Baaghi TV

Blog

  • بارشوں کا مغربی سسٹم ملک میں داخل ،ملک بھر میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی

    بارشوں کا مغربی سسٹم ملک میں داخل ،ملک بھر میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی

    آج بارشوں کا مغربی سسٹم ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگیا،محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سےمون سون بارشوں کی پیشگوئی کردی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک میں داخل ہو چکا ہے جو یکم جولائی سے مون سون بارشوں کا سبب بنے گا ان سسٹمز کے ملاپ سے ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے،بحیرہ عرب سے مرطوب ہوائیں ملک کے مشرقی حصوں میں داخل ہو رہی ہیں، جس سے جولائی کے پہلے ہفتے میں مون سون کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا،30 جون کی شام یا رات سے مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک میں داخل ہو سکتا ہے

    محکمہ موسمیات کے مطابق یکم سے 6جولائی تک لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، مری میں بارشوں کا امکان ہے، گلیات،کشمیر ، گلگت بلتستان اور سندھ میں بھی موسلاد ھاربارشوں کا امکان ہے، بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے بحیرہ عرب سے مرطوب ہوائیں ملک کے مشرقی حصوں میں داخل ہو رہی ہیں، جس سے جولائی کے پہلے ہفتے میں مون سون کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا-

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے آئندہ ہفتے کے دوران متوقع موسمی صورتحال کا پیشگی جائز ہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یکم سے 6 جولائی کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں کا پہلا باقاعدہ اسپیل متوقع ہے، جس کے باعث بعض علاقو ں میں موسلا دھار بارش، شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق موجودہ موسمی صورتحال این ای او سی کی جانب سے 3 سے 4 ماہ قبل جاری کیے گئے موسمی جائزے کے عین مطابق ہےممکنہ موسمی خطرات سے متعلق تمام وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کو بروقت آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور پیشگی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، شمالی بلوچستان اور بالائی سندھ میں آندھی، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، جہلم، چکوال اور اٹک میں یکم سے 6 جولائی کے دوران وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، جبکہ شمال مشرقی پنجاب اور خطہ پوٹھوہار کے بعض علاقوں میں موسلا دھار بارش کے باعث شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے ملتان، بہاولپور، بہاولنگر ، لودھراں، خانیوال، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، لیہ، بھکر اور میانوالی میں 3 سے 5 جولائی کے دوران بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا میں یکم سے 5 جولائی تک بالائی اور پہاڑی اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے دیر، سوات، چترال، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹگرام، شانگلہ اور ملحقہ علاقوں میں مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں یکم سے 5 جولائی کے دوران شدید بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی سطح پر سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق استور، اسکردو، گلگت، ہنزہ، دیامر، غذر، شگر اور گھانچے کے رہائشیوں اور مسافروں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ مظفرآباد، وادی نیلم، راولاکوٹ، باغ، حویلی، پونچھ، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں یکم سے 6 جولائی تک بارشوں کا امکان ہے بلوچستان کے ژوب، شیرانی، بارکھان، سبی، کوہلو، ہرنائی، نصیر آباد اور ڈیرہ بگٹی میں یکم سے 4 جولائی کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ سندھ کے لاڑکانہ، سکھر، جیکب آباد، دادو، کشمور، گھوٹکی، شکارپور، خیرپور، شہید بینظیر آباد اور نوشہرو فیروز میں 3 اور 4 جولائی کو بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ موسلا دھار بارش کے دوران نشیبی علاقوں، انڈر پاسز اور برساتی نالوں کے قریب غیر ضروری آمدورفت سے گریز کریں سیاح، مسافر اور مقامی انتظامیہ موسمی صورتحال سے مسلسل باخبر رہیں اور این ڈی ایم اے سمیت متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں عوام بروقت موسمی اطلاعات اور حفاظتی ہدایات کے لیے ’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘ موبائل ایپ سے استفادہ کریں، جبکہ تمام صوبائی اور ضلعی اداروں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے۔

  • خیبرپختونخوا : انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گردوں کی سروں کی بھاری قیمت مقرر

    خیبرپختونخوا : انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گردوں کی سروں کی بھاری قیمت مقرر

    خیبرپختونخوا حکومت نے دیر اور اس کے قریبی علاقوں میں سرگرم 15 انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گردوں کی ایک نئی فہرست جاری کی ہے اور ان کو پکڑوانے کے لیے بھار ی انعامات کا اعلان کیا ہے۔

    صوبے کے محکمہ داخلہ کے اعلامیے کے مطابق ان مجرموں کے سروں کی قیمتیں 1 کروڑ روپے سے لے کر 40 لاکھ روپے تک مقرر کی گئی ہیں، تاکہ عوام کی مدد سے انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے، جاری کردہ اس فہرست میں الگ الگ مجرموں پر ان کے جرائم کے حساب سے انعام رکھا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق خورشید نامی ایک خطرناک دہشت گرد کے سر کی قیمت سب سے زیادہ یعنی 1 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھی گئی ہے شیر امین نامی مطلوب دہشت گردجو جرائم کی دنیا میں کاکا کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کو قانون کی گرفت میں لانے یا اس کا پتا بتانے والے کے لیے1 کروڑ روپے کا انعام مقرر کیا گیا ہے جبکہ دو خطرناک ملزمان قار ی احسان اور شیر عالم میں سے ہر ایک پر 60، 60 لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے،سپین شاہ اور اعجاز نامی مفرور ملزمان پر50،50 لاکھ روپے، جبکہ کفایت، حضرت حسین اور شریف اللہ نامی دہشت گردوں میں سے ہر ایک پر 40، 40 لاکھ روپے کا سرکاری انعام رکھا گیا ہے۔

    سی ٹی ڈی نے عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان مطلوب افراد کو ڈھونڈنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں جو کوئی بھی شہری ان دہشت گردوں کے بارے میں کوئی بھی اطلاع فراہم کرے گا، اس کی پہچان اور شناخت کو بالکل چھپا کر اور خفیہ رکھا جائے گا تاکہ اس کی جان کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

  • روس کے یوکرین پٔرمیزائلوں اور ڈرونز سے حملہ،8 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

    روس کے یوکرین پٔرمیزائلوں اور ڈرونز سے حملہ،8 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

    روس نے یوکرین پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں میں رہائشی عمارتوں، بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا،یوکرینی حکام کے مطابق حملوں کا نشانہ کئی شہر بنے جہاں فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز اور میزائل تباہ کیے تاہم کچھ اپنے اہداف تک پہنچ گئے۔ امدادی کارکنوں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو کارروائیاں کیں۔

    روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ حملوں میں فوجی اور دفاعی صنعت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ یوکرین کا مؤقف ہے کہ زیادہ تر حملوں کا رخ شہری علاقوں کی طرف تھا جس سے عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں نے شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جاری

    کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جاری

    آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی خدشات اور حالیہ حملوں کے باوجود بحری جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بند تو نہیں ہوئی، تاہم جہازوں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق عالمی سطح پر بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی میرین ٹریفک نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتے کے روز دو بحری جہازوں پر حملوں کے باوجود ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت جاری رہی، تین دنوں کے دوران مجموعی طور پر 108 تصدیق شدہ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

    کمپنی کے مطابق 26 جون بروز جمعہ سب سے زیادہ 48 بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے، جبکہ 27 جون بروز ہفتہ 38 اور 28 جون بروز اتوار 22 جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی، حالیہ حملوں سے پہلے بحری جہازوں کی تعداد زیادہ تھی 25 جون بروز جمعرات 54 جبکہ 24 جون بروز بدھ 70 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

    میرین ٹریفک کے مطابق بدھ کے روز ریکارڈ کی جانے والی 70 گزرگاہیں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ تعداد تھی تنازع سے قبل روزانہ تقریباً 130 سے 140 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔

    ادھر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے اس اہم آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظام پر تبادلہ خیال کیا ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر خیالات کا تبادلہ کیا ہے اور دونوں ممالک اس معاملے پر ایک مشترکہ سمجھ بوجھ تک پہنچ گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کاظم غریب آبادی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمان بھی ساحلی ریاست ہونے کے ناطے ان انتظامات کا حصہ بننے کی حمایت کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جانی چاہیےدونوں ممالک کے درمیان تکنیکی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی اور آئندہ سات سے آٹھ دن کے اندر ماہرین خصوصی مذاکرات شروع کریں گے تاکہ مجوزہ معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا سکے اور بحری جہازوں کے راستوں پر بات چیت مکمل کی جا سکے۔

  • ایران کو ٹورنامنٹ سے سازش کے تحت باہر کیا گیا؟،الجزائر  کے کپتان کے بیان سے نیا تنازع کھڑا ہو گیا

    ایران کو ٹورنامنٹ سے سازش کے تحت باہر کیا گیا؟،الجزائر کے کپتان کے بیان سے نیا تنازع کھڑا ہو گیا

    فیفا ورلڈ کپ 2026 میں آسٹریا اور الجزائر کے درمیان کھیلا گیا میچ 3-3 سے برابر ہوا، جس کے بعد دونوں ٹیمیں راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر گئیں، جبکہ ایران ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے میچ پر سوالات اٹھائے جس میں الجزائر کے کپتان ریاض محرز بے بھی ایک بیان دیا جس سے نیا تنازع کھڑا ہو گیا، تاہم اب تک فیفا یا کسی متعلقہ ادارے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل یا تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    ایران کو اگلے مرحلے میں پہنچنے کے لیے آسٹریا کی جیت درکار تھی، لیکن میچ برابر ہونے کے باعث ایرانی ٹیم تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں جگہ نہ بنا سکی اور ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی کینساس سٹی میں کھیلے گئے اس مقابلے میں الجزائر کے کپتان ریاض محرز نے دوسرے ہاف میں دو گول کرکے الجزائر کو برتری دلائی، تاہم انجری ٹائم میں آسٹریا کے ساشا کالاجڈزچ نے گول کرکے مقابلہ 3-3 سے برابر کر دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچ گئیں۔

    اس میچ کے بعد کئی شائقین کو 1982 کے ورلڈ کپ کا مشہور ”ڈس گریس آف گیخون“ واقعہ بھی یاد آ گیا، جب مغربی جرمنی اور آسٹریا کے درمیان میچ کے نتیجے میں الجزائر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا تھا اس تاریخی مقابلے پر بھی اس وقت شدید تنقید ہوئی تھی اور بعد ازاں فیفا نے آخری گروپ میچز ایک ہی وقت میں کرانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔

    میچ کے بعد آسٹریا کے ہیڈ کوچ رالف رانگنک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انجری ٹائم میں دونوں ٹیموں کی جانب سے کیے گئے گول اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دونوں فریق جیتنے کی پوری کوشش کر رہے تھے ،دوسری جانب ریاض محرز کے میچ کے بعد دیے گئے بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی۔

    ریاض محرز کا کہنا تھا کہ صورتحال کچھ عجیب تھی ہم تیزی کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ آسٹریا کے کھلاڑی زیادہ تر پیچھے رہ کر کھیل رہے تھے پھر آخری لمحے میں گیند میرے پاس آئی، تو میرے پاس گول کرنے کی کوشش کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا میں کھیل کے اصولوں اور فٹبال کا احترام کرتا ہوں ہمارے لئے اچھی بات یہ ہوئی کہ ہم نے بھی گول کر لیا اور وہ بھی کوالیفائی کر گئے، ہم دونوں اگلے مرحلے میں پہنچ گئے، اور آج یہی سب سے اہم بات تھی یہ ایک شرمندگی والی صورتحال تھی، لیکن گیند میرے پاس آئی تو میں کیا کرتا؟ مجھے گول کرنا تھا کیونکہ میں کھیل کے اصولوں کا احترام کرتا ہوں۔

  • ریاستی  بینک کا عام شہریوں کے پیسوں اور بینک اکاؤنٹ کی حفاظت کیلئےاہم فیصلہ

    ریاستی بینک کا عام شہریوں کے پیسوں اور بینک اکاؤنٹ کی حفاظت کیلئےاہم فیصلہ

    عدالت کے حکم پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عام شہریوں کے پیسوں اور بینک اکاؤنٹ کی حفاظت کے لئےاہم فیصلہ کیا ہے۔

    عدالت کے حکم پر کارروائی کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے بینکوں کو سختی سے پابند کیا ہے کہ وہ کسی بھی گاہک کا اکاؤنٹ بغیر کسی ٹھوس قانونی وجہ، بڑی اتھارٹی کی منظوری اور پوری تصدیق کے بغیر بلاک یا بند نہیں کر سکتے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغیر کسی قانونی اختیار کے لوگوں کے بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے پر روک لگا رکھی تھی اسی کیس کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ کے معزز جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے اسٹیٹ بینک کو خصوصی ہدایت دی تھی کہ وہ بینکوں کے لیے ایک ایسا پکا اندرونی نظام اور طریقہ کار طے کرے جس سے عام شہریوں کو تنگ نہ کیا جائے عدالت کے اسی حکم پر عمل کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے اب اپنی ایک تفصیلی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے، جس کی کاپی بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو نیا ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے صاف کہا ہے کہ کسی بھی اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے پر پابندی لگانا، اسے منجمد کرنا یا اس کے چلنے پر کسی بھی قسم کی روک ٹوک لگانا صرف اور صرف قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کیا جائے گا۔

    اسٹیٹ بینک کے حکام نے اپنے نئے ہدایت نامے میں بینکوں کو آرڈر دیتے ہوئے کہا ہے کہ اکثر بینک احتیاط کے نام پر یا غیر ارادی طور پر گاہکوں کے اکاؤنٹس پر پابندیاں لگا دیتے ہیں، لیکن اب ایسی کسی بھی احتیاطی پابندی سے اکاؤنٹ ہولڈرز کو کوئی غیر ضروری نقصان یا تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے کسی بھی گاہک کے اکاؤنٹ کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے مکمل قانونی اختیار کا ہونا اور اچھے طریقے سے چھان بین اور تصدیق کرنا لازمی ہوگا۔

    اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ ان نئی ہدایات پر پوری طرح عمل کرنے کے لیے اپنے بینک کے اندر ایک اچھا اور مضبوط نظام بنائیں تاکہ کسی بھی عام آدمی کا اکاؤنٹ غلطی سے بھی بند نہ ہو اور لوگوں کا بینکوں پر اعتماد بحال رہے۔

  • امریکی کانگریس میں اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی تجویز پیش

    امریکی کانگریس میں اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی تجویز پیش

    امریکی کانگریس میں اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ 3.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

    ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس گریگ کاسر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریپبلکن رکن تھامس میسی کی پیش کردہ اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے جس میں اسرائیل کی سالانہ فوجی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہےاسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور امریکا کو ایران کے ساتھ تنازع میں الجھانے میں کردار ادا کیا اس لیے امریکی ٹیکس دہندگان کو مزید ہتھیاروں کی مالی معاونت نہیں کرنی چاہیے۔

    مجوزہ ترمیم میں نہ صرف اسرائیل کے لیے 3.3 ارب ڈالر کی سالانہ فوجی امداد ختم کرنے بلکہ محکمہ خارجہ کے بجٹ میں اسرائیل کے لیے مختص فنڈز بھی منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی ہے،دوسری جانب تھامس میسی حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار ایڈ گیلرین کے ہاتھوں ریپبلکن پرائمری انتخاب ہار گئے تھے۔

    یہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی تاریخ کا سب سے مہنگا پرائمری انتخاب قرار دیا گیا جس میں میسی کے خلاف 32 ملین ڈالر سے زائد خرچ کیے گئے جبکہ اس فنڈنگ کا بڑا حصہ اسرائیل نواز تنظیموں اور ٹرمپ کے حامی گروپوں کی جانب سے آیا،کانگریس میں اس ترمیم پر رواں ہفتے ووٹنگ متوقع ہے جس پر امریکا کی اسرائیل پالیسی کے حوالے سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • دوحہ میں امریکا کے ساتھ کوئی تکنیکی مذاکرات طے نہیں ہوئے،ایران

    دوحہ میں امریکا کے ساتھ کوئی تکنیکی مذاکرات طے نہیں ہوئے،ایران

    ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ اس ہفتے دوحہ میں امریکا کے ساتھ کوئی تکنیکی مذاکرات طے نہیں ہوئے،قطر کے ساتھ مشاورت جاری ہے جس میں مفاہمتی وعدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور اس وقت ہوگا جب ضروری شرائط پوری ہو جائیں گی۔

    کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اس معاملے پر ثالث ممالک کے ذریعے بھی مشاورت جاری ہے، انہوں نے کہا کہ ایران اور عمانی ماہرین آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی طریقہ کار پر بات کریں گے، عمان تعاون کے لیے آمادہ ہے تاہم اگر عمان تیار نہ ہوا تو ایران خود اس عمل کو آگے بڑھائے گا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے راستوں کی ازسرنو وضاحت کی جائے گی اور اس حوالے سے جلد تکنیکی سطح پر بات چیت ہوگی۔

    دوسری جانب ایرانی مذاکراتی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اب تک مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عملدرآمد سے مطمئن نہیں ان کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے بالواسطہ مذاکرات اسی وقت ہوں گے جب اہم شقوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

    اسماعیل بقائی نے سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت کسی حتمی معاہدے کے لیے مذاکراتی مرحلہ شروع نہیں ہوا،ایران کی موجودہ ترجیح مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد ہے جبکہ دوحہ کا مجوزہ دورہ منجمد فنڈز کے اجرا کی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ دوحہ میں ایرانی وفد کی امریکی مذاکرات کاروں سے کوئی ملاقات نہیں ہوگی۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں، مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد اور تکنیکی سطح کے مذاکرات سے متعلق مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ حتمی معاہدے، بالخصوص جوہری پروگرام کے حوالے سے باقاعدہ مذاکرات کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا۔

    ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوحہ مذاکرات اہم ہیں اور دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقات شاید اہم ثابت ہو جبکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر رضامند ہے۔

  • ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ اداروں کو سیاسی غلام بنانے کا فرسودہ کلچر ختم کیا جائے

    سرکاری افسران ریاست کے ملازم، کسی ڈیرے پر حاضری کے پابند نہیں انتظامیہ کو دباؤ سے آزاد کیا جائے

    منتخب نمائندے عوامی مسائل ضرور اٹھائیں، انتظامی اختیارات میں مداخلت اور افسران کی تذلیل کا کوئی حق نہیں

    ملک کو جدید اور منصفانہ ریاست بنانے کے لیے وفاق اور صوبوں کو واضح ‘مداخلت مخالف’ پالیسی بنانا ہوگی

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم، سیاسی مداخلت اور قانون کی حکمرانی، پاکستان کو درپیش متعدد انتظامی اور سماجی مسائل کی جڑوں میں ایک اہم مسئلہ وہ فرسودہ سیاسی رویہ ہے جسے عرفِ عام میں "ڈیرہ سسٹم” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو جمہوری اقدار، ادارہ جاتی خودمختاری اور قانون کی بالادستی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں، منتخب نمائندے اور بااثر شخصیات اس طرزِ عمل پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں اور خود کو جدید جمہوری تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ دنیا کے مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں میں سرکاری افسران ریاست کے ملازم ہوتے ہیں، کسی فرد، خاندان یا سیاسی شخصیت کے نہیں۔ وہاں پولیس افسران، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران قانون اور آئین کے تابع ہو کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، نہ کہ کسی سیاسی ڈیرے یا ذاتی بیٹھک پر حاضری دے کر احکامات وصول کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض علاقوں میں ابھی تک یہ روایت موجود ہے کہ سرکاری افسران کو سیاسی شخصیات کے ڈیروں پر طلب کیا جاتا ہے، جہاں ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے یا انہیں مخصوص مفادات کے مطابق کام کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ عزتِ نفس مجروح کرتا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی غیرجانبداری کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ جب کسی افسر کو یہ احساس ہو کہ اس کی ترقی، تبادلہ یا پوسٹنگ میرٹ اور کارکردگی کے بجائے سیاسی وابستگی یا کسی ڈیرے پر حاضری سے مشروط ہے، تو پھر قانون کی حکمرانی کمزور اور شخصی حکمرانی مضبوط ہو جاتی ہے۔جرائم کے خاتمے، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔

    منتخب نمائندوں کا حق اور فرض ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے مسائل پر نظر رکھیں، عوامی شکایات اجاگر کریں اور ناقص کارکردگی کی نشاندہی کریں، لیکن انہیں سرکاری افسران کے انتظامی اختیارات میں مداخلت یا ان کی تذلیل کا کوئی حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔جمہوریت کی اصل روح اداروں کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے، افراد کی بالادستی میں نہیں۔ اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جدید، منظم اور قانون پسند ریاست بنانا ہے تو ڈیرہ کلچر، سفارش، سیاسی دباؤ اور شخصی اثر و رسوخ کی سیاست سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ سرکاری افسران کو صرف آئین، قانون اور عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی شخصیت یا بااثر خاندان کے سامنے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں واضح پالیسی مرتب کریں جس کے تحت کسی بھی سرکاری افسر کو سیاسی ڈیروں پر طلب کرنے، غیرضروری سیاسی دباؤ ڈالنے یا سرکاری امور میں ذاتی مداخلت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اداروں کو مضبوط، عوام کو بااختیار اور پاکستان کو ایک باوقار، منصفانہ اور ترقی یافتہ ریاست بنا سکتا ہے۔ قانون کی بالادستی تبھی قائم ہوگی جب ریاست کے ملازمین کو غلام نہیں بلکہ قانون کے محافظ سمجھا جائے گا۔

  • خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جہاں سرمایہ کاروں کی توجہ امریکا اور ایران کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع مذاکرات پر مرکوز ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے اگست کے سودے 1.03 فیصد یا 75 سینٹ کمی کے بعد 72.40 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ زیادہ سرگرمی سے ٹریڈ ہونے والا ستمبر کا برینٹ کنٹریکٹ 0.54 فیصد یا 40 سینٹ کمی کے بعد 73.51 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا،اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 0.66 فیصد یا 47 سینٹ کم ہو کر 70.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کی امید نے مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے، اگرچہ خطے میں کشیدگی اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی،مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار دوحہ میں ممکنہ امریکا ایران مذاکرات کے مثبت نتائج کی توقع کر رہے ہیں جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی، اس لیے مارکیٹ میں محتاط رویہ برقرار ہے-