ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ اداروں کو سیاسی غلام بنانے کا فرسودہ کلچر ختم کیا جائے
سرکاری افسران ریاست کے ملازم، کسی ڈیرے پر حاضری کے پابند نہیں انتظامیہ کو دباؤ سے آزاد کیا جائے
منتخب نمائندے عوامی مسائل ضرور اٹھائیں، انتظامی اختیارات میں مداخلت اور افسران کی تذلیل کا کوئی حق نہیں
ملک کو جدید اور منصفانہ ریاست بنانے کے لیے وفاق اور صوبوں کو واضح ‘مداخلت مخالف’ پالیسی بنانا ہوگی
تجزیہ شہزاد قریشی
ڈیرہ سسٹم، سیاسی مداخلت اور قانون کی حکمرانی، پاکستان کو درپیش متعدد انتظامی اور سماجی مسائل کی جڑوں میں ایک اہم مسئلہ وہ فرسودہ سیاسی رویہ ہے جسے عرفِ عام میں "ڈیرہ سسٹم” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو جمہوری اقدار، ادارہ جاتی خودمختاری اور قانون کی بالادستی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں، منتخب نمائندے اور بااثر شخصیات اس طرزِ عمل پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں اور خود کو جدید جمہوری تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ دنیا کے مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں میں سرکاری افسران ریاست کے ملازم ہوتے ہیں، کسی فرد، خاندان یا سیاسی شخصیت کے نہیں۔ وہاں پولیس افسران، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران قانون اور آئین کے تابع ہو کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، نہ کہ کسی سیاسی ڈیرے یا ذاتی بیٹھک پر حاضری دے کر احکامات وصول کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض علاقوں میں ابھی تک یہ روایت موجود ہے کہ سرکاری افسران کو سیاسی شخصیات کے ڈیروں پر طلب کیا جاتا ہے، جہاں ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے یا انہیں مخصوص مفادات کے مطابق کام کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ عزتِ نفس مجروح کرتا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی غیرجانبداری کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ جب کسی افسر کو یہ احساس ہو کہ اس کی ترقی، تبادلہ یا پوسٹنگ میرٹ اور کارکردگی کے بجائے سیاسی وابستگی یا کسی ڈیرے پر حاضری سے مشروط ہے، تو پھر قانون کی حکمرانی کمزور اور شخصی حکمرانی مضبوط ہو جاتی ہے۔جرائم کے خاتمے، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔
منتخب نمائندوں کا حق اور فرض ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے مسائل پر نظر رکھیں، عوامی شکایات اجاگر کریں اور ناقص کارکردگی کی نشاندہی کریں، لیکن انہیں سرکاری افسران کے انتظامی اختیارات میں مداخلت یا ان کی تذلیل کا کوئی حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔جمہوریت کی اصل روح اداروں کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے، افراد کی بالادستی میں نہیں۔ اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جدید، منظم اور قانون پسند ریاست بنانا ہے تو ڈیرہ کلچر، سفارش، سیاسی دباؤ اور شخصی اثر و رسوخ کی سیاست سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ سرکاری افسران کو صرف آئین، قانون اور عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی شخصیت یا بااثر خاندان کے سامنے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں واضح پالیسی مرتب کریں جس کے تحت کسی بھی سرکاری افسر کو سیاسی ڈیروں پر طلب کرنے، غیرضروری سیاسی دباؤ ڈالنے یا سرکاری امور میں ذاتی مداخلت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اداروں کو مضبوط، عوام کو بااختیار اور پاکستان کو ایک باوقار، منصفانہ اور ترقی یافتہ ریاست بنا سکتا ہے۔ قانون کی بالادستی تبھی قائم ہوگی جب ریاست کے ملازمین کو غلام نہیں بلکہ قانون کے محافظ سمجھا جائے گا۔
