر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہتے ہیں خوارجی کمانڈر لڑکوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات میں بھی ملوث ہیں فتنہ الخوارج کو افغانستان میں موجود کمانڈروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے اور تنظیم مختلف غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے بھی اپنے اخراجات پورے کرتی ہے خوارجی گروہ بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے اور اغوا برائے تاوان جیسی وارداتوں میں بھی ملوث ہے، جبکہ تنظیمی کمانڈر شریعت کے نفاذ اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں۔

    عمر دین عرف جذبہ نے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوارج کے جھوٹے دعوؤں اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور ایسے عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔

  • تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جب کبھی کسی چائے خانے پر بیٹھتا ہوں، گلیوں سے گزرتا ہوں، یا کسی بازار میں قدم رکھتا ہوں،تو ایک منظر جو سب سے پہلے آنکھوں سے ٹکراتا ہے، وہ ہے سگریٹ کا دھواں۔ نوجوان لڑکے، ادھیڑ عمر مرد، حتی کہ کئی مقامات پر خواتین کے ہاتھوں میں جلتا ہوا سگریٹ نظر آتا ہے۔ ہم سب کےلیے یہ تمام عام مناظر ہوتے ہیں۔لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کتنی زندگیاں، کتنے خاندان، کتنے خواب اس دھوئیں میں گم ہو رہے ہیں؟
    اعداد و شمار کے مطابق اس دھوئیں میں گھرے پاکستان کی تصویر انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ریسرچ کونسل کی معلومات اور PMC میں شائع شدہ مختلف تحقیقات کے مطابق، پاکستان میں تمباکو نوشی کی اوسط قومی شرح 21.6 فیصد ہے۔جس میں مردوں کی شرح 36 فیصد اور خواتین کی قریبا 9 فیصد ہے۔ یہ تحقیق 9441 افراد پر شہری و دیہی دونوں علاقوں میں کی گئی۔

    گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (GATS) 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 27 لاکھ بالغ افراد ابھی بھی تمباکو مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تعداد پاکستان کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ بنتی ہے، جو کسی بھی ذی شعور شخص کو چونکا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو چونکا دینے کےلیے یہ شرح بھی ناکافی ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی محض سگریٹ تک محدود نہیں۔ یہاں تمباکو کی مختلف اشکال و اقسام موجود ہیں، جیسا کہ سگریٹ، حقہ، شیشہ، نسوار، گٹکا، بیڑی اور ویپ وعیرہ۔شیشہ کا رواج تو خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق اس کی شرح 33 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ یہ ایک سنگین صورتحال ہے، کیونکہ شیشہ کو عام طور پر کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ سائنسی شواہد اس کے برعکس ہیں۔

    لوگ تمباکو نوشی کیوں شروع کرتے ہیں؟اس کا جواب آسانی سے اور درست دینا تو مشکل ہے، تاہم پاکستان میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیق ‘Causes of Smoking in Pakistan: An Analysis of Social Factors’ کے مطابق تمباکو نوشی کے آغاز میں کئی سماجی، نفسیاتی اور ماحولیاتی عوامل کار فرما ہوسکتے ہیں۔
    ہم جماعتوں کا دباؤ ، Peer Pressure:

    ایک اور تحقیق کے مطابق 50 فیصد نوجوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ سگریٹ شیئر کرنے کے بعد تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

    گھریلو ماحول اور خاندانی اثر:
    پاکستان میں گھر کا ماحول بھی تمباکو نوشی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر میں باپ، چچا یا بڑا بھائی تمباکو نوشی کرتا ہو، تو بچہ اسے ایک معمول کا عمل سمجھنے لگتا ہے۔ جرنل آف اسموکنگ سیسیشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کم تعلیم یافتہ اور غریب طبقوں میں تمباکو نوشی کی شرح زیادہ ہے۔

    تناؤ، غربت اور مایوسی:
    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں تعلیم کی کمی،معاشی بحران، بے روزگاری اور سماجی مسائل کی بھرمار ہے۔ وہاں بہت سے لوگ کم علمی کی وجہ سے تمباکو نوشی کو ذہنی سکون کا ذریعہ سمجنے لگتےہیں۔ اور کئی لوگوں جب کسی مسئلے کا شکار ہوں، یا گھریلو لرائی جھگڑے میں سگریٹ پی کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ یہ عادت لت بن جاتی ہے۔

    تمباکو نوشی کے صحت پر اثرات:
    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تمباکو دنیا بھر میں قابل گریز اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
    ۔The Friday Times میں جون 2026 میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو ہر سال 1 لاکھ 92 ہزار سے زائد انسانی جانوں کا قتل کرتا ہے۔یعنی روزانہ 526 سے زیادہ اموات، ہر گھنٹے میں 22 قتل۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ ہم میں سے کسی کا بھائی، باپ، شوہر اور بیٹے ہوتے ہیں۔ اگر آپ تمباکو نوشی نہیں کر رہے تو یہ مت سمجھتے رہیے گا کہ ہم محفوظ ہیں کیونکہ تمباکو نوشی کا خمیازہ صرف وہ نہیں بھگتتے جو خود پیتے ہیں۔ بلکہ ان کے اردگرد بیٹھے بے قصور لوگ بھی اس دھوئیں کا شکار بنتے ہیں۔ گلوبل برڈن آف ڈیزیز رپورٹ (2019) کے مطابق پاکستان میں ہر سال 31000 اموات صرف پسیو اسموکنگ (سیکنڈ ہینڈ اسموک) کی وجہ سے ہوتی ہیں۔دنیا بھر میں پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کرنا جرم ہے۔ لیکن پاکستان میں صرف کاغذوں کے حد تک، گاڑیوں، ہوٹلوں، دفاتر حتی کہ صحت کے مراکز میں بھی آپ بطور پسیو سموکر متاثر ہوتے ہیں، مگر پوچھنے والا کیوئی نہیں۔

    پاکستان میں مردوں کی کینسر سے ہونے والی اموات میں سے 23 فیصد منہ کے کینسر اور پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ان دونوں کا براہ راست تعلق تمباکو نوشی سے ہے۔ تمباکو مجموعی طور پر پاکستان میں غیر متعدی امراض (NCDs) سے ہونے والی 17.53 فیصد اموات کا ذمہ دار ہے۔ایک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں روزانہ 1200 بچے جن کی عمر قریبا 15 سال سے 17 کے درمیان ہوتی ہے جو تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ یہ بچے نیکوٹین کی لت کا شکار ہو کر نہ صرف اپنی صحت برباد کرتے ہیں بلکہ تعلیمی کارکردگی، ذہنی نشوونما اور مستقبل برباد کر بیٹھتے ہیں۔

    معاشی تباہی اور تمباکو نوشی:
    یون کہنے کو تو تمباکو کی صنعت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور حکومت کو ٹیکس ملتا ہے۔ لیکن یہ دلیل اس وقت بالکل کھوکھلی ثابت ہو جاتی ہے جب ہم اس کا معاشی حساب کریں۔
    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) 2021 کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کا کل سالانہ معاشی بوجھ 615.07 ارب روپے (یعنی 3.85 ارب امریکی ڈالر) ہے۔ جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ یہ تمباکو صنعت کی حکومتی آمدنی سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
    ۔PubMed میں شائع 2022 ایک آرٹیکل کے مطابق کیسنر، دل کی بیماریوں اور سانس کی تکالیف جیسی تین بڑی بیماریوں کا علاج معالجہ اکیلے 437.8 ارب روپے (2.7 ارب ڈالر) سالانہ کھا جاتا ہے۔ اگر یہ پیسہ صحت، تعلیم یا دیگر ملکی بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیا جائے تو کتنے ہسپتال بن سکتے ہیں، کتنے اسکول کھل سکتے ہیں، کتنے غریب گھرانوں کی زندگی بدل سکتی ہئے۔ تمباکو نوشی صرف انسانی صحت کا دشمن نہیں، بلکہ معاشی قاتل بھی ہے۔

    پاکستان نے 2004 میں عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول (FCTC) پر دستخط کیے۔ اس کے بعد سے ملک میں تمباکو کنٹرول کے قوانین موجود ہیں۔ تعلیمی اداروں کے قریب فروخت پر پابندی، تشہیر پر پابندی وغیرہ ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل نہیں ہوتا۔ تمباکو پروڈکٹس پر ٹیکس کے حوالے سے بھی صورتحال مایوس کن ہے۔ جبکہ بھاری ٹیکس لگانا، تمباکو نوشی میں کمی کا بہت موثر طریقہ ہوسکتا ہے۔
    ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ GATS 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 10 سالوں میں تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی آئی ہے۔ لیکن یہ کمی ناکافی ہے اور اس رفتار کو بہت تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ نسل تباہ ہوجائے گی۔ تمباکو کا دھواں صرف سگریٹ کی نوک سے نہیں اٹھاتا بلکہ یہ معاشی وسائل اور قومی مستقبل کو بھی جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔

    (نوٹ: یہ آرٹیکل مختلف سائنسی و تحقیقاتی رپورٹس سے ماخوذ ہے)