Baaghi TV

Blog

  • بھارت ، 35 سال پرانے قتل کیس  میں85 سالہ ملزم کو ملی سزا

    بھارت ، 35 سال پرانے قتل کیس میں85 سالہ ملزم کو ملی سزا

    بھارت کی ایک عدالت نے 35 سال پرانے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 85 سالہ ملزم دیپ رائے کو تین سال قید اور 25 ہزار بھارتی روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے دیپ رائے کو قتل اور آرمز ایکٹ کی خلاف ورزی کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا۔ عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے بعد ضعیف ملزم کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں انہیں سکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔وائرل ویڈیو میں ملزم کی کمر جھکی ہوئی نظر آتی ہے جبکہ وہ انتہائی دشواری کے ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ دیپ رائے کی عمر اور جسمانی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا میں نرمی کی جائے۔ عدالت نے اس درخواست کو جزوی طور پر قبول کرتے ہوئے نسبتاً کم مدت کی سزا سنائی،عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ ملزم کی عمر 85 سال ہے اور وہ جسمانی طور پر شدید کمزوری اور معذوری کا شکار ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ جیل میں سخت سزا برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تاہم قانون کے تقاضوں کے مطابق جرم پر سزا دینا بھی ضروری تھا۔

    عدالت نے مزید کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملزم کو کم سزا دی گئی، تاہم انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سزا کا نفاذ ناگزیر تھا۔ فیصلے کے بعد یہ مقدمہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ جرم کے وقوع پذیر ہونے اور سزا سنائے جانے کے درمیان تقریباً 35 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔

  • گرفتار فتنہ الخوارج دہشتگرد کے تہلکہ خیز انکشافات

    سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں تنظیم کے ڈھانچے، مالی معاونت، تربیتی مراکز اور دہشتگرد کارروائیوں سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ خوارجی نیٹ ورک کو افغانستان سے تربیت اور مالی مدد حاصل ہوتی ہے جبکہ تنظیم کے ارکان بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں بھی ملوث ہیں اس نے 12 جنوری 2025 کو اپنے والد کے ساتھ جھگڑے کے بعد ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    عمر دین کے مطابق تنظیم کے تمام اہم کمانڈروں کے ساتھ 60 سے 70 افغان جنگجو موجود ہیں جنہوں نے افغانستان میں تربیت حاصل کی ہے اس نے اعتراف کیا کہ خوارجی نیٹ ورک مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، جن میں شادی خیل بیس پر حملہ اور کوٹہ خواہ روڈ پر دھماکا بھی شامل ہے کوٹہ خواہ روڈ پر ہونے والے دھماکے میں ماہ رمضان کے دوران 7 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔

    عمر دین عرف جذبہ دعویٰ کیا کہ تنظیم کے ارکان منشیات کے عادی ہیں اور اپنے مراکز کے اندر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہتے ہیں خوارجی کمانڈر لڑکوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات میں بھی ملوث ہیں فتنہ الخوارج کو افغانستان میں موجود کمانڈروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے اور تنظیم مختلف غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے بھی اپنے اخراجات پورے کرتی ہے خوارجی گروہ بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے اور اغوا برائے تاوان جیسی وارداتوں میں بھی ملوث ہے، جبکہ تنظیمی کمانڈر شریعت کے نفاذ اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں۔

    عمر دین عرف جذبہ نے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوارج کے جھوٹے دعوؤں اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور ایسے عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔

  • تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جب کبھی کسی چائے خانے پر بیٹھتا ہوں، گلیوں سے گزرتا ہوں، یا کسی بازار میں قدم رکھتا ہوں،تو ایک منظر جو سب سے پہلے آنکھوں سے ٹکراتا ہے، وہ ہے سگریٹ کا دھواں۔ نوجوان لڑکے، ادھیڑ عمر مرد، حتی کہ کئی مقامات پر خواتین کے ہاتھوں میں جلتا ہوا سگریٹ نظر آتا ہے۔ ہم سب کےلیے یہ تمام عام مناظر ہوتے ہیں۔لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کتنی زندگیاں، کتنے خاندان، کتنے خواب اس دھوئیں میں گم ہو رہے ہیں؟
    اعداد و شمار کے مطابق اس دھوئیں میں گھرے پاکستان کی تصویر انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ریسرچ کونسل کی معلومات اور PMC میں شائع شدہ مختلف تحقیقات کے مطابق، پاکستان میں تمباکو نوشی کی اوسط قومی شرح 21.6 فیصد ہے۔جس میں مردوں کی شرح 36 فیصد اور خواتین کی قریبا 9 فیصد ہے۔ یہ تحقیق 9441 افراد پر شہری و دیہی دونوں علاقوں میں کی گئی۔

    گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (GATS) 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 27 لاکھ بالغ افراد ابھی بھی تمباکو مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تعداد پاکستان کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ بنتی ہے، جو کسی بھی ذی شعور شخص کو چونکا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو چونکا دینے کےلیے یہ شرح بھی ناکافی ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی محض سگریٹ تک محدود نہیں۔ یہاں تمباکو کی مختلف اشکال و اقسام موجود ہیں، جیسا کہ سگریٹ، حقہ، شیشہ، نسوار، گٹکا، بیڑی اور ویپ وعیرہ۔شیشہ کا رواج تو خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق اس کی شرح 33 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ یہ ایک سنگین صورتحال ہے، کیونکہ شیشہ کو عام طور پر کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ سائنسی شواہد اس کے برعکس ہیں۔

    لوگ تمباکو نوشی کیوں شروع کرتے ہیں؟اس کا جواب آسانی سے اور درست دینا تو مشکل ہے، تاہم پاکستان میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیق ‘Causes of Smoking in Pakistan: An Analysis of Social Factors’ کے مطابق تمباکو نوشی کے آغاز میں کئی سماجی، نفسیاتی اور ماحولیاتی عوامل کار فرما ہوسکتے ہیں۔
    ہم جماعتوں کا دباؤ ، Peer Pressure:

    ایک اور تحقیق کے مطابق 50 فیصد نوجوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ سگریٹ شیئر کرنے کے بعد تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

    گھریلو ماحول اور خاندانی اثر:
    پاکستان میں گھر کا ماحول بھی تمباکو نوشی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر میں باپ، چچا یا بڑا بھائی تمباکو نوشی کرتا ہو، تو بچہ اسے ایک معمول کا عمل سمجھنے لگتا ہے۔ جرنل آف اسموکنگ سیسیشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کم تعلیم یافتہ اور غریب طبقوں میں تمباکو نوشی کی شرح زیادہ ہے۔

    تناؤ، غربت اور مایوسی:
    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں تعلیم کی کمی،معاشی بحران، بے روزگاری اور سماجی مسائل کی بھرمار ہے۔ وہاں بہت سے لوگ کم علمی کی وجہ سے تمباکو نوشی کو ذہنی سکون کا ذریعہ سمجنے لگتےہیں۔ اور کئی لوگوں جب کسی مسئلے کا شکار ہوں، یا گھریلو لرائی جھگڑے میں سگریٹ پی کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ یہ عادت لت بن جاتی ہے۔

    تمباکو نوشی کے صحت پر اثرات:
    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تمباکو دنیا بھر میں قابل گریز اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
    ۔The Friday Times میں جون 2026 میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو ہر سال 1 لاکھ 92 ہزار سے زائد انسانی جانوں کا قتل کرتا ہے۔یعنی روزانہ 526 سے زیادہ اموات، ہر گھنٹے میں 22 قتل۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ ہم میں سے کسی کا بھائی، باپ، شوہر اور بیٹے ہوتے ہیں۔ اگر آپ تمباکو نوشی نہیں کر رہے تو یہ مت سمجھتے رہیے گا کہ ہم محفوظ ہیں کیونکہ تمباکو نوشی کا خمیازہ صرف وہ نہیں بھگتتے جو خود پیتے ہیں۔ بلکہ ان کے اردگرد بیٹھے بے قصور لوگ بھی اس دھوئیں کا شکار بنتے ہیں۔ گلوبل برڈن آف ڈیزیز رپورٹ (2019) کے مطابق پاکستان میں ہر سال 31000 اموات صرف پسیو اسموکنگ (سیکنڈ ہینڈ اسموک) کی وجہ سے ہوتی ہیں۔دنیا بھر میں پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کرنا جرم ہے۔ لیکن پاکستان میں صرف کاغذوں کے حد تک، گاڑیوں، ہوٹلوں، دفاتر حتی کہ صحت کے مراکز میں بھی آپ بطور پسیو سموکر متاثر ہوتے ہیں، مگر پوچھنے والا کیوئی نہیں۔

    پاکستان میں مردوں کی کینسر سے ہونے والی اموات میں سے 23 فیصد منہ کے کینسر اور پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ان دونوں کا براہ راست تعلق تمباکو نوشی سے ہے۔ تمباکو مجموعی طور پر پاکستان میں غیر متعدی امراض (NCDs) سے ہونے والی 17.53 فیصد اموات کا ذمہ دار ہے۔ایک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں روزانہ 1200 بچے جن کی عمر قریبا 15 سال سے 17 کے درمیان ہوتی ہے جو تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ یہ بچے نیکوٹین کی لت کا شکار ہو کر نہ صرف اپنی صحت برباد کرتے ہیں بلکہ تعلیمی کارکردگی، ذہنی نشوونما اور مستقبل برباد کر بیٹھتے ہیں۔

    معاشی تباہی اور تمباکو نوشی:
    یون کہنے کو تو تمباکو کی صنعت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور حکومت کو ٹیکس ملتا ہے۔ لیکن یہ دلیل اس وقت بالکل کھوکھلی ثابت ہو جاتی ہے جب ہم اس کا معاشی حساب کریں۔
    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) 2021 کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کا کل سالانہ معاشی بوجھ 615.07 ارب روپے (یعنی 3.85 ارب امریکی ڈالر) ہے۔ جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ یہ تمباکو صنعت کی حکومتی آمدنی سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
    ۔PubMed میں شائع 2022 ایک آرٹیکل کے مطابق کیسنر، دل کی بیماریوں اور سانس کی تکالیف جیسی تین بڑی بیماریوں کا علاج معالجہ اکیلے 437.8 ارب روپے (2.7 ارب ڈالر) سالانہ کھا جاتا ہے۔ اگر یہ پیسہ صحت، تعلیم یا دیگر ملکی بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیا جائے تو کتنے ہسپتال بن سکتے ہیں، کتنے اسکول کھل سکتے ہیں، کتنے غریب گھرانوں کی زندگی بدل سکتی ہئے۔ تمباکو نوشی صرف انسانی صحت کا دشمن نہیں، بلکہ معاشی قاتل بھی ہے۔

    پاکستان نے 2004 میں عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول (FCTC) پر دستخط کیے۔ اس کے بعد سے ملک میں تمباکو کنٹرول کے قوانین موجود ہیں۔ تعلیمی اداروں کے قریب فروخت پر پابندی، تشہیر پر پابندی وغیرہ ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل نہیں ہوتا۔ تمباکو پروڈکٹس پر ٹیکس کے حوالے سے بھی صورتحال مایوس کن ہے۔ جبکہ بھاری ٹیکس لگانا، تمباکو نوشی میں کمی کا بہت موثر طریقہ ہوسکتا ہے۔
    ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ GATS 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 10 سالوں میں تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی آئی ہے۔ لیکن یہ کمی ناکافی ہے اور اس رفتار کو بہت تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ نسل تباہ ہوجائے گی۔ تمباکو کا دھواں صرف سگریٹ کی نوک سے نہیں اٹھاتا بلکہ یہ معاشی وسائل اور قومی مستقبل کو بھی جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔

    (نوٹ: یہ آرٹیکل مختلف سائنسی و تحقیقاتی رپورٹس سے ماخوذ ہے)

  • جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، عاصم افتخار احمد

    جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، عاصم افتخار احمد

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل عالمی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ 2025 پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو کونسل کی سرگرمیوں اور فیصلوں کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ جولائی 2025 میں سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کو سالانہ رپورٹ کے ابتدائی حصے کی تیاری اور رابطہ کاری کی ذمہ دار ی سونپی گئی تھی، پاکستان نے اس عمل میں کھلے، تعمیری اور جامع انداز کو اپنایا اور مختلف رکن ممالک کی آرا کو رپورٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی تاکہ ایک جامع اور تجزیاتی دستاویز تیار کی جا سکے رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران سلامتی کونسل نے افریقہ، مشرق وسطیٰ، مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکا سمیت مختلف خطوں میں امن و سلامتی کو درپیش چیلنجز پر فعال کردار ادا کیا، کونسل نے شہریوں کے تحفظ، تنازعات کے پرامن حل، اقوام متحدہ کے ا من مشنز، خواتین، امن اور سلامتی جیسے موضوعات پر بھی خصوصی توجہ دی۔

    انہوں نے کہا کہ شدید جغرافیائی سیاسی اختلافات کے باوجود سلامتی کونسل عالمی استحکام اور امن کے فروغ کے لیے مرکزی کردار ادا کرتی رہی، پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت تنازعات کی روک تھام کے طریقہ کار کو مؤثر بنانے کے لیے متفق ہے سلامتی کونسل کی رپورٹ نے ایک بار پھر فلسطین اور جموں و کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کیا ہے یہ دونو ں تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور انہیں بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطا بق حل کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے نشاندہی کی کہ 2025 کے دوران بھارت اور پاکستان سے متعلق 20 سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کے سامنے لائے گئے جبکہ مئی 2025 میں اس ایجنڈے پر بند کمرہ مشاورت بھی ہوئی یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ 7 دہائیوں سے زائد عرصے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود جموں و کشمیر تنازع آج بھی عالمی توجہ کا مرکز ہےپاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، جو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے، جس کا وعدہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے ان سے کر رکھا ہے۔

    عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ، کی صورتحال سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر نمایاں رہی انہوں نے غزہ امن منصوبے کی توثیق کرنے والی قرارداد 2803 کو امید کی ایک کرن قرار دیتے ہوئے اس پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کے مؤقف کا اعادہ کیا۔

    پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن مشنز کو مزید مؤثر، وسائل سے لیس اور جدید چیلنجز سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا سلامتی کونسل کے ذیلی اداروں کے سربراہان اور نائب سربراہان کی تقرری میں تاخیر سے کونسل کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے ان کے مطابق کونسل کے طریقہ کار کو زیادہ شفاف، مؤثر اور قابلِ پیش گوئی بنانے کی ضرورت ہے۔

    عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے موضوع پر بھی پاکستان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ دنیا کو زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ عالمی نظام کی ضرورت ہے ویٹو پاور کے استعمال پر رکن ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے اور سلامتی کونسل میں اصلاحات شفافیت، مساوات، شمولیت اور اتفاقِ رائے کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہییں۔

    انہوں نے مستقل نشستوں اور ویٹو کے دائرہ کار میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسی جامع اصلاحات کا حامی ہے جو چند ممالک نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک کے مفادات کی عکاسی کریں، اصلاحات سب کے لیے، خصوصی مراعات کسی کے لیے نہیں۔

  • فیفا نے پانی کی بوتلوں پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا

    فیفا نے پانی کی بوتلوں پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا

    فٹبال کی عالمی تنظیم ’فیفا‘ نے شائقینِ فٹبال کو ورلڈ کپ 2026 کے میچوں کے دوران اسٹیڈیم میں ڈسپوزایبل پانی کی بوتل لانے کی مشروط اجازت دے دی ہے-

    فیفا کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیمو شرگی نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ‘ایکس‘ پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام شائقین کو امریکا اور کینیڈا میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کسی بھی میچ کے دوران اپنے ساتھ فیکٹری سے سیل شدہ، نرم پلاسٹک کی 20 اونس (590 ملی لیٹر) کی ایک ڈسپوزایبل پانی کی بوتل اندر لے جانے کی اجازت ہوگی۔

    رپورٹس کے مطابق فیفا نے اس سے قبل سیکیورٹی اور کھلاڑیوں و شائقین کو کسی بھی ممکنہ چوٹ یا خطرے سے محفوظ رکھنے کے نام پر باہر سے لائی جانے والی بوتلوں پر پابندی کا دفاع کیا تھا، اور ادارے کا کہنا ہے کہ یہ سیکیورٹی خدشات اب بھی برقرار ہیں ہیمو شرگی نے ویڈیو میں واضح کیا کہ سخت باڈی والی یا دھاتی ری یوزایبل بوتلیں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اب بھی مکمل طور پر ممنوع ہوں گی۔

    یہ تنازع ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا تھا جب محکمہ موسمیات اور ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں اوپن ائیر اسٹیڈیمز کے اندر شائقین کو شدید ترین گرمی کے باعث صحت کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے 104 میچوں میں سے کم و بیش 26 میچز ایسے موسمی حالات میں کھیلے جائیں گے جہاں انسانی جسم پر گرمی اور حبس کے اثرات کو ناپنے والا پیمانہ مقررہ حد سے تجاوز کرجائے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال امریکا ہی میں منعقدہ فیفا کلب ورلڈ کپ کے دوران بھی شدید گرمی کے باوجود شائقین کو اسٹیڈیم میں پانی کی بوتلیں لے جانے سے روک دیا گیا تھاجس پر بڑے پیمانے پر شکایات سامنے آئی تھیں اس بار عوامی ردِعمل کو دیکھتے ہوئے فیفا نے اسٹیڈیم کے اطراف میں مسٹنگ اسٹیشنز (پانی کی بوندیں برسانے والے نظام)، کولنگ ٹینٹس، پنکھے اور ہائیڈریشن اسٹیشنز قائم کرنے کا اعلان کیا ہےفیفا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسٹیڈیم کے اندر فروخت ہونے والے پانی کی قیمتیں عام دنوں کی طرح معمول کے مطابق ہی رکھی جائیں گی تاکہ شائقین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    یہ اہم اعلان فیفا کے اس فیصلے کے محض دو دن بعد سامنے آیا ہے جس میں اسٹیڈیمز کے اندر دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی تھی، جس پر شائقین نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا-

  • ریاض ایئر کو بوئنگ طیاروں کی پہلی کھیپ موصول

    ریاض ایئر کو بوئنگ طیاروں کی پہلی کھیپ موصول

    سعودی عرب کی نئی قومی ایئرلائن ‘ریاض ایئر’ نے اپنے بیڑے میں پہلے 2 کسٹم بلٹ بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیارے شامل کر کے اپنی تجارتی پروازوں کے آغاز کی جانب ایک بہت بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

    سعودی پریس ایجنسیکی رپورٹ کے مطابق یہ دونوں جدید ترین طیارے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے، جہاں روایتی طور پر انہیں پانی کی توپوں سے سلامی دی گئی یہ طیارے ریاض ایئر کی جانب سے دیے گئے مجموعی 72 طیاروں کے آرڈر کی پہلی کھیپ ہیں، جو سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ملکیت ہے اور یہ مملکت کے ‘ویژن 2030’ کے تحت معیشت کو متنوع بنانے اور سیاحت و ہوا بازی کے شعبے کو مضبوط کرنے کی حکمتِ عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔

    ریاض ایئر کے چیف ایگزیکٹو ٹونی ڈگلس نے اس موقع پر کہا کہ وہ صرف ایک ایئرلائن ہی نہیں بنا رہے، بلکہ مملکت کے دل سے دنیا کے لیے ایک نیا راستہ کھول رہے ہیں ایئرلائن کا ہدف ہے کہ وہ 2030 تک اپنے بیڑے کو 180 سے زائد طیاروں تک وسیع کرے اور ریاض کو دنیا بھر کے 100 سے زیادہ مقامات سے جوڑ دے۔

    توقع ہے کہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع سعودی عرب کی جغرافیائی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاض ایئر رواں سال کے آخر تک تقریباً 20 مقامات کے لیے اپنی سروسز کا آغاز کر دے گی کچھ ہی ہفتے قبل کمپنی نے اپنے نئے ڈریم لائنرز کے ذریعے ‘ریاض تا لندن’ روٹ کے لیے ٹکٹوں کی عمومی فروخت شروع کی ہے، جس کی باقاعدہ پروازیں یکم جولائی سے شروع ہوں گی۔

    لندن ہیتھرو کی یہ سروس ریاض ایئر کے بین الاقوامی نیٹ ورک کا سنگِ بنیاد ثابت ہوگیان نئے طیاروں کے اندرونی حصے کو 4 مختلف کیبن کیٹیگریز (بزنس الیٹ، بزنس، پریمیم اکانومی اور اکانومی) میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں جدید ترین ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ سسٹم، بلوٹوتھ کنیکٹیویٹی اور تیز رابطہ کاری فراہم کی گئی ہے تاکہ ایئرلائن کے ٹیکنالوجی پر مبنی بزنس ماڈل کو سپورٹ کیا جا سکے۔

    واضح رہے کہ ریاض ایئر کو پی آئی ایف نے 2023 میں لانچ کیا تھا اور اسے اپریل 2025 میں جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن سے آپریٹر سرٹیفکیٹ ملا تھا سعودی حکام کے مطابق ریاض ایئر مستقبل میں مملکت کی غیر تیل ملکی معیشت میں تقریباً 20 ارب ڈالرز کا حصہ ڈالے گی اور 2 لاکھ سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گی اس وقت ایئرلائن کے چیئرمین پی آئی ایف کے گورنر یاسر الرمیان ہیں، جبکہ اس کی قیادت اتحاد ایئرویز کے سابق چیف ایگزیکٹو ٹونی ڈگلس کر رہے ہیں۔

  • انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن آکسیجن لیکیج سے ہنگامہ،اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن آکسیجن لیکیج سے ہنگامہ،اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے روسی ماڈیول میں ہوا کے اخراج کی رفتار اچانک دگنی ہونے اور روس کی جانب سے مرمت کے متنازع طریقہ کار کے باعث اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پانچ خلابازوں کو فوری طور پر اسٹیشن خالی کرنے کی تیاری اور ’سیف ہیون‘ پروٹوکول کے تحت خلائی جہاز میں پناہ لینے کی ہدایت جاری کر دی تاہم، تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے اس ہنگامی الرٹ کو بعد میں واپس لے لیا گیا ہنگامی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس کے خلابازوں نے ’زویزدا سروس ماڈیول‘ میں موجود دراڑ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک ’آری‘ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ناسا کے اعلیٰ حکام نے روس کے اس خطرناک طریقہ کار سے شدید اختلاف کیا، جس کے بعد ناسا نے فوری طور پر خلابازوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ایک سینیئر ناسا عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ چند ماہ سے یہ لیکج معمولی تھی، لیکن جمعہ کے روز ہوا کے اخراج کی رفتار اچانک 1 پاؤنڈ روزانہ سے بڑھ کر 2 پاؤنڈ روزانہ تک پہنچ گئی، جس نے تشویش میں اضافہ کیا۔

    دوسری جانب روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اسٹیشن پر دو مختلف جگہوں پر معمولی لیکج کا پتا لگایا تھا، جن میں سے پہلی کو فوری طور پر سِیل کر دیا گیا جبکہ دوسری پر کام جاری ہے۔ روسی حکام کا مؤقف ہے کہ اس سے عملے یا اسٹیشن کے سسٹمز کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔

    ناسا کی ترجمان کے مطابق، جیسے ہی روسی عملے نے آری کی مدد سے مرمت کا کام عارضی طور پر روکا، ناسا نے اپنا ہنگامی الرٹ منسوخ کر دیا اور خلابازوں کو دوبارہ اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت دے دی وہ اب اس مسئلے کے مستقل اور محفوظ حل کے لیے روسی خلائی ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی 27 سالہ تاریخ میں آج تک کبھی ایسی نوبت نہیں آئی کہ خلابازوں کو واقعی اسٹیشن چھوڑ کر زمین پر بھاگنا پڑا ہوخلائی ملبےکے ٹکراؤ کے خطرے یا ہوا کے دباؤ میں تبدیلی کے باعث ایسے الرٹس ماضی میں بھی انتہائی کم مواقع پر جاری کیے جاتے رہے ہیں یہ خلابازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے طے شدہ بین الاقوامی قوانین کا حصہ ہیں۔

  • حکومت ایک بار پھر عوام سے ہاتھ کر گئی،  پیٹرول پر عوام کو مکمل ریلیف سے محروم کردیا گیا

    حکومت ایک بار پھر عوام سے ہاتھ کر گئی، پیٹرول پر عوام کو مکمل ریلیف سے محروم کردیا گیا

    حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں بڑی ردوبدل کرتے ہوئے ایک بار پھر عوام کو پیٹرول کی قیمتوں میں مکمل ریلیف سے محروم کر دیا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کے لیے اس پر عائد لیوی میں نمایاں کمی کر دی گئی۔

    دستاویزات کے مطابق حکومت نے پیٹرول پر عائد پیٹرولیم لیوی میں 24 روپے 74 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول پر لیوی کی شرح 91 روپے 34 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 116 روپے 8 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کی شرح میں 24 روپے 34 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت ڈیزل پر لیوی 68 روپے 93 پیسے فی لیٹر سے کم ہو کر 44 روپے 59 پیسے فی لیٹر رہ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت نے پیٹرول پر لیوی بڑھا کر عوام تک مکمل ریلیف منتقل نہیں ہونے دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لیوی میں اضافے کے باعث پیٹرول کی قیمت میں ممکنہ کمی کے اثرات محدود ہو گئے ہیں۔دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی کم کر کے اس کی قیمت کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائی، جبکہ پیٹرول استعمال کرنے والے عام صارفین کو متوقع ریلیف سے محروم رکھا گیا۔معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے، تاہم اس میں اضافے سے مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے شہریوں پر مزید مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

  • انمول عرف پنکی کو تحقیقات کے لئے لاہور منتقلی کی ملی اجازت

    انمول عرف پنکی کو تحقیقات کے لئے لاہور منتقلی کی ملی اجازت

    پنجاب پولیس کو کراچی کی جیل میں قید مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو تفتیش کے لیے لاہور منتقل کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق لاہور کے اقبال ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور سول لائنز تھانوں کی پولیس ٹیمیں جلد کراچی روانہ ہوں گی تاکہ ملزمہ کو لاہور لا کر مختلف مقدمات میں پوچھ گچھ کی جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس نے اس مقصد کے لیے محکمہ داخلہ اور عدالت سے باقاعدہ اجازت حاصل کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق لاہور میں انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات فروشی کے پانچ مقدمات درج ہیں جن کی تحقیقات جاری ہیں۔

    دوسری جانب منشیات کیس کے تفتیشی افسر نے کراچی ساؤتھ کے جوڈیشل مجسٹریٹ سے پنکی کی مبینہ وائس نوٹس کا فرانزک کرانے کی اجازت بھی طلب کر لی ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ دورانِ تفتیش کئی وائس نوٹس سامنے آئے، تاہم ملزمہ نے ان وائس نوٹس کو اپنا تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ پولیس کے مطابق فرانزک رپورٹ کیس میں اہم شواہد فراہم کر سکتی ہے۔

    ادھر پنکی کے دو مبینہ سہولت کاروں سہیل الرحمان اور ذیشان الرحمان نے کراچی کی سیشن عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا منشیات کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں بغیر ثبوت مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے نام مقدمے سے خارج کیے جائیں۔

    گزشتہ روز کراچی ساؤتھ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے پنکی کو عدالت میں پیش کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر چالان جمع ہونے تک ملزمہ کی جسمانی حاضری ضروری نہیں۔ تاہم عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ جب بھی عدالت طلب کرے، ملزمہ کو پیش کیا جائے۔پولیس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملزمہ کی پیشی ویڈیو لنک کے ذریعے کرائی جائے کیونکہ عدالت میں پیشی کے دوران امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مبینہ سہولت کاروں کے بینک اکاؤنٹس، جاز کیش اور دیگر مالیاتی اکاؤنٹس منشیات کی فروخت کے لیے استعمال کیے جاتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق ذیشان الرحمان کے یو بی ایل میں تین جبکہ بینک الحبیب اور بینک الفلاح میں ایک، ایک اکاؤنٹ موجود ہے، جبکہ سہیل الرحمان کے یو بی ایل اور بینک الحبیب میں ایک، ایک اکاؤنٹ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    چند ہفتے قبل کراچی سے گرفتار ہونے والی انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش متعدد افراد کے نام لیے تھے، جن میں بعض معروف شخصیات بھی شامل تھیں۔ اس گرفتاری کے بعد ملک میں منشیات کے پھیلتے ہوئے کاروبار اور اس کے ممکنہ نیٹ ورک پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر رہے ہیں۔

  • ہنگو ،سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 10 کلو وزنی آئی ای ڈی بم ناکارہ بنا دیا گیا

    ہنگو ،سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 10 کلو وزنی آئی ای ڈی بم ناکارہ بنا دیا گیا

    ہنگو کے علاقے خیساری میں دہشتگردوں کا ایک خطرناک منصوبہ بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا، جہاں سڑک کنارے نصب 10 کلو وزنی دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کو بم ڈسپوزل یونٹ اور پولیس نے ناکارہ بنا دیا۔

    پولیس کے مطابق مشتبہ بم کی اطلاع ملتے ہی بم ڈسپوزل یونٹ اور سیکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ ماہرین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بم کو کامیابی سے ناکارہ بنایا، جس کے بعد ممکنہ بڑے جانی و مالی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ڈی پی او ہنگو طارق حبیب کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے نصب کیا گیا 10 کلو وزنی آئی ای ڈی بم انتہائی خطرناک نوعیت کا تھا اور کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور بم ڈسپوزل یونٹ کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث علاقے کو ممکنہ تباہی سے بچا لیا گیا۔

    ڈی پی او نے سیکیورٹی فورسز اور بم ڈسپوزل یونٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے بم نصب کرنے والے عناصر کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔