Baaghi TV

Blog

  • دہشتگردی کے خاتمے تک افغانستان میں آپریشن جاری رہے گا، پاکستان

    دہشتگردی کے خاتمے تک افغانستان میں آپریشن جاری رہے گا، پاکستان

    ‎سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی غیر ضروری کشیدگی کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر بین الاقوامی اصولوں اور سفارتی آداب کا احترام کرتا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایران کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی متوازن ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کی جانب سے روس، چین اور پاکستان کا شکریہ ادا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
    ‎سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ اگر بھارت کسی جارحیت کی تیاری کر رہا ہے تو پاکستان مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور کسی کو بھی اس کے خلاف مہم جوئی سے پہلے نتائج پر غور کرنا ہوگا۔
    ‎ذرائع کے مطابق جاری کارروائی جنگ نہیں بلکہ ایک آپریشن ہے جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغانستان میں موجود دہشتگردی کے مراکز کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت نے دہشتگرد گروہوں سے بیانات جاری کروا کر پاکستانی عوام اور افواج کے خلاف حملوں کی ترغیب دی۔
    ‎سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں، آپریشن صرف ان عناصر کے خلاف ہے جو دہشتگردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغان طالبان قیادت نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ بیرونی اثر و رسوخ کے تحت فیصلے کر رہی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن ضرب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان حکومت دہشتگردوں اور پاکستان کے درمیان واضح انتخاب نہیں کر لیتی۔ پاکستان اپنے دفاع اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

  • 
ڈرون حملوں  کے بعد راس تنورہ آئل ریفائنری میں لگی آگ پر قابو پا لیا ۔

    
ڈرون حملوں کے بعد راس تنورہ آئل ریفائنری میں لگی آگ پر قابو پا لیا ۔

    ‎سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے بتایا ہے کہ راس تنورہ آئل ریفائنری میں لگنے والی محدود نوعیت کی آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔ یہ ریفائنری سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کے زیر انتظام ہے۔
    ‎وزارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق ریفائنری کو گرنے والے ملبے سے معمولی نقصان پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملبہ اس وقت گرا جب ریفائنری کے قریب آنے والے دو ڈرونز کو فضا میں ہی روک لیا گیا۔ ہنگامی سروسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    ‎منظر عام پر آنے والی تصدیق شدہ ویڈیوز میں ریفائنری سے آگ اور دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔
    ‎سعودی حکومت نے ان حملوں کو کھلی اور بزدلانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔ حکام کے مطابق حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا گیا اور ان کا ہدف ریاض ریجن اور مشرقی صوبہ تھا۔

  • ‎پاسدارانِ انقلاب کا نیتن یاہو کے دفتر پر میزائل حملے کا دعویٰ، اسرائیل میں سیکڑوں زخمی

    ‎پاسدارانِ انقلاب کا نیتن یاہو کے دفتر پر میزائل حملے کا دعویٰ، اسرائیل میں سیکڑوں زخمی

    ‎ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا ہے۔
    ‎ترجمان پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملہ آج صبح کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کی موجودہ حالت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی ایئرفورس کے کمانڈ سینٹر پر بھی میزائل داغے گئے۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    ‎وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 777 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 88 شدید زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ 4 افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ گزشتہ روز اسرائیل کے علاقے بیت شیمش میں میزائل گرنے سے 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • ‎قومی اسمبلی کی وی آئی پی لفٹ پھر فیل، ارکان پارلیمنٹ پھنس گئے

    ‎قومی اسمبلی کی وی آئی پی لفٹ پھر فیل، ارکان پارلیمنٹ پھنس گئے

    ‎قومی اسمبلی میں وی آئی پی لفٹ ایک بار پھر خراب ہو گئی، جس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ پھنس گئے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت لفٹ میں فاروق ستار اور ان کی اہلیہ سمیت دیگر ارکان بھی موجود تھے جب اچانک لفٹ بند ہو گئی، جس کے باعث چند ارکان کی طبیعت بھی ناساز ہو گئی۔
    ‎واقعے کے دوران مولانا فضل الرحمان کے اسٹاف نے فوری طور پر اسمبلی سیکریٹریٹ کو اطلاع دی، جس پر تکنیکی عملے نے کئی منٹ کی کوشش کے بعد لفٹ کھول دی۔
    ‎اس دوران لفٹ میں پھنسے ارکان کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ رکن پارلیمنٹ سیما جیلانی نے کہا، "مولانا صاحب دعا کریں، اتنی جلدی زمین میں جانے کا دل نہیں ہے۔” مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا، "اللّٰہ سے دعا کریں، اللّٰہ رحم کرے گا۔”
    ‎واقعے کے بعد قومی اسمبلی کی لفٹوں کی دیکھ بھال اور سیکیورٹی انتظامات پر دوبارہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور ارکان نے انتظامیہ سے فوری بہتری کا مطالبہ کیا ہے۔

  • 
جنوبی ایران میں اسکول پر حملہ، شہادتیں 180 تک پہنچ گئیں،

    
جنوبی ایران میں اسکول پر حملہ، شہادتیں 180 تک پہنچ گئیں،

    ‎جنوبی ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 180 ہو گئی ہے، جن میں اکثریت طالبات کی بتائی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق شہری علاقوں پر حملوں کے باعث جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
    ‎ایرانی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی علاقے مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد سامنے آئی۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور بڑی تعداد میں طالبات اور عملہ متاثر ہوا۔ امدادی ٹیموں نے کئی گھنٹوں تک ریسکیو کارروائیاں جاری رکھیں۔
    ‎ایرانی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ اسی دوران تہران میں واقع گاندھی اسپتال پر بھی میزائل حملے کی اطلاع دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں اور طبی عملے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ اسپتال کی عمارت کو نقصان پہنچا۔
    ‎وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کو مختلف طبی مراکز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

  • 
ایران پر حملوں کے بعد بابا وانگا کی پیشگوئیاں دوبارہ زیرِ بحث، 2026 کی ‘عظیم جنگ’ کا دعویٰ وائرل

    
ایران پر حملوں کے بعد بابا وانگا کی پیشگوئیاں دوبارہ زیرِ بحث، 2026 کی ‘عظیم جنگ’ کا دعویٰ وائرل

    ‎امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایرانی جوابی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔ جیسے ہی خطے میں جنگی تناؤ بڑھا، سوشل میڈیا پر بلغاریہ کی نابینا نجومی بابا وانگا کی پیشگوئیاں دوبارہ موضوعِ بحث بن گئیں۔
    ‎بابا وانگا، جن کا انتقال 1996 میں ہوا تھا، سے منسوب مختلف پیشگوئیاں برسوں سے گردش میں رہتی ہیں۔ ان کے ماننے والوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 2026 کے آغاز میں ایک “عظیم جنگ” کی پیشگوئی کی تھی جو مشرق سے شروع ہوگی، اور موجودہ حالات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎سوشل میڈیا صارفین حالیہ ایران، امریکا اور اسرائیل کشیدگی کو ان پیشگوئیوں سے جوڑ رہے ہیں، خاص طور پر اس دعوے کے ساتھ کہ یہ تنازع عالمی سطح پر اثرات مرتب کرے گا۔
    ‎وانگا سے منسوب پیشگوئیوں کے مطابق اس ممکنہ جنگ کے اثرات مغربی دنیا، خصوصاً یورپ، پر زیادہ پڑیں گے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی، معاشی بحران اور سماجی عدم استحکام پیدا ہونے کی بات کی گئی ہے۔
    ‎اسی سلسلے میں یہ دعویٰ بھی سامنے آتا ہے کہ عالمی تنازعات کے بعد روس ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے اور عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ تاہم ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ ایسی پیشگوئیوں کی سائنسی یا تاریخی تصدیق موجود نہیں اور انہیں حقائق کے بجائے عوامی دلچسپی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

  • سرکاری رپورٹ: ایران میں حملوں میں کم از کم 555 افراد ہلاک

    سرکاری رپورٹ: ایران میں حملوں میں کم از کم 555 افراد ہلاک

    ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے فضائی اور فوجی حملوں میں اب تک کم از کم 555 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ایران کے بڑے شہروں و صوبوں میں تباہی پھیلی ہوئی ہے۔ اس بیان کے مطابق ملک بھر میں 130 سے زائد شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
    ایران نے اپنے متعدد صوبوں جیسے یزد، فارس اور دیگر علاقوں میں حملوں کی بھی تصدیق کی ہے، جہاں فوجی و بنیادی ڈھانچے کے مقامات سمیت شہری علاقے بھی متاثر ہوئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں شہری بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، اور ملک بھر میں فضائی حملوں کے بعد صورتحال انتہائی تناؤ بھری ہے۔
    اس جنگی کشیدگی کے دوران ایران نے جوابی میزائل حملے کیے ہیں، جس میں مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں امریکی اڈوں اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ متعدد ممالک نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری نے بھی ہنگامی اجلاس بلانے پر زور دیا ہے۔
    متعدد بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ تنازع روز بروز بڑھ رہا ہے، اور انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

  • آپریشن غضب للحق :ہلاک افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد 435  ،188 چیک پوسٹیں تباہ ،31 پوسٹوں پر قبضہ  کر لیا

    آپریشن غضب للحق :ہلاک افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد 435 ،188 چیک پوسٹیں تباہ ،31 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا

    افغانستان سے دہشت گردی اور بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے آپریشن غضب للحق کامیابی کے ساتھ جاری ہے،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق میں اب تک مارے جانے والے افغان طالبان اہلکاروں کی مزید تفصیلات جاری کردی ہیں-

    پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کے خلاف کی جانے والی جوابی کارروائیوں کے اعداد و شمارجاری کیے ہیں،کہ آپریشن کے دوران افغان طالبان کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، اب تک آپریشن میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد 435 ہوگئی ہے جب کہ افغان طالبان کے 630 سے زائد اہلکار زخمی ہیں۔

    وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی 188 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں اور پاکستان سیکیورٹی فورسز نے 31 افغان پوسٹوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہےب تک افغان طالبان رجیم کے 188 ٹینکس، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ بھی اس آپریشن میں تباہ کی گئی ہیں جب کہ افغانستان بھر میں 51 مقامات فضا سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایران کی جانب سے پہلے حملہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں تھا، پینٹاگون

    دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خوست ایمونیشن ڈپو اور اور ڈرون اسٹوریج سائٹ تباہ کردیا گیا ہے پیر کے روز سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی جارحیت کے خلاف پاک فوج کی بھرپور اور طاقتور جوابی کارروائیاں جاری ہیں پاک افواج نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا خوست میں ایمونیشن ڈپو تباہ کردیا ہے پاک افواج کی مؤثر جوابی کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے جلال آباد میں ایمونیشن ڈپو اور ڈرون اسٹوریج سائٹ کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج فتنہ الخوارج اور افغان طالبان فوج کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو موثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہیں، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کو پاک افغان سرحد پربلا اشتعال جارحیت کے بعد ہر محاذ پر بھرپور پسپائی کا سامنا ہے۔

    ایران کا سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ،اسرائیل میں بھی گیس کی پیداوار بند

    واضح رہے کہ جمعرات 26 فروری کی رات پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے پاک فوج نے افغانستان کی حدود کے اندر مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں اورکابل، قندھار اور پکتیا سمیت دیگر مقامات پر موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کئی چیک پوسٹیں تباہ کیں۔

  • ایران کی جانب سے پہلے حملہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں تھا، پینٹاگون

    ایران کی جانب سے پہلے حملہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں تھا، پینٹاگون

    امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ نے کانگریس کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ ایسی کوئی خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی جس سے ظاہر ہو کہ ایران امریکا پر پہلے حملے کی تیاری کر رہا تھا۔

    خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اتوار کو ہونے والے بند کمرہ اجلاسوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے کانگریس کے عملے کو اس بارے میں آگاہ کیا ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’رائٹرز‘ بتایا کہ ایران کی جانب سے عمومی خطرات ضرور تھے، لیکن امریکا پر فوری یا پیشگی حملے کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف کی گئی کارروائیوں میں ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور بحری جہاز شامل تھے ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شہید ہوئے امریکی فوج نے بتایا کہ بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے زیر زمین تنصیبات پر دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے۔

    ایران کا سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ،اسرائیل میں بھی گیس کی پیداوار بند

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کا مقصد امریکی عوام کا دفاع کرنا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے اگر ضرورت پڑی تو کارروائیاں ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔

    تاہم اتوار کی بریفنگ میں حکام نے تسلیم کیا کہ ایران کی جانب سے امریکا پر پہلے حملے کی کوئی مصدقہ خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی، جو اس جنگ کے جواز سے متعلق سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

    ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک اختیاری جنگ ہے اور اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں بعض ارکان نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ امن مذاکرات ترک کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا، جبکہ عمان جیسے ثالث ممالک کا کہنا تھا کہ بات چیت کے امکانات موجود تھے۔

    امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے سیکیورٹی چیف کا اعلان

    دوسری جانب ایران پر حملے میں امریکی شمولیت کو ملک کے لیے وار آف چوائس (مسلط کردہ جنگ) قرار دیا جارہا ہے۔

    ڈیموکریٹ سینیٹر برنی سینڈرز نے ایکس پر بیان میں ردعمل دیا کہ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں ایران پر حملہ کرنا پڑا کیوں کہ اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی صدر ہیں جنہوں نے گزشتہ سال کہا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو ختم کر دیا گیا ہے ویتنام اور عراق کے بعد اب ایران، ایک اور جھوٹ، ایک اور جنگ۔

    ایران پر حملے کے بعد امریکی فوج کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد تنقید کا دائرہ مزید پھیلنے کا امکان ہے۔

    صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مشہور وعدے ’میک امریکا گریٹ اگین‘ (میگا) کی حمایت کرنے والے افراد بھی اب کھل کر ان پر تنقید کر رہے ہیں ان کی قریبی ساتھی رہنے والی سابقہ کانگریکس وومن مارجوری ٹیلر گرین نے فوجیوں کی ہلاکت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ بالکل غیر ضروری تھا۔

    پاکستان میں امریکی سفارت اور قونصل خانوں کی سروسز معطل

    انہوں نے کہا کہ امریکی صدر، نائب صدر اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جنگوں اور ’رجیم چینج‘ کے مسئلوں میں نہ الجھنے کا فیصلہ کیا تھا اب ہم اپنے فوجی جوانوں کو کھو چکے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کے سابق چیف اسٹریٹجسٹ اور ’میگا تحریک‘ کے بااثر ترین رہنماؤں میں سے ایک اسٹیو بینن بھی اس معاملے پر ٹرمپ کے مخالف نظر آتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ایرک پرنس بھی واضح تنقید کرنے والے شخص بن کر ابھرے ہیں جو ماضی میں بدنام زمانہ تنظیم ’بلیک واٹر‘ کے ذریعے امریکا کی فوجی کارروا ئیوں کا حصہ رہے ہیں لیکن ایران پر حالیہ حملے پر ان کا مؤقف بہت مختلف ہے ایرک پرنس نے اسٹیو بینن کے ہمراہ ایک پوڈ کاسٹ میں ایران میں جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے سوال پر کہا کہ ’ٹرمپ نے چند ماہ قبل بتایا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر دیا گیا ہے اس جنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا، یہ ہماری نہیں بلکہ اسرائیل کی جنگ تھی جس میں امریکا کو بھی گھیسٹا گیا ہے۔

    ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلکن کے رہنما اور امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن تھامس میسی بھی اس معاملے پر ٹرمپ پر برس پڑے ہیں، انہوں نے ایران پر حملہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’امریکہ فرسٹ‘ نہیں ہےجنگ کا فیصلہ کانگریس کی منظوری سے مشروط ہونا چاہئے تھا، وہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں گے۔

    25 فیصد امریکی ایران پر حملوں کے حامی،ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی گرگیا

    امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مارک وارنر نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں ایران کی جانب سے حملے کے خدشے کو مسترد کیا ہےانہوں نے کہا کہ ایسی کوئی انٹیلی جنس رپورٹ نہیں تھی جس سے ثابت ہوتا ہو کہ ایران امریکہ کے خلاف حملہ کرنے والا تھا۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام نے کانگریس کے سامنے تسلیم کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر حملے کی کوئی انٹیلی جنس اطلاعات موجود نہیں تھیں، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف پر بھی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔

  • ایران کا  سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ،اسرائیل میں بھی گیس کی پیداوار بند

    ایران کا سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ،اسرائیل میں بھی گیس کی پیداوار بند

    مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی،آرامکو ملک کی سب سے بڑی آئل کمپنی سمجھی جاتی ہے اور اس تنصیب پر حملے نے توانائی کے عالمی شعبے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    سعودی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، حکام نے دمام کے قریب واقع راس تنورہ ریفائنری کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا ہے سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ دو ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم ان کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔

    قطر کی وزارت دفاع نے باضابطہ طور پر بتایا ہے کہ ملک کے دو اہم توانائی مراکز کو ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے ان میں سے ایک ڈرون نے مسائید کے علاقے میں واقع بجلی گھر کے پانی کے ٹینک کو نشانہ بنایا جبکہ دوسرے ڈرون نے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں قطر انرجی کی ایک تنصیب پر حملہ کیا خوش قسمتی سے ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

    عمان کے بحری سلامتی کے مرکز نے اطلاع دی ہے کہ مسقط کے ساحل سے دور ایک تیل بردار بحری جہاز پر بارود سے بھری کشتی کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم میں زوردار دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث عملے کا ایک رکن جان کی بازی ہار گیا جہاز پر موجود دیگر اکیس افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جبکہ عمان کی شاہی بحریہ کا ایک جہاز متاثرہ ٹینکر کی نگرانی کر رہا ہے اور دیگر بحری جہازوں کو اس علاقے سے گزرتے ہوئے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    بیروت اور جنوبی لبنان پر شدید اسرائیلی بمباری، 31 جاں بحق، درجنوں زخمی

    دوسری جانب توانائی کی عالمی منڈی میں بھی ہلچل دیکھی جا رہی ہے امریکی کمپنی شیوران نے اطلاع دی ہے کہ اسے اسرائیل کی وزارت توانائی کی جانب سے لیویتھن نامی بڑے گیس فیلڈ سے پیداوار عارضی طور پر روکنے کا حکم ملا ہے یہ گیس فیلڈ اسرائیل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں سے مصر کو اربوں ڈالر مالیت کی گیس برآمد کی جاتی ہے ان کی تنصیبات فی الحال محفوظ ہیں لیکن حفاظتی اقدامات کے تحت کام بند کر دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ ترکیہ میں ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی خبر ہے جبکہ قبرص میں برطانوی ملٹری بیس کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں اصفہان میں ایک امریکی ڈرون مار گرائے جانے اور کویت میں کئی امریکی طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔

    کراچی : امریکن قونصلیٹ جانے والے تمام راستے بند،اسلام آباد میں ریڈ زون بھی مکمل سیل

    دوسری جانب ایران کے مختلف شہروں میں بھی حملوں کی خبریں ہیں شہر سنندج پر چھ میزائل گرنے کی اطلاع ہے جس میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کا بتایا گیا ہےگزشتہ رات دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے گئے اور بیلسٹک میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔