Baaghi TV

Blog

  • آبنائے ہرمز  پر اصل خودمختا ر ی اور حق صرف ایران اور عمان کا ہے،قالیباف

    آبنائے ہرمز پر اصل خودمختا ر ی اور حق صرف ایران اور عمان کا ہے،قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ہم مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے ایران کی جانب سے اس وقت جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں، ان کا مقصد صرف پہلے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

    سرکاری میڈیا سے گفتگو میں قالیباف نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کی فیس سے صرف 60 روزہ عارضی استثنا دیا گیا ہے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران اپنے مؤقف میں کوئی نرمی لائے گا آبنائے ہرمز ہماری علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے امریکا یہ تاثر دینے کی کوشش نہ کرے کہ ایران نے اس آبی گزرگاہ کو عسکری بنا دیا ہے ہم کسی بھی قیمت پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    قالیباف نے آبنائے ہرمز کو خدا کی عطا کردہ نعمت اور ایران کا سب سے مؤثر ذریعۂ طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی انتظامی اور قانونی امور پر ایران اور عمان کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہو چکا ہے، آبنائے ہرمز سے بغیر کسی ٹیکس یا لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، کیونکہ اس سمندری راستے پر اصل خودمختا ر ی اور حق صرف ایران اور عمان کا ہے اور وہاں بحری جہازوں کی آمدورفت انہی اصولوں کے مطابق ہوگی جو ایران طے کرے گاہم خلیج کے ساحلی ممالک کے ساتھ ہر وقت مشورہ کرتے رہتے ہیں، اگر امریکا نے ایران کو اپنا تیل بیچنے سے روکنے کی کوشش کی، تو پھر یاد رکھے کہ دنیا میں کوئی بھی تیل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔

    ایرانی اسپیکر کے مطابق ایران، امریکا اور لبنان کے درمیان کشیدگی سے بچاؤ کے لیے ایک مشترکہ رابطہ سیل قائم کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے جس کے لیے تہران اور واشنگٹن اپنے نمائندے مقرر کر چکے ہیں جبکہ لبنان کی جانب سے بھی جلد نمائندہ نامزد کیے جانے کی توقع ہےایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد صرف دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں 4 کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کیا جا چکا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مؤثر سفارت کاری اور مضبوط دفاعی طاقت مل کر نتائج دے سکتی ہیں۔

    انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام، دفاعی صلاحیتیں اور یورینیم افزودگی کا حق کسی بھی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ان کے بقول یورینیم افزودگی ہمارا قانونی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اگر تمام امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو مذاکرات جاری رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر مفاہمتی یادد اشت کی 60 روزہ مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

  • پاکستان کی جانب سے  یکم جولائی کو چار ممالک کیلئے تہنیتی پیغامات جاری

    پاکستان کی جانب سے یکم جولائی کو چار ممالک کیلئے تہنیتی پیغامات جاری

    یکم جولائی کو دنیا کے 4 ممالک کینیڈا، روانڈا، برونڈی اور صومالیہ اپنے قومی دن یا یومِ آزادی منا رہے ہیں اس موقع پر پاکستان نے چاروں ممالک کی حکومتوں اور عوام کو مبارک باد پیش کی ہے-

    یکم جولائی کو کینیڈا نے اپنا قومی دن (کینیڈا ڈے)، جبکہ روانڈا، برونڈی اور صومالیہ نے اپنا یومِ آزادی منایا اس موقع پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے چاروں ممالک کی حکومتوں اور عوام کے نام الگ الگ تہنیتی پیغامات جاری کیے،وزارتِ خارجہ نے کینیڈا کو ’کینیڈا ڈے‘ کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا، جبکہ روانڈا، برونڈی اور صومالیہ کو ان کے یومِ آزادی پر دلی مبارک باد دی اپنے پیغامات میں پاکستان نے چاروں ممالک کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    کینیڈا (Canada): یکم جولائی 1867ء کو برطانوی شمالی امریکہ ایکٹ کے تحت کینیڈا نے برطانیہ سے خودمختاری حاصل کی تھی، جسے ہر سال Canada Day کے طور پر منایا جاتا ہے-

    روانڈا (Rwanda): روانڈا نے یکم جولائی 1962ء کو بیلجیم سے آزادی حاصل کی تھی اور اس دن کو اس کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے-

    برونڈی (Burundi): برونڈی نے بھی روانڈا کے ساتھ ہی یکم جولائی 1962ء کو بیلجیم سے مکمل آزادی حاصل کی تھی اور تب سے یہ دن Burundi Independence Day کے طور پر منایا جاتا ہے-

    صومالیہ (Somalia): یکم جولائی 1960ء کو برطانوی صومالی لینڈ اور اطالوی صومالی لینڈ متحد ہو کر صومالی جمہوریہ (Republic of Somalia) بنے تھے، جسے Somalia – Independence Day کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے-

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    ایران کی جانب سے امریکی نمائندوں سے ملاقات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں بدھ کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 50 سینٹ یا 0.69 فیصد اضافے کے ساتھ 73.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 63 سینٹ یا 0.91 فیصد اضافے کے بعد 70.13 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

    رواں سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے درمیان برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 45 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سب سے بڑی سہ ماہی کمی ہے اسی عرصے میں امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 31 ڈالر فی بیرل گری، جو 2020 میں کورونا وبا کے دوران عالمی طلب میں شدید کمی کے بعد سب سے بڑی گراوٹ تھی۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے سروے کے مطابق تجزیہ کاروں نے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ 2026 کے لیے تیل کی قیمتوں کی پیشگوئی کم کر دی ہے اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بحالی ہے، جس سے تیل کی فراہمی میں طویل تعطل کے خدشات کم ہوئے ہیں۔

    ادھر امریکی پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 61 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پیٹرول کے ذخائر بھی کم ہوئے ہیں۔

    اب سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے تیل کے سرکاری ذخائر کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں، جو عالمی منڈی کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • پاک فوج نے افغان طالبان کے 4 ڈرون مار گرائے ، آئی ایس پی آر

    پاک فوج نے افغان طالبان کے 4 ڈرون مار گرائے ، آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سرحد پار ڈرون پروازوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے آنے والے 4 ڈرونز مار گرائے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان رجیم نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد پر 4 ڈرونز بھیجے، افغان طالبان رجیم نےاپنے زیرِکنٹرول علاقوں سےسرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں یہ ڈرونز پاکستان بھیجے،پاکستان کا فضائی دفاعی نیٹ ورک متحرک ہے، مؤثرجوابی کارروائی کے نتیجے میں ڈرونز مار گرائے سکیورٹی فورسز نے چاروں آنے والے ڈرونز کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کی فوری نشاندہی کی اور مار گرایا، سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی نظام کے ذریعے چاروں ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کردیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنا دیے، افغان طالبان کے ہتھکنڈے افغان عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہیں، افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سرپرستی ترک کرے،افغان طالبان کا غیرذمہ دارانہ طرزِ عمل افغان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہاہے، افغان طالبان کو پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا تو انہیں ایسا مؤثر جواب دیا جائے گا جس کی بھاری قیمت چکانا پڑےگی پاکستان کی مسلح افواج ہر وقت مکمل طور پر چوکس ہیں، مسلح افواج وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، سرحد پارکسی بھی جارحیت کا آپریشن غضبُ الحق کے تحت فوری، فیصلہ کن اور بھرپورجواب دیا جاتا رہے گا۔

  • مجتبیٰ خامنہ ای نشانے پر ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع

    مجتبیٰ خامنہ ای نشانے پر ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایر ان کے درمیان جاری مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ سے فوجی حملے کرنے کا فیصلہ کریں گےیا اگر ایران نے اسرائیل پر کوئی بھی میزائل یا ڈرون داغا تو صرف دو دن کے اندر باضابطہ طور پر جنگ شروع ہو سکتی ہے۔

    اسرائیل کاٹز نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ اس وقت ایرانی قیادت بنکروں میں چھپی ہوئی ہے اور ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ہمارے نشانے پر ہیں،اسرائیلی فوج نے آزادانہ کارروائی کے لیے ’بلیو اینڈ وائٹ‘ نامی آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور ایران کے اندر گھس کر نشانہ بنانے کا پورا پلان تیار ہے،اگر امریکا اور ایر ان کے درمیان جاری مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ سے فوجی حملے کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

    تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اس وقت قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والی سفارتی کوششوں اور بات چیت کو خراب نہیں کرنا چاہتا، لیکن جب بات اپنے ملک کی حفاظت اور دفاع کی ہو تو لبنان ہو یا ایران، کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا ہم نے اپنا یہ سخت موقف امریکی حکام کو بھی صاف صاف بتا دیا ہے کہ اسرائیل اپنی زمین پر کسی بھی میزائل حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اسرائیلی فوج دفاع اور حملے دونوں کے لیے بالکل تیار کھڑی ہے، اور اگر کوئی بڑا خطرہ نظر آیا تو ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے ایران پر فوری حملہ کر دیا جائے گا۔

  • 
لارڈز میں ویرات کوہلی کی پاکستانی مداح سے ملاقات، ویڈیو وائرل

    
لارڈز میں ویرات کوہلی کی پاکستانی مداح سے ملاقات، ویڈیو وائرل

    ‎لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک معذور کرکٹ مداح سے ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جسے پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے صارفین کی جانب سے مثبت انداز میں سراہا جا رہا ہے۔
    ‎وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ویرات کوہلی وہیل چیئر پر موجود پاکستانی مداح کے پاس رکتے ہیں، ان سے خوش اخلاقی کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان کی بات توجہ سے سنتے ہیں۔
    ‎ملاقات کے دوران مداح کے ساتھ موجود ایک شخص نے ویرات کوہلی سے کہا، "سر! ہم پاکستان سے ہیں، لیکن ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔” اس پر ویرات کوہلی نے مسکراتے ہوئے مداح سے بات چیت جاری رکھی اور ان سے گرمجوشی کا اظہار کیا۔
    ‎یہ مختصر مگر جذباتی ملاقات سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو گئی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ کھیل قوموں کو قریب لانے اور باہمی احترام و محبت کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتا ہے، جبکہ کئی افراد نے ویرات کوہلی کے رویے کو کھیل کی حقیقی روح قرار دیا۔
    ‎ویڈیو کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں اور دونوں ممالک کے کرکٹ شائقین اس ملاقات کو کھیل کے ذریعے انسانیت، احترام اور محبت کی خوبصورت مثال قرار دے رہے ہیں۔

  • 
ملائیشیا نے ایم ایچ 370 کی تلاش میں ایک سال کی مزید توسیع کر دی

    
ملائیشیا نے ایم ایچ 370 کی تلاش میں ایک سال کی مزید توسیع کر دی

    ‎ملائیشیا نے لاپتہ ہونے والی ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 کی تلاش کا عمل مزید ایک سال کے لیے بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق تلاش کا موجودہ معاہدہ اب 30 جون 2027 تک برقرار رہے گا۔
    ‎ملائیشیا ایئر لائنز کا بوئنگ 777 طیارہ 8 مارچ 2014 کو 239 افراد کو لے کر کوالالمپور سے بیجنگ جا رہا تھا کہ دورانِ پرواز اچانک ریڈار سے غائب ہو گیا۔ یہ واقعہ آج بھی ہوا بازی کی تاریخ کے سب سے بڑے اور پراسرار رازوں میں شمار ہوتا ہے۔
    ‎طیارے میں سوار افراد میں تقریباً دو تہائی مسافر چین سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ دیگر مسافروں میں ملائیشیا، انڈونیشیا، آسٹریلیا، بھارت، امریکا، نیدرلینڈز اور فرانس کے شہری بھی شامل تھے۔
    ‎ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ انتھونی لوک نے بتایا کہ سمندری تحقیقاتی کمپنی اوشین انفینٹی کے ساتھ موجودہ معاہدے میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے اور معاہدے کی تمام شرائط بدستور برقرار رہیں گی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں "نو فائنڈ، نو فیس” کی شرط بھی شامل رہے گی، یعنی اگر طیارے کا ملبہ دریافت نہ ہوا تو کمپنی کو کوئی ادائیگی نہیں کی جائے گی، جبکہ کامیابی کی صورت میں کمپنی کو 7 کروڑ امریکی ڈالر ادا کیے جائیں گے۔
    ‎واضح رہے کہ اوشین انفینٹی نے 2018 میں بھی ایم ایچ 370 کی تلاش کی تھی، جبکہ آسٹریلیا کی قیادت میں ہونے والا تین سالہ بین الاقوامی سرچ آپریشن جنوری 2017 میں بغیر کسی کامیابی کے ختم کر دیا گیا تھا۔
    ‎دس سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ایم ایچ 370 کی گمشدگی اب بھی دنیا کے سب سے پیچیدہ فضائی حادثات میں شمار کی جاتی ہے، اور اس کے مسافروں کے اہلِ خانہ اب بھی کسی حتمی جواب کے منتظر ہیں۔

  • 
یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، اٹلی  میں ریڈ الرٹ جاری

    
یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، اٹلی میں ریڈ الرٹ جاری

    ‎روم: یورپ اس وقت تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جہاں اٹلی، فرانس، کروشیا، سربیا، البانیہ اور بلقان کے دیگر ممالک میں غیر معمولی درجہ حرارت نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ کئی شہروں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
    ‎اٹلی میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں 27 میں سے 25 بڑے شہروں میں شدید گرمی کے باعث ریڈ الرٹ نافذ ہے۔ شمالی شہر بولزانو سے لے کر جنوبی جزیرے سسلی کے شہر پالرمو تک درجہ حرارت خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ دارالحکومت روم میں بھی مقامی شہریوں اور سیاحوں کو شدید گرمی کا سامنا ہے جبکہ طبی ماہرین نے بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔
    ‎کروشیا کے محکمہ موسمیات نے دارالحکومت زغرب سمیت مشہور سیاحتی شہروں ڈوبروونک اور اسپلٹ کے لیے بھی ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ ادھر ایڈریاٹک سمندر میں واقع سیاحتی جزیرے وس پر جنگلات میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے درجنوں فائر فائٹرز اور چار طیارے مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
    ‎پڑوسی ملک سربیا میں بھی درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ البانیہ میں جنوبی علاقے کے ایک گاؤں کے قریب بھڑکنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم اس دوران جھاڑیوں اور زیتون کے باغات کا بڑا حصہ جل کر تباہ ہو گیا۔
    ‎فرانس میں بھی شدید گرمی کے باعث ہنگامی صورتحال برقرار ہے۔ وزیراعظم سباستیان لیکورنو نے ملک کے صحت سے متعلق ہنگامی ردعمل کے نظام کو اعلیٰ ترین سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی محکمہ صحت کے مطابق گرمی کی اس لہر کے باعث اب تک تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جن میں زیادہ تر بزرگ شہری شامل ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
    ‎ماہرین موسمیات کے مطابق 20 جون سے جاری یہ گرمی کی لہر یورپ کی تاریخ کی شدید ترین ہیٹ ویوز میں شمار کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی یورپ پر قائم ہائی پریشر کا طاقتور نظام، جسے "ہیٹ ڈوم” کہا جاتا ہے، شدید گرمی کو ایک ہی خطے میں قید کیے ہوئے ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور فوسل فیول کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اس نوعیت کی شدید گرمی کی لہروں کو پہلے سے زیادہ بار بار اور زیادہ خطرناک بنا دیا ہے، جس کے اثرات توانائی کے نظام، بنیادی ڈھانچے، زراعت اور صحت کے شعبے پر واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

  • 
چین سے بڑھتے تجارتی خسارے پر یورپی یونین کا سخت مؤقف

    
چین سے بڑھتے تجارتی خسارے پر یورپی یونین کا سخت مؤقف

    برسلز: یورپی یونین نے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی عدم توازن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال مزید قابل قبول نہیں۔ یورپی یونین کے تجارتی کمشنر ماروش شیفچووچ نے برسلز میں چینی وزیر تجارت وانگ وینتاؤ کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں توازن پیدا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
    ‎مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماروش شیفچووچ نے کہا کہ چین کی یورپی یونین کو برآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ چینی منڈی میں یورپی مصنوعات کا حصہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو یورپی صنعت اور معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے موجودہ تجارتی نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔
    ‎گزشتہ کئی برسوں تک یورپی یونین آزاد تجارت کی مضبوط حامی سمجھی جاتی تھی، تاہم اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ یورپی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ چینی صنعت کو حکومتی سبسڈیز، کم لاگت پیداوار اور بڑے پیمانے پر صنعتی سہولیات حاصل ہونے کے باعث یورپی کمپنیوں کو غیر مساوی مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    ‎یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن اس سے قبل بھی چینی صنعت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو "نیا چائنا شاک” قرار دے چکی ہیں۔ یورپی ممالک کے درمیان اگرچہ اس بات پر مختلف آراء موجود ہیں کہ چین کے خلاف کتنی سخت تجارتی پالیسیاں اختیار کی جائیں، تاہم اس پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ مقامی صنعت اور روزگار کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
    ‎بین الاقوامی تعلقات کے ماہر پروفیسر فلپ لی کورے کے مطابق یورپ میں چین کے حوالے سے سوچ نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کے بقول یورپی کمپنیاں اب حقیقی خطرات محسوس کر رہی ہیں، اسی لیے یورپی یونین اپنی آزاد تجارتی اور صنعتی حکمت عملی تشکیل دینے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی سرپلس 360 ارب 60 کروڑ یورو تک پہنچ گیا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے۔ اس وقت چین شمسی توانائی کے پینلز، نایاب معدنیات، کیمیکلز، صنعتی روبوٹس اور دیگر اہم شعبوں میں یورپی منڈی پر مضبوط گرفت رکھتا ہے۔
    ‎ادھر چینی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں بھی یورپ کی معروف آٹو موبائل صنعت کے لیے بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 35.3 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے باوجود بی وائی ڈی، جیلی اور چیری جیسے برانڈز کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مئی 2026 میں پہلی بار یورپی یونین میں فروخت ہونے والی مجموعی گاڑیوں میں چینی برانڈز کا حصہ 10 فیصد سے تجاوز کر گیا، جس نے یورپ کی روایتی آٹو انڈسٹری کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

  • شوکت نواز میر کی گرفتاری کی خبرفیک، بی بی سی کی خبر غلط نکلی

    شوکت نواز میر کی گرفتاری کی خبرفیک، بی بی سی کی خبر غلط نکلی

    ‎آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے کور ممبر شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی آزاد کشمیر پولیس نے تردید کر دی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق شوکت نواز میر کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا اور ان کی گرفتاری سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
    ‎گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مختلف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ شوکت نواز میر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ بھی زیر گردش رہی، تاہم آزاد کشمیر پولیس کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ایسی اطلاعات درست نہیں اور شوکت نواز میر اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہیں آئے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق شوکت نواز میر مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے کارروائیاں کی گئی تھیں، تاہم وہ گرفتاری سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔
    ‎حکام کے مطابق کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کمیٹی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کر رہی تھی، جس کے تناظر میں مختلف معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎یاد رہے کہ آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ نے اس سے قبل شوکت نواز میر سمیت کالعدم کمیٹی کے چار سرگرم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔ انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان کے نام شامل ہیں۔
    ‎پولیس حکام نے کہا ہے کہ مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی اور قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ دوسری جانب شوکت نواز میر کی جانب سے اس تازہ مؤقف پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ معاملے پر مزید پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔