Baaghi TV

Blog

  • 
مصنوعی ذہانت سے عالمی مالیاتی نظام کو خطرہ، آئی ایم ایف میں تشویش

    
مصنوعی ذہانت سے عالمی مالیاتی نظام کو خطرہ، آئی ایم ایف میں تشویش

    ‎واشنگٹن: عالمی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے حالیہ اجلاس میں جہاں آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے معاشی خدشات زیر بحث آئے، وہیں ایک اور اہم موضوع نے عالمی مالیاتی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی، اور وہ ہے مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا اثر۔
    ‎بی بی سی کے معاشی امور کے تجزیہ کار کے مطابق اجلاس میں شریک کئی ممالک کے نمائندے ایک نئے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کے ممکنہ اثرات پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں عالمی مالیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر اسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
    ‎اس تناظر میں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جیورجیوا سے بھی سوال کیا گیا کہ کیا یہ نئی ٹیکنالوجی بینکنگ نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اور کیا عام صارفین کے بینک اکاؤنٹس بھی اس کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں گے یا نہیں۔ اس سوال نے اجلاس میں موجود دیگر عالمی مالیاتی رہنماؤں کی تشویش کو مزید واضح کر دیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکا کے اعلیٰ مالیاتی حکام بھی اس صورتحال پر خاص نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اور مرکزی بینک کے چیئرمین نے وال اسٹریٹ کے اہم رہنماؤں کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا، جس میں ممکنہ خطرات اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں ترقی اور سہولت کا ذریعہ بن رہی ہے، وہیں اس کے غلط استعمال سے مالیاتی نظام، ڈیجیٹل سیکیورٹی اور ذاتی ڈیٹا کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

  • پاکستان کو روس کی 3 ارب ڈالر مالیت کی سمندری خوراک کی درآمدی منڈی تک رسائی حاصل

    پاکستان کو روس کی 3 ارب ڈالر مالیت کی سمندری خوراک کی درآمدی منڈی تک رسائی حاصل

    ‎اسلام آباد: پاکستان نے روس کی 3 ارب ڈالر مالیت کی سی فوڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے، جو ملکی ماہی گیری کے شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎حکام کے مطابق روس نے پاکستان کی 16 سی فوڈ پروسیسنگ فیکٹریوں کو برآمدات کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد پاکستان پہلی بار روس کو سمندری مصنوعات برآمد کر سکے گا۔ یہ پیشرفت طویل سفارتی اور تکنیکی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
    ‎اس کامیابی کا اعلان متعلقہ حکام کی جانب سے کیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف برآمدات میں اضافہ کرے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی سہارا دے گا۔ ماہرین کے مطابق روس جیسی بڑی مارکیٹ تک رسائی پاکستان کے لیے ایک نیا موقع ہے، جہاں سی فوڈ کی طلب کافی زیادہ ہے۔
    ‎اب تک پاکستان کی سی فوڈ برآمدات زیادہ تر چین، خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور امریکا تک محدود تھیں، تاہم روسی مارکیٹ میں داخلے سے برآمدی دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔
    ‎ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت سے مقامی صنعت کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور غیر ملکی زرِمبادلہ میں اضافہ ہوگا۔
    ‎حکام کے مطابق عالمی معیار کے مطابق پراسیسنگ اور کوالٹی کنٹرول کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ روسی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا تو پاکستان کا سی فوڈ سیکٹر آنے والے برسوں میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے۔

  • پنجاب سے تقریباً 7 ہزار اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے

    پنجاب سے تقریباً 7 ہزار اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے

    ‎اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 18 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں اسلام آباد پولیس، پاکستان رینجرز، پنجاب پولیس اور فرنٹیئر کور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاک فوج بھی پولیس کے ساتھ مشترکہ ناکوں پر ڈیوٹی انجام دے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
    ‎سیکیورٹی انتظامات کے تحت ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ تمام اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب سے تقریباً 7 ہزار اضافی اہلکار بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
    ‎اہم مقامات، خاص طور پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے سرینہ ہوٹل تک سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حساس مقامات پر اسنائپرز تعینات کیے گئے ہیں جبکہ سرینہ ہوٹل کے اطراف میں مشترکہ طور پر 24 سیکیورٹی پکٹیں قائم کی گئی ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق یہ اقدامات ممکنہ اعلیٰ سطحی وفود کی آمد کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں تاکہ مذاکرات کا عمل محفوظ ماحول میں مکمل ہو سکے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں اس سطح کی سیکیورٹی تیاری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مذاکرات کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے اور پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہے۔

  • 
جے ڈی وینس بھی امریکی وفد میں شامل

    
جے ڈی وینس بھی امریکی وفد میں شامل

    ‎اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی وفد میں شامل ہو کر مذاکرات کی قیادت کریں گے۔
    ‎امریکی صحافی کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نہ صرف مذاکرات میں شریک ہوں گے بلکہ امریکی وفد کی قیادت بھی کریں گے۔ اس پیشرفت کو سفارتی سطح پر ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ وینس سیکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے۔
    ‎اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بتا چکے ہیں کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ تاہم اب نائب صدر کی شمولیت سے ان مذاکرات کی اہمیت اور سطح مزید بلند ہو گئی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں متوقع ہیں، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ معاہدے پر پیشرفت کا امکان ہے۔ پاکستان ان مذاکرات میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، جسے عالمی سطح پر خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی امریکی قیادت کی شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکا اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی بڑی پیشرفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • 
ایران کا مذاکرات میں شرکت سے انکار، فلحال وفد بھیجنے کا ارادہ نہیں

    
ایران کا مذاکرات میں شرکت سے انکار، فلحال وفد بھیجنے کا ارادہ نہیں

    ‎تہران: ایرانی خبررساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے تاحال مذاکرات کے لیے کسی وفد کو بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا اور موجودہ حالات میں بات چیت میں شرکت سے گریز کیا جا رہا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکا کی جانب سے عائد کردہ ناکہ بندی برقرار ہے، اس وقت تک مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی وجہ سے ایران نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی سفارتی عمل میں شامل ہونا ممکن نہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے، اور پابندیوں یا دباؤ کے ماحول میں ہونے والی بات چیت مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ ایرانی مؤقف کے مطابق پہلے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جانے چاہئیں، جس کے بعد ہی بامعنی مذاکرات ممکن ہیں۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی خبریں گردش کر رہی تھیں، اور اسلام آباد میں ایک ممکنہ سفارتی عمل کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا جا رہا تھا۔ تاہم ایران کے اس حالیہ موقف نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ فیصلہ امریکا پر دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے تاکہ پابندیوں میں نرمی حاصل کی جا سکے۔ دوسری جانب اس سے مذاکراتی عمل میں تاخیر کا امکان بھی بڑھ گیا ہے۔
    ‎عالمی سطح پر اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اور کسی بھی قسم کی پیش رفت خطے کے امن و استحکام پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

  • 
ٹرمپ کی سفارتکاری بدمعاشی لگتی ہے، فضل الرحمان

    
ٹرمپ کی سفارتکاری بدمعاشی لگتی ہے، فضل الرحمان

    ‎اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتکاری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا انداز ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بدمعاش رویہ اختیار کیا گیا ہو۔
    ‎ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے نرم اور متوازن زبان استعمال کی جاتی ہے، جبکہ دھمکی آمیز بیانات سے معاملات مزید خراب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو تباہ کرنے جیسے بیانات سفارتکاری کے اصولوں کے خلاف ہیں اور اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ایران و امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ دنیا کو کسی بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اس سفارتی کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔
    ‎مولانا فضل الرحمان نے موجودہ علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے ہر ملک متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کا معاشی مستقبل ان حالات میں کس سمت جا رہا ہے اور حکومت کو واضح حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایسے نازک حالات میں احتجاجی سیاست سے گریز کیا جا رہا ہے کیونکہ فیصلے جذبات کے بجائے حکمت کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ملک پر کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ سب سے آگے ہوں گے۔
    ‎سربراہ جے یو آئی (ف) نے عالمی سطح پر جمہوریت کی کمزور ہوتی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں نظام حکومت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک بہتر نظام کی تلاش صرف کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے۔

  • مری میں اسکائی گلاس برج اور بڑے سیاحتی منصوبوں کی منظوری: مریم نواز

    مری میں اسکائی گلاس برج اور بڑے سیاحتی منصوبوں کی منظوری: مریم نواز

    ‎لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مری اور اس کے نواحی علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی اصولی منظوری دے دی ہے، جن میں کوٹلی ستیاں میں صوبے کا پہلا اسکائی گلاس برج بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
    ‎پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں مری کے تحفظ اور بحالی کے منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں لینڈ سلائیڈنگ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
    ‎وزیراعلیٰ نے چٹا موڑ، دریا گلی، بانسرہ گلی، نمل اور جھیکا گلی سمیت مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ افراد کی بحالی کو ترجیح دینے کی ہدایت کی۔ اس کے ساتھ مری میں تین نئے ہاسپٹلٹی زونز قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی، جہاں نجی شعبے کے تعاون سے عالمی معیار کے ہوٹل تعمیر کیے جائیں گے۔
    ‎اجلاس میں مری کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے اہم سڑکوں کی توسیع کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا، جس کے تحت جھیکا گلی روڈ اور ریچ بل روڈ کو وسیع کیا جائے گا۔ مزید برآں مری گلاس ٹرین پراجیکٹ کے تعمیراتی کام کا آغاز ایک ماہ میں کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
    ‎سیاحت کے فروغ کے لیے تین نئے پارکس، ایک جدید زولوجیکل گارڈن، ایکوزون، برج کراسنگ اور جدید کانفرنس روم بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بیئر اور ٹائیگر ہاؤسز کے قیام کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
    ‎چیوڑاہل کے مقام پر مری کا پہلا گلیمینگ پوڈ ویلج بھی قائم کیا جائے گا، جسے جدید سیاحتی سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا اور اس کا انتظام نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔

  • 
ٹرمپ کے ایلچی وٹکوف اور کشنر مذاکرات کیلئے اسلام آباد روانہ

    
ٹرمپ کے ایلچی وٹکوف اور کشنر مذاکرات کیلئے اسلام آباد روانہ

    ‎واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں، جس سے خطے میں اہم سفارتی سرگرمیوں کا عندیہ مل رہا ہے۔
    ‎امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ان کے نمائندے پاکستان پہنچ کر ممکنہ مذاکرات میں حصہ لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات خطے کی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم ہیں اور ان کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔
    ‎صدر ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ خود بھی کسی مرحلے پر پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر معاہدے پر دستخط کی نوبت آتی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنی ممکنہ آمد کو حالات سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ وہ بعد میں کسی تاریخ پر اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ابھی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق آئندہ اقدامات طے کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مذاکرات کس سمت میں جاتے ہیں اور کیا پیش رفت سامنے آتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی ایلچیوں کی اسلام آباد آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان ممکنہ طور پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں پاکستان کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • 
جے ڈی وینس پاکستان نہیں آئیں گے، ٹرمپ نے وجہ بتا دی

    
جے ڈی وینس پاکستان نہیں آئیں گے، ٹرمپ نے وجہ بتا دی

    ‎واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے، اور اس فیصلے کی وجہ سیکیورٹی خدشات کو قرار دیا ہے۔
    ‎امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اعلیٰ حکام کی مشاورت کے باوجود یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نائب صدر اس دورے میں شریک نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
    ‎دوسری جانب اطلاعات کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے امریکی ایڈوانس ٹیم پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکی ہے، تاہم اس وفد کی قیادت کون کرے گا، اس بارے میں تاحال باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
    ‎خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی وفد کل شام تک اسلام آباد میں موجود ہوگا، جہاں اہم سفارتی ملاقاتوں کا امکان ہے۔ ان مذاکرات کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف بھی دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے امریکا کی پیش کردہ ڈیل قبول نہ کی تو سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق امریکا ایک “منصفانہ اور معقول” معاہدہ چاہتا ہے، لیکن انکار کی صورت میں نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے ایک طرف مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری جانب سخت بیانات کے ذریعے دباؤ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کو عالمی سطح پر خاص اہمیت دی جا رہی ہے، جہاں پاکستان ایک ممکنہ ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

  • ایران کا یورپی یونین پر دوہرے معیار کا الزام

    ایران کا یورپی یونین پر دوہرے معیار کا الزام

    ‎تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یورپی کمیشن کے نائب صدر کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے یورپی یونین پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
    ‎سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز میں غیر مشروط آمدورفت سے متعلق یورپی مطالبات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں منافقت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مطالبات اس وقت بے معنی ہو جاتے ہیں جب ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی حمایت کی جا رہی ہو۔
    ‎انہوں نے کہا کہ جو ممالک اور ادارے امریکا اور اسرائیل کی مبینہ جارحیت کی حمایت کرتے رہے ہیں، وہی اب ایران کو عالمی قوانین اور اصولوں پر لیکچر دے رہے ہیں، جو ایک واضح تضاد ہے۔
    ‎ایرانی ترجمان نے یورپی یونین پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب ایران پر تنقید کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرز عمل عالمی سطح پر انصاف اور توازن کے دعووں کے برعکس ہے۔
    ‎اسماعیل بقائی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ یورپی ممالک ایرانی عوام کے ساتھ ہونے والے سلوک کو مختلف انداز میں کیوں دیکھتے ہیں اور اس حوالے سے یکساں معیار کیوں اختیار نہیں کیا جاتا۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین کی جانب سے عالمی قوانین کا حوالہ دینا اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب اس کے اپنے رویے میں تضاد موجود ہو۔ ان کے مطابق ایک طرف بعض اقدامات پر خاموشی اور دوسری طرف ایران پر تنقید، عالمی سیاست میں دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ خطے میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سفارتی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔