فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے خود کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک ثالث کے طور پر پیش کیا ہے اور اس حوالے سے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق سینئر پاکستانی حکام پس پردہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے کروانے میں کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی حکام، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان بھی رابطے کروائے گئے۔
اس سے قبل بھی مختلف رپورٹس میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ بات چیت اور ثالثی کے حوالے سے پیش رفت کا ذکر سامنے آ چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
Blog
-

عاصم منیر اور ٹرمپ کا رابطہ، پاکستان ثالثی کیلئے متحرک
-

یوم پاکستان پر سعودی قیادت کے پیغامات، ترقی اور خوشحالی کی دعا
یوم پاکستان کے موقع پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستانی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدر پاکستان کے نام تہنیتی پیغام میں یوم پاکستان کی مبارک باد دی اور ان کی صحت و خوشحالی کے لیے دعا کی۔
دوسری جانب ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی صدر پاکستان کو مبارک باد دیتے ہوئے پاکستانی عوام کے لیے محبت اور یکجہتی کا پیغام دیا۔
سعودی قیادت نے اپنے پیغامات میں پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ -
اسلام آباد میں امریکا اور ایران مذاکرات، پاکستان میزبانی کرے گا
ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکا اور ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ملاقات متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق متوقع مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکا کے نائب صدر، خصوصی ایلچی اور ایک اعلیٰ سطحی شخصیت پاکستان پہنچ سکتے ہیں، جبکہ ایرانی جانب سے بھی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی اسلام آباد آمد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات میں علاقائی سیکیورٹی، سفارتی تعلقات اور باہمی امور پر گفتگو کی جا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔ -

انڈونیشیا کا واضح مؤقف: غزہ پیس بورڈ کیلئے ایک ارب ڈالر نہیں دیں گے
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ پیس بورڈ کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی فیس ادا نہیں کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر نے کہا کہ انڈونیشیا نے صرف غزہ میں امن فوج فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا اور کبھی کسی مالی تعاون کا وعدہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشین فوج کا کردار صرف قیامِ امن تک محدود ہوگا اور ملک مطلوبہ تعداد میں امن فوج فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر پرابوو نے مزید کہا کہ اس وضاحت کا مقصد ان خدشات کو دور کرنا ہے کہ بھاری مالی بوجھ قومی بجٹ پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ حکومت نے کسی قسم کی مالی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یاد رہے کہ غزہ میں تعمیر نو اور سکیورٹی استحکام کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کے وعدے کیے گئے ہیں، تاہم انڈونیشیا نے اس میں مالی شمولیت سے گریز کرتے ہوئے صرف امن مشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ -

ترکی، مصر اور پاکستان کی ثالثی، امریکا اور ایران کے درمیان رابطے جاری
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکی، مصر اور پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران ان تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، جن میں تنازع کے خاتمے اور ممکنہ حل پر بات چیت کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق یہ سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں اور ان میں پیش رفت بھی ہو رہی ہے، جبکہ توجہ جنگ کے خاتمے اور اہم معاملات کے حل پر مرکوز ہے۔
یہ رابطے براہ راست مذاکرات کے بجائے ثالثی کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث براہ راست بات چیت محدود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل اب بھی پیچیدہ ہے۔ -

ڈیجیٹل آلودگی خاموش دشمن،تحریر:مبشر حسن شاہ
آج کا انسان فیکٹریوں کے دھوئیں، گاڑیوں کے شور اور گندے پانی کی آلودگی سے تو کسی حد تک آگاہ ہے،اس کے حل کے لیے باقاعدہ حکومتی سطح پر تمام دنیا کاوشیں کر رہی ہے۔ مگر ایک ایسی آلودگی بھی ہے جو نہ دکھائی دیتی ہے، نہ سونگھی جا سکتی ہے اور نہ چکھی جا سکتی ہے۔ یہ پراسرار آلودگی تیزی سے پھیل چکی ہے اور انسانی صحت کے لیے زہر ہے۔ اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے، تیز اور سے تباہ کن ہیں۔ اس آلودگی کا نام ہے ڈیجیٹل آلودگی۔
یہ آلودگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب معلومات، ویڈیوز، نوٹیفکیشنز اور سوشل میڈیا فیڈز کی یلغار انسانی دماغ کی قدرتی حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔ بظاہر یہ سب “معلومات” ہیں، مگر حقیقت میں ان کا بڑا حصہ ذہنی شور (mental noise) ہے جو سکون، توجہ اور فیصلہ سازی کو کھوکھلا کر رہا ہوتا ہے۔یہ شور انسانی اعصاب کو توڑ دیتا ہے۔ ڈپریشن اس کے پہلے اثرات میں سے ایک ہے۔ خود سوچیں کہ شدید اثرات میں کیا کچھ ہوگا
سوشل میڈیا کا بے جا استعمال اس بحران کی بنیاد ہے۔ ایک عام فرد روزانہ گھنٹوں اسکرین پر صرف کرتا ہے، جہاں اس کا دماغ بغیر وقفے کے نئے سے نئے پیغامات، تصاویر اور تحاریر وصول کرتا رہتا ہے۔ یہ مسلسل اسکرولنگ وقتی خوشی دیتی ہے، مگر تحقیق کے مطابق یہ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو کمزور اور دماغ کو منتشر کر دیتی ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور خطرناک عنصر ڈس انفارمیشن (جان بوجھ کر پھیلائی گئی جھوٹی معلومات) اور مس انفارمیشن (غلط مگر غیر ارادی معلومات) ہے۔ سوشل میڈیا نے ان دونوں کو اس رفتار اور وسعت کے ساتھ پھیلایا ہے کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ نتیجتاً ذہنی الجھن، بے اعتمادی اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین اس صورتحال کو “انفارمیشن اوورلوڈ” کہتے ہیں۔یعنی معلومات کا ایسا سیلاب جسے انسانی دماغ مؤثر طریقے سے پراسیس نہیں کر سکتا۔ اس کا نتیجہ ذہنی تھکن، بے چینی، چڑچڑاپن اور کمزور فیصلہ سازی کی صورت میں نکلتا ہے۔بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ مختصر ویڈیوز کا جال دماغ کے ساتھ کیا کر رہا ہے یہ بھی جانئے۔ٹک ٹاک اور یوٹیوب ریلس نے اس ڈیجیٹل آلودگی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ نیوروسائنس کے مطابق یہ مختصر ویڈیوز دماغ کے ڈوپامین سسٹم کو بار بار متحرک کرتی ہیں، جس سے فوری تسکین کی لت پیدا ہوتی ہے۔ نتیجتاً دماغ ، سنجیدہ اور گہرائی پر مبنی مواد کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔
اس کا سب سے خطرناک پہلو "ریپیڈ کانٹینٹ سوئچنگ” ہے۔ ایک لمحہ آپ گانا دیکھ رہے ہوتے ہیں، دماغ ابھی اس کے اثرات کا تجزیہ کر رہا ہوتا ہے کہ فوراً مذہبی ریل آ جاتی ہے، پھر مزاحیہ کلپ، اس کے بعد سیاسی بحث، پھر کسی سماجی مسئلے کی جھلک، اور دوبارہ ایک گانا۔تحقیق بتاتی ہے کہ اس طرح کی تیز رفتار تبدیلیاں انسانی دماغ کے لیے تباہ کن ہیں ۔ یعنی دماغ پچھلے مواد سے مکمل طور پر باہر نہیں نکلتا کہ نیا مواد داخل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً نہ کوئی چیز پوری طرح سمجھی جاتی ہے، نہ کوئی احساس مکمل طور پر محسوس ہوتا ہے۔یہ مسلسل ذہنی جھٹکے انسان کو گہرائی سے سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتے ہیں۔ سنجیدہ مسائل بھی تفریح بن جاتے ہیں، اور جذباتی توازن بگڑنے لگتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب دکھ، سانحہ اور حقیقت بھی محض ایک اور ویڈیو محسوس ہونے لگتی ہے۔انسان مردم بیزار اور چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ نیند کی کمی اور جسم کے نظر نہ آنے والا نقصان بھی اسی سلسلے کا حصہ ہیں ۔ڈیجیٹل آلودگی صرف دماغ تک محدود نہیں رہتی۔ مسلسل اسکرین کے استعمال سے آنکھوں پر شدید دباؤ پڑتا ہے، جسے ماہرین "ڈیجیٹل آئی اسٹرین” کہتے ہیں،جس میں آنکھوں کی خشکی، دھندلاہٹ اور سر درد شامل ہیں۔
اسی طرح اسکرین سے نکلنے والی روشنی نیند کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے، کیونکہ جسم اور دماغ ریسٹ مانگتا ہے لیکن ہم اسے مسلسل ابھی نہیں کا سگنل دے کر اوور ورک کروارہے ہوتے ہیں۔ جس کے باعث بے خوابی، تھکن اور دن بھر کی سستی عام ہو جاتی ہے۔ایک اور خطرناک پہلو وہ ہے جسے لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتےڈرائیونگ یا بائیک چلاتے وقت موبائل کا استعمال۔ چند سیکنڈ کی توجہ کی کمی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ ریسرچ واضح کرتی ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل استعمال کرنے والا شخص نشے میں ڈرائیونگ کرنے والے کے برابر خطرہ بن جاتا ہے۔جارحانہ ویڈیو گیمز بھی اسی ڈیجیٹل آلودگی کا حصہ ہیں۔ مسلسل پرتشدد مناظر دیکھنے اور کھیلنے سے دماغ میں حساسیت کم ہو سکتی ہے اور ردعمل زیادہ تیز اور غیر متوازن ہو سکتا ہے۔اس کی ایک چونکا دینے والی مثال گزشتہ سال کراچی میں سامنے آئی، جہاں ڈکیتی کے دوران ایک نوجوان نے مزاحمت کرتے ہوئے ڈاکوؤں سے اسلحہ چھین لیا اور مکمل میگزین خالی کر تے ہوئے انہیں قتل کر دیا۔ بعد ازاں انٹرویو میں جب اس سے پوچھا گیا کہ فائر کرتے وقت ہچکچاہٹ نہیں ہوئی، تو اس نے جواب دیا کہ وہ پوری رات ایک شوٹنگ گیم کھیلتا رہا تھا اور اس لمحے اسے یوں لگا جیسے وہ گیم ہی کھیل رہا ہو۔
یہ واقعہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ایک خطرناک اشارہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کس حد تک حقیقی رویوں کو متاثر کر سکتی ہے۔مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ اس کا غیر متوازن اور بے شعور استعمال ہے۔ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔مگر حد سے زیادہ استعمال اسے زہر بنا دیتا ہے۔ اس کا حل سادہ ہے مگر آسان نہیں کیونکہ ہمارے دماغ اس کے عادی ہیں۔ فوری بہتری کے لیے اسکرین ٹائم محدود کریں۔مواد کا انتخاب شعوری بنائیں سونے سے پہلے اسکرین سے دور رہیں ۔غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کریں اور سب سے بڑھ کر، اپنے دماغ کو وقفہ دیں۔اپنے اردگرد موجود لوگوں اور گھر پر توجہ دیں ۔ ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں اپنے پیاروں کے پاس رکھ کر بھی ان سے دور کر دیا ہے۔ اگر ہم نے اس ڈیجیٹل آلودگی کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسی اجتماعی بیماری بن جائے گی جو سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت کو دیمک کی طرح کھا جائے گی۔خاموش خطرات ہمیشہ سب سے زیادہ مہلک ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل آلودگی انہی میں سے ایک ہے۔اب تک جو نقصان ہونا تھا ہو چکا لیکن اگر ہم اب بھی واپس پلٹنا چاہیں تو نہ صرف راستہ کھلا ہے بلکہ بہت دیر بھی نہیں ہوئی۔
-

سونے کی قیمت میں تاریخی کمی، فی تولہ 43 ہزار سے زائد سستا
عالمی اور مقامی سطح پر سونے کی قیمت میں بڑی اور تاریخی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں بھی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونا 43 ہزار 600 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 47 ہزار 762 روپے پر آ گیا ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 47 ہزار 380 روپے کی ریکارڈ کمی ہوئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 3 لاکھ 83 ہزار 883 روپے ہو گئی ہے۔ رواں ماہ کے دوران فی تولہ سونا مجموعی طور پر 1 لاکھ 16 ہزار 100 روپے تک سستا ہو چکا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں فی اونس سونا 436 ڈالر کی کمی کے بعد 4 ہزار 250 ڈالر پر آ گیا۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ -

ایرانی اعلیٰ شخصیت سے بات چیت جاری،مگر وہ مجتبیٰ خامنہ ای نہیں،ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کی کچھ تیل کی اسٹاک پائلز پر پابندیاں نرم کرنے کے اقدام کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بڑھتے ہوئے توانائی کے بحران کے دوران سپلائی بڑھانے کے لیے ہے اور یہ جنگ پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا۔
ٹرمپ نے سی این این رپورٹر سے گفتگو میں کہا ،”میں بس چاہتا ہوں کہ نظام میں زیادہ سے زیادہ تیل موجود ہو۔” انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کے ایران کو نقد رقم بھیجنے کے اقدام پر اپنی تنقید دہرائی، مگر کہا کہ ایران کے لیے یہ رقم حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پابندیاں ہٹانے سے ایران کو مالی فائدہ ہوگا، لیکن وہ رقم جنگ پر کوئی اثر نہیں ڈالے گی۔ "جو بھی تھوڑی بہت رقم ایران کو ملے گی، اس سے اس جنگ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ نظام ہموار رہے۔”
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ایک "اعلیٰ شخصیت” سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ جنگ ختم کی جا سکے، لیکن یہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہیں ہیں۔ٹرمپ نے کہا "ہم نے قیادت کے پہلے، دوسرے اور زیادہ تر تیسرے مرحلے کو ختم کر دیا ہے، لیکن ہم اس آدمی سے بات کر رہے ہیں جسے میں سب سے زیادہ معزز اور رہنما سمجھتا ہوں۔”انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے، لیکن ایران کے کس شخص سے بات ہوئی، اس کی شناخت نہیں کی۔جب کولنز نے پوچھا کہ کیا امریکی حکومت خامنہ ای سے بات کر رہی ہے، ٹرمپ نے کہا: "نہیں، سپریم لیڈر نہیں۔”
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ پینٹاگون کے لیے 200 بلین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے، حالانکہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کو کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا "یہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے ،دنیا بہت متنازع ہے اور بڑی حد تک ڈیموکریٹس اس میں اضافہ کرتے ہیں۔”سی این این کے مطابق، ٹرمپ آئندہ ہفتوں میں کانگریس سے یہ فنڈنگ مانگ سکتے ہیں، لیکن اسے منظور کرانا بہت مشکل ہوگا کیونکہ ریپبلکن پارٹی کے رہنما اپنے اندر ووٹ نہیں دیکھتے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ "اہم نکات پر اتفاق” ہو چکا ہے، اور مذاکرات اتوار کی رات دیر تک جاری رہے۔ انہوں نے کہا "وہ بالکل درست گئے۔ ایران نے مذاکرات کا آغاز کیا۔ اگر یہ بات چیت کامیاب ہوئی تو یہ مسئلہ اور تنازع بہت حد تک ختم ہو جائے گا۔”ٹرمپ نے کہا کہ ایران واقعی معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور امریکہ بھی چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت کے بعد فون کالز اور جلد ہی ذاتی ملاقات متوقع ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے اقدامات شامل ہوں گے، اور امریکہ ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کا کنٹرول حاصل کرے گا۔
-

ایران معاہدے کا خواہشمند ہے،ٹرمپ کا دعویٰ، تہران کی سخت تردید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا “بہت خواہشمند” ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ بات چیت “بہت مضبوط” رہی ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی امریکی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام کے ساتھ اہم امور پر پیش رفت کی ہے اور مذاکرات “بالکل درست سمت میں” جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بات چیت گزشتہ روز رات تک جاری رہی۔ٹرمپ کا کہنا تھا، “ایران بہت زیادہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ہم بھی اس کے خواہشمند ہیں۔ ممکنہ طور پر آج دوبارہ رابطہ ہوگا، شاید فون پر، کیونکہ ان کے لیے آنا جانا مشکل ہے۔”
امریکی صدر نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملوں میں پانچ روزہ وقفے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس دوران کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا، “اگر کوئی حل نہ نکلا تو ہم بمباری جاری رکھیں گے۔”ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ امریکا نے حال ہی میں اسرائیل سے رابطہ کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی معاہدے پر اسرائیل مطمئن ہوگا۔ ان کے بقول، “یہ اسرائیل کے لیے طویل المدتی اور یقینی امن کا باعث بن سکتا ہے۔”
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ نہ براہ راست اور نہ ہی بالواسطہ کوئی مذاکرات ہوئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ بیانات امریکی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد وقت حاصل کرنا اور توانائی کی قیمتوں پر اثر ڈالنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بارک راویڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور مصر حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم ایرانی خبر رساں اداروں نے اس کی بھی تردید کی ہے۔ایران کے سرکاری اخبار کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کوئی بات چیت ہوئی ہے۔اخبار نے کہا، "امریکی صدر کے ریمارکس توانائی کی قیمتوں کو کم کرنے اور اپنے فوجی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے وقت خریدنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔”فارس خبر رساں ایجنسی نے بھی ٹرمپ کی سوشل پوسٹ کے جواب میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔
-

پاکستان دہشتگردی کا شکار، سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، تابش قیوم
مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس کی رپورٹ میں پاکستان کا دہشتگردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آنا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان خود دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار ہے اور عوام و سیکیورٹی ادارے مسلسل دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی فورسز ،عوام پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،
تابش قیوم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بیرونی عناصر کارفرما ہیں جو ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، دشمن قوتیں، خصوصاً بھارت، ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا ہے اور اپنی ریاستی دہشتگردی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان پر الزامات عائد کرتا رہا ہے، دہشتگردی کبھی مسلک، کبھی فرقہ واریت اور کبھی لسانی بنیادوں پر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کا مقصدپاکستان کو عدم استحکام سے دوچارکرنا ہے،فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان کو بھارتی سرپرستی حاصل ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات کی بجائے ایک میز پر بیٹھ کر دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ اور مشترکہ حکمت عملی اپنائیں،حکومت کو بھی چاہئے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جس طرح 23 مارچ کو قوم نظریۂ پاکستان پر متحد ہوئی تھی، اسی طرح آج دہشتگردی کے خلاف بھی قومی یکجہتی ناگزیر ہے، اگر قوم متحد ہو جائے تو کوئی بھی دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا،