Baaghi TV

Blog

  • ڈویلپمنٹ پروگرام پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مشکور ہوں،خواجہ سعد رفیق

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پارٹی میں نام مختلف ضرور ہیں مگر سب ایک فرد کی طرح کام کرتے ہیں اور وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ڈویلپمنٹ پروگرام پر ان کے شکر گزار ہیں۔

    خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بننے پر انہیں کچھ تحفظات تھے جس کے باعث وہ ٹیم کا حصہ نہیں بنے، تاہم شہباز شریف کی محنت قابلِ ستائش ہے جنہوں نے دن رات ایک کیا اس وقت حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں اور سیاسی و عسکری قیادت نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، اگرچہ بعد میں آئی ایم ایف پروگرام اور مہنگائی جیسے چیلنجز بھی سامنے آئے جبکہ سیلاب جیسی آفات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    انہوں نےالزام عائد کیا کہ پہلگام واقعےکو بنیاد بنا کر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، تاہم پاکستان کی افواج اور فضائیہ نے بھرپور جواب دے کر اپنی صلا حیتیں دنیا پر واضح کیں،آج عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر ابھر رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ شہباز شریف اور دیگر قیادت عالمی تنازعات میں کردار ادا کریں۔

    انہیوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں، غزہ میں ہونے والے مظالم نے دنیا کو جھنجھوڑ دیا ہے اور یہ حالات ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد بن رہے ہیں جبکہ ایران کی مزاحمت کو بھی سراہا عالمی سطح پر بڑی طاقتیں جیسے چین اور روس بھی اس عمل کا حصہ ہیں اور امید ہے کہ خطے میں امن قائم ہوگا جبکہ مسلم دنیا اب بیدار ہو رہی ہے۔

  • ایرانی حملوں میں تل ابیب کے ہزار سے زائد اپارٹمنٹس  تباہ

    ایرانی حملوں میں تل ابیب کے ہزار سے زائد اپارٹمنٹس تباہ

    اسرائیلی شہر تل ابیب کے میئر رون ہلڈائی نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہر کے ایک ہزار سے زائد اپارٹمنٹس رہائش کے قابل نہیں رہے ہیں-

    تل ابیب کے میئر رون ہلڈائی نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا ہے کہ ایرانی حملوں کے باعث شہر کے ایک ہزار سے زیادہ اپارٹمنٹس شدید نقصان کا شکار ہو چکے ہیں اور اب ان میں رہائش ممکن نہیں رہی ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے شہری انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے بعد متعدد عمارتوں کو خالی کرایا گیا ہے۔

    اس سے قبل رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں کم از کم 26 اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ 2600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، دوسر ی جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 3,468 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • ایران جوہری تنازع: اصل کشمکش یورینیم پر، آبنائے ہرمز ثانوی دباؤ کا ہتھیار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    ایران جوہری تنازع: اصل کشمکش یورینیم پر، آبنائے ہرمز ثانوی دباؤ کا ہتھیار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی کشیدگی: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اعتماد کا بحران
    ممکنہ معاہدہ یا قیاس آرائیاں؟ آنے والے دن عالمی سیاست کے لیے فیصلہ کن مرحلہ
    تجزیہ شہزاد قریشی
    مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سطحی خبروں سے ہٹ کر اصل محرکات کا جائزہ لیا جائے۔ بظاہر توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے اور جس کے بارے میں وقتاً فوقتاً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ایران اسے بند یا کھول کر عالمی دباؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ جتنا نمایاں دکھائی دیتا ہے، اتنا سادہ نہیں۔ اس راستے کی کسی بھی ممکنہ بندش یا کشیدگی کا فوری ردعمل عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کی جانب سے سامنے آتا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ مکمل طور پر ایران کے یکطرفہ کنٹرول میں نہیں رہتا۔

    اصل اور بنیادی تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ ایران کی حکمت عملی اس کے سیکیورٹی خدشات کے گرد گھومتی ہے، خاص طور پر اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ اقدامات کے تناظر میں۔ ایران یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ یورینیم افزودگی کے معاملے میں مکمل لچک دکھاتا ہے یا کسی سخت معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو اس کی دفاعی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ میں سیاسی تبدیلیاں—مثلاً انتخابات—اس کی پالیسیوں کو مزید غیر یقینی بنا سکتی ہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود رکھا جائے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہے اور ایٹمی پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ یہی بنیادی تضاد کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
    اس تناظر میں مختلف تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ آنے والے دن—خاص طور پر منگل، بدھ اور جمعرات—اہم ثابت ہو سکتے ہیں اور کسی ممکنہ پیش رفت یا معاہدے کی صورت سامنے آ سکتی ہے۔ بعض اطلاعات میں یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پس پردہ سفارتکاری کے نتیجے میں کوئی فریم ورک تیار ہو رہا ہے، جس میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو اعلیٰ سطحی امریکی شخصیات، حتیٰ کہ صدر، مختصر دورے پر آ کر اس کی توثیق کر سکتے ہیں۔

    تاہم تاریخی اور سفارتی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو ایسے بڑے معاہدے عموماً طویل مذاکرات کے بعد طے پاتے ہیں اور ان کے لیے مخصوص سفارتی مراکز کا انتخاب کیا جاتا ہے، جیسا کہ Joint Comprehensive Plan of Action کے دوران دیکھا گیا۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اگرچہ پیش رفت ممکن ہے، لیکن چند دنوں میں کسی حتمی اور بڑے معاہدے تک پہنچنا ایک مشکل اور کم امکان والا عمل ہے۔ پاکستان یا کسی اور ملک کا کردار ثالثی یا سہولت کاری تک ہو سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ بحران کی جڑیں گہری اسٹریٹیجک بے اعتمادی میں پیوست ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک اہم دباؤ کا ذریعہ ضرور ہے، مگر اصل فیصلہ کن عنصر ایران کا جوہری پروگرام اور اس پر عالمی طاقتوں کا ردعمل ہے۔ آنے والے دن اہم ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن کسی بھی نتیجے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے محتاط اور حقیقت پسندانہ تجزیہ ہی زیادہ مناسب ہوگا۔

  • ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا،ایرانی صدر

    ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا-

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا ہے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کو اس کے پرامن جوہری حقوق سے محروم کرنے کی بات کرے ایران کا بنیادی مؤقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ پر مبنی ہےایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا ہے ایران کا مؤ قف ہمیشہ دفاعی رہا ہے اور ملک اپنے دفاع کے قانونی اور جائز حق کو استعمال کر رہا ہے۔

    مسعود پزشکیان کے مطابق ایران کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی خطے میں کشیدگی بڑھانا چاہتا ہےدشمن اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ایران پر حملوں کے دوران انفرا اسٹرکچر، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ایسے اقدامات انسانی اصولوں اور عالمی ضوابط کے خلاف ہیں ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے اور اسے پتھر کے دور میں دھکیلنے جیسے بیانات دشمن کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتے ہیں۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے،الجزیرہ

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے،الجزیرہ

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر حکام نے انتظامات تیز کر دیے ہیں سخت بیانات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے امکانات مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔

    مذاکرات سے قبل دارالحکومت میں وسیع پیمانے پر تیاریاں جاری ہیں کم از کم دو بڑے ہوٹلز، جن میں سرینا ہوٹل بھی شامل ہے جہاں اس سے قبل بھی اہم مذاکرات ہو چکے ہیں، کو مہمانوں سے خالی کروانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جبکہ جمعہ تک کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں دی جا رہی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ امریکی فوج کے دو سی 17 گلوب ماسٹر طیاروں کی آمد کے بعد ایئرپورٹ سے ریڈ زون جانے والی سڑک کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے شہر میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی آمدورفت محدود کی جائے گی، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک تاحکم ثانی بند کر دی گئی ہے اس کے علاوہ پنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران سیکیورٹی کے لیے تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گےریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں کے اطراف پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جا رہا ہے ان تمام اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں جمعہ سے قبل اہم مذاکرات کا انعقاد متوقع ہے اور اس حوالے سے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔

  • روس کی ایران کو یورینیئم کی پیشکش اب بھی برقرار

    روس کی ایران کو یورینیئم کی پیشکش اب بھی برقرار

    روس کی سرکاری نیوکلیئر کمپنی ’روساتم‘ کے سی ای او، الیکسی لیخاچیف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو سنبھالنے کے لیے تیار ہے، اور یہ پیشکش ابھی تک میز پر ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

    الیکسی لیخاچیف نے کہا کہ روساتم ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 میں بھی روس نے ایران کی درخواست پر افزودہ یورینیم کو اپنے ملک منتقل کیا تھا، اور وہ آج بھی اس نازک معاملے میں تکنیکی اور اعتمادی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں،یہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی کا بھی معاملہ ہے، جس کے لیے روس تیار ہے۔

  • جہلم میں انجنئیر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ، جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک، پولیس اہلکار زخمی

    جہلم میں انجنئیر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ، جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک، پولیس اہلکار زخمی

    صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے تھانہ سٹی کی حدود میں انجینیئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ کرنے والا ملزم جوابی کارروائی میں مارا گیا۔

    انتظامیہ کے مطابق، حملہ آور نے گیٹ پر فائرنگ کی، جس کا پولیس نے بھرپور جواب دیا، پولیس کی فائرنگ سے حملہ آور موقع پر مارا گیا، اکیڈیمی انتظامیہ کے مطابق، حملہ تقریباً 10:45 منٹ پر ہوا۔ حملہ آور کی فائرنگ سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا جسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    پولیس کے مطابق جی ٹی ایس چوک میں واقع قرآن ریسرچ اکیڈمی کے باہر فائرنگ کی گئی، پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک ہوگیا جب کہ پولیس ملازم زخمی ہوا واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ چکی ہے، مسلح حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ شروع کر دی جہلم پولیس نے کہا کہ نامعلوم حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا، ملزم کی تاحال شناخت نہیں ہوئی ہے۔

  • ہر روز نہیں دیکھ سکتے کہ کوئی صدر ٹوئٹ میں  دنیا کو دھمکا رہا ہو،برازیلین صدر کی ٹرمپ پر تنقید

    ہر روز نہیں دیکھ سکتے کہ کوئی صدر ٹوئٹ میں دنیا کو دھمکا رہا ہو،برازیلین صدر کی ٹرمپ پر تنقید

    برازیل کے صدر کا کہنا ہے کہ ہر روز نہیں دیکھ سکتے کہ کوئی صدر ٹوئٹ میں جنگوں کا اعلان کر رہا ہو-

    بارسلونا میں منعقدہ ایک ترقی پسند رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےبرازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں، کیونکہ ان کی ناکامی کے باعث ایران میں جنگ کو روکنے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔

    برازیلی صدر نے ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ ہم ہر صبح یہ نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی ہر رات اس کے ساتھ سو سکتے ہیں کہ کسی صدر کا ایک ٹوئٹ دنیا کو دھمکا رہا ہو اور جنگوں کا اعلان کر رہا ہو،کوئی بھی رہنما دنیا کو جنگ کی دھمکی دینے کا حق نہیں رکھتا۔

    اس سے قبل ایک ہسپانوی اخبار ‘ایل پائس’ کو دیے گئے انٹرویو میں بھی لولا دا سلوا نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی انہوں نے کہا تھا کہ عالمی رہنماؤں کو خوف کے ذریعے حکمرانی کے بجائے باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے ٹرمپ کو کسی ملک کو صبح اٹھ کر دھمکیاں دینے کا حق حاصل نہیں ، انہیں اس لیے منتخب نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکی آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔

  • ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے،امریکی صدر

    ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے،امریکی صدر

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے-

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیا ہےصدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے، جہاں ایک حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے، یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کر ے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کے حصے کے طور پر فوری بند ہوں، انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی،اسرائیل عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا اور امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا، ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

  • امریکا اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا تھا ،بیلاروسی صدر کی امریکی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر سخت تنقید

    امریکا اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا تھا ،بیلاروسی صدر کی امریکی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر سخت تنقید

    بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین جیسی بڑی طاقت سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

    روسی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے امریکا کی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکا اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا تھا اگر امریکا ایران کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکا تو وہ چین جیسے مضبوط ملک کا سامنا بھی نہیں کر پائے گا، امریکا کے اصل مفادات تیل اور گیس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہیں، اور وہ ان وسائل کے حصول کے لیے مختلف خطوں میں مداخلت کرتا رہا ہے۔

    اپنے خلاف عائد ’آمر‘ ہونے کے امریکی الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے لوکاشینکو نے کہا کہ اصل آمریت تو کیوبا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں میں نظر آتی ہے امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے، مگر وہاں نہ حقیقی جمہوریت موجود ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے دعووں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسرائیل کے کہنے پر امریکا نے ایک خودمختار ملک میں اسکول پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔