ایران کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حمیدرضا حاجی بابائی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد ٹول سے حاصل ہونے والی پہلی آمدنی مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ یہ رقم کس طریقے سے وصول کی گئی یا کن ممالک نے ادائیگی کی۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ اس پیش رفت نے عالمی سطح پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ جنگ بندی سے قبل ایران نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کو صرف ان ممالک تک محدود کیا جائے گا جنہیں وہ اپنے دوست ممالک قرار دیتا ہے۔ اسی دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں سے فیس یا ٹول وصول کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کی کوئی واضح شرح یا طریقہ کار سامنے نہیں آیا تھا۔
دوسری جانب ایران کے ایک اور سینیئر رکن پارلیمنٹ علی رضا سلیمی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جہازوں سے فیس وصول کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ہر جہاز سے لی جانے والی رقم کارگو کی نوعیت، مقدار اور خطرے کی سطح کے مطابق مختلف ہوتی ہے، اور اس کا فیصلہ ایران خود کرتا ہے۔
اس معاملے پر ماضی میں بھی مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ ایران فی جہاز دو ملین ڈالر تک فیس وصول کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ عالمی تجارت پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور دیگر سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے پہلا ٹول وصول
