Baaghi TV

Blog

  • وہ لوگ جنھیں محلوں میں کوئی نہیں جانتا وہ کہہ رہےہم ایوانوں میں بیٹھیں گے،پلوشہ خان

    وہ لوگ جنھیں محلوں میں کوئی نہیں جانتا وہ کہہ رہےہم ایوانوں میں بیٹھیں گے،پلوشہ خان

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پارٹی کو ملنے والی بھرپور عوامی پذیرائی سے سیاسی مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی وزراء مختلف منصوبوں کے اعلانات کے ذریعے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ پنجاب پولیس کی گلگت بلتستان میں موجودگی بھی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ہر الیکشن چوری نہیں کیا جا سکتا، گلگت بلتستان کو شناخت پاکستان پیپلز پارٹی نے دی اور ان شاء اللہ آئندہ انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کامیاب ہوگی۔

    یہ بات سینیٹر پلوشہ خان، سینیٹر شہادت اعوان اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے پیپلز سیکرٹریٹ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتہائی اہم انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما وہاں پہنچ رہے ہیں، تاہم یہ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کو شناخت اور سیاسی حقوق پاکستان پیپلز پارٹی نے دیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگی بجلی سے تنگ آ کر خود سولر پینلز لگا رہے ہیں جبکہ حکمران عوام پر معاشی بوجھ بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل اربوں روپے کے فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات دراصل پری پول رگنگ کے مترادف ہیں۔ الیکشن کمیشن کو گلگت بلتستان میں ترقیاتی فنڈز کے اعلانات، انتخابی فہرستوں میں مبینہ ردوبدل، افسران کے تبادلوں اور سرکاری مشینری کے استعمال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی ماحول میں ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔

    سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ جو جماعتیں ماضی میں اقتدار میں رہیں، انہیں جواب دینا چاہیے کہ انہوں نے گلگت بلتستان کے لیے کیا ترقیاتی کام کیے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی جبکہ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار ایف سی آر جیسے فرسودہ نظام کا خاتمہ کیا۔ خواتین کے حقوق، نوجوانوں کی نمائندگی اور جمہوری اداروں کے قیام میں بھی پیپلز پارٹی کا کردار نمایاں ہے۔انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم آرڈیننس کے ذریعے نہیں ہوتیں بلکہ قومی اتفاق رائے سے کی جاتی ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور حقائق کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ مہنگائی میں اضافے کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔

    رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ آصفہ بھٹو زرداری کو گلگت بلتستان میں غیر معمولی عوامی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جس سے مخالفین پریشان ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کروائے جا رہے جبکہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات پیپلز پارٹی کے دور میں منعقد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیلاب متاثرین کو گھر فراہم کر رہی ہے اور ہمیشہ "روٹی، کپڑا اور مکان” کے منشور پر عمل پیرا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی عوام کے گھر بنانے پر یقین رکھتی ہے، گرانے پر نہیں۔رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ڈیموں اور دیگر اہم منصوبوں کی بنیاد پاکستان پیپلز پارٹی نے رکھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ گلگت بلتستان میں پنجاب پولیس کیوں بھیجی گئی اور کتنے وفاقی و صوبائی وزراء انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔

    پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام جمہوری قوتوں کا ساتھ دیں گے اور آئندہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔

  • نور مقدم قتل نظرثانی کیس:ملزم  ظاہر جعفر نے قتل تسلیم کرلیا

    نور مقدم قتل نظرثانی کیس:ملزم ظاہر جعفر نے قتل تسلیم کرلیا

    سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سنائی گئی سزا برقرار رکھی ہے۔

    جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس صلاح الدین پہنور اور دیگر ججز پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج کردی، دورانِ سماعت ملزم کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو تسلیم کیا کہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا وہ مقتولہ نور مقد م کے اہلِخانہ سے معذرت خواہ ہیں اور ان کے دلائل کا مرکز قتل کےوقت ظاہر جعفر کی ذہنی حالت ہے، ملزم کی ذہنی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے-

    وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ وہ یہ مؤقف اختیار نہیں کر رہے کہ ان کے مؤکل نے قتل نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وقوعے اور ٹرائل کے دورا ن ظاہر جعفر کی ذہنی حالت درست نہیں تھی،ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزو فر ینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے اور جیل میں بھی اس کا علاج جاری رہا۔

    سماعت کے دوران بینچ کے ارکان نے استفسار کیا کہ ایسا طبی ریکارڈ پیش کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ ملزم کا علاج کب شروع ہوا، کس ڈاکٹر نے کیا اور وقوعے کے وقت اس کی ذہنی کیفیت کیا تھی ؟عدالت نے ملزم کی تعلیمی زندگی اور طبی تاریخ سے متعلق ریکارڈ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    وکیلِ صفائی کی جانب سے لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک کا ایک خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم بینچ نے اس خط کی تاریخ اور اس کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات اٹھائے۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے مزید کہا کہ دفاع کا مؤقف ہے کہ مجرم کو اپنی مرضی کا وکیل نہیں ملا، تاہم یہ بات حیران کن ہے کہ ایک جانب مرضی کا وکیل نہ ملنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب لندن سے طبی دستاویزات حاصل کر لی گئیں۔

    خواجہ حارث نے مزید کہا کہ ہم نے ٹرائل کے دوران مجرم کے معائنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی جو مسترد ہوئی، سپریم کورٹ میں مرکزی کیس میں بھی میڈیکل بورڈ کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس ہاشم کاکڑ نے مجرم کے وکیل سے استفسار کیا کہ فرض کریں ہم مان لیتے ہیں مجرم کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، تو اس صورت حال میں نظرثانی میں کیا ریلیف چاہتے ہیں، اگر ڈرگ ٹیسٹ بھی ہوجاتا تو آپکو اسکا کیا فائدہ ہوتا۔

    اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت نظرثانی میں میرٹس دیکھ سکتی ہےسپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں دوبارہ ٹرائل کا حکم دے چکی ہے، میں دوبارہ ٹرائل کی نہیں بلکہ سزا میں رعایت کی استدعا کرتا ہوں، سزا موت دیتے وقت عدالت کو مکمل حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے تھا۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ نے جواباً کہا کہ خواجہ حارث صاحب اگر شروع میں ہی آپ جیسے وکیل کی خدمات لی جاتی تو مجرم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، ہم کب سے آپکو سن رہے ہیں کچھ تو گریس کا مظاہرہ کریں، تین گھنٹوں سے آپ نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔

    خواجہ حارث کی جانب سے نظر ثانی اپیل پر سماعت پیر ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے مختصر وقفے کے بعد دلائل جاری رکھنے کا حکم دیا۔

    وقفے کے بعد عدالت نے کیس کی کارروائی آگے بڑھائی جس دوران وکیل صفائی نے دلائل جاری رکھے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد نور مقدم قتل کیس میں اس کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

    واضح رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے پوش علاقے میں واقع ایک گھر میں قتل کیا گیا تھ اس کیس میں جرم ثابت ہونے پر اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 24 فروری 2022 کو ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں مجرم نے سپریم کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی جسے 20 مئی 2025 کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اس کے بعد مجرم کی جانب سے نظر ثانی اپیل دائر کی گئی جس پر آج سپریم کورٹ نے 4 گھنٹے تک سماعت کی۔ مجرم ظاہر جعفر کی جانب سے خواجہ حارث نے دلائل دیے جبکہ نور مقدم کے والدین کی جانب سے پیروی ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کی۔

  • سپریم کورٹ، نور مقدم کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزا کیخلاف نظرثانی درخواست مسترد،سزا برقرار

    سپریم کورٹ، نور مقدم کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزا کیخلاف نظرثانی درخواست مسترد،سزا برقرار

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا،سماعت کے دوران ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے کے وقت میرے مؤکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے تاہم عدالت نے بیماری، علاج اور میڈیکل ریکارڈ سے متعلق تفصیلی شواہد طلب کیے،بینچ نے استفسار کیا کہ مجرم کا علاج کب شروع ہوا، کون سے ڈاکٹرز نے علاج کیا اور وقوعے کے وقت علاج جاری تھا یا نہیں،عدالت نے لندن کے کلینک سے پیش کیے گئے خط پر بھی سوالات اٹھائے اور دفاعی مؤقف میں تضادات کی نشاندہی کی،عدالت نے کہا کہ یہ عجیب حیرت کی بات ہے مجرم کو مرضی کا وکیل نہ ملا لیکن لندن سے اسکے لیے خط آگیا، خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ استغاثہ نے مجرم کا نشے کا ٹیسٹ نہیں کروایا اور ٹرائل کے دوران دباؤ موجود تھا۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں نہ میڈیا رپورٹنگ اور نہ ہی سوشل میڈیا کے دباؤ میں فیصلے کرتی ہیں،وکیل نے عدالت سے دوبارہ ٹرائل کے بجائے سزا میں رعایت دینے کی درخواست کی تاہم عدالت نے قرار دیا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل سے متعلق معاملہ پہلے ہی حتمی ہو چکا ہے اور دفاع اس نکتے کو مؤثر انداز میں ثابت نہیں کر سکا،دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزا پر نظرِثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا

    سنہ 2022ء میں عدالت نے ظاہر جعفر کو اسلام آباد میں اپنے گھر پر سابق سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے 2021ء کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔

  • اربوں کے ٹراما سینٹر کا انتظار چھوڑیں، ٹی ایچ کیو کی اپ گریڈیشن ہی سستا اور فوری حل

    اربوں کے ٹراما سینٹر کا انتظار چھوڑیں، ٹی ایچ کیو کی اپ گریڈیشن ہی سستا اور فوری حل

    جی ٹی روڈ پر سسکتی زندگیوں کو ٹراما سینٹر نہیں، ہسپتال میں عملہ اور مشینری چاہیے نمائندگان خواب غفلت سے جاگیں
    ریفر کا ڈیتھ وارنٹ ختم کریں سی ایم پنجاب سے امیدِ سحر ہسپتال کی اپ گریڈیشن سیاسی وعدہ نہیں زندگی اور موت کا مسلہ بن گیا
    گوجرخان (قمرشہزاد)تحصیل گوجرخان کے لاکھوں عوام کے لیے صحت کی سہولیات کا حصول ایک ایسا خواب بن چکا ہے جس کی تعبیر حکومتی فائلوں میں گم ہے۔ جی ٹی روڈ پر واقع تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، جہاں علاج کے نام پر مریضوں کو صرف ریفرل سلپ تھما دینا ڈاکٹرز کی مجبوری ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت کو ایک حقیقت پسندانہ تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اربوں روپے کے بجٹ کے محتاج ٹراما سینٹر کے فنکسنل ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے، اگر موجودہ ہسپتال کو ہی اپ گریڈ کر دیا جائے تو قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ اہلیانِ گوجرخان کا کہنا ہے کہ ٹراما سینٹر کو فعال کرنے کے لیے جس خطیر رقم اور طویل وقت کی ضرورت ہے، وہ شاید موجودہ معاشی حالات میں ممکن نہیں۔ لیکن اگر حکومت موجودہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ، ایکسرے ٹیکنیشن اور نیورو سرجن کی خالی آسامیاں پر کر دے، اور ساتھ آئی سی یو، وینٹی لیٹر اور بچوں کی نرسری جیسی بنیادی سہولیات فراہم کر دی جائیں، تو ٹراما سینٹر کی ضرورت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے شہریوں نے بتایا کہ 2010 کے بعد سے لیبارٹری کے عملے میں ایک بھی اہلکار کا اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ کام کا بوجھ کئی سو گنا بڑھ چکا ہے۔ ہسپتال کے پاس وسیع و عریض رقبہ موجود ہے، جہاں نئی عمارتوں کی گنجائش بھی ہے، مگر ضرورت صرف منتخب عوامی نمائندوں کے اخلاص اور مخلصانہ کوششوں کی ہے۔ اگر ہمارے نمائندے ایوانوں میں آواز اٹھائیں تو ریفرل کے چکر میں راستے میں دم توڑنے والے مریضوں کے لواحقین کی بددعاؤں سے بچا جا سکتا ہے۔ گوجرخان کے باشعور شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوجرخان کو ضلع بنانے یا ٹراما سینٹر کے بڑے بجٹ جیسے طویل منصوبوں کے بجائے، فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے فنڈز جاری کریں۔ ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی اور لیب کی جدید کاری سے نہ صرف جی ٹی روڈ کے حادثات میں زخمی ہونے والوں کو فوری طبی امداد ملے گی، بلکہ زچہ و بچہ کو بھی راولپنڈی کے ہسپتالوں کے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے۔ اب گیند حکومت اور مقامی سیاستدانوں کے کورٹ میں ہے۔ کیا وہ محض سیاسی نعروں سے عوام کو بہلاتے رہیں گے یا واقعی ہسپتال کی اپ گریڈیشن کر کے گوجرخان کے عوام کے ساتھ اپنی محبت کا ثبوت دیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب گوجرخان کا ہر شہری ڈھونڈ رہا ہے۔

  • پاکستان خطے میں امن،تعمیری سفارت کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، اسحاق ڈار

    پاکستان خطے میں امن،تعمیری سفارت کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، اسحاق ڈار

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، باہمی تعاون اور تعمیری سفارت کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور ہمسایہ و دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کو اہمیت دیتا ہے۔

    نائب وزیراعظم نے یہ بات سری لنکا کے نیشنل ڈیفنس کالج کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان سری لنکا کے ساتھ اپنے دوستانہ اور تاریخی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ دونوں جانب سے باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران سری لنکن وفد کو پاکستان کی خارجہ پالیسی، علاقائی چیلنجز اور امن و استحکام کے حوالے سے حکومتی مؤقف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ فریقین نے خطے میں امن، ترقی اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔نائب وزیراعظم نے سری لنکن وفد کے پاکستان کے کامیاب دورے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خوشگوار قیام کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔

  • گلگت بلتستان الیکشن کو پنجاب سے مینج کرنیکی کوشش کی جا رہی ہے۔حسن مرتضیٰ

    گلگت بلتستان الیکشن کو پنجاب سے مینج کرنیکی کوشش کی جا رہی ہے۔حسن مرتضیٰ

    پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان الیکشن کو پنجاب سے مینج کرنیکی کوشش کی جا رھی ہے۔

    حسن مرتضی کا کہنا تھا کہ مخالفین انتخابی نتائج تبدیل کرنے کی سوچ میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ پنجاب اور اسلام اباد سے اضافی پولیس نفری گلگت بلتستان پہنچائی جا رہی ہے، ہر حلقے میں مختلف جماعتیں مقابلے پر ہیں مگر مرکزی قوت پیپلز پارٹی ہے۔عوامی حمایت ثابت کر رہی ہے کہ پیپلز پارٹی جی بی میں مضبوط سیاسی قوت ہے،چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ بی بی کے بھر پور جلسوں نے مخالفین کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ہمارے جلسوں میں عوام کے جم غفیر نے ثابت کر دیا ہے کہ آئندہ حکومت پی پی پی بنائیگی۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے پیپلز پارٹی کی جڑیں گلگت بلتستان میں مضبوط ہیں،پیپلز پارٹی نے جی بی کے عوام کو حقوق اور شناخت دی،پیپلز پارٹی 7جون کو عوام کے ووٹ کا ہر قیمت پر تحفظ کریگی ۔گلگت بلتستان الیکشن کمشن منصفانہ،غیر جانبدرانہ اور آزادنہ الیکشن یقینی بنائے ،

  • لاہور: گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کامقدمہ ہائی پروفائل ڈیکلیئر

    لاہور: گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کامقدمہ ہائی پروفائل ڈیکلیئر

    لاہور: پنجاب حکومت نے گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کے مقدمہ ہائی پروفائل ڈیکلیئر کردیا۔

    گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کے مقدمے میں پیش رفت ہوئی ہے جس میں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کیس کو ہائی پروفائل ڈیکلیئر کر تے ہوئے تفتیشی افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیاپراسیکیوٹر جنرل پنجاب کاکہنا ہےکہ پراسیکیوشن تفتیشی افسر کو لائن آف انکوائری دے گی اور مقدمے میں دفعات سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    پراسیکیوٹر کے مطابق لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کے دوسرے بیان سے بھی یوٹرن لے لیا،لڑکی کے والد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مالکان کے اجتما عی زیادتی میں ملوث نہ ہونے کا بیان دباؤ میں دیا گیا تھا اور معاملے کی ازسرنو تفتیش کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

    دوسری جانب لڑکی کا ہلاکت سے قبل ریکارڈ کیا گیا دوسرا ویڈیو بیان بھی سامنے آگیا ہے، جس میں اس نے کہا کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ڈرائیور حسن نے کیا، جبکہ مالکان اس واقعے میں ملوث نہیں اور انہیں بلاوجہ کیس میں شامل کیا جا رہا ہے ڈرائیور حسن نیند کی گولیاں کھلا کر زیادتی کرتا رہا اور اسی نے مالکان کا نام اجتماعی زیادتی کے الزام میں شامل کرنے پر مجبور کیا-

    پولیس کے مطابق لڑکی اپنی موت سے قبل عدالت میں بھی یہی مؤقف تحریری بیان کی صورت میں دے چکی تھی لڑکی کے والد کا بار بار موقف تبدیل کرنا معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے، جبکہ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد مقدمے میں شامل قتل کی دفعات کے تحت بھی تفتیش کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ لاہور میں اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی جس کا مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے درج کررکھا ہے۔

  • لاہور ،اسلام آباد اور  خیبرپختونخوا میں تیز آندھی جھکڑ کے بعد موسلا دھار بارش

    لاہور ،اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں تیز آندھی جھکڑ کے بعد موسلا دھار بارش

    لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

    لاہور میں تیز آندھی اور جھکڑ کے بعد بارش شروع ہو گئی، تیز آندھی کے بعد لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش شروع ہو گئی،گلبرگ، مسلم ٹاؤن، لکشمی چوک، قرطبہ چورک، اسلام پورہ، چوبرجی، مال روڈ،نشتر ٹاؤن، گلشن راوی، اقبال ٹاؤن ، سمن آباد میں بارش جاری ہےقذافی سٹیڈیم اور اطراف میں بارش کا سلسلہ جاری ہے،بارش کے باعث پاکستان اور آسٹریلیا کے تیسرے ون ڈے میچ تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے بارش اور آندھی کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام متاثر ہو گیا،بارش کے باعث لیسکو کے 160سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے-

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ ہونے والی بارش نے شدید گرمی کا زور توڑ دیا مارگلہ کی پہاڑیوں سمیت شہر بھر میں درختوں اور سڑکوں پر جمی دھول دھل گئی، جس سے قدرتی مناظر مزید دلکش ہوگئے۔

    خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، اسلام آباد اور پنجاب کے بعض علاقوں میں علی الصبح سے ہی بارش کا سلسلہ جاری رہا موسلا دھار بارش نے کئی علاقوں میں جل تھل ایک کر دیا جبکہ شہریوں نے گرمی سے وقتی نجات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اب تک سب سے زیادہ بارش اسلام آباد اور راولپنڈی میں ریکارڈ کی گئی جہاں 50 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی فعال موسمی نظام ملک کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہے اور اس کے زیر اثر 5 جون تک مزید بارشوں کا امکان ہے۔

    ماہرین کے مطابق حالیہ بارشیں نہ صرف موسم کو خوشگوار بنانے کا سبب بنیں گی بلکہ ڈیموں اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح بہتر ہونے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔

  • امریکا اور اسرائیل  ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،مجتبیٰ خامنہ ای

    امریکا اور اسرائیل ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،مجتبیٰ خامنہ ای

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے، اس لیے اب وہ ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    الجزیرہ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک تحریری پیغام میں لکھا کہ امریکا کی قیادت میں قائم ظالمانہ نظام ایک مضبوط اور خودمختار ایران کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ انہوں نے اسرائیل کو اسی نظام کی ایک مصنوعی چوکی قرار دیا کہا کہ امریکہ کی قیادت میں سامراج نے پچھلے 80 سالوں میں اسرائیل کے نام سے ایک فوجی اڈہ بنایا ہے۔ اور وہ "گریٹر اسرائیل” یعنی دریائے فرات کے مشرق میں جھوٹے، ناجائز جغرافیہ کی مشرقی سرحد پر ایک مضبوط، آزاد ایران کے وجود کو قبول نہیں کرتے-

    انہوں نے لکھا کہ دشمن میدانِ جنگ میں ناکامی اور گہری رسوائی کا سا منا کرنے کے بعد اب ایک نئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت وہ ہائبرڈ جنگ کے ذریعے ایرانی عوام کی ثابت قدمی اور حکام کی ممکنہ غلطیو ں کو نشانہ بنا رہا ہے، اس مہم کا بنیادی ہتھیار عوام کے درمیان شکوک و شبہات، مایوسی، خوف اور تقسیم پیدا کرنا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ دشمن کی کوشش ہے کہ ایرانی معاشرے کے اندر اختلافات کو ہوا دے کر ملک کو کمزور کیا جائے کوئی بھی ایسا اقدام جو عوام میں بددلی، بدگمانی یا مایوسی کو فروغ دے، درحقیقت ملک اور اس کے عوام کے دشمنوں کی مدد کے مترادف ہےانہوں نے تمام ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات کا مقابلہ ثابت قدمی، بصیرت اور قومی اتحاد کے ذریعے کریں اور اندرونی اختلافات سے گریز کرتے ہوئے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

  • امریکا اور اتحادیوں کے  چین پر جاسوسی کے سنگین الزامات

    امریکا اور اتحادیوں کے چین پر جاسوسی کے سنگین الزامات

    امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے چین پر جاسوسی کے الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بیجنگ مختلف طریقوں سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے مشترکہ طور پر چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملازمت کے پلیٹ فارمز اور جعلی نوکریوں کی پیشکش کے ذریعے افراد سے خفیہ اور حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے،چین جعلی پروفائلز اور فرضی کمپنیوں کے ذریعے ایسے افراد کو نشانہ بنا رہا ہے جو سرکاری یا اہم اداروں میں کام کرتے ہیں، تاکہ ان سے معلومات حاصل کی جا سکیں۔

    مغربی انٹیلیجنس اداروں کے مطابق یہ طریقہ کار ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے مختلف ممالک کے سرکاری اور نجی شعبے سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب چین کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ عالمی سطح پر سفارتی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔