Baaghi TV

Blog

  • بی ایل اے، القاعدہ اور طالبان کا گٹھ جوڑ،پاکستان کیخلاف خواتین کو دہشتگردی کی تربیت دیئے جانے کا انکشاف

    بی ایل اے، القاعدہ اور طالبان کا گٹھ جوڑ،پاکستان کیخلاف خواتین کو دہشتگردی کی تربیت دیئے جانے کا انکشاف

    بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ اب خواتین اور نوجوانوں کو منظم انداز میں انتہا پسند ی کی جانب راغب کر کے خودکش حملوں اور دیگر دہشتگرد سرگرمیوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف شدت پسند تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا اشتراک دہشتگردوں کو لاجسٹک سہولتیں، تربیتی وسائل، مالی معاونت اور بھرتی کے وسیع نیٹ ورکس فراہم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور شہری آبادیوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں حالیہ برسوں میں دہشتگرد تنظیموں نے معاشی مشکلات، سماجی کمزوریوں اور نفسیاتی عوامل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوانوں اور خواتین کی بھرتی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ان افراد کو نظریاتی طور پر تیار کرنے کے بعد خودکش حملوں، سہولت کاری اور تنظیمی نیٹ ورکس کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے سیکیورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ نوجوانوں اور خواتین کو استعمال کرنے کی یہ حکمت عملی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔

    مارچ 2026 میں سیکیورٹی اداروں نے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لائبہ عرف فرزانہ کے مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی تحقیقا ت کے مطابق لائبہ جولائی 2025 میں کالعدم بی ایل اے میں شامل ہوئی تھی اسے سابق ٹی ٹی پی کمانڈر ابراہیم عرف قاضی ماما کے نیٹ ورک کے ذر یعے انتہا پسند نظریات کی طرف مائل کیا گیا اور بعد ازاں بی ایل اے کے حوالے کر دیا گیا لائبہ کو نہ صرف ایک ممکنہ خودکش کارروائی کے لیے تیار کیا جا رہا تھا بلکہ اسے مالی طور پر کمزور نوجوان خواتین کو تنظیم میں شامل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ کیس اس رجحان کی ایک اہم مثال ہے جس میں خواتین کو دہشت گرد نیٹ ورکس کی توسیع کے لیے فعال کردار دیا جا رہا ہے۔

    ایک اور کیس میں رحیمہ بی بی کے بیان نے دہشتگرد تنظیموں کے باہمی روابط کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے بیان کے مطابق اس کے شوہر نے زرینہ رفیق نامی ایک خاتون خودکش بمبار کی معاونت کی، جس کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے بتایا گیا حملے سے قبل زرینہ کو افغانستان منتقل کیا گیا، جہاں اسے عسکری تربیت فراہم کی گئی۔

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کی ایک وجہ ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس کے ساتھ مبینہ تعاون بھی قرار دیا جا رہا ہے ماہرین کے مطابق یہ گٹھ جوڑ دہشتگرد تنظیموں کو اسلحہ اور بارودی مواد تک رسائی، تربیتی سہولتیں، مالی معاونت، آپریشنل رہنمائی اور بھرتی کے مؤثر نیٹ ورکس فراہم کرتا ہے۔

    ان کے مطابق افغانستان کے راستے موجود سہولت کار مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطوں اور کارروائیوں میں معاونت کرتے ہیں، جس سے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد نسبتاً آسان ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض سیکیورٹی ماہرین اس رجحان کو خطے میں دہشتگردی کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کا اہم پہلو قرار دیتے ہیں۔

    کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے حملے نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس اب بھی ایک سنجیدہ خطرہ ہیں اس حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ قریبی گھروں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا سیکیورٹی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں مختلف نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور معاون گروہوں کے ذریعے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث امن و امان کے قیام کی کوششوں کو مسلسل چیلنجز درپیش رہتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باوجود اب سب سے بڑا چیلنج صرف دہشتگرد حملوں کو روکنا نہیں بلکہ ان بھرتی نیٹ ورکس کو توڑنا بھی ہے جو نوجوانوں اور خواتین کو انتہا پسندی کی طرف لے جا رہے ہیں، آن لائن انتہا پسندی کا مقابلہ، نوجوانوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا، خواتین کو معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا، اور دہشت گرد بھرتی نیٹ ورکس کا خاتمہ انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی کے اہم ستون بن چکے ہیں ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف عسکری اقدامات کافی نہیں بلکہ سماجی، تعلیمی اور معاشی سطح پر بھی مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک عناصر کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دہشتگردی کے ایک نئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں خواتین اور نوجوانوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ لائبہ عرف فرزانہ اور رحیمہ بی بی جیسے کیسز اس بات کی مثال سمجھے جا رہے ہیں کہ کس طرح سرحد پار تربیتی نیٹ ورکس، مقامی سہولت کار اور انتہا پسند تنظیموں کے درمیان تعاون دہشتگردی کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ رجحان نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک پیچیدہ، کثیر جہتی اور طویل المدتی چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی، سماجی اور سیاسی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 5 نئے ممبران منتخب

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 5 نئے ممبران منتخب

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آسٹریا، کرغزستان، پرتگال، ٹرینیڈاڈ، ٹوباگو اور زمبابوے کو 15 رکنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دو سالہ مدت کے لیے منتخب کرلیا ہے جس کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی جس نے ایک نشست کے لیے سخت لابنگ کی تھی، 104 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا جب کہ پرتگال کو 134 اور آسٹریا کو 131 ووٹ ملے،ایشیا پیسیفک گروپ کی نشست کے لیے فلپائن اور کرغزستان کے درمیان مقابلہ ووٹنگ کے چار راؤنڈ تک چلا، کرغز ستان نے بالآخر ضروری دو تہائی اکثریت حاصل کر لی اور سلامتی کونسل کی اپنی پہلی نشست 49 کے مقابلے 142 ووٹوں سے حاصل کر لی۔

    سلامتی کونسل اقوام متحدہ کا واحد ادارہ ہے جو پابندیاں لگانے اور طاقت کے استعمال کی اجازت جیسے قانونی طور پر پابند فیصلے کر سکتا ہے، اس کے پانچ مستقل ویٹو والے ارکان ہیں، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکا،باقی 10 ممبران منتخب کیے جاتے ہیں جن میں ہر سال پانچ نئے ممبر شامل ہوتے ہیں۔

  • امریکی خفیہ ایجنسیوں  کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے

    امریکی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے

    امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور امریکی انٹیلی جینس کمیونٹی کی سربراہ تنظیم آفس آف ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جینس (او ڈی این آئی) کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں-

    رائٹرز کے مطابق امریکی حکام اور معاملے سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ دونوں اداروں کے درمیان جھگڑا ایک سال سے زائد عرصے سے جاری ہے، جس سے قومی سلامتی کے اہم معاملات پر تعاون متاثر ہوا ہے یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا ایران تنازع، چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور روس یوکرین جنگ جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    اختلافات کی بنیادی وجہ سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جینس تلسی گبارڈ کی جانب سے اپریل 2025 میں قائم کیا گیا ڈائریکٹرز انیشی ایٹو گروپ ہےسی آئی اے کا مؤقف ہے کہ یہ گروپ روایتی انٹیلی جینس شیئرنگ اور معلومات کو عام کرنے کے قواعد سے ہٹ کر کام کر رہا تھا، جبکہ او ڈی این آئی کا کہنا ہے کہ سی آئی اے انہیں ضروری معلومات تک رسائی نہیں دے رہی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق باہمی بداعتمادی کے نتیجے میں سی آئی اے نے نیشنل انٹیلیجینس کونسل (این آئی سی) کی بعض رپورٹس میں اپنا کردار نمایاں طور پر کم کر دیا ہے ایران سے متعلق وہ تجزیاتی رپورٹس بھی متاثر ہوئی ہیں جنہیں جنگی حالات میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

    اختلافات کا آغاز 2025 میں تلسی گبارڈ کے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ہوا، جب انہوں نے صدر کے روزانہ انٹیلی جینس بریف پر زیادہ کنٹرول حاصل کیابعد ازاں ڈائریکٹرز انیشی ایٹو گروپ کے قیام نے دونوں اداروں کے تعلقات مزید خراب کر دیے اس گروپ کا مقصد انٹیلی جینس اداروں میں مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کی تحقیقات، سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق دستاویزات کو منظرعام پر لانا، انتخابی ووٹنگ مشینوں کی سکیورٹی اور کووڈ-19 کی ابتدائی تحقیقات کرنا تھا،تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس گروپ کو سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا گیا۔

    مئی 2025 میں تلسی گبارڈ نے نیشنل انٹیلی جینس کونسل کے دو سینئر سی آئی اے افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا تھا، جبکہ اگست میں 37 موجودہ اور سابق حکام کی سکیورٹی کلیئرنس بھی منسوخ کر دی گئی تھی اس اقدام پر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔

    گزشتہ ماہ یہ تنازع اس وقت عوامی سطح پر سامنے آیا جب ایک سی آئی اے افسر نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ سی آئی اے نے کووڈ-19 کی ابتدا سے متعلق معلومات تک گروپ کی رسائی محدود کر دی تھی اس معاملے پر انٹیلی جینس کمیونٹی کے انسپکٹر جنرل کے دفتر نے تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔

    دوسری جانب او ڈی این آئی اور وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اور پالیسی سازوں کو بدستور اعلیٰ معیار کی انٹیلی جینس اور تجزیاتی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی قومی سلامتی ٹیم پر مکمل اعتماد ہے۔

  • ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرار داد منظور

    ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرار داد منظور

    امریکی ایوان نے جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کرلی، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ میں اختیارات کم کرنے کی قرارداد منظور کرلی، قرار داد کے حق میں 215 نمائندگان نے ووٹ ڈالے،208ووٹ خلاف پڑے،4رپبلکن اراکین نے بھی قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالا، صدر ٹرمپ کو ایران سے امریکی فوجی واپس بلانے ہوں گے، جب تک کہ کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی کارروائی کی منظوری نہ دے۔

    ووٹنگ کے دوران چار ریپبلکن ارکان نے اپنی جماعت کی قیادت کے برخلاف ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جبکہ کسی بھی ڈیموکریٹ نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی، سات ارکان ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن ارکان میں مشی گن سے ٹام بیریٹ، اوہائیو سے وارن ڈیوڈسن، پنسلوانیا سے برائن فٹزپیٹرک اور کینٹکی سے تھامس میسی شامل ہیں اگرچہ اس قرارداد کی فوری قانونی حیثیت محدود ہے کیونکہ اسے مؤثر ہونے کے لیے سینیٹ سے بھی منظور ہونا ضروری ہے، تاہم یہ ووٹنگ صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے تحفظات کی عکاسی کرتی ہے۔

    ایوانِ نمائندگان میں اس نوعیت کی تین سابقہ قراردادیں ناکام ہو چکی تھیں، تاہم ان کی ناکامی کا فرق مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے اس قرارداد پر ووٹنگ بھی مؤخر کر دی تھی کیونکہ اس کے منظور ہونے کے امکانات بڑھ گئے تھے۔

    دوسری جانب سینیٹ گزشتہ ماہ اسی نوعیت کی ایک الگ قرارداد کو ابتدائی مرحلے میں آگے بڑھا چکی ہے، حالانکہ اس سے قبل ایسی سات کوششیں ناکام رہی تھیں، تاہم اس قرارداد پر مزید ووٹنگ کا شیڈول تاحال جاری نہیں کیا گیا۔

    حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، حالانکہ اس سے پہلے بہت کم ریپبلکن ارکان ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے نظر آئے تھے اسی روز ایوانِ نمائندگان نے یوکرین سپورٹ ایکٹ پر ووٹنگ کی راہ بھی ہموار کر دی، جس کے تحت روسی حملے کے خلاف جنگ میں یوکرین کو مزید سکیورٹی امداد فراہم کی جائے گی اس اقدام کی حمایت میں چھ ریپبلکن اور ایک آزاد رکن نے بھی وو ٹ دیا۔

    ادھر بعض ریپبلکن قانون سازوں نے ٹرمپ کی جانب سے بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس مقرر کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ بل پلٹے رہن قرضوں کے شعبے سے وابستہ ریگولیٹر ہیں اور انہیں قومی سلامتی کے معاملات کا کوئی تجربہ حاصل نہیں۔

    ڈیموکریٹک ارکان کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے صدر ٹرمپ کو کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنی چاہیے کیونکہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف مقننہ کے پاس ہے ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ملک کو ایک طویل جنگ میں دھکیل سکتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق 28 فروری کو ایران پر مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد پٹرول، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

  • پولیس کی بڑی کاروائی ،انتہائی مطلوب منشیات فروش گرفتار

    پولیس کی بڑی کاروائی ،انتہائی مطلوب منشیات فروش گرفتار

    قصور
    پولیس کی بڑی کارروائی، انتہائی مطلوب منشیات فروش گرفتار

    قصور: تھانہ صدر قصور پولیس نے نواحی علاقے حویلی نتھو والی میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے انتہائی مطلوب اور بدنام زمانہ منشیات فروش کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزم جاوید میو خفیہ اداروں کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا اور طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے دردِ سر بنا ہوا تھا۔

    کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے ایک کلوگرام سے زائد ہیروئن برآمد ہوئی، جس پر اس کے خلاف منشیات فروشی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق جاوید میو قتل، اقدام قتل اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (7-ATA) کے مقدمات میں نامزد ہے، جبکہ دو دیگر مقدمات میں وہ اشتہاری ملزم بھی تھا۔

    ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے کامیاب کارروائی پر ایس ایچ او صدر قصور ذوالفقار بھٹی اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی

  • 
گوشت مانگنے کے بہانے کروڑوں کی چوری، باپ بیٹا گرفتار

    
گوشت مانگنے کے بہانے کروڑوں کی چوری، باپ بیٹا گرفتار

    ‎لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں عید الاضحیٰ کے روز ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی چوری کی واردات میں ملوث باپ اور بیٹے کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر گوشت مانگنے والوں کا روپ دھار کر گھروں کی ریکی کی اور موقع ملنے پر واردات انجام دی۔
    ‎پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت جوزف مسیح عرف ساگر اور اس کے بیٹے جمشید ساگر کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں کو ٹبہ گوہاوا اور بھٹہ چوک کے علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔ ڈیفنس سی پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں اور شواہد کی مدد سے واردات کا سراغ لگایا۔
    ‎تحقیقات کے مطابق ملزمان عید کے روز مختلف بنگلوں کے دروازوں پر جا کر گوشت طلب کرنے کا بہانہ بناتے تھے۔ اس دوران وہ یہ معلوم کرتے کہ گھر کے مکین موجود ہیں یا نہیں۔ جن گھروں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوتا تھا، انہیں ممکنہ ہدف سمجھا جاتا تھا کیونکہ اکثر خاندان عید کے موقع پر رشتہ داروں سے ملنے یا تقریبات میں شرکت کے لیے باہر گئے ہوتے ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ اسی حکمت عملی کے تحت ملزمان نے ایک بنگلے کو نشانہ بنایا اور وہاں سے طلائی زیورات، قیمتی گھڑیاں، غیر ملکی کرنسی اور دیگر قیمتی سامان چوری کر لیا، جس کی مجموعی مالیت ایک کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
    ‎پولیس ریکارڈ کے مطابق گرفتار ہونے والا جوزف مسیح ماضی میں بھی متعدد جرائم میں ملوث رہا ہے۔ اس کے خلاف چوری، ڈکیتی، نقب زنی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت 45 مختلف مقدمات درج ہیں، جس کے باعث اسے ایک ریکارڈ یافتہ ملزم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎کارروائی کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ زیورات، قیمتی گھڑیاں اور غیر ملکی کرنسی برآمد کر لی ہے۔ برآمد ہونے والے سامان کی شناخت اور مالکان کو واپسی کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ملزمان کسی بڑے جرائم پیشہ نیٹ ورک کا حصہ تھے یا نہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ شہری خصوصاً عیدین اور تعطیلات کے دوران گھروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں اور مشکوک افراد کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • 
گھریلو ملازمہ کی موت کا کیس، قتل کی دفعات شامل کرنے کی تیاری

    
گھریلو ملازمہ کی موت کا کیس، قتل کی دفعات شامل کرنے کی تیاری

    ‎لاہور میں گھریلو ملازمہ کے مبینہ جنسی زیادتی اور بعد ازاں اسقاط حمل کے بعد انتقال کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ وہ مقدمے کی تفتیش میں قتل کی دفعات شامل کرنے کے لیے عدالت سے اجازت طلب کرے گی۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں نامزد ملزمان کو متاثرہ خاتون کے ابتدائی بیان کی بنیاد پر عدالت سے ضمانت مل چکی ہے۔ تاہم تفتیش کے دوران سامنے آنے والے نئے حقائق اور شواہد کی روشنی میں مقدمے کے قانونی پہلوؤں کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق قتل کی دفعہ 302 شامل کرنے کے لیے عدالتی منظوری درکار ہے۔ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد مقدمے میں نامزد آجران اور دیگر متعلقہ افراد کو دوبارہ طلب کر کے تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی۔
    ‎پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کے بیان میں ڈرائیور کو مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں نامزد کیا گیا تھا۔ تفتیشی ٹیم اب کیس کے تمام پہلوؤں، طبی رپورٹس، شواہد اور بیانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
    ‎قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت قتل کی دفعات شامل کرنے کی اجازت دے دیتی ہے تو مقدمے کی نوعیت مزید سنگین ہو جائے گی اور تفتیش کا دائرہ بھی وسیع ہو جائے گا۔ اس صورت میں پولیس کو نئے شواہد اور بیانات کی بنیاد پر مزید کارروائی کا اختیار حاصل ہوگا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں جاری ہیں اور تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر کسی فرد کا کردار ثابت ہوا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
    ‎واضح رہے کہ مقدمہ حساس نوعیت کا ہے اور اس میں شامل تمام افراد عدالت کے حتمی فیصلے تک قانوناً بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔

  • 
سانگھڑ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت

    
سانگھڑ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت

    ‎آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں تیل اور گیس کے ایک نئے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جسے ملکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎او جی ڈی سی ایل کے ترجمان کے مطابق بوبی ڈیپ ون نامی کنویں سے یومیہ تقریباً 2 ہزار بیرل خام تیل حاصل ہوا ہے، جبکہ اسی مقام سے روزانہ 1.1 ایم ایم سی ایف ڈی (ملین مکعب فٹ یومیہ) گیس کی پیداوار بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں توانائی کے مزید ذخائر کی تلاش کے امکانات کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔
    ‎ترجمان کا کہنا ہے کہ نئی دریافت نہ صرف سانگھڑ کے علاقے میں مزید تلاش اور ترقیاتی سرگرمیوں کی راہ ہموار کرے گی بلکہ ملک میں تیل و گیس کے مجموعی ذخائر اور پیداوار میں بھی اضافہ کرے گی۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر تیل اور گیس کی پیداوار بڑھنے سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
    ‎او جی ڈی سی ایل کے مطابق اس دریافت سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں بھی معاونت ملے گی۔ پاکستان ہر سال تیل اور گیس کی درآمدات پر بھاری زرمبادلہ خرچ کرتا ہے، اس لیے مقامی ذخائر کی دریافت ملکی درآمدی بل میں کمی لانے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے نئے ذخائر کی دریافت نہ صرف صنعتی سرگرمیوں کو تقویت دے سکتی ہے بلکہ مستقبل میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی پیداوار میں اضافہ توانائی کے تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے بھی مثبت پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
    ‎او جی ڈی سی ایل نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ توانائی کے مقامی وسائل کو مزید بروئے کار لایا جا سکے اور قومی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے۔

  • 
گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری

    
گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری

    ‎گلگت بلتستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان شہباز خان نے بلدیاتی انتخابات کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کے تحت انتخابات 2 اگست 2026 کو منعقد ہوں گے۔
    ‎جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق امیدوار 9 جون سے 15 جون تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔ انتخابی عمل کے مختلف مراحل طے شدہ شیڈول کے مطابق مکمل کیے جائیں گے تاکہ مقررہ تاریخ پر ووٹنگ کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎چیف الیکشن کمشنر شہباز خان نے کہا ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے تاکہ عوام کا اعتماد انتخابی عمل پر برقرار رہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک اہم جمہوری پیش رفت ہے، جس سے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور نچلی سطح پر عوامی نمائندگی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ بلدیاتی ادارے عوامی مسائل کے حل اور مقامی ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے بعد خطے میں سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے انتخابی مہم کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے جبکہ عوامی سطح پر بھی اس عمل کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
    ‎شیڈول کے اجرا کے بعد امیدواروں اور سیاسی کارکنوں نے رابطہ مہم تیز کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات مقامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے اور عوام کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کرنے کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان کے عوام امید کر رہے ہیں کہ بلدیاتی اداروں کی بحالی سے ترقیاتی کاموں میں تیزی آئے گی، بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر ہوگی اور مقامی آبادی کو اپنے نمائندوں کے ذریعے مسائل کے حل کا مؤثر موقع ملے گا۔

  • 
فیری میڈوز حادثہ، دو جاں بحق سیاحوں کے ورثاء تاحال لاپتا

    
فیری میڈوز حادثہ، دو جاں بحق سیاحوں کے ورثاء تاحال لاپتا

    ‎فیری میڈوز کے قریب پیش آنے والے المناک جیپ حادثے میں جاں بحق ہونے والے دو سیاحوں کے ورثاء کی تلاش کا عمل تاحال جاری ہے، جبکہ حادثے کے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود متعلقہ خاندانوں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
    ‎اس افسوسناک حادثے میں مجموعی طور پر سات افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ضلعی انتظامیہ اور اسپتال ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے پانچ افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے اور ان کے ورثاء کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے، تاہم دو افراد کی شناخت یا ان کے اہل خانہ تک رسائی اب تک ممکن نہیں بن سکی۔
    ‎دونوں نامعلوم افراد کی میتیں آر ایچ کیو ہسپتال چلاس میں محفوظ رکھی گئی ہیں جہاں انتظامیہ کی جانب سے ورثاء کی تلاش کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شناخت اور رابطے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے بھی معاونت حاصل کی جا رہی ہے تاکہ میتوں کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جا سکے۔
    ‎انتظامیہ کے مطابق اگر آئندہ روز تک دونوں جاں بحق افراد کے ورثاء سے رابطہ قائم نہ ہو سکا تو ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں اسلامی اصولوں اور قانونی تقاضوں کے مطابق دونوں میتوں کی تدفین چلاس شہر میں کر دی جائے گی۔ حکام نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ تدفین سے قبل اہل خانہ تک رسائی حاصل ہو جائے گی تاکہ آخری رسومات ان کی موجودگی میں ادا کی جا سکیں۔
    ‎فیری میڈوز پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں ہر سال ملک بھر اور بیرون ملک سے ہزاروں سیاح آتے ہیں۔ حالیہ حادثے نے علاقے میں آنے والے سیاحوں اور مقامی آبادی کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کی گئی تھیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم سات افراد جانبر نہ ہو سکے۔
    ‎مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کے عزیز و اقارب فیری میڈوز کے سفر پر گئے تھے اور ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تو فوری طور پر آر ایچ کیو ہسپتال چلاس یا ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔