امریکی اخبار نیویارک پوسٹ سے وابستہ اور وائٹ ہاؤس کوریج پر مامور امریکی صحافی کیٹلِن ڈورنبوس نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بہت فرسٹریشن ہے، ہر کوئی منتظر ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو، دونوں ممالک امریکا اور ایران اس بات کے لیے تیار ہیں کہ جنگ ختم ہو لیکن ہمیں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں کیٹلن نے کہاکہ وائٹ ہاؤس اس معاملے میں آگے بڑھ رہا ہے اور حال ہی میں امریکا نے نئے مشن کا اعلان کیا ہے جسے ’پراجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کا اس تنازعے سے تعلق تو نہیں لیکن اس کا فوکس آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر ہے، اُمید ہے ہم اس کے بارے میں کچھ پیش رفت دیکھیں گے اِس موقع پر یا مستقبل قریب میں مجھے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی کوئی توقع نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ امن جلد قائم نہیں ہو گا بلکہ چیزیں مختلف طریقے سے ہوں گی جس طرح سے واقعات ارتقائی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
مذاکرات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یقیناً سب سے بڑی چیز جو مذاکراتی عمل نے حاصل کی ہے وہ جنگ بندی ہے اب ہم ایک دوسرے پر بمبار ی نہیں کررہے، ہم نسبتاً کسی حد تک امن قائم رکھے ہوئے ہیں، جنگ بندی پہلے ہی ہو چکی ہے اور صدر ٹرمپ دو ہفتے قبل کہہ چکے ہیں کہ جنگ بندی قائم رہے گی اور اِس کی کوئی آخری تاریخ نہیں لیکن جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔
ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں امریکی عوام کی رائے کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میرے لے عام آدمی کی بات کرنا خاصا مشکل ہے کیونکہ عام لوگوں کی رائے مختلف ہے کچھ لوگ جنگ کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ لوگ جنگ کے خلاف ہیں، جبکہ کچھ لوگ جنگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اور ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پریشان ہے-
کیٹلِن ڈورنبوس نے کہاکہ پاکستان بطور ثالث اب بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور یہ کردار کتنا مؤثر ہے یقیناً پاکستان کو اب بھی ایک بہت اہم کردار نبھانا ہے، پاکستان وہ ثالث ہے جو دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کررہا ہے امریکا اور ایران براہ راست تو بات چیت نہیں کررہے بلکہ پاکستان کے ذریعے بات چیت کررہے ہیں اور یہ کردار مستقبل میں جاری رہے گا، خاص طور پر ایسے حالات میں جب ہم ایک دوسرے پر بمباری نہیں کر رہے ہوں گے۔
کیٹلِن ڈورنبوس نے کہاکہ میں نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران لوگوں کے کھلے بازو دیکھے، اچھی میزبانی کا تجربہ کیا، لوگوں کی فیاضی اور گرم جوشی دیکھی، اور یہ دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ پاکستان بین الاقوامی معاملات میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ پاکستانیوں کی اچھی فطرت ہے،’یہ بہت ہی خوشگوار تجربہ تھا اور میں نے ہر چیز کا لطف لیا خواہ وہ لوگوں کے ساتھ مِلنا جلنا ہو یا یہاں کی ثقافت کے بارے میں جاننا اور یہ میری توقعات سے کہیں بڑھ کے تجربہ تھا میرا خیال ہے میں جلد پاکستان واپس آؤں گی، غالباً چھٹیاں گزارنے، شاید اِسی سال آؤں کیونکہ میرا پہلا دورہ بہت شاندار رہا۔
