Baaghi TV

Blog

  • سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے نصب فائر وال منصوبہ ناکام

    سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے نصب فائر وال منصوبہ ناکام

    سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے نصب فائر وال منصوبہ ناکام ہوگیا، حکومت نے فائیو 5 اسپیکٹرم کی نیلامی سے پہلے فائروال مستقل طور پر بند کردی۔

    سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فائروال منصوبہ ناکام ہونے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا، یہ فائر وال 2024ء میں نصب کی گئی تھی۔نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے سوشل میڈیا کی نگرانی کیلئے لگائی گئی فائر وال بند کردی، تکنیکی مسائل سے فائر وال ٹیلی کام انفراسٹرکچر سے ہم آہنگ نہ ہوسکی۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ فائروال کے مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر مستقل بند کرنا پڑی، فائر وال کی وجہ سے انٹرنیٹ سست، لاکھوں فری لانسرز، ہزاروں کمپنیوں کی ڈیجیٹل سروسز متاثر ہوئی تھیں۔ماہرین نے آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے فائر وال بند کرنے کی سفارش کی تھی، فائر وال کی بندش پر وزارت آئی ٹی نے مؤقف دینے سے گریز کیا۔

  • بحرالکاہل میں امریکی فوج کی کارروائی، منشیات اسمگلنگ میں ملوث کشتی تباہ

    بحرالکاہل میں امریکی فوج کی کارروائی، منشیات اسمگلنگ میں ملوث کشتی تباہ

    بحرالکاہل کے کھلے سمندر میں امریکی فوج نے منشیات اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ایک اور کشتی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ کارروائی کو خطے میں جاری انسدادِ منشیات آپریشنز کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    امریکی سدرن کمانڈ کے جاری بیان کے مطابق یہ آپریشن جوائنٹ ٹاسک فورس “ساؤدرن اسپیئر” نے انجام دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائی جانے والی کشتی نامزد دہشت گرد تنظیموں کے زیرِ استعمال تھی اور اسے منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس کا مقصد خطے میں منظم جرائم اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت کے ذرائع کو ختم کرنا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کشتی کو وارننگ دینے کے بعد کارروائی کی گئی، تاہم اس دوران جھڑپ کے نتیجے میں تین افراد مارے گئے۔

    واضح رہے کہ امریکی فوج نے ستمبر 2025ء سے بحرالکاہل اور لاطینی امریکی سمندری راستوں پر مبینہ اسمگلنگ کشتیوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد منشیات کی عالمی ترسیل کو روکنا اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی سپلائی لائن کو توڑنا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ان امریکی حملوں میں تقریباً 150 افراد ہلاک جبکہ درجنوں کشتیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے ان کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ امریکی حکام ان اقدامات کو بین الاقوامی سلامتی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔

  • ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا،عدالت

    ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا اقدام قتل کیس میں بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں عدالت نے اقدامِ قتل کے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کردی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین نے اقدامِ قتل کے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کی، ملزم پر مدعی کی اہلیہ اور بیٹے پر فائرنگ کرکے انہیں زخمی کرنے کا الزام ہے،عدالت نے کہا کہ ایک بار ٹریگر دبا دیا جائے اور نشانہ لگ جائےتو ملزم کا ارادہ واضح ہو جاتا ہے، ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا، دستیاب شواہد اور جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم ضمانت کی رعایت کا حقدار نہیں،ریکارڈ کے مطابق مدعیہ کے بیٹے کو اس واقعے کے دوران 3گولیاں لگیں، دورانِ تفتیش ملزم سے وارادت میں استعمال پستول بھی برآمد کر لیا گیا، زخمیوں کو پہلے اسپتال منتقل کرنا ایک قدرتی عمل ہے، چند گھنٹوں کی تاخیر سےکیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا، گولی کا رخ حملہ آور کے اختیار میں نہیں ہوتا، پولیس فائل کے مطابق ملزم فواد کے خلاف پہلے بھی 4 دیگر مقدمات درج ہیں،ریکارڈ پر موجود مواد ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیےکافی ہے، وہ ضمانت کا حقدار نہیں، یہ مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں ٹرائل کورٹ میرٹ پر فیصلہ کرتے وقت ان سے متاثر نہ ہو۔

  • امریکہ اور ایران: جنگ کی آہٹ یا سفارت کی ضرورت؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ اور ایران: جنگ کی آہٹ یا سفارت کی ضرورت؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی دہائیوں پر محیط ہے۔ کبھی جوہری پروگرام کا معاملہ، کبھی مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی جنگ، اور کبھی اسرائیل سے وابستہ تنازعات،یہ سب عوامل دونوں ممالک کو بارہا آمنے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی امریکہ ایران پر حملہ کرے گا؟ اور اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

    حقیقت یہ ہے کہ مکمل اور ہمہ گیر جنگ کا امکان کم ضرور ہے، مگر خطرہ بہرحال موجود رہتا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ ایران کوئی کمزور ملک نہیں۔ اس کے پاس میزائل صلاحیت موجود ہے، خطے میں اس کے اتحادی گروہ ہیں، اور آبنائے ہرمز جیسے حساس مقام پر اس کا جغرافیائی اثر نمایاں ہے۔ دوسری طرف ایران بھی سمجھتا ہے کہ براہِ راست جنگ اس کی معیشت اور داخلی استحکام کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اسی لیے دونوں ممالک عمومی طور پر براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہیں، مگر محدود کارروائیاں یا پراکسی محاذ آرائی کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتی ہے۔

    اگر خدانخواستہ جنگ شروع ہوتی ہے تو سب سے پہلے خلیجی خطہ متاثر ہوگا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک، جہاں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات موجود ہیں، دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے۔عراق، شام اور لبنان جیسے ممالک پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ ایران کے اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ ممالک ممکنہ پراکسی جنگ کا میدان بن سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں دہشت گردی، خانہ جنگی اور سیاسی افراتفری میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

    ایران کے پڑوسی ممالک بھی اس صورت حال سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ پاکستان کو سرحدی کشیدگی، مہاجرین کے ممکنہ دباؤ اور سفارتی توازن کے نازک مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ترکی اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کریں گی، مگر معاشی اثرات سے بچنا آسان نہیں ہوگا۔عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت کو سست روی کا شکار کر سکتا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت صف بندی کریں گی، جس سے عالمی سیاست میں نئی تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔

    لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی بدامنی اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایک اور جنگ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مسئلے کا حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہے۔

  • دو ایرانی شہری پاکستان میں دراندازی کی کوشش کے دوران گرفتار

    دو ایرانی شہری پاکستان میں دراندازی کی کوشش کے دوران گرفتار

    پنجگور: پنجگور کے سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پاکستان اور ایران کی سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ حکام کے مطابق دو مشتبہ افراد کو جلیل شہید نالہ کے قریب سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مشتبہ افراد کو سرحدی حدود میں نقل و حرکت کرتے دیکھا گیا جس پر فوری طور پر کوئیک ری ایکشن فورس کو الرٹ کیا گیا۔ فورس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا گھیراؤ کیا اور دونوں افراد کو حراست میں لے لیا۔گرفتار افراد کی شناخت ذوالفقار اور شہر ام کے نام سے ہوئی ہے، جو ایران کے علاقے گشتگان کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے ایرانی شناختی کارڈ،ایرانی سم کارڈز کے ساتھ دو موبائل فون،دو چاقو،ایرانی کرنسی،آئس اور آئس بنانے کا سامان ملا ہے،ابتدائی تفتیش کے دوران دونوں افراد سے سرحد عبور کرنے کے مقصد سے متعلق پوچھ گچھ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ دراندازی کسی منظم نیٹ ورک کا حصہ تھی یا انفرادی کوشش۔

    سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • پاکستان کی سرحدی بندش سے افغانستان میں مہنگائی کا طوفان

    پاکستان کی سرحدی بندش سے افغانستان میں مہنگائی کا طوفان

    کابل: پاکستان کی جانب سے سرحدی گزرگاہوں کی عارضی بندش کے بعد افغانستان میں اشیائے خورونوش اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    تاجروں اور مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ چند ہی دنوں میں آٹا، چینی، گھی، دالیں اور سبزیوں کی قیمتیں دوگنی رفتار سے بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی راستے خصوصاً طورخم بارڈر اور چمن بارڈر بند ہونے سے درآمدی اشیاء کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ افغانستان اپنی خوراک اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کے لیے بڑی حد تک پاکستان پر انحصار کرتا ہے، اور سرحدی بندش کے باعث سپلائی چین میں خلل پیدا ہونے سے مارکیٹوں میں قلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ مال نہ پہنچنے کے باعث ذخیرہ اندوزی کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مصنوعی مہنگائی کو تقویت مل رہی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خوراک کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ خاص طور پر دیہی اور سرحدی علاقوں میں جہاں پہلے ہی غربت کی شرح بلند ہے، وہاں انسانی بحران کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

  • فیصل آباد میں کیفے کی خاتون مالک پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار

    فیصل آباد میں کیفے کی خاتون مالک پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار

    فیصل آباد میں کیفے کی خاتون مالک پر تشدد کرنے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، جبکہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی ہے جس میں ملزم کو کیفے میں داخل ہوکر خاتون کو ہراساں اور تشدد کا نشانہ بناتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزم مدثر نے کیفے کی مالک مریم کو مبینہ طور پر کاروباری پارٹنرشپ کی پیشکش کی تھی۔ خاتون کی جانب سے انکار کرنے پر ملزم طیش میں آگیا اور کیفے میں گھس کر نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ خاتون پر تشدد بھی کیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت کیفے میں دیگر افراد بھی موجود تھے جنہوں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی، تاہم ملزم مشتعل حالت میں خاتون کو ہراساں کرتا رہا۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاتون نے پولیس کو اطلاع دی جس پر فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے حراست میں لے لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اور متاثرہ خاتون کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی واقعے کی شدید مذمت کی جارہی ہے اور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ملزم کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ خواتین کاروباری شخصیات کو تحفظ کا احساس دلایا جاسکے۔پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہراسانی یا تشدد کی صورت میں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جاسکے۔

  • ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طورپر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا

    ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طورپر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طورپر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا، صدر نے اس حوالے سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطا بق 150 دن کےلیےامریکا درآمد ہونے والی اشیا پر 10فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی، بعض اشیا اس عارضی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی،مستثنیٰ اشیا میں معدنیات،کھاد، دھاتیں اور توانائی کی آلات شامل ہیں۔ زرعی مصنوعات، ادویات اور ادویات کا خام مال بھی درآمدی ڈیوٹی سے متثنیٰ ہوگا، نئی ڈیوٹی کا اطلاق امریکا میکسیکو کینیڈا معاہدے پر نہیں ہوگا۔

    اس سے پہلے امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تھا، عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت یہ ٹیرف لگائے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا، قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔.ٹرمپ نے عدالتی فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت کے چند مخصوص ممبران پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے، فیصلے سے دنیا خوش ہوگی مگر اس کی خوشی زیادہ دیر نہیں رہے گی ، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا،ٹرمپ نےفیصلہ مایوس کن قرار دیتے ہوئے ساری دنیا پر 10فیصد ٹیرف لگا نے کا اعلان کیا تھا۔

  • افغان باشندوں بارے ضلعی انتظامیہ نے عوام کے نام اہم وارننگ جاری کر دی

    افغان باشندوں بارے ضلعی انتظامیہ نے عوام کے نام اہم وارننگ جاری کر دی

    قصور
    ضلعی انتظامیہ قصور نے ضلع بھر کے شہریوں کے نام اہم وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ داخلہ کی ہدایت کی روشنی میں حکومتی پالیسی کے تحت غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے
    ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی افغان شہری کو مکان، دکان یا دیگر جگہ کرائے پر دینے سے گریز کریں بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی
    انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات حکومتی ہدایات کی روشنی میں کئے جا رہے ہیں تاکہ غیر قانونی رہائش اور کاروباری سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے
    حکام نے واضح کیا ہے کہ مکان مالکان، دکاندار اور پراپرٹی ڈیلرز کرایہ داری سے قبل مکمل کوائف اور قانونی حیثیت کی جانچ ضرور کریں
    ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون پر عمل درآمد میں مکمل تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں
    کسی بھی مشتبہ افغان شہری و خاندان کی اطلاع ریسکیو 15 پر قصور پولیس کو دیں
    آپکی شناخت صیغہ راز میں رکھی جائے گی

  • سندھ صوفیوں کی دھرتی ، امن اور محبت کی سرزمین ہے،شرجیل میمن

    سندھ صوفیوں کی دھرتی ، امن اور محبت کی سرزمین ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے، امن اور محبت کی سرزمین ہے، اور اس خطے نے ہمیشہ فراخ دلی اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے۔

    سندھ اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند روز قبل کراچی میں گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں جس انداز سے الفاظ اور خیالات کا انتخاب کیا گیا، وہ نہایت افسوسناک تھا۔ اس تقریب میں مقررین کی جانب سے نفرت انگیز اور لسانی تعصب پر مبنی گفتگو کی گئی، جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی ایک ایسا شہر ہے جو ماضی میں نفرت، تعصب اور لسانی کشیدگی کے تلخ تجربات سے گزر چکا ہے، اور ایسی گفتگو نے پہلے بھی اس شہر کو شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے حالات میں اس نوعیت کے بیانات دینا شہر کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس تقریب میں نہ صرف نفرت اور تعصب پر مبنی باتیں کی گئیں بلکہ بعض ریاستی اداروں پر بھی نامناسب تنقید کی گئی۔ گورنر ہاؤس جیسے آئینی اور باوقار ادارے میں اس طرح کی گفتگو نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی اداروں کے وقار اور شہری ہم آہنگی کے لیے محفوظ۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایسے مقامات پر بیٹھ کر تعصب پر مبنی پیغامات دینا دراصل اسی ماحول کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے جسے کراچی پہلے ہی دیکھ اور بھگت چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طرزِ اظہار کی کسی صورت گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ تقریب اور اس میں کی گئی گفتگو شہر کے امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف تھی، اور آج ایم کیو ایم کے ایک منتخب نمائندے کی جانب سے ایم کیو ایم کے دوسرے نمائندے کے لئے اس نوعیت کے بیان کا سامنے آنا مزید تشویش کا باعث ہے۔