Baaghi TV

Blog

  • بدترین ہیں وہ جو ناجائز منافع ،ذخیرہ اندوزی کے نام پر عوام کا خون چوستے ہیں، احسن محمود

    بدترین ہیں وہ جو ناجائز منافع ،ذخیرہ اندوزی کے نام پر عوام کا خون چوستے ہیں، احسن محمود

    روزے اور عبادات اسی کے قبول ہوتے ہیں جو حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی ادا کرے ۔ اسلام شفقت اور محبت کا دین ہے، جو دوسروں کیلئے آسانیاں فراہم کرنے اور حقوق العباد کی پاسداری کا حکم دیتا ہے ۔

    ان خیالات کا اظہارقرآن پبلشرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین سید احسن محمود شاہ ، صدر قدرت اللہ اور سرپرست اعلیٰ حفیظ البرکات شاہ نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ رحمتوں ، برکتوں اور سعادتوں والا مہینہ شروع ہوچکا ہے ، یہ مہینہ اللہ کے قرب ، انسانیت کی خدمت، حقوق العباد کی پاسداری ، گناہوں سے بچنے، اپنی زندگیاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بتلائی ہوئی تعلیمات کے مطابق بسر کرنے کے عہد کا مہینہ ہے ۔ ضروری ہے کہ اس مہینے میں جہاں ہر مسلمان بھر پور طریقے سے اللہ کی عبادات کرے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ حقوق العباد، اپنے پڑوسیوں ، ہمسائیوں اور ضرورتمندوں کا بھی خیال رکھا جائے ۔ دکانداروں کو چاہئے کہ وہ ناجائز منافع خوری سے باز رہیں سرکاری اداروں کا بھی فرض ہے کہ وہ اشیائے خودردوش کی قیمتوں پرچیک اینڈ بیلنس رکھیں ۔اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ رمضان المبارک میں دکاندار اشیائے خودرنوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کردیتے ہیں جبکہ ناجائز منافع خوری کرنا اوراشیائے خورد نوش کی قیمتیں حد سے زیادہ وصول کرنا اسلام کی تعلیمات کے منافی اور عوام الناس کا خون چوسنے کے مترادف ہے ۔انھوں نے کہا عبادات اور رمضان کے روزے بھی اسی کے قبول ہوتے ہیں جو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال رکھے اور دوسروں کیلئے آسانیاں کرے ۔رمضان میں ہمیں اپنی زندگیاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارنے جھوٹ سے بچنے اور اچھا مسلمان بننے کا عہد کرنا ہوگا اسی صورت میں ہماری عبادات راتوں کاقیام اور دن کے روزے قبول ہوں گے۔ رمضان ناجائز منافع کمانے ، ذخیرہ اندوزی کرنے کا مہینہ نہیں ، بدترین ہیں وہ مسلمان جو ناجائز منافع اور ذخیرہ اندوزی کے نام پر عوام کا خون چوستے ہیں

  • میانوالی ،کوئٹہ تک لگژری طیارے پر سفر کا شوق ہے تووزیراعلیٰ پنجاب ذاتی پیسہ لگائیں،حافظ خالد نیک

    میانوالی ،کوئٹہ تک لگژری طیارے پر سفر کا شوق ہے تووزیراعلیٰ پنجاب ذاتی پیسہ لگائیں،حافظ خالد نیک

    مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے کہا ہے کہ 11 ارب کا لگژری طیارہ خرید کر اس پر میانوالی اور کوئٹہ کا چکر لگانے والی وزیراعلیٰ پنجاب جواب دیں کہ طیارہ کن مقاصد کے لئے خریدا گیا، ایک طرف پنجاب کی عوام غربت کی وجہ سے خودکشیاں کر رہی ہےتو دوسری جانب حکمرانوں کی شاہ خرچیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں

    حافظ خالد نیک کا کہنا تھا کہ حکومتوں کا کام عوام کو ریلیف دینا ہوتا ہے نہ کہ قومی خزانے کا بے جا ضیاع کرنا، لگژری طیارے کی خریداری بے جا فضول خرچی کے علاوہ کچھ نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کو اگر لگژری طیاروں پر سفر کا شوق ہے تو ذاتی پیسہ استعمال کریں، قوم کا پیسہ استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے، اب طیارے کے استعمال پر ماہانہ کروڑوں کا خرچ وہ بھی پنجاب کے خزانے سے جائے گا، ابھی بسنت میں جاں بحق افراد کا غم کم نہیں ہوا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی شاہ خرچیوں نے قوم کو مزید پریشان کر دیا،مرکزی مسلم لیگ پنجاب حکومت کی بے جا خرچوں پر خاموش نہیں بیٹھے گی،قوم حکمرانوں کا احتساب کرے گی.

  • بنوں حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر سے جاملے

    بنوں حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر سے جاملے

    بنوں خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر سے جاملے، فتنہ الخوارج اتحاد المجاہدین نے ذمہ داری قبول کرلی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اتحاد المجاہدین کا تعلق فتنہ الخوارج کے حافظ گل بہادر گروپ سے ہے، اتحاد المجاہدین کا مرکزی سرغنہ گل بہادر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے، حافظ گل بہادر گروپ پاکستان میں دہشتگردی اور فتنہ انگیزی میں ملوث ہے۔ذرائع کے مطابق میر علی سمیت شمالی اور جنوبی وزیرستان میں متعدد حملوں کی ذمہ داری اسی گروپ نے قبول کی، حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری بھی افغانستان سے کی گئی۔حافظ گل بہادر سمیت فتنہ الخوارج کے مرکزی سرغنوں کی افغانستان میں موجودگی ثبوت ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے، افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی سے واضح ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں، شواہد سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد عناصر افغان نژاد یا افغانستان سے مربوط نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے ہیں،

    واضح رہے کہ بنوں حملے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 5 خوارج بھی مارے گئے۔

  • ماں بولی کا عالمی دن ، پنجابی اور ایک نئی اُمید،:تحریر کامران اشرف

    ماں بولی کا عالمی دن ، پنجابی اور ایک نئی اُمید،:تحریر کامران اشرف

    21 فروری محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، یہ شناخت، شعور اور ثقافتی بقا کا دن ہے۔ ماں بولی کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زبان صرف بولنے کا وسیلہ نہیں بلکہ قوموں کی تاریخ، تہذیب اور اجتماعی حافظے کی محافظ ہوتی ہے۔ جس قوم کی زبان کمزور پڑ جائے، اس کی تہذیبی بنیادیں بھی لرزنے لگتی ہیں۔

    پنجاب کی سرزمین صدیوں سے علم و ادب، صوفیانہ فکر اور ثقافتی رنگا رنگی کی امین رہی ہے۔ پنجابی زبان نے محبت، مزاحمت، حکمت اور روحانیت کے ایسے نقوش چھوڑے جو برصغیر کی تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہیں۔ مگر افسوس کہ اپنے ہی گھر میں یہ زبان اجنبی بنتی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں پنجابی کو وہ مقام حاصل نہیں جو اس کا حق ہے۔ بچے اسکول میں اپنی مادری زبان بولنے سے جھجکتے ہیں، اور والدین اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے لگے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف لسانی بلکہ فکری بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ایسے ماحول میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پنجابی زبان، ثقافت اور تہذیب کے فروغ کے حوالے سے حکومتی سطح پر سنجیدہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب اس مسئلے کو محض ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ پالیسی کے دائرے میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پنجابی کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف زبان کی بقا بلکہ نئی نسل کی شناخت کے تحفظ کی ضمانت ہوگا۔

    یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس حوالے سے واضح فیصلہ دے چکی ہے کہ تعلیمی اداروں میں پنجابی کو پڑھایا جائے۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ مؤقف دراصل آئینی تقاضوں اور ثقافتی ذمہ داری کا عکاس ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس فیصلے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کب ہوگا؟

    گزشتہ برس 21 فروری 2025 کو مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی رخسانہ کوثر نے ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پنجابی زبان کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے، پنجابی کتب کی اشاعت کو فروغ دیا جائے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں پنجابی کو مناسب مقام دیا جائے۔ یہ قرارداد محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ برسوں سے جاری مطالبے کی آئینی صورت تھی۔ اگر اس قرارداد پر عملی اقدامات کیے جائیں تو پنجاب کی لسانی تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہو سکتی ہے۔

    مجھے آج بھی 21 فروری 2014 کی وہ دوپہر یاد ہے جب لاہور کی شملہ پہاڑی پر پنجابی تنظیموں کے زیر اہتمام مظاہرے میں شرکت کا موقع ملا۔ مختلف جماعتوں، ادبی حلقوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندے ایک ہی مطالبہ دہرا رہے تھے: پنجابی کو اس کا جائز مقام دیا جائے۔ وہ کوئی سیاسی اجتماع نہیں تھا بلکہ شناخت کی جنگ تھی۔ اس تحریک سے وابستہ تمام تنظیمیں اور افراد قابلِ قدر ہیں کہ انہوں نے مسلسل اور پُرامن انداز میں یہ مطالبہ زندہ رکھا۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ پنجابی کو کیوں پڑھایا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ اسے کیوں نہ پڑھایا جائے؟ دنیا کی مہذب اقوام اپنی مادری زبان میں تعلیم کو بنیادی حق سمجھتی ہیں۔ ماہرینِ تعلیم اس امر پر متفق ہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو تو بچے کی ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے، تخلیقی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ پنجابی کو نصاب کا حصہ بنانا کسی دوسری زبان کے خلاف اقدام نہیں بلکہ لسانی توازن کی بحالی ہے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ زبان کا فروغ صرف حکومتی نوٹیفکیشن سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے معاشرتی قبولیت، ادبی سرگرمی، نصابی تیاری، اساتذہ کی تربیت اور میڈیا کا مثبت کردار ضروری ہے۔ اگر پنجابی میں معیاری نصاب، جدید ادب، بچوں کی کہانیاں اور سائنسی مواد تیار کیا جائے تو یہ زبان نئی نسل کے لیے کشش بھی پیدا کرے گی اور افادیت بھی۔

    آج جب ماں بولی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے محض ثقافتی تقریب تک محدود نہ رکھا جائے۔ یہ دن ہمیں اجتماعی احتساب کا موقع دیتا ہے۔ کیا ہم اپنی زبان کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی آئندہ نسل کو اس کی اصل شناخت سے جوڑ رہے ہیں؟

    امید کی کرن موجود ہے۔ حکومتی سطح پر اقدامات، عدالتی فیصلے، اسمبلی کی قراردادیں اور سماجی تحریکیں اس بات کی علامت ہیں کہ شعور بیدار ہو رہا ہے۔ اگر نیت اور پالیسی میں تسلسل رہا تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پنجابی باوقار انداز میں پڑھائی جائے گی، بچے اسے فخر سے بولیں گے اور ماں بولی کو احساسِ کمتری نہیں بلکہ شناخت کی علامت سمجھا جائے گا۔

    ماں بولی کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبانیں مرنے نہیں دی جاتیں، انہیں زندہ رکھا جاتا ہے — شعور سے، محبت سے اور عملی اقدامات سے۔ پنجاب کی دھرتی آج بھی بولنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اسے سننے اور سکھانے کا حوصلہ پیدا کریں۔

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کی 3 اتحادی جماعتوں کے وفاقی وزراء سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی 3 اتحادی جماعتوں کے وفاقی وزراء سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی 3 اتحادی جماعتوں کے وفاقی وزراء سے ملاقات ہوئی ہے

    وزیرداخلہ نے تینوں جماعتوں کے رہنماؤں کو کے پی کے اور بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کیا،وزیرداخلہ محسن نقوی نے تینوں وفاقی وزراء کو قیام امن کیلئے کئے جانے والے اقدامات بارے بھی بتایا ۔سالک حسین، خالد مقبول صدیقی اور خالد مگسی نے قیام امن کیلئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی مخلصانہ کاوشوں کو سراہا ،تینوں رہنماؤں نے دوٹوک اعلان کیا کہ ہماری جماعتیں پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑا رہیں گی۔وفاقی وزراء نے امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر ساتھ چلنے کے عزم کا اعادہ کیا،چاروں وفاقی وزراء نے قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کی دلیرانہ کارروائیوں کو خراج تحسین پیش کیا،

    وفاقی وزراء نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے بہادر سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔

  • ڈی آئی خان، خاتون خود کش حملہ آور گرفتار،دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام

    ڈی آئی خان، خاتون خود کش حملہ آور گرفتار،دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام

    محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) خیبر پختونخواہ، نے ڈیرہ اسماعیل خان شیخ یوسف خیمہ بستی سے خاتون خودکش حملہ آور کو گرفتارکرلیا،

    نوجوان خودکش حملہ آور خاتون کی شناخت مسماۃ (ز) کے نام سے ہوئی، جو وزیرستان کی رہائشی ہے، گرفتار خودکش حملہ آور خاتون ہلاک خارجی شاہ ولی عرف طارق کی دست راست رہی اور اس سے تربیت حاصل کرتی رہی،خودکش حملے کے لیے سامان اور ٹارگٹ خارجی کمانڈر عاصم فراہم کرنے والے تھے،خودکش حملہ آور خاتون نے اعترافی بیان بھی دیا، گرفتار خاتون خودکش حملہ آور کے قبضے سے 30 بور پستول بمعہ کارتوس، موبائل فونز، ٹیبلٹ اور حملے میں استعمال ہونے والا دیگر سامان برآمد ہوا،خاتون کے موبائل فونز سے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے اور خودکش حملے کے لیے رضامندی جیسی معلومات حاصل ہوئیں.

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے۔

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سہیل آفریدی کو 9 مارچ کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیدیا۔سینئر سول جج عباس شاہ نے مقدمے کی سماعت کی، سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

  • بنوں،سکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کا حملہ،لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو جوان شہید

    بنوں،سکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کا حملہ،لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو جوان شہید

    بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کے حملے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہوگئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسزکو خودکش بمبارکی گاڑی کی اطلاع ملی تھی اور خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز علاقے میں آپریشن کررہی تھیں، بنوں میں آپریشن کے دوران خوارج کا سراغ لگا گیا، ایک گاڑی میں سوار خودکش بمبار کو اگلے دستے نے بروقت روک لیا جس پر خوارج نے مایوسی میں بارود سے بھری گاڑی اگلے دستے کی ایک گاڑی سے ٹکرائی، اس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گلفراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوگئے، اس دوران فورسز کے آپریشن میں 5 خوارج بھی مارے گئے اور سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے بنوں کو ایک بڑے سانحہ سے بچا لیا گیا، دہشتگردوں کے بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور اہلکاروں کا نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ ماہ مقدس میں بھی خوارج کی افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردانہ سرگرمیاں جاری ہیں، دہشتگردوں کے ماہ رمضان کے تقدس کے پامال سے واضح ہے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، طالبان حکومت افغان سرزمین کوپاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال سے روکنے میں ناکام ہے پاکستان خوارج کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھے گا، سکیورٹی فورسز کی ’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسدادِ دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے غیرمتزلزل عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

  • 11 ارب کا لگژری طیارہ خرید کر پنجاب حکومت کٹہرے میں،لیگل نوٹس جاری

    11 ارب کا لگژری طیارہ خرید کر پنجاب حکومت کٹہرے میں،لیگل نوٹس جاری

    لاہور: جوڈیشل ایکٹوازم پینل اور ہیومن رائٹس اینڈ پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن ایسوسی ایشن کے سرکردہ وکلاء نے سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ محمد اظہر صدیق کی قیادت میں 21 فروری 2026 کو ایک تفصیلی قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے 11 ارب روپے مالیت کا لگژری طیارہ خریدنے کے اقدام کو چیلنج کر دیا ہے۔

    قانونی نوٹس چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب)، وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری، فنانس سیکریٹری، چیئرمین پی پی آر اے اور اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کو ارسال کیا گیا ہے۔نوٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک لگژری Gulfstream G500 طیارہ (رجسٹریشن نمبر N144SAP-PUN) جنوری 2026 میں مبینہ طور پر صوبائی بیڑے میں شامل کیا گیا، تاہم اس خریداری کا کوئی ریکارڈ پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے لازمی پورٹل یا کسی سرکاری دستاویز میں دستیاب نہیں۔ وکلاء نے اسے عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر نیب ریفرنس دائر کرنے، معاہدہ منسوخ کرنے اور سات روز کے اندر مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ خریداری پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2014 کے قواعد 38، 39 اور 42 کی صریح خلاف ورزی ہے، جن کے تحت اوپن کمپٹیٹو بڈنگ، ٹینڈرنگ، پری کوالیفکیشن اور بڈ ایویلیوایشن لازمی ہے۔ وکلاء کے مطابق نہ تو کسی ٹینڈر کا اجرا ہوا، نہ بڈنگ کا کوئی عمل سامنے آیا اور نہ ہی براہِ راست معاہدے کی کوئی قانونی توجیہ پیش کی گئی۔نوٹس میں اس اقدام کو رول 50 کے تحت “مس پروکیورمنٹ” قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ لین دین آئینی طور پر بھی مشکوک ہے کیونکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 (حقِ زندگی)، آرٹیکل 14 (وقار کا تحفظ)، آرٹیکل 19-اے (حقِ معلومات) اور آرٹیکل 118 (صوبائی فنڈ سے رقوم کے اجراء) کے تقاضوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ عوامی خزانے سے شاہانہ اخراجات اس وقت ناقابل قبول ہیں جب صوبہ مالی بحران، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں کمی کا سامنا کر رہا ہے۔

    حکومتی ذرائع کی جانب سے طیارے کو “ایئر پنجاب” یا ایئر ایمبولینس سروس کے لیے قرار دینے کے مؤقف کو بھی قانونی نوٹس میں مسترد کر دیا گیا ہے۔ وکلاء کے مطابق “ایئر پنجاب” نامی کسی فعال ادارے کا وجود یا آپریشنل ڈھانچہ موجود نہیں، جبکہ جی 500 طیارہ وی آئی پی لگژری کنفیگریشن پر مشتمل ہے جسے طبی مقاصد کے لیے استعمال کرنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ جب پہلے سے ایک فعال سرکاری طیارہ دستیاب تھا تو نئی خریداری بلا جواز ہے۔ نوٹس میں الزام عائد کیا گیا کہ یہ اقدام کابینہ کی بحث، صوبائی اسمبلی کی منظوری اور کسی لاگت و افادیت تجزیے کے بغیر کیا گیا، جس سے قومی خزانے کو مبینہ نقصان پہنچا۔

    قانونی نوٹس میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات دن کے اندر مکمل پروکیورمنٹ فائل کی مصدقہ نقول فراہم کریں، جن میں خریداری کی درخواست، بڈنگ دستاویزات، کابینہ اجلاس کی کارروائی، مالی ادائیگیوں کی تفصیل (بجٹ ہیڈز، ایل سیز، اسٹیٹ بینک منظوری)، معاہدے، ویابیلیٹی اسٹڈی اور سول ایوی ایشن کلیئرنس شامل ہوں۔

    واضح کیا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں لاہور ہائی کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ آف مینڈیمس اور کو وارنٹو کے لیے رجوع کیا جائے گا، معاہدے کو کالعدم قرار دینے، طیارہ گراؤنڈ کرنے، فرانزک آڈٹ کرانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

  • ٹرمپ کے بیان نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا

    ٹرمپ کے بیان نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا

    صدر ٹرمپ کے بیان نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا، بھارت پر یکطرفہ معاشی دباؤ واضح ہے

    تاریخی قرار دیا گیا تجارتی معاہدہ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد بھارتی ناکامی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے،صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا کہ کچھ بھی نہیں بدلا وہ (بھارت) ٹیرف دے رہے ہیں، ہم نہیں دے رہے یہ مکمل الٹ ہے ،صدر ٹرمپ نے واضح کردیا کہ تجارتی معاہدے میں فائدہ صرف امریکہ کو حاصل ہوگا اور بھارت ہی بھاری ٹیرف ادا کرے گا

    واضح رہے کہ 2 فروری 2026 کو صدر ٹرمپ نے مودی کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کیا تھا ،صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان ان حلقوں کے لیے کاری ضرب ہے جو اس معاہدے پر جشن منا رہے تھے،اس سے پہلے بھارت کے لئیے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی میں سخت بیانات معاشی دباؤ مشروط رعایت کے دعوے شامل رہے،مئی 2025 میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ آئی فونز امریکہ میں تیار ہوں گے ورنہ 25 فیصد ٹیرف بھارت پر لگے گا ،جولائی 2025 کو بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا اور بھارتی تجارتی رکاوٹیں دنیا میں سب سے بلند قرار پائیں، اگست 2025 کو روسی تیل کی خریداری پر مزید 25 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا اور بھارت کو dead economy قرار دیا گیا،ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے بھارتی سفارتی بیانیے کو ہلا کر رکھ دیا ہے،اگر معاہدے کے بعد بھی بھارت ہی مالی قیمت ادا کر رہا ہے تو اسے کامیابی کہنا خود فریبی کے مترادف ہے، بھارت کا یہ تجارتی منصوبہ شراکت داری نہیں بلکہ معاشی دباؤ کی بھارتی سفارت کاری ہے،