Baaghi TV

Blog

  • پاکستان کاکس کی جانب سے پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے تاریخی  سمپوزیئم

    پاکستان کاکس کی جانب سے پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے تاریخی سمپوزیئم

    امریکی کانگریس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کاکس کی جانب سے پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے تاریخی سمپوزیئم کا انعقادکیا گیا،

    کیپٹیل ہل کی تاریخی عمارت میں لگ بھگ چار گھنٹے جاری نشست کا اہتمام امریکی کانگریس کی پاکستان کاکس کے چیئرمین ٹام سوازی اور جیک برگ مین کی سرکردگی میں پاکستانی سفارتخانے کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ پاک امریکہ تعلقات کے ماضی، حال اور مستقبل کے موضوع پر منعقدہ سمپوزئیم میں سیکیورٹی اور معاشی تعلقات کے حوالے سے خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا گیا،کانفرنس میں امریکی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام، امریکی تھنک ٹینک کمیونٹی، سابق سفراء ، سیکیورٹی اور معاشی معاملات سے متعلقہ ماہرین نےاظہار خیال کیا،امریکی وزارتِ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری برائے ساؤتھ اینڈ سنٹرل ایشیا پال کپور نے امریکی انتظامیہ کی نمائندگی کی

    چئیرمین پاکستان کاکس رکن کانگریس ٹام سوازی نے ٹویٹ میں کہا کہ آج ہم نے پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات کی تاریخ ، سیکیورٹی اور معاشی معاملات کا جائزہ لینے اور بہتر مستقبل کی تعمیر کے لئے دنیا بھر سے ماہرین کو اکٹھا کیا ہے،

    امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے منعقدہ سمپوزیئم کا خیر مقدم کیا گیا، اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ساؤتھ اینڈ سنٹرل ایشیا پال کپور نے ٹوئیٹر پر اظہار خیال میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں پاک امریکہ تعلقات میں رونما ہونے والی مثبت پیش رفت نے اقتصادی شعبہ جات بشمول معدنیات میں باہمی طور پر سود مندشراکت داری کو فروغ دیا ہے،پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے تاریخی سمپوزئیم کے انعقاد پر سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کا امریکی کانگریس کی پاکستان کاکس ، خصوصاً چئیرمین ٹام سوازی ، جیک برگ مین اور دیگر اراکین نےشکریہ ادا کیا،اور کہا کہ پاک امریکہ شراکت داری نہ صرف تاریخی طور پر اہم بلکہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے انتہائی نتیجہ خیز رہی ہے،دنیا کے دو بڑی آبادی والے اہم ترین ملکوں کی شراکت داری اختیاری نہیں بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،پاکستان مخصوص جغرافیائی محل ِو قوع کے باعث علاقائی اور عالمی سطح پر اہم مقام کا حامل ہے،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کیا ہے، پاکستان نے علاقائی اور عالمی امن کے حوالے سے بے شمار قرنیاں پیش کی ہیں،عالمی امن کے حوالے سے آج بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کو تیار ہیں،پاک امریکہ تعلقات کے تاریخی تناظر میں سیکیورٹی تعاون کا عنصر غالب رہا ہے تاہم دونوں ملکوں کے مابین اقتصادی تعاون کی اہمیت بھی مسلمہ ہے،امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے،پاکستان امریکہ کے ساتھ بھرپور اور وسیع البُنیاد اقتصادی تعلقات کا خواہاں ہے،ٹیکنالوجی سے لیس پاکستان کی تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان آبادی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ضِمن میں امریکی معیشت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا اہم کردار کم تر لاگت اور اعلیٰ ترین میعار کے مطابق ادا کرنے کو مکمل طور پر تیار ہے،امریکہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات میں سب سے مضبوط پل کا کردار ادا کرتی رہی ہے،

    معروف معاشی ماہرین کی جانب سے پاکستان کی معاشی استعدادِ کار اور پاک امریکہ اقتصادی شراکت داری کے حوالے سے سیر حاصل گفتگوکی گئی،پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور نتالی بیکر نےبھی کانفرنس سے خطاب کیا اور اہم اور تاریخی کانفرنس کے انعقاد پر اراکین کانگریس کا شکریہ ادا کیا،پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے منعقدہ سمپوزئیم کا باقاعدگی سے انعقاد کرانے پر اتفاقِ رائے کیا گیا.

  • سعودی عرب کا ویزہ ہولڈرز کے لیے  بڑا اعلان

    سعودی عرب کا ویزہ ہولڈرز کے لیے بڑا اعلان

    سعودی حکومت نے موجودہ علاقائی حالات کے پیش نظر ویزہ ہولڈرز کے لیے خصوصی سہولتوں کا اعلان کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق اُن افراد کے معاملات نمٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جن کے ویزے (بشمول وزٹ ویزے، عمرہ، ٹرانزٹ اور فائنل ایگزٹ) 25 فروری 2026 کے بعد ختم ہو چکے ہیں اور جو حالات کے باعث ملک سے روانہ نہ ہو سکے وزارت نے واضح کیا کہ ایسے افراد کے ویزوں میں توسیع میزبان کی درخواست پر 18 اپریل 2026 تک کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ مقررہ فیس ادا کی جائے، اور یہ سہولت ابشر پلیٹ فارم کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔

    سعودی حکومت نے ان افراد کو یہ رعایت بھی دی ہے کہ وہ بغیر ویزہ توسیع اور کسی بھی قسم کے جرمانے کے، براہِ راست بین الاقوامی سرحدی راستوں سے ملک چھوڑ سکتے ہیں،سعودی وزارتِ داخلہ نے مستفید ہونے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ 18 اپریل 2026 سے قبل ملک سے روانگی یقینی بنائیں، بصورت دیگر مروجہ قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

  • وصال فخر سلطان آئی جی ریلوے پولیس تعینات

    وصال فخر سلطان آئی جی ریلوے پولیس تعینات

    وصال فخر سلطان کو آئی جی ریلوے پولیس تعینات کر دیا گیا، وصال فخر سلطان اس وقت موٹر وے پولیس میں تعینات تھے۔

    وہ پولیس سروس کے 22 ویں کامن سے تعلق رکھتے ہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پاکستان نے محمد وصال فخر سلطان کی تعیناتی کانوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق محمد وصال فخر سلطان نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس میں تعینات تھے۔

    Wisal Fakhar Sultan….. IG, Pakistan Railways Police

  • امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی، 2000 پیراٹروپرز روانہ

    امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی، 2000 پیراٹروپرز روانہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکا نے اپنے فوجی دستوں میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق تقریباً 2 ہزار امریکی فوجی، جو 82ویں ایئربورن ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں، خطے کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید فوجی آپشنز فراہم کیے جا سکیں یہ فوجی ایک خاص یونٹ “’امیڈیٹ ریسپانس فورس‘ کا حصہ ہیں، جو دنیا کے کسی بھی حصے میں 18 گھنٹوں کے اندر تعینات ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اس دستے میں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل برینڈن ٹیگٹمیئر سمیت سینئر افسران اور تقریباً دو بٹالین شا مل ہیں، جن میں ہر ایک میں لگ بھگ آٹھ سو اہلکار موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید فوجی بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق پہلے ہی تقریباً 4500امریکی میرینز خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، جس کے بعد حالیہ تعیناتی کے ساتھ کل اضافی فوجیوں کی تعداد تقریباً 7000تک پہنچ گئی ہے مجموعی طور پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 50 ہزار فوجی ’ایپک فیوری‘ نامی آپریشن کا حصہ ہیں ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان نئے فوجیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے کس مقام پر تعینات کیا جائے گا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے مقامات پر رکھا جائے گا جہاں سے ایران تک فوری رسائی ممکن ہو۔

    ماہرین کے مطابق ان فوجیوں کو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز ’خارگ جزیرے‘ پر ممکنہ کارروائی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں امریکی فضائی حملے بھی کیے گئے تھے اسی دوران مزید امریکی میرینز بھی خطے میں پہنچنے والے ہیں، جنہیں آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کو محفوظ بنا نے یا دیگر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیراٹروپرز تیزی سے تعینات ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس بھاری اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں کم ہوتی ہیں، اس لیے ممکنہ طور پر انہیں دیگر فوجی یونٹس کے ساتھ مل کر استعمال کیا جائے گا۔

  • صارفین کو گمراہ کرنے پر میٹا کو 375 ملین ڈالر جرمانہ

    صارفین کو گمراہ کرنے پر میٹا کو 375 ملین ڈالر جرمانہ

    نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے میٹا کو بچوں کی حفاظت کے حوالے سے صارفین کو گمراہ کرنے پر 375 ملین ڈالر (279 ملین پاؤنڈ) جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق جیوری نے فیصلہ دیا کہ میٹا نے اپنے پلیٹ فارمز پر نابالغ صارفین کو خطرے میں ڈالنے اور انہیں جنسی طور پر غیر مناسب مواد اور جنسی شکاریوں کے رابطے میں آنے کے حوالے سے عوام کو گمراہ کیا نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ریاست نے بچوں کی حفاظت کے مسائل پر میٹا کے خلاف کامیابی سے مقدمہ جیتا۔

    میٹا کی ترجمان نے کہا کہ کمپنی اس فیصلے سے متفق نہیں اور اپیل دائر کرے گی،ہم اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کی حفاظت کے لیے سخت محنت کرتے ہیں اور نقصان دہ مواد کی شناخت اور ہٹانے میں چیلنجز کے بارے میں واضح ہیں، ہم نوجوانوں کی آن لائن حفاظت کے اپنے ریکارڈ پر پر اعتماد ہیں

    جیوری نے میٹا کو نیو میکسیکو کے ان فیئر پریکٹسز ایکٹ کی خلاف ورزی پر ذمہ دار قرار دیا کیونکہ کمپنی نے نوجوان صارفین کے لیے اپنے پلیٹ فارمز کی حفا ظت کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا، 7 ہفتے کے جاری رہنے والے مقدمے میں جیوری کو میٹا کے دستاویزات دکھائے گئے اور سابق ملازمین کے بیانا ت سنے گئے جنہوں نے بتایا کہ کمپنی کو معلوم تھا کہ بچے اس کے پلیٹ فارمز پر جنسی شکاریوں کے خطرے میں ہیں۔

    سابق انجینئرنگ لیڈر اور وِسل بلور آرٹورو بیجار نے انسٹاگرام پر کیے گئے تجربات کے حوالے سے بیان دیا جس میں یہ ظاہر ہوا کہ نابالغ صارفین کو جنسی مواد فراہم کیا جا رہا تھا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی اپنی بیٹی کو انسٹاگرام پر ایک اجنبی نے جنسی پیشکش کی جبکہ اسٹیٹ کے وکیلوں نے میٹا کی تحقیق بھی پیش کی جس میں ایک ہفتے کے دوران 16 فیصد انسٹاگرام صارفین نے رپورٹ کیا کہ انہیں غیر ضروری عریانی یا جنسی سرگرمی دکھائی گئی۔

    میٹا نے دعویٰ کیا کہ کمپنی نے سالوں سے اپنے پلیٹ فارمز پر نوجوانوں کے لیے محفوظ تجربات فراہم کرنے کی کوشش کی۔ 2024 میں انسٹاگرام نے ٹین اکاؤنٹس متعارف کرائے تاکہ نوجوان صارفین اپنے تجربات کو بہتر طریقے سے کنٹرول کر سکیں جبکہ پچھلے ماہ والدین کو مطلع کرنے والا فیچر متعارف کروایا گیا جو بچوں کی خود کو نقصان پہنچانے والے مواد کی تلاش کے بارے میں آگاہ کرے گا۔

    375 ملین ڈالر کا سول جرمانہ اس لیے مقرر کیا گیا کیونکہ جیوری نے فیصلہ دیا کہ ایکٹ کی ہزاروں خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ ہر خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ 5,000 ڈالر جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔

    نیو میکسیکو کی ریاست نے 2023 میں میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، دعویٰ کرتے ہوئے کہ کمپنی نے نوجوان صارفین کو جنسی طور پر غیر مناسب مواد، بچوں کے جنسی استحصال یا انسانی اسمگلنگ کے خطرناک مواد کی طرف راغب کیا جس میں کمپنی کے ریکمنڈیشن الگورتھمز استعمال ہوئے۔

    راؤل ٹوریز نے کہا کہ میٹا کے اعلیٰ حکام جانتے تھے کہ ان کی مصنوعات بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں، اپنے ملازمین کی وارننگز کو نظرانداز کیا اور عوام سے جھوٹ بولا آج جیوری نے خاندانوں، اساتذہ اور بچوں کی حفاظت کے ماہرین کے ساتھ مل کر کہا کہ اب بس ہے۔

  • گوجرخان 13 سالہ بچے سے بدفعلی کی کوشش، ملزم کے خلاف مقدمہ درج

    گوجرخان 13 سالہ بچے سے بدفعلی کی کوشش، ملزم کے خلاف مقدمہ درج

    گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ گوجرخان کی حدود میں محنت کش کے 13 سالہ نواسے سے بدفعلی کی کوشش کا شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے متاثرہ لڑکے کے نانا کی مدعیت میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بڑا موہڑہ کنگر کے رہائشی مختیار حسین نے پولیس کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کا 13 سالہ نواسہ ع گزشتہ شام دودھ لینے کے لیے پڑوسی طارق محمود کے گھر گیا تھا۔ ملزم گھر میں اکیلا تھا، جس نے بچے کو دیکھتے ہی اسے ہراساں کرنا شروع کر دیا، نازیبا حرکات کیں اور زبردستی شلوار اتار کر بدفعلی کی کوشش کی۔ درخواست گزار کے مطابق، جب بچہ کافی دیر تک گھر نہ پہنچا تو وہ خود اسے لینے گئے، جہاں انہوں نے بچے کو ملزم کے گھر سے شور و واویلا کرتے ہوئے نکلتے دیکھا۔ بچے نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات گھر والوں کو بتائیں، جس کے بعد پولیس سے رجوع کیا گیا۔ تھانہ گوجرخان کی پولیس نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

  • بلاول کی وزیراعلیٰ سندھ،بلوچستان کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات

    بلاول کی وزیراعلیٰ سندھ،بلوچستان کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات

    خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور قومی سلامتی کے اہم امور پر وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں موجودہ علاقائی صورتحال اور پاکستان کے سفارتی کردار پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی حکمت عملی زیر بحث آئی۔ وزیراعظم نے بلاول بھٹو زرداری کو ایران،امریکا تنازع میں پاکستان کے کردار اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی شریک تھے۔ دونوں وزرائے اعلیٰ نے اپنے اپنے صوبوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ اور اس سے متعلق حکمت عملی پر وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔ ملاقات کو ملکی استحکام اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • روس نے یوکرین پر قریباً ایک ہزار ڈرونز  داغ دیئے

    روس نے یوکرین پر قریباً ایک ہزار ڈرونز داغ دیئے

    روس نے یوکرین پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قریباً ایک ہزار ڈرونز سے بڑا حملہ کیا ہے، جسے حالیہ مہینوں کی سب سے بڑی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 40 افراد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد ہلاک ہوئے، حملوں میں ایوانو فرانکیوسک اور لیفیو سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں رہائشی عمارتیں، شہری مراکز اور ایک زچگی اسپتال بھی متاثر ہوئے ایک تاریخی عباد ت گاہ کو بھی جزوی طور پر نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرینی فضائیہ کے مطابق بڑی تعداد میں بغیر پائلٹ طیاروں کو مار گرایا گیا یا ناکارہ بنایا گیا، تاہم کئی مقامات پر حملوں کے باعث جانی اور مالی نقصان ہوا، دو سری جانب روسی علاقے کورسک میں بھی جوابی کارروائیوں میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، یوکرینی قیادت کا کہناہےکہ اس بڑے حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس جنگ کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں۔

  • مشرق وسطیٰ کا تنازعہ،  بھارت شدیداقتصادی بحران کا شکار

    مشرق وسطیٰ کا تنازعہ، بھارت شدیداقتصادی بحران کا شکار

    مشرق وسطیٰ کا تنازعہ، بھارت شدیداقتصادی بحران کا شکارہو گیا

    ماہر بین الاقوامی امور پروفیسر جان میئر شائمر کے مطابق؛مشرق وسطیٰ کاتنازعہ بھارت کی داخلی معیشت کے لئے چیلنج بن گیا،اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ایک نقصان اٹھانے والا ملک بنتا جارہا ہے ، دلچسپ سوال یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ تنازعہ سے بھارت کو کتنا نقصان اٹھانا پڑے گا ، روسی ٹیلی وژن کو انٹرویو کے دوران یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر نے خبردار کیا کہ؛ سربراہی اجلاس کاانعقاد بھارت کو مہنگائی سے نمٹنے کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا ،یہ بحران گیس ،کھاد اورخوراک کی پیداوار کی قیمتوں کو بڑھا دے گا جس سے مہنگائی اور مالی دباو میں اضافہ ہوگا ،یہ سب بھارت کے لئے انتہائی بری خبریں ہیں جس کی نشاندہی بھارتی میڈیا بھی کررہا ہے ،

    ماہرین کے مطابق؛پروفیسر جان میئر شائمر مشرق وسطی کے تنازعہ کی وجہ سے بھارت میں شدید اقتصادی بحران کی نشاندہی کرتے نظرآرہے ہیں، غیر سنجیدہ سفارتی اور سیاسی حکمت عملی بھارت کو معاشی چیلنجز کا شکار کردے گی ،کھاد اور خوراک کی پیداوار پراثرات سے بھارتی کسان اور برآمدگان کو طویل المدتی معاشی مشکلات کاسامنا ہو سکتا ہے ،

  • مودی سرکار مشرق وسطی جنگ میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کر یگی؟ بھارتی صحافی رویش کمار کا تجزیہ

    مودی سرکار مشرق وسطی جنگ میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کر یگی؟ بھارتی صحافی رویش کمار کا تجزیہ

    خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھارتی صحافیوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فارن پالیسی پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دی ہیں۔ ممتاز صحافی رویش کمار نے مودی پر بھرپور انداز میں تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے وی لاگ میں جو کہا اس کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے اور امریکہ نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے بات بھی کی۔ فنانشل ٹائمز میں خبر شائع ہوئی ہے کہ جنرل منیر نے ٹرمپ کو فون کیا اور بیچ بچاؤ کی پیشکش کی ہے۔ تو اس موڑ پر اس جنگ میں پاکستان کا کردار اچانک بڑا دکھائی دینے لگا ہے۔

    اور سوال یہ ہے کہ اب تک کے حالات میں بھارت کا کیا کردار رہا ہے؟ جنگ رکوانے میں پاکستان کا کردار ہو اور بھارت کا نہ ہو۔ بھارت کے سفارتی ماہرین کو یہ سب کیسا لگ رہا ہوگا؟ پوری دنیا میں یہ بحث ہے کہ مغربی ایشیا کے سب سے بڑے بحران میں اچانک پاکستان کا کردار اتنا اہم کیسے ہو گیا؟ کیا پاکستان بھی امن کا پجاری بن گیا ہے؟ اب تک کی سفارتی کوششوں میں بھارت کہاں ہے اور کیوں نہیں ہے؟ یہ سوال پوچھا جانا چاہیے۔

    23 مارچ کو ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے۔ تب انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ ایران نے بھی مانا کہ براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی مگر کسی اور کے ذریعے ہو رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس کی تصدیق کر دی ہے کہ ٹرمپ اور منیر کے درمیان بات ہوئی ہے۔

    کیا اسلام آباد میں آگے کوئی میٹنگ ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے بھارت کی خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرائن لیویٹ سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ قیاس آرائیاں نہ کریں۔ اے این آئی کے سوال سے پہلے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ اسی ہفتے اسلام آباد میں جنگ ختم کرنے کے حوالے سے بات چیت ہو سکتی ہے۔ اس گفتگو میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر شامل ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس ملاقات میں ایرانی حکام امریکی حکام سے مل سکتے ہیں۔

    اسی رپورٹ کی بنیاد پر اے این آئی نے سوال کیا ہوگا کہ کیا اسلام آباد میں کوئی میٹنگ تجویز کی گئی ہے؟ پریس سیکریٹری نے جواب تو نہیں دیا مگر ایسی کسی میٹنگ سے صاف انکار بھی نہیں کیا۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ اس وقت تمام حساس معاملات کو میڈیا کے سامنے نہیں لایا جا سکتا۔ حالات بدل رہے ہیں اور کسی بھی میٹنگ کے بارے میں قیاس آرائی کو اس وقت تک حتمی نہ سمجھا جائے جب تک وائٹ ہاؤس اس کا اعلان نہ کرے۔

    23 مارچ کو ٹرمپ کے بیان کے بعد ہی امریکہ کی ایک ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ اس گفتگو میں مصر، ترکی اور پاکستان کا کردار ہو سکتا ہے۔ وہ رپورٹ ذرائع کے حوالے سے تھی لیکن اب صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی ہے۔ فنانشل ٹائمز نے بھی پاکستان کے حوالے سے ایک تجزیہ کیا ہے۔ لکھا ہے کہ ایران بحران کے معاملے میں پاکستان بطور ثالث ابھر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق اس کا یہ مضمون کافی پڑھا جا رہا ہے اور اسے پانچ صحافیوں نے مل کر لکھا ہے۔

    پاکستان کو یہ کردار کیوں ملا ہوگا؟ نام تو ترکی اور مصر کا بھی آیا تھا۔ اس کے پیچھے ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ سعودی عرب نہیں چاہتا کہ ترکی کو وہ پلیٹ فارم ملے، اس لیے ممکن ہے وہ پاکستان کو آگے کر رہا ہو۔ ترکی بھی سعودی عرب کی طرح ایک بڑی سنی طاقت ہے اور سعودی عرب کے لیے ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے سعودی عرب خود کو ترکی سے اوپر رکھنا چاہے گا، اسی لیے مانا جا رہا ہے کہ اس نے پاکستان کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا ہوگا۔

    ایران پر حملے کے بعد ترک صدر اردگان نے جب اپنی پارلیمنٹ میں خطاب کیا کہ شیعہ اور سنی ایک ہیں تو تالیاں بجیں۔ یوکرین جنگ کے دوران ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ترکی کی جگہ اب اچانک پاکستان کا کردار بڑا دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ اسرائیل ترکی کو پسند نہیں کرتا۔ وہ جس سنی محور کی بات کرتا ہے، اس میں ترکی بھی شامل ہے۔ امریکہ بھی ترکی کے حوالے سے زیادہ پُرجوش نہیں ہوگا کیونکہ جب ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے میں ترکی کو شامل کرنا چاہا تو اسرائیل نے اعتراض کیا تھا۔

    لیکن اس بار امریکہ نے یہ موقع پاکستان کو دے دیا ہے۔ ایک ہی جھٹکے میں دکھا دیا کہ خلیج کی دونوں سنی طاقتیں اس کے ساتھ ہیں۔ وہ ترکی کو پیچھے کر رہا ہے لیکن سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور پاکستان کو گفتگو میں شامل کر لیا ہے۔ اس لیے سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان سے بات کرنے کے فیصلے میں سعودی عرب نے کوئی کردار ادا کیا ہوگا؟ آخر اچانک پاکستان اتنا بڑا کھلاڑی کیسے بن گیا؟

    پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی معاہدے ہیں۔ اس سے بات کر کے امریکہ ایران کو یہ پیغام دے رہا ہوگا کہ آپ پاکستان کو اپنا دوست سمجھ سکتے ہیں، لیکن اس کی بات ہم سے بھی ہے، وہ ہمارا بھی دوست ہے۔

    کرکٹ کی زبان میں کہیں تو بھارت کا گودی میڈیا کیچ کے لیے تیار تھا مگر گیند باؤنڈری لائن کے باہر چلی گئی۔ یہاں خوب بحث ہو رہی ہے کہ صرف وزیر اعظم نریندر مودی ہی جنگ رکوا سکتے ہیں۔ کیا ہندوستان جنگ رکوا پائے گا؟ تین دن پہلے انڈیا ٹی وی پر یہ سوال اٹھا۔ تباہی کے بیچ دنیا کو مودی سے امید، کیا پی ایم مودی مہا جنگ روکیں گے؟ ریپبلک بھارت کا سوال تھا۔ صرف بھارت روک سکتا ہے ایران جنگ—نیوز 18۔ ایران اسرائیل کی جنگ ختم کرا سکتا ہے بھارت—ٹی وی 9 کی سرخی۔

    کس بنیاد پر بھارت میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ بھارت کے پاس امن کا منتر ہے؟ امن کا منتر ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ جس ملک نے حملہ کیا اس کا نام لے کر مذمت کی جائے۔ کیا بھارت ایسا کر سکا؟ فن لینڈ کے صدر نے 18 مارچ کو کہا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ جنگ بندی کون کرا سکتا ہے—یورپ یا بھارت۔ مگر نام پاکستان کا سامنے آ گیا۔

    جب سے یہ جنگ شروع ہوئی، بھارت کے اخبارات میں کئی مضامین شائع ہوئے کہ بھارت اس جنگ کو روکنے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ 20 مارچ کو ناگپور میں وشو ہندو پریشد کے پروگرام میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا بیان بھی میڈیا میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جنگیں ہو رہی ہیں اور کئی ممالک سے آواز اٹھ رہی ہے کہ صرف بھارت ہی جنگ ختم کر سکتا ہے کیونکہ وہ بھارت کی فطرت اور انسانی اقدار کو جانتے ہیں۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں دنیا میں ہونے والی بڑی جنگوں—روس یوکرین اور ایران اسرائیل—کو روکنے میں بھارت نے کیا کردار ادا کیا؟ اگر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارت جنگ رکوا سکتا ہے تو مثالیں بھی دینی چاہئیں۔

    اگر بھارت جنگ رکوا سکتا تھا تو اس نے پہل کیوں نہیں کی؟ اسے کس نے روکا؟ اگر کوئی روک رہا ہے تو پھر بھارت کیسے جنگ رکوا سکتا ہے؟

    ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جنگ ختم ہو گئی اور بھارت کا کوئی کردار نہیں رہتا، لیکن اس اہم مرحلے پر اگر پاکستان کا کردار بڑھ رہا ہے تو سوال بھارت سے ہونا چاہیے۔

    بھارت اور ایران کی دوستی کا تعلق تاریخ، ثقافت اور روایات سے ہے۔ کیا اسرائیل کا دورہ کر کے بھارت نے غلطی کی؟ کیا یہ سفارتی حکمت عملی تھی یا وزیر اعظم مودی کا ذاتی فیصلہ کہ ایران جیسے پرانے دوست کو چھوڑ کر اس ملک کا دورہ کیا جائے جو ایران پر حملہ کرنے والا تھا؟

    اس نئی دوستی کا کیا نتیجہ نکلا؟ امریکہ نے عالمی اسٹیج پاکستان کو دے دیا۔ اگر یہی موقع بھارت کو ملتا تو آج اسے عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا۔

    سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کے قریب جا کر وزیر اعظم مودی نے اپنی خارجہ پالیسی کو خود کمزور کر دیا؟ امریکہ نے بھارت کو ایک طرف کر کے پاکستان کو آگے کر دیا، اس پر بحث ہونی چاہیے۔

    2008 کے ممبئی حملوں کے بعد بھارت کی سفارتکاری کا زور اس بات پر رہا کہ پاکستان کو الگ تھلگ کیا جائے۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو دہشت گرد ملک کہہ رہے ہیں، کیا بھارت اس کی مذمت کر سکتا ہے؟

    بھارت نے مذمت کی اخلاقی آواز کھو دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس پاکستان کو بھارت دہشت گردی کا حامی کہتا ہے، وہی پاکستان امن عمل میں کیسے شامل ہو رہا ہے؟

    امریکہ نے پاکستان کو وہ حیثیت دے دی ہے جو شاید بھارت کے تصور سے بھی زیادہ ہے، اور وزیر اعظم مودی کی خاموشی اس حیثیت کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔

    اگر بھارت نے ایران پر حملے کی مذمت کی ہوتی تو شاید اسے بھی ثالثی کا کردار مل سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

    پاکستان نے کم از کم ایران پر حملے کی مذمت کی، اس کی پارلیمنٹ میں تعزیت پیش کی گئی اور ایران نے اس کا شکریہ ادا کیا۔

    اس کے باوجود، اگرچہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، پھر بھی اس کا کردار سامنے آ رہا ہے۔

    اسرائیل ایک بڑا فریق ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ آئی ڈی ایف کرے گی، یعنی امریکہ نہیں۔

    بھارت کے اسرائیل سے قریبی تعلقات کے باوجود وہ ثالثی میں نظر نہیں آ رہا۔

    وزیر اعظم مودی نے خلیجی ممالک کے کئی دورے کیے، سعودی عرب، یو اے ای، بحرین، عمان اور کویت گئے اور اعلیٰ اعزازات حاصل کیے، لیکن اس جنگ میں بھارت کا کردار واضح نہیں۔

    پارلیمنٹ میں مودی نے کہا کہ وہ مختلف ممالک سے بات کر رہے ہیں اور بھارتی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، مگر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ بھارت جنگ رکوانے کی کوئی پہل کر رہا ہے۔

    تو کیا صرف بات کرنا ہی کردار ادا کرنا ہے؟

    یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن پاکستان کا ابھرتا کردار بھارت کے لیے ایک سوال بن چکا ہے۔

    اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا وزیر اعظم مودی پاکستان کے کردار کی تعریف کریں گے؟