کہوٹہ کے علاقے چکیان پوسٹ کے قریب پولیس وین سے 14 قیدی فرار ہونے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا، جبکہ باقی قیدیوں کی تلاش کے لیے وسیع سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی تاکہ فرار ہونے والے قیدیوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
سرچ آپریشن میں پولیس کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے، جبکہ چکیان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ مختلف مقامات پر چیکنگ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور سرچ آپریشن کی خود نگرانی شروع کر دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
پولیس نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات ہوں تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ مفرور قیدیوں کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔
Blog
-

کہوٹہ میں پولیس وین سے 14 قیدی فرار، 4 دوبارہ گرفتار
-

تباہی کے بیچ امید کی ایک کرن،تحریر:بینا علی
وہ تباہی کے بیچ امید کی ایک کرن اور معجزہ بن کر ٹنوں ملبے تلے سے تین دن بعد زندہ نکلی تھی۔وینزویلا میں بدھ کو آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں اب تک تقریباً ایک ہزار افراد کے جاں بحق اور 3 ہزار سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں بلند و بالا عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے کا عمل گزشتہ 3 روز سے جاری ہے۔ اسی دوران امدادی ٹیموں کو ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی۔تفصیلات کے مطابق ریسکیو اہلکار لاپتا افراد کی تلاش کے دوران ملبے کے نیچے سے بچے کے رونے کی آواز سننے میں کامیاب ہوئے۔ آواز کی نشاندہی کے بعد ٹیم نے انتہائی احتیاط کے ساتھ کنکریٹ اور دیگر ملبہ ہٹانا شروع کیا۔چند گھنٹے کے محتاط آپریشن کے بعد اہلکار ایک ننھی بچی تک پہنچ گئے اور اسے بحفاظت نکال لیا گیا۔ موقع پر موجود عملے اور مقامی افراد نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔
بچی کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور بعد ازاں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچی کی حالت اب مستحکم ہے اور اسے خطرے سے باہر قرار دیا گیا ہے۔ بچی کے اہلخانہ نے اپنی بیٹی کی بازیابی پر اظہارِ تشکر کیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئی ہے، جسے بڑی تعداد میں صارفین شیئر کر رہے ہیں۔
فی الوقت متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔ -

مولانا فاروق احمد راشدی کی وفات پر حافظ مسعود اظہر کا اظہار افسوس
لاہور( )پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعدیہ سلفیہ کے ڈائریکٹر حافظ مسعود اظہر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ممتاز عالم دین، استاد الاساتذہ، شیخ الحدیث والتفسیر مولانا فاروق احمد راشدی کے انتقال کی خبر نے ملک کی دینی، علمی اور تعلیمی فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔ ان کی رحلت سے علم و فضل کا ایک ایسا آفتاب غروب ہو گیا ہے جس کی روشنی سے کئی نسلیں مستفید ہوئیں۔ ان کی جدائی کا غم صرف ان کے خاندان اور شاگردوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک بھر کے علما، طلبہ اور دینی حلقے اس عظیم سانحے پر اشکبار ہیں۔ دل آہوں اور سسکیوں کے ساتھ شیخ الحدیث والتفسیر کو الوداع کہہ رہا ہے، فضا سوگوار ہے اور ہر آنکھ نم ہے ۔
انھوں نے کہا کہ مولانا فاروق احمد راشدی نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، قرآن و سنت کی تعلیم اور نوجوان نسل کی تربیت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ نے مسلسل چونتیس برس تک صحیح بخاری کی تدریس کا عظیم فریضہ انجام دیا اور ہزاروں طلبہ کو علمِ حدیث کی دولت سے مالا مال کیا۔ آج ملک اور بیرونِ ملک میں ان کے ہزاروں شاگرد دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو درحقیقت ان کے لیے بہترین صدق جاریہ اور ان کی علمی عظمت کا زندہ ثبوت ہیں۔مولانا فاروق احمد راشدی نہ صرف ایک بلند پایہ محدث اور مفسر تھے بلکہ وہ تقوی، اخلاص، عاجزی، بردباری اور حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ بھی تھے۔ ان کی شخصیت علم و عمل کا حسین امتزاج تھی۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص ان کے خلوص، شفقت اور روحانی عظمت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا۔ انہوں نے اپنے کردار، تدریس اور دعوت کے ذریعے بے شمار لوگوں کی زندگیاں بدل دیں اور اپنے شاگردوں کے دلوں میں محبت، ادب اور دین کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام دینی و علمی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کا ساتھ نصیب فرمائے اور تمام پسماندگان، شاگردوں، متعلقین اور اہلِ محبت کو یہ عظیم صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔
-

پی آئی اے کی ملکیت عارف حبیب کنسورشیم کو منتقل، نجکاری کا عمل مکمل
اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں قومی فضائی کمپنی کی ملکیت باضابطہ طور پر نجی شعبے کو منتقل کر دی گئی ہے۔ پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ، جو عارف حبیب کنسورشیم کی قائم کردہ اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) ہے، نے تمام قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کی ملکیت اور انتظام سنبھال لیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ منتقلی شفاف، جامع اور مسابقتی نجکاری کے عمل کے تحت مکمل کی گئی، جس کا مقصد قومی فضائی کمپنی کو مالی طور پر مستحکم بنانا، جدید خطوط پر استوار کرنا اور عالمی سطح پر اس کا وقار بحال کرنا ہے۔ اس عمل کے دوران تمام ملکی و بین الاقوامی ریگولیٹری تقاضے، عالمی قرض دہندگان کی رضامندی اور ٹیکس سے متعلق ضروری معاملات بھی مکمل کیے گئے۔
پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ نے 180 ارب روپے کی مالیت کے معاہدے کے تحت ایئرلائن کی ملکیت حاصل کی۔ اس کنسورشیم میں عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، دی سٹی اسکول (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز شامل ہیں۔
معاہدے کے تحت 55 ارب روپے حکومت پاکستان کو نجکاری کی مد میں حاصل ہوں گے، جبکہ 125 ارب روپے نئی ایکویٹی کی صورت میں براہِ راست پی آئی اے میں سرمایہ کاری کیے جائیں گے۔ یہ سرمایہ بیڑے کی جدید کاری، نئے بین الاقوامی اور مقامی روٹس کے آغاز، ڈیجیٹل نظام کی بہتری، آپریشنل اصلاحات اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔
نئی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرتے ہوئے تیز رفتار اور مؤثر فیصلہ سازی کے ذریعے پی آئی اے کو دوبارہ ایک عالمی معیار کی ایئرلائن بنانے کے لیے کام کرے گی۔
اس موقع پر نئی انتظامیہ کے چیئرمین نے کہا کہ قوم کا اعتماد صرف ملکیت کی منتقلی سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ بہترین خدمات، اعتماد اور مسلسل کارکردگی سے جیتا جاتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کے شاندار ورثے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک جدید اور عالمی معیار کی پریمیم ایئرلائن بنایا جائے گا تاکہ مسافروں کا اعتماد دوبارہ بحال ہو سکے۔ -

23 فور ایل بھوہڑانوالہ مسلسل محرومیاں کا شکار ،تحریر :ملک ظفر اقبال بھوہڑ
دیہاتوں کی ترقی ہی،، پاکستان کی حقیقی ترقی میں دیہاتوں کا ایک کلیدی کردار رہا ہے مگر افسوس کہ ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں دیہی علاقے آج بھی نظر انداز ہیں۔ بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں سے محرومی دیہاتوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ظاہر کرتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دیہی آبادی کو بھی وہی اہمیت دی جائے جو شہری علاقوں کو حاصل ہے قارئین افسوس کی بات یہ کہ بیوروکریسی کی اکثریت کا تعلق دیہاتوں سے ہوتا ہے۔
آج ہم آپ کو اوکاڑہ کے ایک پسماندہ ترین گاؤں کے حوالہ سے معلومات فراہم کریں گے تو آئیں اس کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہیں
اوکاڑہ کا ایک ایسا گاؤں جس کی سڑکیں گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں وہ حلقہ پی پی 190 اور این اے 136 کا گاؤں 23 فور ایل بھوہڑانوالہ ہے۔بھوہڑ قوم اوکاڑہ کی جانی پہچانی قوموں میں شمار ہوتی ہے
ضلع اوکاڑہ کو پنجاب کا زرعی دل کہا جاتا ہے، مگر اس زرعی ضلع کے کئی دیہات آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ حلقہ پی پی 190 اور این اے 136 میں واقع گاؤں 23 فور ایل بھوہڑانوالہ بھی انہی دیہات میں شامل ہے۔ اوکاڑہ شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب میں واقع یہ گاؤں محنت کش کسانوں اور باہمت لوگوں کی بستی ہے، لیکن مسلسل حکومتی عدم توجہ اور بنیادی مسائل نے یہاں کے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے۔
گاؤں کی زیادہ تر آبادی کھیتی باڑی سے وابستہ ہے، مگر زراعت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ ایک طرف زیر زمین پانی کڑوا ہے، جس کے باعث ٹیوب ویل کا پانی زیادہ تر فصلوں کے لیے موزوں نہیں، جبکہ دوسری جانب نہری پانی کی شدید قلت نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ راستے میں پانی کی مبینہ چوری اور نہری نظام کی ناقص نگرانی کی وجہ سے آخری ٹیل پر واقع 23 فور ایل کو اس کا جائز حصہ نہیں ملتا۔
اہلِ علاقہ کا مؤقف ہے کہ محکمہ انہار اوکاڑہ کی غفلت یا مبینہ ملی بھگت کے باعث کئی دہائیوں سے کسانوں کو مسلسل مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے اور آخری ٹیل تک نہری پانی پہنچایا جائے تاکہ کسانوں کی معاشی مشکلات کم ہو سکیں۔
گاؤں میں سیوریج کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ بارش ہوتے ہی گلیاں، سڑکیں اور رہائشی علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی کئی کئی دن تک کھڑا رہتا ہے، جس سے شہریوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے، بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
گاؤں کی سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ جگہ جگہ گہرے گڑھے سفر کو خطرناک بنا دیتے ہیں اور کسانوں کو اپنی زرعی پیداوار منڈیوں تک پہنچانے میں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
تعلیمی ادارے موجود ہونے کے باوجود ان کی کارکردگی عوامی توقعات کے مطابق نہیں۔ معیاری تعلیم اور جدید سہولیات کی کمی نوجوان نسل کے روشن مستقبل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اسی طرح بنیادی مرکز صحت بھی عملے، ادویات اور سہولیات کی کمی کے باعث عوام کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہا۔
بے روزگاری نے اس گاؤں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں اور کئی خاندانوں نے بہتر مستقبل کی تلاش میں گاؤں چھوڑ کر دوسرے شہروں کا رخ کر لیا ہے، جس سے گاؤں کی معاشی اور سماجی زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔
23 فور ایل بھوہڑانوالہ کے کسانوں کا ایک اہم مطالبہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ زیر زمین پانی کڑوا ہے اور نہری پانی کی مسلسل کمی کے باعث زراعت شدید متاثر ہو رہی ہے، اس لیے حکومت اس علاقے کے کسانوں کے لیے خصوصی سولر سسٹم پیکج متعارف کرائے۔ کسانوں کا مؤقف ہے کہ اگر سولر توانائی کی سہولت فراہم کی جائے تو ان کے زرعی اخراجات کم ہوں گے، وہ اپنی زمینوں کو بہتر طریقے سے آباد کر سکیں گے، اپنے بچوں کی معیاری تعلیم و تربیت کا بندوبست کر سکیں گے اور ایک باوقار زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں گے۔
یہ مطالبہ صرف ایک گاؤں کا نہیں بلکہ ان تمام آخری ٹیلوں پر آباد کسانوں کی آواز ہے جو برسوں سے پانی کی کمی، مہنگی بجلی، بڑھتی پیداواری لاگت اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ، محکمہ انہار اور منتخب عوامی نمائندے اس گاؤں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ نہری پانی کی منصفانہ تقسیم، پانی کی چوری کی روک تھام، جدید سیوریج سسٹم، نکاسی آب کا مؤثر انتظام، ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی تعمیر، صحت و تعلیم کی بہتری اور کسانوں کے لیے خصوصی سولر پیکج جیسے اقدامات نہ صرف 23 فور ایل بھوہڑانوالہ بلکہ پورے علاقے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
ترقی کا اصل معیار صرف شہروں کی چمکتی سڑکیں نہیں بلکہ وہ دیہات ہیں جہاں پاکستان کی معیشت کا ستون، یعنی کسان آباد ہیں۔ اگر 23 فور ایل بھوہڑانوالہ جیسے دیہات کو ان کا حق مل جائے تو یہی بستیاں پنجاب کی حقیقی ترقی کی روشن مثال بن سکتی ہیں۔
امید کا دامن تھامے رکھیں مگر پچھلے 78 سالوں سے آخر کب تک -

اوکاڑہ،چک نمبر 14 فور ۔ایل بھٹہ ملٹری فارم میں مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبے کا افتتاح
اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)چک نمبر 14 فور ایل بھٹہ ملٹری فارم میں عوامی فلاح کا ایک اور وعدہ پورا,,ملک خالد یعقوب واپڈا کوآرڈینیٹر,اوکاڑہ حلقہ این اے 136 میں عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں چک نمبر 14 فور ۔ایل بھٹہ ملٹری فارم میں مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔
افتتاحی تقریب میں عاشق حسین نے فیتہ کاٹ کر منصوبے کا افتتاح کیا، جبکہ تقریب کے مہمانِ خصوصی کرنل ر مظہر تیمور تھے۔ اس موقع پر ملک خالد، شہزاد محمود نمبردار، عباس، کاشف قادری بھائی سمیت معززینِ علاقہ، سماجی شخصیات اور اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔شرکاء نے اس ترقیاتی منصوبے کو علاقے کے عوام کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی سے عوام کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی اور علاقہ ترقی کی نئی راہ پر گامزن ہوگا۔تقریب کے دوران واپڈا کوآرڈینیٹر ملک خالد یعقوب کی خصوصی کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ مقررین نے کہا کہ ملک خالد یعقوب نے عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبے کی تکمیل کے لیے مسلسل جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچا۔اس موقع پر چوہدری ریاض الحق جج، ایم این اے حلقہ این اے 136 کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا، جن کی دلچسپی، رہنمائی اور عملی تعاون سے یہ عوامی منصوبہ مکمل ہوا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حلقے میں ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آسکیں۔تقریب کے اختتام پر ملکی ترقی، خوشحالی اور علاقے کی مزید تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
-

اتحاد اور امن ہی پاکستان کی طاقت ہیں، حافظ طاہر محمود اشرفی
راولپنڈی: چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو امن، محبت، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیغامِ پاکستان کا بنیادی مقصد بھی معاشرے میں امن، ہم آہنگی اور انتہا پسندی کے خاتمے کو فروغ دینا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پوری قوم آج ایک صفحے پر متحد ہے اور یہی اتحاد پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امت مسلمہ کے اتحاد اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ دشمن مختلف سازشوں کے ذریعے پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کراچی میں سندھ رینجرز ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کو ناکام بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں جنہیں پوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے تمام طبقات کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد ہی ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا مؤثر راستہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی نے دنیا بھر میں ملک کا وقار بلند کیا اور پاکستان کا مثبت تشخص مزید مضبوط ہوا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور عالمی برادری کو اس مسئلے پر مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ -

سیالکوٹ: دریائے چناب میں نہاتے ہوئے دو نوجوان ڈوب کر جاں بحق
سیالکوٹ (بیورو چیف مدثر رتو سے ) تحصیل سیالکوٹ کے علاقے چکرالہ کے قریب دریائے چناب میں نہاتے ہوئے دو نوجوان گہرے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی واٹر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔ ریسکیو غوطہ خوروں نے مسلسل کوششوں کے بعد 18 سالہ کلیم (رہائشی پریم نگر) اور 18 سالہ حسنین کی نعشیں دریائے چناب سے نکال لیں۔ریسکیو اہلکاروں نے ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد دونوں نوجوانوں کی نعشیں ان کے لواحقین کے حوالے کر دیں۔ افسوسناک واقعے پر علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی اور اہل خانہ غم سے نڈھال ہو گئے۔
ریسکیو 1122 نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ دریاؤں، نہروں اور دیگر آبی مقامات پر نہاتے وقت انتہائی احتیاط برتیں، گہرے پانی میں جانے سے گریز کریں اور حفاظتی تدابیر پر عمل کریں تاکہ ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔
-

آج رات ’’اسٹرابیری مون‘‘ آسمان پر جلوہ گر
آج رات موسم گرما کا پہلا مکمل چاند، جسے اسٹرابیری مون کہا جاتا ہے، آسمان پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آئے گا۔ فلکیاتی ماہرین کے مطابق یہ چاند 29 جون کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام 7 بج کر 57 منٹ پر اپنے عروج پر پہنچے گا، جبکہ 30 جون تک بھی یہ تقریباً مکمل چاند کی صورت میں دیکھا جا سکے گا۔
اس سال کا اسٹرابیری مون ایک مائیکرو مون بھی ہوگا، یعنی اس وقت چاند زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہوگا۔ اسی وجہ سے یہ عام مکمل چاند کے مقابلے میں کچھ چھوٹا اور قدرے مدھم دکھائی دے سکتا ہے، تاہم اس کا نظارہ پھر بھی دلکش ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اس خوبصورت فلکیاتی منظر کو دیکھنے کے لیے کسی خاص دوربین یا جدید آلات کی ضرورت نہیں۔ اگر موسم صاف ہو تو چاند کو عام آنکھ سے باآسانی دیکھا جا سکتا ہے، البتہ دوربین یا چھوٹی ٹیلی اسکوپ استعمال کرنے سے چاند کی سطح کی مزید تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔
بہترین نظارے کے لیے شہری علاقوں کی تیز روشنیوں سے دور کسی کھلے مقام کا انتخاب کرنے اور پہلے سے مقامی موسمی صورتحال کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ بادل چاند کے دیدار میں رکاوٹ نہ بنیں۔
اگرچہ اس کا نام اسٹرابیری مون ہے، لیکن یہ چاند سرخ یا گلابی رنگ کا نہیں ہوگا بلکہ عام مکمل چاند کی طرح ہی دکھائی دے گا۔ اس نام کا تعلق شمالی امریکا کے مقامی قبائل، خصوصاً الگونکوئن قبائل، سے ہے جو سال کے مختلف موسموں کی نشاندہی کے لیے مکمل چاندوں کو الگ الگ نام دیتے تھے۔
ناسا کے مطابق اس چاند کو اسٹرابیری مون اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اس موسم میں نمودار ہوتا ہے جب اسٹرابیری سمیت مختلف بیریاں پکنے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ اس کا تعلق صرف موسم اور فصلوں کے وقت سے ہے، نہ کہ چاند کے رنگ سے۔ -

مالی سال 2025-26 میں عوام نے ملکی تاریخ کا مہنگا ترین پیٹرول اور ڈیزل خریدا
اسلام آباد: مالی سال 2025-26 عوام کے لیے ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے انتہائی مہنگا ثابت ہوا، جہاں شہریوں کو ملکی تاریخ کا سب سے مہنگا پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل خریدنا پڑا۔ اس دوران صارفین نے پٹرولیم لیوی کی مد میں بھی ریکارڈ مالی بوجھ برداشت کیا۔
دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 30 جون کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے دوران ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 257 روپے 76 پیسے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 199 روپے 98 پیسے تک بڑھ گئی۔
رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر میں تبدیلی اور حکومتی ٹیکسوں و پٹرولیم لیوی کے باعث صارفین کو ایندھن کی ریکارڈ قیمتیں ادا کرنا پڑیں۔ اس عرصے کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کئی بار ردوبدل کیا گیا، تاہم مجموعی طور پر مالی سال عوام کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔
ماہرین معاشیات کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اشیائے خورونوش، زرعی پیداوار، صنعتی لاگت اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور مالیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن ترقیاتی اور مالیاتی اہداف کے حصول میں استعمال کی جاتی ہے۔
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر جاری اعداد و شمار نے ایک بار پھر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ان کے عوامی زندگی پر پڑنے والے معاشی اثرات کو نمایاں کر دیا ہے۔