Baaghi TV


لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس کی موجودگی ضروری ہے

‎اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس کی موجودگی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، رابطہ کاری کو فروغ دینے اور لبنانی مسلح افواج کی معاونت کے لیے اقوام متحدہ کا کردار بدستور اہم ہے۔
‎اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ سال 2026 کے اختتام پر یونائیٹڈ نیشنز انٹرم فورس اِن لبنان (یونیفل) کا موجودہ مینڈیٹ ختم ہونے کے باوجود لبنان میں اقوام متحدہ کی موجودگی برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بین الاقوامی امن دستوں کی خدمات اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
‎سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ اس وقت جنوبی لبنان میں تقریباً 7,500 اقوام متحدہ کے امن فوجی تعینات ہیں، جو جنگ بندی کی نگرانی، رابطہ کاری اور کشیدگی میں کمی کے لیے مختلف ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
‎یاد رہے کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فیصلہ کیا تھا کہ لبنان میں تعینات یونیفل کا مینڈیٹ 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو جائے گا۔ تاہم سلامتی کونسل نے سیکریٹری جنرل سے متبادل تجاویز طلب کی تھیں تاکہ مستقبل میں بھی لبنان میں امن مشن کی موجودگی برقرار رکھنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
‎سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ میں انتونیو گوتریس نے تین مختلف آپشنز تجویز کیے ہیں۔ ان تجاویز کے تحت تقریباً 2,000 سے لے کر 5,500 سے زائد اقوام متحدہ کے اہلکار جنگ بندی کی نگرانی، کشیدگی میں کمی اور لبنانی فوج کی معاونت کے لیے تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
‎رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام مجوزہ منصوبوں کے تحت اقوام متحدہ کی وردی میں ملبوس فورس کی موجودگی ضروری ہوگی تاکہ فریقین کے درمیان رابطہ برقرار رکھا جا سکے اور تنازع کے پائیدار حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ بلیو لائن، جو لبنان اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 120 کلومیٹر طویل عملی سرحد سمجھی جاتی ہے، حالیہ تنازعات اور عسکری سرگرمیوں کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے۔

More posts