Baaghi TV

Blog

  • 
پاکستانی فضائی کارروائیوں کے خدشے پر افغان طالبان فرار

    
پاکستانی فضائی کارروائیوں کے خدشے پر افغان طالبان فرار

    حکام نے پاکستان کی ممکنہ فضائی کارروائیوں کے خدشے کے پیش نظر اپنے ٹھکانے تبدیل کر لیے ہیں اور ملک کے وسطی صوبے بامیان منتقل ہو گئے ہیں۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان حکام پانچ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بامیان پہنچے، اور یہ ہیلی کاپٹر تاحال بامیان ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی جانب سے افغانستان میں شدت پسند عناصر کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد سرحد پار دہشتگردی کے مراکز کو نشانہ بنانا ہے۔
    ‎وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائیوں میں اب تک طالبان کے 435 کارندے ہلاک جبکہ 630 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز نے طالبان کی 118 چیک پوسٹیں تباہ کیں اور 31 پر کنٹرول حاصل کیا، جبکہ بڑی تعداد میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کی گئیں۔
    ‎سرکاری مؤقف کے مطابق پاکستان اب تک افغانستان میں 51 مختلف مقامات کو فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنا چکا ہے۔

  • 
اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی

    
اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی

    ‎اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہوگئی ہے، جہاں خوفزدہ شہری محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ مسلسل فضائی حملوں کے باعث کئی علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق العباسیہ میں شدید بمباری کے بعد شہریوں نے گھروں کو چھوڑنا شروع کر دیا۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی کے باعث مرکزی شاہراہوں پر شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ امدادی ادارے بھی دباؤ کا شکار ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہداء کی تعداد 31 ہو گئی ہے جبکہ کم از کم 149 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ ہے۔
    ‎لبنانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر انصاف نے اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے والوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے ہیں تاکہ داخلی صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔
    ‎یاد رہے کہ حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی شہر حیفا پر درجنوں میزائل داغے تھے۔ تنظیم کے مطابق یہ حملہ ایرانی قیادت پر حملے کے ردعمل میں کیا گیا اور اسرائیل سے لبنانی مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی شہر سنندج پر ہونے والی شدید بمباری کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جن میں تباہی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی

    مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات عالمی اسٹاک مارکیٹ پر واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں اور مختلف ممالک میں حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں میں بے یقینی کے باعث فروخت کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
    ‎بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں سینسیکس ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کے بعد اناسی ہزار نو سو پچانوے کی سطح پر بند ہوا، جبکہ نفٹی پچاس بھی نمایاں کمی کے ساتھ چوبیس ہزار سات سو اکسٹھ تک گر گیا۔
    ‎جاپان اور جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی بالترتیب ایک اعشاریہ نو اور دو فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔
    ‎پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی منفی رجحان برقرار رہا اور سو انڈیکس کا آغاز پندرہ ہزار سے زائد پوائنٹس کی بڑی کمی سے ہوا۔
    ‎دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ماہرین کے مطابق اگر خطے میں صورتحال مزید بگڑتی ہے تو توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

  • 
ایران کا اقوام متحدہ کو خط، خامنہ ای پر حملے کے ذمہ داروں کو سنگین نتائج کی وارننگ

    
ایران کا اقوام متحدہ کو خط، خامنہ ای پر حملے کے ذمہ داروں کو سنگین نتائج کی وارننگ

    ‎ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے ارکان کو باضابطہ مراسلہ ارسال کرتے ہوئے حملے کے ذمہ داروں کو سخت نتائج کی وارننگ دی ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے خط میں کہا کہ ایرانی سرزمین پر ہونے والا حملہ امریکا اور اسرائیل کی بلااشتعال جارحیت کا حصہ تھا اور اس کے ذمہ داروں کو “انتہائی گہرے اور دور رس نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    ‎خط میں کہا گیا کہ آیت اللہ خامنہ ای نہ صرف ایران کی اعلیٰ ترین ریاستی شخصیت تھے بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے ایک بااثر مذہبی رہنما بھی تھے، اس لیے ان پر حملے کی مکمل ذمہ داری حملہ آور ممالک پر عائد ہوتی ہے۔
    ‎عباس عراقچی نے اس واقعے کو ہولناک اور مجرمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے دانستہ طور پر اقوام متحدہ کے ایک خودمختار رکن ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نشانہ بنایا۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے اس واقعے پر فیصلہ کن ردعمل نہ دیا تو بین الاقوامی قانونی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ ایران آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
    ‎خط میں مطالبہ کیا گیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی اور احکامات دینے والے تمام افراد، بشمول امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم، کا انفرادی احتساب کیا جائے۔
    ‎ایران نے مزید بتایا کہ حالیہ جارحیت کے بعد اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود متعدد امریکی اور اسرائیلی اہداف کو میزائلوں اور ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

  • دہشتگردی کے خاتمے تک افغانستان میں آپریشن جاری رہے گا، پاکستان

    دہشتگردی کے خاتمے تک افغانستان میں آپریشن جاری رہے گا، پاکستان

    ‎سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی غیر ضروری کشیدگی کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر بین الاقوامی اصولوں اور سفارتی آداب کا احترام کرتا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایران کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی متوازن ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کی جانب سے روس، چین اور پاکستان کا شکریہ ادا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
    ‎سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ اگر بھارت کسی جارحیت کی تیاری کر رہا ہے تو پاکستان مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور کسی کو بھی اس کے خلاف مہم جوئی سے پہلے نتائج پر غور کرنا ہوگا۔
    ‎ذرائع کے مطابق جاری کارروائی جنگ نہیں بلکہ ایک آپریشن ہے جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغانستان میں موجود دہشتگردی کے مراکز کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت نے دہشتگرد گروہوں سے بیانات جاری کروا کر پاکستانی عوام اور افواج کے خلاف حملوں کی ترغیب دی۔
    ‎سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں، آپریشن صرف ان عناصر کے خلاف ہے جو دہشتگردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغان طالبان قیادت نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ بیرونی اثر و رسوخ کے تحت فیصلے کر رہی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن ضرب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان حکومت دہشتگردوں اور پاکستان کے درمیان واضح انتخاب نہیں کر لیتی۔ پاکستان اپنے دفاع اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

  • 
ڈرون حملوں  کے بعد راس تنورہ آئل ریفائنری میں لگی آگ پر قابو پا لیا ۔

    
ڈرون حملوں کے بعد راس تنورہ آئل ریفائنری میں لگی آگ پر قابو پا لیا ۔

    ‎سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے بتایا ہے کہ راس تنورہ آئل ریفائنری میں لگنے والی محدود نوعیت کی آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔ یہ ریفائنری سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کے زیر انتظام ہے۔
    ‎وزارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق ریفائنری کو گرنے والے ملبے سے معمولی نقصان پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملبہ اس وقت گرا جب ریفائنری کے قریب آنے والے دو ڈرونز کو فضا میں ہی روک لیا گیا۔ ہنگامی سروسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    ‎منظر عام پر آنے والی تصدیق شدہ ویڈیوز میں ریفائنری سے آگ اور دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔
    ‎سعودی حکومت نے ان حملوں کو کھلی اور بزدلانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔ حکام کے مطابق حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا گیا اور ان کا ہدف ریاض ریجن اور مشرقی صوبہ تھا۔

  • ‎پاسدارانِ انقلاب کا نیتن یاہو کے دفتر پر میزائل حملے کا دعویٰ، اسرائیل میں سیکڑوں زخمی

    ‎پاسدارانِ انقلاب کا نیتن یاہو کے دفتر پر میزائل حملے کا دعویٰ، اسرائیل میں سیکڑوں زخمی

    ‎ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا ہے۔
    ‎ترجمان پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملہ آج صبح کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کی موجودہ حالت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی ایئرفورس کے کمانڈ سینٹر پر بھی میزائل داغے گئے۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    ‎وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 777 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 88 شدید زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ 4 افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ گزشتہ روز اسرائیل کے علاقے بیت شیمش میں میزائل گرنے سے 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • ‎قومی اسمبلی کی وی آئی پی لفٹ پھر فیل، ارکان پارلیمنٹ پھنس گئے

    ‎قومی اسمبلی کی وی آئی پی لفٹ پھر فیل، ارکان پارلیمنٹ پھنس گئے

    ‎قومی اسمبلی میں وی آئی پی لفٹ ایک بار پھر خراب ہو گئی، جس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ پھنس گئے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت لفٹ میں فاروق ستار اور ان کی اہلیہ سمیت دیگر ارکان بھی موجود تھے جب اچانک لفٹ بند ہو گئی، جس کے باعث چند ارکان کی طبیعت بھی ناساز ہو گئی۔
    ‎واقعے کے دوران مولانا فضل الرحمان کے اسٹاف نے فوری طور پر اسمبلی سیکریٹریٹ کو اطلاع دی، جس پر تکنیکی عملے نے کئی منٹ کی کوشش کے بعد لفٹ کھول دی۔
    ‎اس دوران لفٹ میں پھنسے ارکان کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ رکن پارلیمنٹ سیما جیلانی نے کہا، "مولانا صاحب دعا کریں، اتنی جلدی زمین میں جانے کا دل نہیں ہے۔” مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا، "اللّٰہ سے دعا کریں، اللّٰہ رحم کرے گا۔”
    ‎واقعے کے بعد قومی اسمبلی کی لفٹوں کی دیکھ بھال اور سیکیورٹی انتظامات پر دوبارہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور ارکان نے انتظامیہ سے فوری بہتری کا مطالبہ کیا ہے۔

  • 
جنوبی ایران میں اسکول پر حملہ، شہادتیں 180 تک پہنچ گئیں،

    
جنوبی ایران میں اسکول پر حملہ، شہادتیں 180 تک پہنچ گئیں،

    ‎جنوبی ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 180 ہو گئی ہے، جن میں اکثریت طالبات کی بتائی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق شہری علاقوں پر حملوں کے باعث جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
    ‎ایرانی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی علاقے مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد سامنے آئی۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور بڑی تعداد میں طالبات اور عملہ متاثر ہوا۔ امدادی ٹیموں نے کئی گھنٹوں تک ریسکیو کارروائیاں جاری رکھیں۔
    ‎ایرانی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ اسی دوران تہران میں واقع گاندھی اسپتال پر بھی میزائل حملے کی اطلاع دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں اور طبی عملے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ اسپتال کی عمارت کو نقصان پہنچا۔
    ‎وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کو مختلف طبی مراکز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

  • 
ایران پر حملوں کے بعد بابا وانگا کی پیشگوئیاں دوبارہ زیرِ بحث، 2026 کی ‘عظیم جنگ’ کا دعویٰ وائرل

    
ایران پر حملوں کے بعد بابا وانگا کی پیشگوئیاں دوبارہ زیرِ بحث، 2026 کی ‘عظیم جنگ’ کا دعویٰ وائرل

    ‎امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایرانی جوابی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔ جیسے ہی خطے میں جنگی تناؤ بڑھا، سوشل میڈیا پر بلغاریہ کی نابینا نجومی بابا وانگا کی پیشگوئیاں دوبارہ موضوعِ بحث بن گئیں۔
    ‎بابا وانگا، جن کا انتقال 1996 میں ہوا تھا، سے منسوب مختلف پیشگوئیاں برسوں سے گردش میں رہتی ہیں۔ ان کے ماننے والوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 2026 کے آغاز میں ایک “عظیم جنگ” کی پیشگوئی کی تھی جو مشرق سے شروع ہوگی، اور موجودہ حالات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎سوشل میڈیا صارفین حالیہ ایران، امریکا اور اسرائیل کشیدگی کو ان پیشگوئیوں سے جوڑ رہے ہیں، خاص طور پر اس دعوے کے ساتھ کہ یہ تنازع عالمی سطح پر اثرات مرتب کرے گا۔
    ‎وانگا سے منسوب پیشگوئیوں کے مطابق اس ممکنہ جنگ کے اثرات مغربی دنیا، خصوصاً یورپ، پر زیادہ پڑیں گے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی، معاشی بحران اور سماجی عدم استحکام پیدا ہونے کی بات کی گئی ہے۔
    ‎اسی سلسلے میں یہ دعویٰ بھی سامنے آتا ہے کہ عالمی تنازعات کے بعد روس ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے اور عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ تاہم ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ ایسی پیشگوئیوں کی سائنسی یا تاریخی تصدیق موجود نہیں اور انہیں حقائق کے بجائے عوامی دلچسپی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔