نیویارک میں جاری عالمی کشیدگی اور مہنگائی کے دباؤ کے باوجود امریکی اسٹاک مارکیٹس نے حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی۔ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہا اور اہم انڈیکس ایس اینڈ پی 500 نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی توجہ جنگی حالات کے بجائے کمپنیوں کے مالی نتائج اور منافع پر مرکوز رہی۔ بڑی امریکی کمپنیوں کی جانب سے متوقع سے بہتر کارکردگی نے مارکیٹ کو سہارا دیا، جس کے باعث ابتدائی خدشات کے باوجود مارکیٹ تیزی کی جانب گامزن رہی۔
ماہرین کے مطابق ایران سے متعلق کشیدگی کے آغاز پر مارکیٹ میں وقتی اتار چڑھاؤ ضرور آیا، تاہم جلد ہی صورتحال بہتر ہو گئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ کارپوریٹ سیکٹر کی مضبوط بنیادیں اور منافع میں اضافے کی توقعات ہیں، جنہیں تقریباً 14 فیصد تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جو عام طور پر معیشت کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود وال اسٹریٹ پر اس کے منفی اثرات نمایاں نہیں ہوئے۔ سرمایہ کاروں نے اس صورتحال کو عارضی سمجھتے ہوئے اپنی توجہ طویل المدتی فوائد پر مرکوز رکھی۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقع نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا۔ کم شرح سود سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے، جس سے مارکیٹ میں پیسہ آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
وال اسٹریٹ میں خوف کی فضا کم ہونے کے بعد سرمایہ کاری میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بڑے سرمایہ کار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مضبوط کارپوریٹ نظام کسی بھی عالمی بحران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Blog
-

ایران کشیدگی کے باوجود امریکی اسٹاک مارکیٹ نئی بلندی پر
-

سونے کی قیمت 5 لاکھ سے نیچے، چاندی بھی سستی
پاکستان میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی کے بعد ایک بار پھر فی تولہ نرخ 5 لاکھ روپے سے نیچے آ گئے ہیں، جبکہ چاندی کی قیمت میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں گراوٹ کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں تک پہنچے جس کے باعث سرمایہ کاروں اور خریداروں کے لیے بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔
صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونا 5 ہزار 200 روپے سستا ہونے کے بعد 4 لاکھ 93 ہزار 762 روپے کی سطح پر آ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 4 ہزار 458 روپے کی کمی ہوئی ہے، جس کے بعد یہ 4 لاکھ 23 ہزار 321 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں فی اونس قیمت 52 ڈالر کم ہو کر 4 ہزار 714 ڈالر تک آ گئی۔ عالمی سطح پر قیمتوں میں اس کمی نے براہ راست پاکستانی مارکیٹ کو متاثر کیا اور مقامی نرخوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت میں بھی کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ فی تولہ چاندی 225 روپے سستی ہو کر 8 ہزار 99 روپے کی سطح پر آ گئی ہے، جو حالیہ دنوں میں ایک نمایاں کمی سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب مہنگائی، سیاسی غیر یقینی صورتحال یا عالمی کشیدگی میں اضافہ ہو۔ تاہم حالیہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر طلب اور رسد میں تبدیلی اور مالیاتی پالیسیوں کے اثرات قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ -

ایلون مسک کا بڑا قدم، پاکستانی نژاد شریک بانی والی کمپنی خریدنے کا منصوبہ
دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اے آئی کوڈ جنریشن اسٹارٹ اپ “کرسر” کو خریدنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کی مالیت تقریباً 60 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے، جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اس خبر کی خاص بات یہ ہے کہ اس کمپنی کے شریک بانیوں میں ایک پاکستانی نژاد نوجوان صالح آصف بھی شامل ہیں، جس پر پاکستانی ٹیک کمیونٹی میں خوشی اور فخر کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کرسر ان چند نمایاں امریکی کمپنیوں میں شامل ہے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے کوڈنگ کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے پر کام کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرسر نے کمپنی کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ رواں سال کسی بھی وقت اسے 60 ارب ڈالر میں خرید سکتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ خریداری مکمل نہ ہو سکی تو اسپیس ایکس کرسر کے ساتھ شراکت داری کے لیے 10 ارب ڈالر ادا کرے گی۔
کمپنی کے مطابق اس اشتراک کا مقصد کرسر کی جدید سافٹ ویئر انجنیئرنگ صلاحیتوں کو اسپیس ایکس کے طاقتور سپر کمپیوٹرز کے ساتھ ملا کر ایسے جدید اے آئی ماڈلز تیار کرنا ہے جو دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں انقلاب لا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ معاہدہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں مسابقت کو مزید تیز کرے گا، جہاں پہلے ہی اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی کمپنیاں سرگرم ہیں۔ کرسر کی شمولیت اس دوڑ میں ایک نئی جہت پیدا کر سکتی ہے۔ -

امریکی فوج نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ایک اور جہاز کو قبضے میں لے لیا۔
امریکی فوج نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ایک اور بحری جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی بحرِ ہند میں کی گئی جہاں “میجسٹک ایکس” نامی جہاز ایران سے تیل لے کر جا رہا تھا۔
پینٹاگون کے مطابق اس جہاز نے بین الاقوامی پابندیوں اور بحری ضوابط کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد امریکی بحریہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے روک کر قبضے میں لے لیا۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں امریکی اہلکاروں کو جہاز پر چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی سطح پر بحری قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی سمندری حدود کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے اقدامات کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک اور مظہر ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے اس واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تہران اس نوعیت کی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن، ایک نازک توازن. تجزیہ: شہزاد قریشی
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں فضا میں بارود کی بو تو ہے، مگر گولیاں ابھی پوری طرح چل نہیں رہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ صورتحال کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہی ہے: نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن۔
یہ ایک عجیب اور پیچیدہ کیفیت ہے۔ ایک طرف بیانات کی سختی، پابندیوں کا دباؤ، اور خطے میں طاقت کے مظاہرے جاری ہیں، تو دوسری طرف پسِ پردہ سفارتکاری بھی خاموشی سے اپنا کام کر رہی ہے۔ دونوں ممالک بظاہر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ کھلی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔
امریکہ، جو پہلے ہی عالمی سطح پر کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے، ایک نئی بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دوسری جانب ایران، جس کی معیشت پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، ایک طویل اور تباہ کن جنگ کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی کے باوجود ایک غیر مرئی حد قائم ہے جسے عبور کرنے سے دونوں فریق گریز کر رہے ہیں۔
یہ صورتحال دراصل “کنٹرولڈ ٹینشن” کی مثال ہے—یعنی کشیدگی کو اس حد تک برقرار رکھا جائے کہ سیاسی اور سفارتی مقاصد حاصل کیے جا سکیں، مگر وہ جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ اس کھیل میں پراکسیز، سفارتی دباؤ، اور عالمی ثالثی سب اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
دنیا کی بے چینی بھی اسی تضاد کا نتیجہ ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی نازک حالت میں ہے، توانائی کی منڈیاں غیر یقینی کا شکار ہیں، اور کسی بھی لمحے ایک چھوٹا سا واقعہ بڑے بحران میں بدل سکتا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے عالمی برادری کو مسلسل اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اصل جنگ میدان میں نہیں بلکہ سفارتی میزوں پر لڑی جا رہی ہے۔ دباؤ، مذاکرات، اور مفادات کا یہ پیچیدہ جال ایک ایسے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہے جو بظاہر مستحکم دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے نہایت کمزور ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ توازن برقرار بھی رہ سکتا ہے اور کسی اچانک واقعے سے ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ تاہم موجودہ شواہد یہی بتاتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کے کنارے کھڑے ہو کر بھی اس میں چھلانگ لگانے سے گریزاں ہیں۔
یہی اس دور کی سب سے بڑی حقیقت ہے:
جنگ کا خطرہ موجود ہے، مگر امن کی کوشش بھی جاری ہے—اور دنیا اسی درمیانی کیفیت میں سانس لے رہی ہے۔ -

چمن میں کانگو وائرس کا کیس، محکمہ صحت الرٹ
چمن کے علاقے کلی حسن ٹھیکیدار میں کانگو وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے فوری الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق 11 سالہ بچی فرشتہ میں خطرناک وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں، جس کے بعد اسے فوری طور پر فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جہاں اسے خصوصی طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ مویشیوں کے ذریعے ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے بعد علاقے میں احتیاطی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔
علاقے میں خبر پھیلتے ہی شہریوں میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ فوری طور پر متحرک ہو اور مویشی منڈیوں سمیت متاثرہ علاقوں میں جراثیم کش اسپرے کیا جائے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب سندھ میں بھی کانگو وائرس سے ایک افسوسناک واقعہ رپورٹ ہوا جہاں 17 سالہ نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ نوجوان سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال میں زیر علاج تھا اور اس میں گزشتہ روز وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ نوجوان مویشیوں کی دیکھ بھال سے وابستہ تھا، جہاں سے وائرس منتقل ہونے کا امکان ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کانگو وائرس عموماً چیچڑی کے کاٹنے یا متاثرہ جانور کے خون کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جو بعد ازاں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ عیدِ قربان کے قریب آتے ہی اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ -

آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل جاری: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل جاری ہے اور امریکی بحریہ اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ امریکی مائن سویپرز اس وقت آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے میں مصروف ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جو بھی کشتی بارودی سرنگیں بچھانے یا بجھانے کی کوشش کرے گی، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی افواج کو اس حوالے سے کارروائی کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہے تاکہ عالمی بحری راستے کو محفوظ رکھا جا سکے۔
امریکی صدر کے مطابق ایرانی کشتیاں اس علاقے میں بارودی سرنگیں بچھانے میں ملوث ہیں، جس کے بعد امریکا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب تک ایران کے 159 بحری جہازوں کو سمندر میں تباہ کیا جا چکا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تہران اس نوعیت کے دعوؤں کو مسترد کرتا رہا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال نہایت حساس ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت حالات مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ -

خانیوال میں ڈکیتی کی واردات، مزاحمت پر ماں اور بیٹا قتل
خانیوال میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح ملزمان نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کرکے ماں اور بیٹے کو قتل کردیا۔ افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ خانیوال کے نواحی علاقے میں پیش آیا جہاں ملزمان رات کے وقت ایک گھر میں داخل ہوئے اور اہل خانہ کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران گھر کے افراد نے مزاحمت کی جس پر ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ماں اور اس کا بیٹا موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو متعدد گولیاں لگی تھیں جس کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واردات ڈکیتی کی نیت سے کی گئی تاہم دیگر پہلوؤں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی وارداتوں نے لوگوں کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ -

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے پہلا ٹول وصول
ایران کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حمیدرضا حاجی بابائی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد ٹول سے حاصل ہونے والی پہلی آمدنی مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ یہ رقم کس طریقے سے وصول کی گئی یا کن ممالک نے ادائیگی کی۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ اس پیش رفت نے عالمی سطح پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ جنگ بندی سے قبل ایران نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کو صرف ان ممالک تک محدود کیا جائے گا جنہیں وہ اپنے دوست ممالک قرار دیتا ہے۔ اسی دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں سے فیس یا ٹول وصول کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کی کوئی واضح شرح یا طریقہ کار سامنے نہیں آیا تھا۔
دوسری جانب ایران کے ایک اور سینیئر رکن پارلیمنٹ علی رضا سلیمی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جہازوں سے فیس وصول کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ہر جہاز سے لی جانے والی رقم کارگو کی نوعیت، مقدار اور خطرے کی سطح کے مطابق مختلف ہوتی ہے، اور اس کا فیصلہ ایران خود کرتا ہے۔
اس معاملے پر ماضی میں بھی مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ ایران فی جہاز دو ملین ڈالر تک فیس وصول کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ عالمی تجارت پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور دیگر سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔ -

خیبرپختونخوا جیل محکمہ میں پہلی بار خواجہ سرا افراد کی بھرتی
خیبرپختونخوا میں پہلی بار دو خواجہ سرا افراد کو جیل محکمہ میں بطور وارڈر بھرتی کر لیا گیا ہے، جو صوبے کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلال (عرف سوبیہ خان) اور زوہیب احمد نے تمام مراحل کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے اپنی نشستیں حاصل کیں۔ دونوں امیدواروں نے جسمانی ٹیسٹ، تحریری امتحان اور انٹرویو کے مراحل عبور کیے، جس کے بعد انہیں میرٹ پر منتخب کیا گیا۔
محکمہ جیل حکام کے مطابق خواجہ سرا افراد کے لیے 18 نشستیں مختص کی گئی تھیں، تاہم صرف دو افراد نے درخواست دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ کمیونٹی میں سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے آگاہی کی کمی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایک تقریب کے دوران دونوں امیدواروں کو تقرری کے خطوط دیے۔ اس موقع پر حکام نے واضح کیا کہ بھرتی کا عمل مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا اور دونوں امیدوار تمام معیار پر پورا اترے۔
سوبیہ خان کو سنٹرل جیل پشاور کے خواتین سیکشن میں تعینات کیا گیا ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات ریحان گل خٹک نے کہا کہ محکمہ افراد کو ان کی صلاحیت کی بنیاد پر بھرتی کرتا ہے، نہ کہ ان کی شناخت کی بنیاد پر۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں نئے بھرتی ہونے والے افراد جیل کے ماحول کو مزید پیشہ ورانہ اور انسان دوست بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ٹرانسجینڈر رائٹس نیٹ ورک کی فرزانہ جان نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون اس وقت حقیقی انصاف بنتا ہے جب وہ لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے۔ انہوں نے دیگر اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ اس مثال کی پیروی کریں۔