پاکستان میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس خصوصاً واٹس ایپ ہیک ہونے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں روزانہ عام شہری، خواتین، بزرگ، طلبہ اور کاروباری افراد سائبر فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق زیادہ تر ہیکرز صارفین کو دھوکے سے 6 ہندسوں والا تصدیقی کوڈ حاصل کر کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔
عموماً صارفین کو واٹس ایپ یا کسی جاننے والے کے نام سے پیغام موصول ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے 6 ہندسوں والا کوڈ بھیج دیں۔ بعض اوقات یہ پیغام کسی دوست یا رشتے دار کے ہیک شدہ اکاؤنٹ سے بھی آتا ہے، جس پر لوگ اعتماد کر لیتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ واٹس ایپ کا تصدیقی کوڈ کبھی بھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ واٹس ایپ یا کوئی ادارہ یہ کوڈ کبھی طلب نہیں کرتا۔
اگر کسی کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو سب سے پہلے گھبرانے کے بجائے فوری طور پر واٹس ایپ کو موبائل سے ڈیلیٹ کر کے دوبارہ انسٹال کرنا چاہیے۔
اس کے بعد وہی موبائل نمبر درج کریں جو پہلے واٹس ایپ پر رجسٹرڈ تھا۔ واٹس ایپ ایس ایم ایس یا کال کے ذریعے نیا 6 ہندسوں والا کوڈ بھیجے گا، جسے درج کرنے کے بعد اکثر صورتوں میں ہیکر کی رسائی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ واٹس ایپ ایک وقت میں صرف ایک ڈیوائس کو فعال رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں فوری طور پر اپنے دوستوں، رشتے داروں اور دفتری ساتھیوں کو کسی دوسرے نمبر سے آگاہ کریں تاکہ وہ آپ کے نمبر سے آنے والے مشکوک پیغامات پر یقین نہ کریں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ واٹس ایپ میں “ٹو اسٹیپ ویریفکیشن” لازمی فعال کریں تاکہ اکاؤنٹ کو اضافی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
Blog
-

پاکستان میں واٹس ایپ ہیکنگ کے واقعات میں خطرناک اضافہ
-

ایران جنگ کے اثرات، سوڈان میں غذائی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ
ایران سے جڑے حالیہ تنازع اور عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی ایندھن و کھاد کی قیمتوں نے سوڈان میں پہلے سے موجود غذائی بحران کو مزید سنگین بنانے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
سوڈان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن اور کھاد مہنگی ہونے کے باعث وہ اس موسم گرما میں کم کاشتکاری کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے خوراک کی پیداوار مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کسانوں اور زرعی شعبے سے وابستہ ماہرین نے بتایا کہ ایران سے متعلق کشیدگی نے ان مسائل میں اضافہ کر دیا ہے جو پہلے ہی خانہ جنگی کے باعث پیدا ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جوار، باجرہ اور تل جیسی اہم فصلیں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں، جو نہ صرف مقامی خوراک بلکہ برآمدات کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہیں۔
سوڈان اس وقت کھاد کی نصف سے زیادہ ضروریات خلیجی ممالک سے پوری کرتا ہے، اسی وجہ سے خلیجی خطے میں پیدا ہونے والی بے یقینی اور سپلائی مسائل نے سوڈانی معیشت اور زراعت پر براہِ راست اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سوڈان اس وقت شدید انسانی بحران کا شکار ہے جہاں فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری جنگ نے ملک کو تقریباً مکمل طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ادھر امدادی بجٹ میں کمی کے باعث صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ مانیٹر کے مطابق سوڈان میں تقریباً ایک کروڑ 95 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہیں، جو ملک کی کل آبادی کا 40 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں قحط جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل اور کھاد کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو سوڈان میں زرعی پیداوار مزید کم ہو سکتی ہے، جس سے غذائی قلت اور انسانی بحران میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ -

کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وبا بے قابو، ہلاکتیں 220 تک پہنچ گئیں
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کانگو اور یوگنڈا میں تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وبا پر قابو پانے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ مشتبہ ہلاکتوں کی تعداد 220 تک پہنچ گئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے افریقی یونین کے ایک آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایبولا کیسز کی بروقت نشاندہی نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی اور اب طبی ٹیمیں وبا پر قابو پانے کے لیے “وقت کے پیچھے بھاگ رہی ہیں”۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ٹیڈروس نے اعلان کیا کہ وہ منگل کو کانگو کا دورہ کریں گے جہاں وہ عالمی ادارۂ صحت کے ہنگامی طبی امور کے سربراہ چیکوے ایہیکویازو کے ہمراہ متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیں گے۔
دوسری جانب یوگنڈا نے بھی مزید دو ایبولا کیسز کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ملک میں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق کانگو کے ہمسایہ ممالک بھی شدید خطرے سے دوچار ہیں اور انہیں فوری حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ وائرس مزید نہ پھیل سکے۔
عالمی ادارۂ صحت نے اس وبا کو بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس مرتبہ ایبولا کی نایاب “بونڈی بوجیو” قسم سامنے آئی ہے، جس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کانگو کے اِیتوری اور شمالی کیوو صوبوں میں سیکیورٹی کی خراب صورتحال بھی وبا پر قابو پانے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے کیونکہ وہاں طبی ٹیموں کی رسائی محدود ہے۔
ماہرین صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ وبا مزید افریقی ممالک تک پھیل سکتی ہے اور ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ -

ٹرمپ نے مسلم ممالک کو ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کا مشورہ دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بعد مسلم ممالک کو “ابراہیمی معاہدے” کا حصہ بن جانا چاہیے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہو رہی ہے اور امریکا ایک جامع اور مؤثر معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یا تو ایک بہترین معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے جو پہلے سے زیادہ شدید ہوگی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فریق جنگ نہیں چاہتا، اسی لیے تمام کوششیں سفارتی حل کی جانب مرکوز ہیں۔
امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ہفتے کے روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان آل ثانی، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے تفصیلی گفتگو کی۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ان رہنماؤں سے کہا کہ امریکا کی جانب سے اس پیچیدہ مسئلے کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بعد یہ مناسب ہوگا کہ مسلم ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیے، مصر اور اردن جیسے ممالک کو اس تاریخی معاہدے کا حصہ بننے پر غور کرنا چاہیے جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی اس معاہدے میں شامل ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ممکن ہے چند ممالک کے پاس معاہدے میں شامل نہ ہونے کی مخصوص وجوہات ہوں، تاہم زیادہ تر ممالک کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ -

کراچی میں جدید پولیسنگ کیلئے سیکیورٹی ٹریننگ ہینڈ بک متعارف
کراچی میں جدید دور کے سیکیورٹی چیلنجز اور بدلتے ہوئے جرائم سے نمٹنے کے لیے “سیکیورٹی ٹریننگ ہینڈ بک” متعارف کروا دی گئی ہے، جسے پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈی آئی جی سیکیورٹی مقصود احمد کے مطابق اس جدید ہینڈ بک کا باقاعدہ اجرا صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو کتاب پیش کر کے کیا گیا۔
یہ جامع تربیتی دستاویز اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کی جانب سے تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد پولیسنگ کے نظام کو جدید اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
ڈی آئی جی مقصود احمد کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں دہشت گردی، سائبر کرائم اور دیگر پیچیدہ خطرات کے باعث ایسی ہینڈ بک کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی، جو سیکیورٹی کے شعبے میں موجود خلا کو پُر کر سکے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ کتاب پولیس کے ٹیکٹیکل یونٹس، ایمرجنسی رسپانڈرز، سائبر ماہرین اور دیگر سیکیورٹی پروفیشنلز کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی ہے۔
ہینڈ بک میں جدید پولیسنگ اور سیکیورٹی آپریشنز سے متعلق متعدد اہم موضوعات شامل کیے گئے ہیں، جن میں ٹیکٹیکل ریڈیو کمیونیکیشن، جدید اسلحے کا استعمال، آئی ای ڈیز کا تدارک، غیر مہلک ہتھیاروں کا استعمال، اہم تنصیبات کا تحفظ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ایمرجنسی رسپانس شامل ہیں۔
اس کے علاوہ وی وی آئی پی سیکیورٹی پروٹوکول، موٹرکیڈ آپریشنز، انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل انتہا پسندی اور مستقبل کی سیکیورٹی ٹیکنالوجیز پر بھی تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اس ہینڈ بک کو پاکستان کے زمینی حقائق اور مقامی حالات کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس میں حقیقی تجربات، مقامی مثالیں اور بین الاقوامی اصول شامل کیے گئے ہیں۔
اس منصوبے کی تیاری میں سینئر پولیس افسران، عسکری ماہرین، بیوروکریٹس اور سیکیورٹی شعبے کے معروف ماہرین نے حصہ لیا۔
ابتدائی مرحلے کے بعد اس ہینڈ بک کو ملک بھر کے پولیس ٹریننگ اداروں اور خصوصی سیکیورٹی اکیڈمیز میں بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ فورسز کی صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنایا جا سکے۔ -

ایران کا خلیج میں دشمن ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے خلیج میں ایک دشمن ڈرون کو جدید دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق یہ کارروائی ایرانی فوج نے “آرشِ کمانگیر” انٹرسیپٹر ڈرونز کی مدد سے انجام دی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی افواج نے ایک ایسے جدید اور خفیہ دفاعی نظام کا استعمال کیا جس میں جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی صلاحیتیں شامل ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد فضائی حدود کی نگرانی، دشمن ڈرونز کی بروقت شناخت اور انہیں تباہ کرنا ہے۔
رپورٹ میں ڈرون کی شناخت یا اس کے تعلق کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی میڈیا نے اسے “دشمن ڈرون” قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران گزشتہ چند برسوں سے اپنے دفاعی اور ڈرون پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے، خاص طور پر خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایران اپنی فضائی اور بحری دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اور آبنائے ہرمز سمیت خلیجی علاقوں میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ خطے میں جدید ڈرون اور فضائی دفاعی نظاموں کی بڑھتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب عالمی مبصرین خلیجی خطے میں کسی بھی نئی عسکری کشیدگی کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے عالمی توانائی مارکیٹ اور علاقائی استحکام پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

اسٹیٹ بینک کی اے ٹی ایم فراڈ روکنے کیلئے نئی ہدایات جاری
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اے ٹی ایم فراڈ کی بڑھتی شکایات کے پیش نظر تمام کمرشل بینکوں کو نئی سیکیورٹی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ صارفین کے اکاؤنٹس اور مالی لین دین کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام بینکوں کو اے ٹی ایم بوتھز میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو چوبیس گھنٹے فعال رکھنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
بینکوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کسی صارف کے اکاؤنٹ یا اے ٹی ایم ٹرانزیکشن میں مشکوک سرگرمی نظر آئے تو فوری طور پر صارف کو الرٹ کیا جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
ایس بی پی نے تمام کمرشل بینکوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق چِپ اینڈ پن کارڈز جاری کرنے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ غیر مجاز لین دین اور کارڈ کلوننگ جیسے فراڈ سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔
اسٹیٹ بینک نے زور دیا ہے کہ بینک اپنے اے ٹی ایم سسٹمز اور بینکنگ سافٹ ویئر کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کریں اور محفوظ و خفیہ نیٹ ورکنگ نظام کو یقینی بنائیں۔
ہدایت نامے کے مطابق مالیاتی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی بھی تاکید کی گئی ہے تاکہ اے ٹی ایم فراڈ کا بروقت پتہ لگایا جا سکے اور اسے روکا جا سکے۔
اس کے علاوہ اے ٹی ایم مشینوں میں اضافی حفاظتی آلات نصب کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے تاکہ صارفین کے مالیاتی ڈیٹا کو محفوظ رکھا جا سکے۔
اسٹیٹ بینک نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ کسی اے ٹی ایم فراڈ کا شکار ہوں تو فوری طور پر اپنے متعلقہ بینک کی ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
ایس بی پی کے مطابق اگر بینک شکایت کا بروقت حل نہ کرے تو صارفین اسٹیٹ بینک کے آن لائن شکایت پورٹل کے ذریعے بھی اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے استعمال کے ساتھ سائبر اور مالیاتی فراڈ کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں، اس لیے صارفین کو اپنے پن کوڈ اور بینک معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنی چاہئیں۔ -

آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا اور ایران کے سخت مؤقف سامنے آ گئے
امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری پروگرام کے معاملے پر دونوں ممالک کے سخت مؤقف سامنے آ گئے ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ ایران کو جوہری فضلے سے دستبرداری کے بدلے ایک ڈالر بھی نہیں دیا جائے گا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ایران پر عائد پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی کا انحصار امریکا کی شرائط پوری کرنے پر ہوگا، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر۔
انہوں نے کہا کہ بحری ناکہ بندی میں نرمی بھی اسی صورت ممکن ہوگی جب ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گا۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کو 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا نظام مکمل طور پر معمول پر لانا ہوگا تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
دوسری جانب ایک ایرانی عہدیدار نے امریکی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل مرحلہ وار طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق اس عمل میں سب سے پہلے سمندر میں موجود بارودی سرنگوں کو ہٹایا جائے گا جبکہ امریکا کو ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔
ایرانی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی کو بھی اس عمل کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ مذاکرات میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن اہم معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کا انتہائی اہم راستہ ہے اور یہاں کشیدگی یا بحری رکاوٹیں عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔
عالمی سطح پر سرمایہ کار اور حکومتیں اب امریکا ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان مذاکرات کے نتائج مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی تیل کی قیمتوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ -

اداکارہ مومنہ اقبال نے حمزہ حبیب سے نکاح کرلیا
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال نے حمزہ حبیب کے ساتھ نکاح کر لیا ہے، جس کی تصدیق خود حمزہ حبیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔
لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر حمزہ حبیب نے کہا کہ وہ مومنہ اقبال کے صرف منگیتر نہیں بلکہ شوہر بن چکے ہیں کیونکہ ان کا نکاح دو روز قبل انجام پا چکا ہے۔
حمزہ حبیب نے گفتگو کے دوران کہا کہ “الحمدللہ مومنہ اقبال اب میری قانونی بیوی ہیں”۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ حبیب کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں یکم جون تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جھنگ پولیس نے حمزہ حبیب کے خلاف ثاقب چڈھر نامی شخص کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ حبیب نے مقدمے کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر کیس بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ثاقب چڈھر نے مقدمہ درج کروانے سے پہلے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
حمزہ حبیب نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں مومنہ اقبال سے علیحدگی اختیار کرنے کے بدلے مالی لالچ بھی دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ “مجھے کہا گیا کہ مومنہ اقبال سے پیچھے ہٹ جاؤ، تمہیں بہت دولت دی جائے گی”۔
یاد رہے کہ مومنہ اقبال حالیہ دنوں ذاتی زندگی سے متعلق خبروں کے باعث سوشل میڈیا اور شوبز حلقوں میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ -

پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں مخلصانہ اور مثبت کردار ادا کیا جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔
چین کے دورے کے دوران عظیم عوامی ہال میں وزیراعظم شہباز شریف کے اعزاز میں ایک پُروقار استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جہاں چینی وزیراعظم لی چیانگ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
تقریب میں وزیراعظم کو چین کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں کی جانب سے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عظیم دوست ملک چین کا دورہ ہمیشہ خوشی کا باعث بنتا ہے کیونکہ ہر بار چین میں نئی ترقی اور جدید تعمیرات دیکھنے کو ملتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اپنی تاریخی دوستی اور سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے بانی رہنماؤں نے اس مضبوط تعلق کی بنیاد رکھی تھی جسے آج مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے اور خلیجی خطے میں جاری بحران عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر حال ہی میں تہران سے واپس آئے ہیں اور انہوں نے ایران اور امریکی قیادت کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم کے مطابق فریقین کے درمیان معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں جبکہ پاکستان امن اور جنگ بندی کے قیام کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے۔
دوسری جانب چینی وزیراعظم لی چیانگ نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی استحکام اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔
چینی وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنی روایتی دوستی اور عملی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور چینی وزیراعظم کے درمیان بھی غیر رسمی ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔