ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکا کے ناجائز اور غیر ضروری مطالبات کے سامنے کسی صورت سرینڈر نہیں کرے گا۔
ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات اس انداز میں کیے جا رہے ہیں جس میں ایرانی قوم کے حقوق اور قومی مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے عمل میں سنجیدگی سے شریک ہے لیکن کسی بھی ایسے مطالبے کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ملکی خودمختاری یا قومی وقار کے خلاف ہو۔
انہوں نے کہا کہ دشمن عسکری محاذ پر ناکامی کے بعد اب معاشی جنگ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
ایرانی صدر کے مطابق حکومت اور نجی شعبہ مکمل یکجہتی اور تعاون کے ساتھ اس معاشی دباؤ کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ملک اس مرحلے سے بھی کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا۔
پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے عوام کے حقوق، اقتصادی استحکام اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کا سخت مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ تہران مذاکرات جاری رکھنے کا خواہاں ضرور ہے لیکن وہ دباؤ کے تحت فیصلے کرنے کے لیے تیار نہیں۔
امریکا کے ناجائز مطالبات نہیں مانیں گے، ایرانی صدر
