امریکا میں 66 سال قبل پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے والے ایک خاندان کا معمہ آخر کار چھ دہائیوں کے بعد حل ہو گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ امریکی ریاست اوریگون کے دریائے کولمبیا کے قریب پیش آیا، جہاں دسمبر 1958 میں کینتھ مارٹن، ان کی اہلیہ باربرا اور تین بیٹیاں کرسمس کی سجاوٹ کے لیے ہریالی جمع کرنے نکلے اور پھر کبھی واپس نہ آئے اس واقعے نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا کئی دہائیوں تک اسے ریاست کے سب سے بڑے حل طلب کیسز میں سے ایک سمجھا جاتا رہا۔
گمشدگی کے چند ماہ بعد ہی طویل تلاش کے بعد دو بیٹیوں، ورجینیا اور سوزن کی لاشیں دریا سے مل گئی تھیں، لیکن والدین اور بڑی بیٹی کا کچھ پتا نہ چل سکا، جس کی وجہ سے یہ کیس کئی دہائیوں تک ایک راز بنا رہااس کیس میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب 2024 میں ایک غوطہ خور آرچر میو نے دریائے کولمبیا کی تہہ میں ایک پرانی گاڑی دریافت کی یہ 1954 کا ’فورڈ اسٹیشن ویگن‘ ماڈل تھا جو ریت اور مٹی میں دھنسا ہوا تھا تحقیقات کے بعد تصدیق ہوئی کہ یہ گاڑ ی مارٹن خاندان ہی کی تھی۔
غوطہ خور آرچر میو کے مطابق میر ے خیال میں گاڑی موڑتے وقت کسی رکاوٹ میں پھنس گئی ہوگی اور ریورس کرتے وقت اچانک بے قابو ہو کر دریا میں جا گری،بعد ازاں 2025 میں گاڑی کے ملبے کے قریب سے مزید انسانی باقیات برآمد ہوئیں جنہیں فرانزک لیب بھیجا گیا، جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے اب یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ باقیات کینتھ، باربرا اور ان کی بڑی بیٹی باربی کی ہیں، یوں خاندان کے تمام افراد کا سراغ مل گیا۔
جینیٹکس لیب کی چیف ڈویلپمنٹ آفیسر کرسٹن مٹل مین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے نہ صرف خاندان بلکہ پوری کمیونٹی کو وہ سکون اور جواب مل گیا ہے جس کا وہ دہائیوں سے انتظار کر رہے تھےہڈ ریور کاؤنٹی شیرف آفس نے تمام شواہد کی بنیاد پر اس کیس کو باقاعدہ بند کر دیا ہے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ ایک افسوسناک حادثہ تھا، جس میں گاڑی بے قابو ہو کر دریا میں گر گئی تھی۔
