مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی کشیدگی: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اعتماد کا بحران
ممکنہ معاہدہ یا قیاس آرائیاں؟ آنے والے دن عالمی سیاست کے لیے فیصلہ کن مرحلہ
تجزیہ شہزاد قریشی
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سطحی خبروں سے ہٹ کر اصل محرکات کا جائزہ لیا جائے۔ بظاہر توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے اور جس کے بارے میں وقتاً فوقتاً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ایران اسے بند یا کھول کر عالمی دباؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ جتنا نمایاں دکھائی دیتا ہے، اتنا سادہ نہیں۔ اس راستے کی کسی بھی ممکنہ بندش یا کشیدگی کا فوری ردعمل عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کی جانب سے سامنے آتا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ مکمل طور پر ایران کے یکطرفہ کنٹرول میں نہیں رہتا۔
اصل اور بنیادی تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ ایران کی حکمت عملی اس کے سیکیورٹی خدشات کے گرد گھومتی ہے، خاص طور پر اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ اقدامات کے تناظر میں۔ ایران یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ یورینیم افزودگی کے معاملے میں مکمل لچک دکھاتا ہے یا کسی سخت معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو اس کی دفاعی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ میں سیاسی تبدیلیاں—مثلاً انتخابات—اس کی پالیسیوں کو مزید غیر یقینی بنا سکتی ہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود رکھا جائے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہے اور ایٹمی پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ یہی بنیادی تضاد کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اس تناظر میں مختلف تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ آنے والے دن—خاص طور پر منگل، بدھ اور جمعرات—اہم ثابت ہو سکتے ہیں اور کسی ممکنہ پیش رفت یا معاہدے کی صورت سامنے آ سکتی ہے۔ بعض اطلاعات میں یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پس پردہ سفارتکاری کے نتیجے میں کوئی فریم ورک تیار ہو رہا ہے، جس میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو اعلیٰ سطحی امریکی شخصیات، حتیٰ کہ صدر، مختصر دورے پر آ کر اس کی توثیق کر سکتے ہیں۔
تاہم تاریخی اور سفارتی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو ایسے بڑے معاہدے عموماً طویل مذاکرات کے بعد طے پاتے ہیں اور ان کے لیے مخصوص سفارتی مراکز کا انتخاب کیا جاتا ہے، جیسا کہ Joint Comprehensive Plan of Action کے دوران دیکھا گیا۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اگرچہ پیش رفت ممکن ہے، لیکن چند دنوں میں کسی حتمی اور بڑے معاہدے تک پہنچنا ایک مشکل اور کم امکان والا عمل ہے۔ پاکستان یا کسی اور ملک کا کردار ثالثی یا سہولت کاری تک ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ بحران کی جڑیں گہری اسٹریٹیجک بے اعتمادی میں پیوست ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک اہم دباؤ کا ذریعہ ضرور ہے، مگر اصل فیصلہ کن عنصر ایران کا جوہری پروگرام اور اس پر عالمی طاقتوں کا ردعمل ہے۔ آنے والے دن اہم ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن کسی بھی نتیجے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے محتاط اور حقیقت پسندانہ تجزیہ ہی زیادہ مناسب ہوگا۔
