Baaghi TV

Blog

  • ٹرمپ حکومت کی  27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز

    ٹرمپ حکومت کی 27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز

    امریکا میں ٹرمپ حکومت کی جانب سے 27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز سامنے آگئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سینیٹ کمیٹیوں میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا میں مہاجرین کو نکالنے کیلئے شہریوں کو مردہ ظاہر کرنےکا مبینہ منصوبہ سامنے آیا ہے یہ مبینہ منصوبہ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کے تحت تیار کیا گیا تھا جس کی قیادت ایلون مسک کر رہے تھے۔

    دوسری جانب سوشل سکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے یہ دعوے رد کردیے ہیں جب کہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے معلومات کے تبادلے کو قومی سلامتی سے جوڑ دیا ہے۔

  • ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کیس،عدالت نے نوٹس جاری کر دیا

    ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کیس،عدالت نے نوٹس جاری کر دیا

    کراچی: ہل پارک میں پہاڑ کی کٹائی اور مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کے ایم سی کی جانب سے تعمیرات مسمار کیے جانے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔

    درخواست گزار سہیل اقبال صدیقی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ پلاٹ ان کے مؤکل کی قانونی ملکیت ہے، تاہم کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے 2 جون کو بغیر کسی قانونی نوٹس اور اختیار کے پلاٹ کی باونڈری وال مسمار کر دی۔وکیل درخواست گزار کے مطابق پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے جاری کردہ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ متنازع پلاٹ ہل پارک کی حدود میں شامل نہیں ہے اور یہ مکمل طور پر پی ای سی ایچ ایس کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اراضی کا مکمل ریکارڈ بھی پی ای سی ایچ ایس کے پاس موجود ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ کے ایم سی نے 21 اپریل کو اسی پلاٹ پر باونڈری وال کی تعمیر کے لیے این او سی جاری کی تھی، اس کے باوجود بعد ازاں باونڈری وال کو مسمار کر دیا گیا، جو غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ باونڈری وال کی مسماری میں ملوث ذمہ دار افسران کے خلاف انکوائری اور محکمانہ کارروائی کا حکم دیا جائے، جبکہ متعلقہ حکام کو پلاٹ میں کسی بھی قسم کی مزید مداخلت یا بے دخلی کی کارروائی سے روکا جائے۔درخواست میں سندھ حکومت، کے ایم سی کے ڈائریکٹر لینڈ، میونسپل کمشنر کے ایم سی، ڈپٹی ڈائریکٹر ہل پارک، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    عدالت نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد سندھ حکومت، کے ایم سی، پی ای سی ایچ ایس اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 جون تک جواب طلب کر لیا ہے۔

  • لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایران پر لبنان کے معاملات میں مداخلت کرنے کے لبنانی صدر جوزف عون کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ صدر عون کے بیانات سن کر ایسا لگتا ہے جیسے لبنان کے پانچویں حصے پر ایران نے قبضہ کر رکھا ہو، چوتھائی لبنانی آبادی کو ایران نے بے گھر کیا ہو اور روزانہ بمباری بھی ایران ہی کر رہا ہوایرانی وزیرِ خارجہ نے لبنانی صدر جوزف عون کو مخاطب کر کے کہا کہ جنابِ صدر! لبنان کو اصل دشمن سے بچائیں، امریکا کے ساتھ لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا۔

    واضح رہے کہ لبنانی صدر جوزف عون نے سی این این کو حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ایران کو لبنان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

  • آپریشن بلیو سٹار کو 42 سال مکمل، سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر

    آپریشن بلیو سٹار کو 42 سال مکمل، سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر

    بھارت کے فوجی آپریشن ’’بلیو سٹار‘‘ کو 42 سال مکمل ہو گئے ہیں، تاہم سکھ برادری آج بھی اس واقعے کے متاثرین کے لیے انصاف کی منتظر ہے۔ آپریشن بلیو سٹار کا آغاز یکم جون 1984 کو بھارتی فوج کی جانب سے امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمل (سری دربار صاحب) پر کارروائی سے ہوا تھا، جسے سکھ تاریخ کے سب سے المناک واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔

    اس فوجی آپریشن کے دوران گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں موجود ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ مختلف ذرائع اور سکھ تنظیموں کے مطابق کارروائی میں مردوں، خواتین، بزرگوں اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں مقیم سکھ برادری کو شدید صدمے سے دوچار کیا۔
    آپریشن بلیو سٹار کے خلاف برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور دیگر ممالک میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔ عالمی سطح پر سکھ برادری اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جبکہ متعدد ممالک میں بھارتی حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

    اس دوران بھارتی فوج اور سرکاری اداروں سے وابستہ کئی سکھ افسران نے احتجاجاً اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں بھی اس کارروائی پر شدید تنقید کی گئی۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے آپریشن بلیو سٹار کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین غلطی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کارروائی نے سکھ برادری کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا۔معروف سکھ مورخ ہرجندر سنگھ دلگیر کے مطابق آپریشن بلیو سٹار ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کے اثرات آج بھی سکھ برادری محسوس کر رہی ہے۔ دوسری جانب سینئر بھارتی صحافی شیکھر گپتا نے اپنی تحریروں اور تجزیوں میں اس کارروائی کو بھارتی فوج کی ناقص منصوبہ بندی اور تاریخ کی بڑی عسکری ناکامیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

    آپریشن بلیو سٹار کے 42 سال گزرنے کے باوجود اس واقعے سے متعلق سوالات، تنازعات اور انصاف کے مطالبات آج بھی برقرار ہیں۔ دنیا بھر میں سکھ برادری ہر سال جون کے آغاز میں اس سانحے کی یاد مناتی ہے اور متاثرین کے لیے انصاف اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ دہراتی ہے۔

  • عوامی مقامات پر چھوٹے کپڑے پہننےوالوں کیخلاف گلوکارفلک شبیر کا مریم سے مطالبہ

    عوامی مقامات پر چھوٹے کپڑے پہننےوالوں کیخلاف گلوکارفلک شبیر کا مریم سے مطالبہ

    پاکستانی گلوکار فلک شبیر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے عوامی مقامات پر لباس کے حوالے سے قانون سازی کی درخواست کر دی ہے۔

    فلک شبیر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک اسٹوری شیئر کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے ویپنگ (الیکٹرانک سگریٹ) پر پابندی کے اقدام کو سراہا اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ عوامی مقامات پر لباس کے حوالے سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔گلوکار نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا کہ ’’یہ بہت اچھا اقدام ہے، لیکن دو بیٹیوں کا باپ ہونے کی حیثیت سے میں مریم نواز سے عاجزانہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ عوامی مقامات، بازاروں اور سڑکوں پر چھوٹے کپڑے پہننے والوں کے لیے بھی کوئی قانون بنایا جائے، ورنہ ہم ثقافتی طور پر تباہ ہو جائیں گے۔‘‘

    تاحال وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز یا پنجاب حکومت کی جانب سے فلک شبیر کی اس درخواست پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زیر بحث ہے اور صارفین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • برطانیہ میں بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کو سخت سوالات کا سامنا

    برطانیہ میں بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کو سخت سوالات کا سامنا

    لندن: بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت کو برطانیہ میں ایک تقریب کے دوران شرکا کے سخت سوالات اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث تقریب میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن کی ایک یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب میں بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران حاضرین نے بھارت میں جمہوریت، اظہارِ رائے کی آزادی اور حکومت پر تنقید کے حق سے متعلق سوالات اٹھائے۔تقریب کے دوران بعض شرکا نے سوریا کانت کے ایک متنازع بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی۔ سوال و جواب کے سیشن میں ماحول اس وقت مزید کشیدہ ہوگیا جب ایک شرکا نے بھارت میں اختلافی آوازوں کے ساتھ رویے اور جمہوری اقدار کے حوالے سے سوال اٹھایا۔عینی شاہدین کے مطابق شرکا کی جانب سے تنقیدی سوالات کیے جانے پر تقریب کے منتظم اور ماڈریٹر نے مداخلت کی، جس پر بعض حاضرین نے اعتراض کیا۔ شرکا کا مؤقف تھا کہ سوالات پوچھنا ان کا حق ہے اور انہیں اپنی رائے کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔

    صورتحال اس وقت مزید گرم ہوگئی جب لیکچر ہال میں موجود ایک شخص بلند آواز میں احتجاج کرتے ہوئے چیخ اٹھا کہ "ہمارا احترام کیا جائے”۔ اس واقعے کے بعد چند لمحوں کے لیے تقریب میں بے نظمی اور ہنگامہ آرائی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بھارت میں جمہوری آزادیوں، عدلیہ کے کردار اور اختلافِ رائے کے حوالے سے مباحث جاری ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو مختلف دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے،

  • ملک کے بیشتر علاقوں میں  گرمی کی شدت میں اضافہ

    ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی جبکہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں خشک اور شدید گرم موسم کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے تاہم بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے خیبرپختونخوا کے اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان اور مالاکنڈ میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ اسی طرح باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے مختلف علاقوں میں بھی بارش ہونے کا امکان ہے۔

    سوات، چترال اور دیر کے چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، چارسدہ، مردان اور دیگر میدانی اضلاع کے بعض علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی توقع ہے ہری پور، وزیرستان اور کرم کے بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جس سے مقامی سطح پر موسم خوشگوار ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے جبکہ ملک کے دیگر میدانی علاقوں میں بھی گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،جبکہ لاہور میں اس وقت درجہ حرارت تقریباً 32 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کے بعد زیادہ سے زیادہ 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔

    ماہرین کے مطابق دن کے ساتھ ساتھ اب راتوں میں بھی گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا، اور کم سے کم درجہ حرارت 26 سے بڑھ کر 28 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جس سے حبس اور گرمی مزید محسوس ہوگی محکمہ موسمیات پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک سے دو روز کے دوران گرمی کی شدت میں بتدریج اضافہ متوقع ہے، جبکہ کل درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہےشہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

  • پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ

    پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ

    پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ ہو گیا۔

    اوگرا نے مٹی کا تیل 8روپے70پیسےفی لیٹر مہنگا کردیا جس کانوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، مٹی کے تیل کی نئی قیمت280 روپے70پیسےفی لیٹر ہوگئی ہے نئی قیمت کا اطلاق آج سے ہی ہو گا اس سے قبل مٹی کے تیل کی قیمت272روپےفی لیٹر تھی دوسری جانب حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ مٹی کے تیل پر پیٹرولیم لیوی 20 روپے چھتیس پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے، تاہم مٹی کا تیل مزید مہنگا کر دیا گیا ہے دوسری جانب حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لیٹرپر برقرار رکھی ہے۔

  • ایشین گیمز: عائشہ بلوچ نے بھارتی حریف کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیت لیا

    ایشین گیمز: عائشہ بلوچ نے بھارتی حریف کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیت لیا

    ایشین گیمز کے ریسلنگ فائنل میں پاکستانی کھلاڑی عائشہ بلوچ نے بھارتی حریف کو ہرا کر گولڈ میڈل جیت لیا۔

    عائشہ بلوچ نے سری لنکا میں جاری ایشین گیمز 2026کے ریسلنگ فائنل میں بھارتی حریف کو شکست دی، عائشہ بلوچ نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران غیر معمولی اعتماد، بہترین داؤ پیچ اور اعلیٰ تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث ایشیا بھر سے آنے والی حریف کھلاڑی ان کا مقابلہ نہ کر سکیں۔

    فائنل مقابلے میں عائشہ بلوچ کی تکنیکی برتری نمایاں رہی اور بھارتی ریسلر ان کے مؤثرکھیل کا مقابلہ نہ کرسکی بھارتی حریف کیخلاف فیصلہ کن فتح کے بعد عائشہ بلوچ نے سجدۂ شکر بھی ادا کیاوکٹری پوڈیم پر پاکستان کاسبز ہلالی پرچم لہرا کر عائشہ بلوچ نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، ان کی اس تاریخی کامیابی پر ملک بھر، خصوصاً بلوچستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جبکہ عوام اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات کی جانب سے انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

    عائشہ بلوچ کی یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے بلکہ ملک بھر خصوصاً بلوچستان کی نوجوان لڑکیوں کے لیے حوصلے، عزم اور امید کا روشن پیغام بھی ہے۔

  • ایران جنگ کے دوران آذربائیجان میں اسرائیلی خفیہ نیٹ ورک کا انکشاف

    ایران جنگ کے دوران آذربائیجان میں اسرائیلی خفیہ نیٹ ورک کا انکشاف

    ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان سمیت مشرق وسطیٰ اور خطے کے کئی ممالک میں خفیہ فوجی اور انٹیلی جنس اڈے قائم کیے تھے، جہاں سے ایرانی سرحد کے قریب نگرانی، انٹیلیجنس جمع کرنے اور ڈرون آپریشنز انجام دیے گئے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان خفیہ تنصیبات نے اسرائیل کو ایران کی شمالی، جنوبی اور مغربی سرحدو ں تک غیر معمولی رسائی فراہم کی، تاہم آذربائیجان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے خفیہ طور پر اپنی ایلیٹ فوجی اور انٹیلیجنس یونٹس آذربائیجان میں تعینات کی تھیں،یہ فورسز جنوبی آذربائیجان کے متعدد مقامات پر موجود تھیں جو ایران کی شمالی سرحد سے متصل ہیں اور بعض مقامات ایرانی شہر تبریز سے محض 60 میل کے فاصلے پر واقع تھے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی کمانڈو دستوں، خصوصی آپریشن فورسز اور موساد اہلکاروں نے ان مقامات سے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور ڈرون آپریشنز انجام دیے، جس سے اسرائیل کو شمالی ایران کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں نمایاں برتری حاصل ہوئی۔

    سی این این کے مطابق آذربائیجان میں موجود یہ تنصیبات اسرائیل کے وسیع خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھیں، جس میں عراق، متحدہ عرب امارات اور صومالی لینڈ میں قائم خفیہ اڈے بھی شامل تھے ابتدائی طور پر ان اڈوں کا مقصد ہنگامی صورتحال میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں تھا، تاہم بعد میں انہیں فوجی اور انٹیلی جنس مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ان تعیناتیوں کے نتیجے میں اسرائیلی افواج ایران کی جنوبی، مغربی اور شمالی سرحدوں کے گرد موجود رہیں، جس سے انہیں ایرانی علاقوں کے اندر سینکڑوں میل تک کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل ہوئی اور ایران بھر میں متعدد حملوں کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔

    تاہم آذربائیجان نے سی این این کی رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ملک کی سرزمین کسی بھی تیسرے ملک کے خلاف فوجی، انٹیلی جنس یا دیگر دشمنانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے کا دعویٰ ”مکمل طور پر بے بنیاد“ ہے آذربائیجان نے ماضی میں بھی ایسے الزامات کی تردید کی ہے اور رپورٹ شائع ہونے سے قبل بھی اپنا مؤقف سی این این کو آگاہ کر دیا تھارپورٹ میں گمنام ذرائع پر انحصار کیا گیا جبکہ کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

    آذربائیجان کی میڈیا ڈویلپمنٹ ایجنسی نے بھی رپورٹ کو ”من گھڑت معلومات“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خطے میں کشیدگی پیدا کرنا، بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا اور بین الریاستی تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔