Baaghi TV

Blog

  • امریکہ ایران  کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان کا اہم کردار

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان کا اہم کردار

    امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان کے ساتھ ترکیہ اور مصر نے بھی کشیدگی میں کمی لانے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔رائٹرز کے دعوے کے مطابق تینوں ممالک نے عباس عراقچی اور اسٹیو وٹکوف کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کیے ہیں۔بات چیت کا مقصد موجودہ کشیدگی میں کمی لانا تھا جس کے نتائج بھی سامنے آ چکے ہیں 5 دن کیلئے امریکی حملے روک دیئے گئے ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ خطے کے اہم ممالک پس پردہ رابطوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق، ترکی، مصر اور پاکستان گزشتہ چند دنوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ممالک ایسے وقت میں رابطے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں جب حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔یہ پیش رفت ایک وسیع تر علاقائی سفارتی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد کشیدگی میں کمی یا ممکنہ جنگ بندی کے امکانات تلاش کرنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ دنوں میں ترکی، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں انہوں نے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ادھر دیگر سفارتی چینلز بھی متحرک ہیں۔ قطر، مصر اور برطانیہ نے امریکی تجاویز ایرانی حکام تک پہنچائی ہیں۔ ان تجاویز میں ممکنہ امن معاہدے یا جنگ بندی کے لیے سخت شرائط شامل ہیں، جن میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو پانچ سال کے لیے معطل کرنا، یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنا، اور نطنز جوہری تنصیب، اصفہان جوہری تنصیب اور فردو جوہری تنصیب جیسے مراکز کو بند کرنا شامل ہے۔
    مزید برآں، تجاویز میں جوہری تنصیبات اور سینٹری فیوجز کی سخت بین الاقوامی نگرانی، خطے میں میزائل کی حد 1000 کلومیٹر تک محدود کرنا، اور حزب اللہ، حوثی تحریک اور حماس جیسے گروہوں کی مالی و عسکری مدد ختم کرنا بھی شامل ہے۔

    وزیر خارجہ ترکی نے جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف ممالک سے وسیع مشاورت کی ہے، جس میں ایرانی اور مصری حکام کے ساتھ ساتھ امریکی اور یورپی عہدیداران سے بھی بات چیت شامل ہے۔اسی دوران عمان، مصر، پاکستان اور ترکی کے سینئر سفارتکار خاموشی سے تہران کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

  • امریکہ  نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری دے دی

    امریکہ نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری دے دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سعودی عرب کو ایرانی حملوں کے خلاف دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

    سی این این کے مطابق ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق امریکہ نے سعودی عرب کی جانب سے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی کی درخواستوں کی منظوری دے دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے تیسرے فریق کے ذریعے ہتھیاروں کی منتقلی کی بھی اجازت دے دی ہے، جس کے تحت اتحادی ممالک اپنے ذخائر میں موجود امریکی ساختہ اسلحہ سعودی عرب کو فراہم کر سکیں گے۔ اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔عہدیدار کے مطابق سعودی عرب کو سب سے زیادہ خدشہ ایران کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر پر ممکنہ حملوں کا ہے، خاص طور پر اگر امریکہ ایران کے اہم تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے۔ خلیجی عرب ممالک، جو پہلے ہی ایرانی حملوں کا سامنا کر چکے ہیں، اس صورتحال میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق جنوری میں امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کو 730 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دی تھی، جس کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ نومبر میں سعودی عرب کو امریکہ کا “میجر نان نیٹو اتحادی” قرار دیا گیا، جس کے بعد اسلحہ کی منتقلی کے عمل کو مزید آسان بنا دیا گیا۔گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے لیے تقریباً 8.4 ارب ڈالر، کویت کے لیے 8 ارب ڈالر اور اردن کے لیے 70.5 ملین ڈالر کے اسلحہ معاہدوں کی منظوری بھی تیز رفتار بنیادوں پر دی۔

    دوسری جانب قطر نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی ثالثی میں شامل نہیں۔ ایک قطری سفارتکار کے مطابق ایران کی جانب سے گیس تنصیبات پر حملوں کے بعد قطر اس وقت اپنی دفاعی صورتحال کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

  • پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی میں یوم پاکستان جذبہ حب الوطنی سے منایا گیا

    پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی میں یوم پاکستان جذبہ حب الوطنی سے منایا گیا

    پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی میں یوم پاکستان جذبہ حب الوطنی سے منایا گیا

    ناظم الامور پاکستان ہائی کمیشن سعد احمد وڑائچ نے چانسری لان میں قومی پرچم بلند کیا۔اس موقع پر صدر مملکت، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔سعد احمد وڑائچ کا کہنا تھا کہ 23 مارچ 1940 کی قراردادِ لاہور علیحدہ وطن کے حصول کی جدوجہد میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت سات سال کے مختصر عرصہ میں اس اجتماعی تحریک کو قیام پاکستان کی صورت ایک اظہار ملا۔ تحریک پاکستان کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، انکی عظیم قربانیاں آزادی کے انمول تحفے کے تحفظ اور ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے مخلصانہ کاوشیں بروئے کار لانے میں پوری قوم کیلئے مشعل راہ ہیں ۔ آج کے بھارت پر نظر دوڑائیں تو ہندوتوا کا عفریت ہمارے اسلاف کی دوراندیشی کی زندہ مثال ہے-تاریخ کا سبق ہے کہ وہی قومیں حقیقتاً آزاد رہیں جو اپنی آزادی کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ معرکہ حق نے ایک بار پھر دفاع وطن کے لیے ہماری قوم کے اجتماعی عزم کی تجدید کی۔ پوری دنیا پاکستان کے اپنی خودمختاری کے تحفظ اور آزادی کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کی گواہ ہے۔

    دفاع وطن کیلئے بہادر مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے سعد احمد وڑائچ نے کہا کہ پاکستان کا وضع کردہ ڈیٹرنس نہ صرف جنوبی ایشیا میں استحکام کا سبب ہے بلکہ علاقائی امن کی بھی ضمانت ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان پرامن تعلقات برابری، باہمی احترام اور تمام تنازعات کے پُرامن حل کی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتے ہیں ۔ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کا ہدف تنازعہ جموں و کشمیر کا اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

  • وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو،ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار

    وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو،ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    وزیراعظم نے ایرانی صدر اور برادر عوامِ ایران کو عیدالفطر اور نوروز کی مبارکباد پیش کی۔ ایرانی صدر نے بھی ان جذبات کا پرتپاک انداز میں جواب دیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔بطور ہمسایہ برادر ملک، وزیراعظم نے جاری کشیدگی کے تناظر میں بہادر ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں و متاثرین کی جلد صحتیابی اور سلامتی کے لیے دعا کی۔وزیراعظم نے خلیجی خطے میں جاری خطرناک صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر انہوں نے تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف واپسی کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔انہوں نے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔پاکستان کی قیادت کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

  • افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی”کاروائیاں شدت اختیار کر گئیں

    افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی”کاروائیاں شدت اختیار کر گئیں

    افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی”کاروائیاں شدت اختیار کر گئی،رجیم کی گرفت کمزورہو گئی.

    طالبان رجیم کی انتہاپسندی کے باعث افغانستان کے اندر مزاحمتی تحریکیں شدت اختیار کر گئیں ،افغان طالبان رجیم کیخلاف سرگرم مزاحمتی تحریک ،نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے گزشتہ ایک سال کی کاروائیوں کی تفصیلات جاری کر دیں ،نیشنل ریزسٹنس فرنٹ(این آر ایف) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ ایک سال میں طالبان رجیم کے خلاف 401 ٹارگٹڈ کارروائیاں ہوئیں، کابل 126 آپریشنز کے ساتھ سرفہرست رہا،ٹارگٹڈ کارروائیاں کابل، پنجشیر، بدخشان، ہرات سمیت 19 صوبوں میں کی گئیں ،طالبان رجیم کو ٹارگٹڈ کارروائیوں میں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جن میں651 ہلاک اور579 زخمی شامل ہیں،

    گزشتہ ہفتے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے رہنما احمدمسعودبھی واضح کرچکے کہ طالبان رجیم داخلی اورعالمی سطح پر اپنی قانونی حیثیت کھو چکی ہے اور اس نے عوام کو سیاسی نظام سے باہر رکھا ہوا ہے، ماہرین کے مطابق افغانستان میں بڑھتی ہوئی مزاحمتی تحریکیں واضح اشارہ ہیں کہ افغان عوام اب اس غاصب رجیم کے مظالم سے تنگ آچکے ہیں،طالبان رجیم اندرونی انتشار اور شدیدمعاشی بدحالی کا شکار ہوچکی ہے ،طالبان رجیم نہ صرف عالمی سطح پر اپنی ساکھ کھو چکی ہے بلکہ اب اسے داخلی سطح پر بھی شدید مزاحمت کاسامنا ہے

  • تہران پر اسرائیل کے تازہ حملے، امریکا کی پسپائی پر ایران کا ردعمل

    تہران پر اسرائیل کے تازہ حملے، امریکا کی پسپائی پر ایران کا ردعمل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی کے بیان کے بعد اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران پر تازہ فضائی حملوں کی لہر شروع کر دی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ حملے ایرانی ” حکومت کے بنیادی ڈھانچے” کو نشانہ بنا رہے ہیں۔یہ کارروائیاں دارالحکومت کے مختلف مقامات پر کی جا رہی ہیں، تاہم فوری طور پر نقصانات یا جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا ایران کے بجلی گھروں پر مجوزہ حملے مؤخر کر رہا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے امریکی فیصلے کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی "سخت وارننگ” کے بعد پسپائی اختیار کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق کابل میں ایرانی سفارتخانے نے بھی سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے پورے خطے کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد امریکا نے اپنا مؤقف تبدیل کیا۔ایرانی خبر رساں ادارے نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان نہ تو براہ راست اور نہ ہی کسی تیسرے فریق کے ذریعے کوئی بات چیت ہوئی، جبکہ ٹرمپ نے حال ہی میں "مثبت مذاکرات” کا ذکر کیا تھا۔

  • ٹرمپ نے خود کو مزید وقت دے دیا، ایران سے مذاکرات کے دعووں پر سوالات

    ٹرمپ نے خود کو مزید وقت دے دیا، ایران سے مذاکرات کے دعووں پر سوالات

    واشنگٹن: دفاعی تجزیہ کار پروفیسر مائیکل کلارک نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے معاملے پر وقتی طور پر پسپائی اختیار کرتے ہوئے خود کو مزید وقت دے دیا ہے، تاہم ان کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دعووں پر شکوک و شبہات موجود ہیں۔

    پروفیسر کلارک کے مطابق یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ٹرمپ کسی حد تک پیچھے ہٹیں گے، لیکن اتنی جلدی فیصلہ حیران کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ فوجی کارروائی کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے، تاہم آئندہ پانچ دنوں میں یہ آپشن اب بھی موجود ہے۔کلارک نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اچانک ایران کے ساتھ "تعمیری اور بامعنی مذاکرات” کا ذکر کیا، جن کے بارے میں پہلے کسی کو علم نہیں تھا۔”انہوں نے اس سے پہلے کبھی ان مذاکرات کا ذکر نہیں کیا، اچانک کہا جا رہا ہے کہ گہرے مذاکرات جاری تھے، ممکن ہے اس معاملے میں مبالغہ آرائی کی جا رہی ہو،” انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود ٹرمپ نے ممکنہ حملوں کے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے وقتی طور پر قدم پیچھے کھینچا ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشی ماہر ایڈ کانوے کے مطابق ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں 13 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ "یہ ایک غیر معمولی معاشی جھٹکا ہے، جہاں مارکیٹوں نے اچانک مثبت ردعمل دیا ہے اور امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے۔”کانوے کے مطابق تیل کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ بانڈز کی ییلڈ میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اب بھی کئی اہم سوالات باقی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

  • خلیجی بحران پر پاکستان کا واضح مؤقف، امن کیلئے کوششیں تیز،سب سے پہلے پاکستان

    خلیجی بحران پر پاکستان کا واضح مؤقف، امن کیلئے کوششیں تیز،سب سے پہلے پاکستان

    ہر صبح جب آپ اٹھتے ہیں تو پاکستان کے خلیجی بحران میں کردار کے بارے میں ہزاروں مختلف آراء سننے کو ملتی ہیں۔ ان میں سے اکثر پی ٹی آئی سے وابستہ اکاؤنٹس، بھارتی ٹرولز اور افغان طالبان کے ترجمانوں کے ہوتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ سعودی عرب پاکستان سے خوش نہیں، کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے کہنے پر ایران پر حملہ کرنے والا ہے، جبکہ کوئی الزام لگاتا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔

    ان تمام ٹرولز میں ایک بات مشترک ہے، انہیں پاکستان کی پالیسی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، اور ان سب کی خواہش ہے کہ پاکستان کو اس تنازع میں گھسیٹا جائے، تاکہ دراصل ایک اینٹی پاکستان ایجنڈا پورا کیا جا سکے۔ان تمام منفی پروپیگنڈوں کے باوجود، پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے ، پاکستان مخلصانہ طور پر تنازع کے خاتمے کا خواہاں ہے اور اس کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جس پر ایران اور خلیجی ممالک دونوں کو اعتماد ہے، حتیٰ کہ امریکہ بھی پاکستان کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان نے خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک، خصوصاً سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخ، مذہبی وابستگی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ اسٹرٹیجک ملٹری ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) اسی تعلق کا مظہر ہے۔ پاکستان کا اسٹرٹیجک ملٹری ڈیفنس ایگریمنٹ سے عزم اور حجاز مقدس کے دفاع کا وعدہ ناقابلِ متزلزل ہے۔ اس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی اس کے لیے اسرائیل، بھارت یا افغانستان کی توثیق درکار ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، ایرانی پارلیمنٹ میں گونجنے والا “تھینک یو پاکستان” اس کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان نے اس تنازع کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے روکنے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ اسرائیل اس تنازع کو طول دینے اور پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے، خلیجی ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچایا جائے، ایران کی عسکری صلاحیت کو ختم کیا جائے، اور یوں مشرق وسطیٰ میں اپنی بالادستی قائم کر کے “گریٹر اسرائیل” منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان سمجھتا ہے کہ اس تنازع کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔ پاکستان یہ بھی سمجھتا ہے کہ ایران کو سعودی عرب پر حملے روکنے چاہئیں کیونکہ اس سے تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کی اس بات پر بھی تعریف کرتا ہے کہ اس نے اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا اور جواب دینے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود جنگ سے گریز کیا۔

    یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اس صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ حکومتیں اپنی عوام کی سلامتی کی ذمہ دار ہوتی ہیں، اس لیے سعودی عرب کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے لامحدود تصور کیا جائے،یہ ایک خطرناک غلطی ہو سکتی ہے۔ اگر سعودی عرب نے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا تو یہ تنازع بے قابو ہو کر پورے خطے اور اس سے باہر تک پھیل سکتا ہے، جس سے اسرائیل کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ ایران کو اس کا ادراک کرنا چاہیے اور اسی کے مطابق قدم اٹھانے چاہئیں۔ خلاصہ یہ کہ پاکستان کی پالیسی کشیدگی کو کم کرنا، امتِ مسلمہ کا تحفظ کرنا اور اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنانا ہے۔ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کا عزم مضبوط ہے اور ایران کی خودمختاری کے لیے اس کی حمایت بھی ثابت شدہ ہے۔ ان شاء اللہ پاکستان کی کوششیں رنگ لائیں گی، جبکہ یہ نام نہاد دانشور اور اینٹی پاکستان عناصر جو چاہیں کہتے رہیں۔ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے “سب سے پہلے پاکستان” اور یہ کبھی تبدیل نہیں ہوگی۔

  • ایران کا اسرائیل پر ایک اور بڑا حملہ،  تل ابیب اور یروشلم میں خوف کی فضا

    ایران کا اسرائیل پر ایک اور بڑا حملہ، تل ابیب اور یروشلم میں خوف کی فضا

    گزشتہ ایک گھنٹے میں ایران سے میزائلوں کا ایک بیراج پیشگی انتباہ کے بغیر داغا گیا جس کے بعد ڈرون حملے کیے گئے۔

    اسرائیلی میڈیا نے ساحلی میدانی علاقے شفیلہ میں دھماکوں کی اطلاع دی، اس کے ساتھ ہی ہولون میں راکٹ گرنے اور ملک کے جنوبی حصے میں کئی مقامات پر ملبہ گرنے کی ابتدائی اطلاعات ہیں۔ اضافی انتباہات نے اشارہ کیا کہ کلسٹر گولہ بارود تل ابیب کے جنوب میں گر رہے ہیں، جبکہ شدید دھماکوں نے بغیر کسی پیشگی انتباہ کے مرکزی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ تل ابیب اور یروشلم سمیت وسطی مقبوضہ فلسطین میں سائرن بجنے لگے، کیونکہ ایران سے میزائل لانچ ہونے کا پتہ چلا، رپورٹس کے ساتھ اشکلون میں ایک پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جہاں ایک عمارت پر براہ راست ٹکر ریکارڈ کی گئی۔ ایرانی میزائل آسمان پر نظر آرہے تھے، جس میں مداخلت کی ناکام کوششوں کی اطلاع دی گئی تھی، اور بین گوریون ہوائی اڈے پر موجود تمام مسافروں کو پناہ گاہوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔

    اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 153 آباد کار زخمی ہوئے جس سے جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی تعداد 4,713 ہو گئی ہے۔ اسی دوران حزب اللہ کی جانب سے ایک راکٹ نے مقبوضہ علاقوں کے شمال کو نشانہ بنایا۔ دوسری جگہوں پر، بغداد کے اوپر ڈرون دیکھے گئے، اور طاقتور دھماکوں نے "اسرائیل” کے مرکزی علاقوں کو ہلاتے رہے

  • ایران سے بات چیت کے بعد بجلی گھروں،توانائی ڈھانچوں پر حملے ملتوی،ٹرمپ کا اعلان

    ایران سے بات چیت کے بعد بجلی گھروں،توانائی ڈھانچوں پر حملے ملتوی،ٹرمپ کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو عارضی طور پر مؤخر کر دیا ہے،

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران "بہت مثبت اور تعمیری” مذاکرات ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی قسم کے فوجی حملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ جاری مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہوگا۔ آئندہ دنوں میں بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا ۔