Baaghi TV

Blog

  • فتح ٹو بمقابلہ Pinaka اور Pralay: جنوبی ایشیا میں پریسژن اسٹرائیک کی بدلتی ہوئی حرکیات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    فتح ٹو بمقابلہ Pinaka اور Pralay: جنوبی ایشیا میں پریسژن اسٹرائیک کی بدلتی ہوئی حرکیات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان کی جانب سے حالیہ کامیاب تجربہ، FATEH-II گائیڈڈ میزائل کا، جنوبی ایشیا میں روایتی ڈیٹرنس (deterrence) میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اپنی بڑھائی گئی رینج، اعلیٰ درستی (precision) اور maneuverability کے باعث یہ نظام روایتی توپ خانے سے نکل کر پریسژن ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت کی جانب ایک واضح نظریاتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جو خطے کے عسکری توازن کو نئی شکل دے رہا ہے۔

    FATEH-II: پاکستان کی پریسژن ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت

    FATEH-II ایک جدید گائیڈڈ راکٹ سسٹم ہے جس کی رینج تقریباً 400 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جو اسے quasi-theatre strike ہتھیاروں کے زمرے میں شامل کرتی ہے۔
    روایتی آرٹلری راکٹس کے برعکس، اس میں شامل ہیں
    * جدید ایویونکس اور نیویگیشن سسٹمز
    * اعلیٰ درجے کی ہدفی درستگی
    * میزائل دفاعی نظام سے بچنے کے لیے maneuverable trajectory

    یہ نظام پاکستان کے راکٹ آرٹلری کو ایک ایسے پریسژن اسٹرائیک پلیٹ فارم میں تبدیل کرتا ہے جو دشمن کے علاقے کے اندر گہرائی میں موجود اہم اہداف جیسے ایئر بیسز، لاجسٹک مراکز اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ FATEH-II، ایک قابلِ اعتماد روایتی متبادل فراہم کرکے اسٹریٹجک (جوہری) آپشنز پر انحصار کم کرتا ہے۔

    بھارتی نظام: Pinaka اور Pralay
    بھارت اس میدان میں دو اہم نظام رکھتا ہے:
    1. Pinaka MLRS
    * بنیادی طور پر ملٹی بیرل راکٹ لانچر (MBRL) سسٹم
    * روایتی طور پر کم رینج، تاہم بھارت 400–500 کلومیٹر تک توسیع شدہ ورژنز پر کام کر رہا ہے
    * بنیادی مقصد ایریا سیچوریشن، نہ کہ نقطہ وار درستگی

    2. Pralay میزائل
    * ایک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل جس کی رینج 150–500 کلومیٹر ہے
    * بھاری وارہیڈ (350–1000 کلوگرام) لے جانے کی صلاحیت
    * اہم اسٹریٹجک اہداف جیسے رن ویز اور کمانڈ انفراسٹرکچر کے لیے ڈیزائن کیا گیا

    تقابلی جائزہ
    خصوصیت FATEH-II (پاکستان) Pinaka (بھارت) Pralay (بھارت)قسم گائیڈڈ راکٹ / quasi-ballistic MLRS (راکٹ آرٹلری) ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل رینج تقریباً 400 کلومیٹر 40–75 کلومیٹر (موجودہ) 150–500 کلومیٹر،درستگی اعلیٰ (گائیڈڈ) کم (ایریا سیچوریشن) اعلیٰ،کردار پریسژن ڈیپ اسٹرائیک میدانِ جنگ سپورٹ اسٹریٹجک روایتی حملہ،موبلٹی زیادہ زیادہ زیادہ

    اہم نکات
    * FATEH-II بمقابلہ Pinaka:
    FATEH-II رینج اور درستگی دونوں میں Pinaka سے واضح طور پر برتر ہے۔
    * FATEH-II بمقابلہ Pralay:
    Pralay زیادہ طاقتور اور بھاری بیلسٹک میزائل ہے، لیکن FATEH-II لچک، بقا (survivability) اور لاگت کے لحاظ سے بہتر ہے۔
    * نظریاتی فرق:
    * پاکستان: پریسژن روایتی ڈیٹرنس کی طرف پیش رفت
    * بھارت: سیچوریشن (Pinaka) اور بیلسٹک اسٹرائیک (Pralay) کا امتزاج

    پاکستان کے لیے اسٹریٹجک اہمیت
    1. روایتی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا
    FATEH-II پاکستان کو جوہری سطح تک گئے بغیر گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتا ہے، جس سے بحران میں استحکام بڑھتا ہے۔

    2. کاؤنٹر فورس صلاحیت

    یہ درج ذیل اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے:
    * ایئر بیسز
    * لاجسٹک مراکز
    * میزائل سائٹس

    3. بقا اور لچک
    موبائل لانچ پلیٹ فارمز اور maneuverable پرواز اسے میزائل دفاعی نظام کے خلاف زیادہ محفوظ بناتے ہیں۔

    4. کم لاگت پریسژن جنگ
    بیلسٹک میزائلز کے مقابلے میں، یہ کم لاگت پر زیادہ حملوں کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
    5. اسٹریٹجک سگنلنگ

    یہ نظام تکنیکی صلاحیت اور دفاعی تیاری کا واضح پیغام دیتا ہے۔

    نتیجہ
    FATEH-II پاکستان کی روایتی اسٹرائیک صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اگرچہ بھارت کا Pralay زیادہ بھاری اور طاقتور ہے، لیکن FATEH-II آرٹلری اور اسٹریٹجک میزائلز کے درمیان خلا کو پُر کرتا ہے اور درستگی، لچک اور قابلِ اعتماد ڈیٹرنس فراہم کرتا ہے۔

    جدید جنگ میں طاقت سے زیادہ اہمیت رفتار اور درستگی کی ہو گئی ہے۔ اس میدان میں FATEH-II پاکستان کو ان ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے جو بغیر جوہری حد عبور کیے پریسژن ڈیپ اسٹرائیک کر سکتے ہیں۔

    جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اب صرف جوہری ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہو رہا ہے کہ کون پہلے، تیزی سے اور درست حملہ کر سکتا ہے۔

    مصنف کے بارے میں
    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار ہیں جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری پر مہارت رکھتے ہیں، اور Research and Evaluation Cell for Advancing Basic Amenities and Development کے رکن ہیں۔

  • بلال بن ثاقب کی ڈیجیٹل معیشت میں پیش قدمی،بھارتی میڈیا پروپیگنڈے سے باز نہ آیا

    بلال بن ثاقب کی ڈیجیٹل معیشت میں پیش قدمی،بھارتی میڈیا پروپیگنڈے سے باز نہ آیا

    جیسے جیسے دنیا بھر میں ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ کار (ریگولیشن) کی دوڑ تیز ہو رہی ہے، پاکستان غیر متوقع طور پر کرپٹو اپنانے، فن ٹیک جدت اور نوجوان ڈیجیٹل ٹیلنٹ کے حوالے سے دنیا کے متحرک ترین ممالک میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس تبدیلی کے مرکز میں بلال بن ثاقب ہیں، جو پاکستان کے وزیر برائے کرپٹو و بلاک چین، وزیر اعظم کے خصوصی مشیر، اور پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین ہیں۔ صرف 30 سال کی عمر میں وہ قیادت کی ایک نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو پالیسی، ٹیکنالوجی اور عالمی وژن کا امتزاج ہے۔

    فوربز کی “30 انڈر 30” فہرست میں شامل اور شاہ چارلس سوم کی جانب سے سماجی خدمات پر MBE اعزاز حاصل کرنے والے بلال کو پاکستان کا کم عمر ترین ٹیکنوکریٹ اور ادارہ جاتی تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کی تقرری اس خطے میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال ہے جہاں پہلی بار ڈیجیٹل اثاثوں جیسے پیچیدہ شعبے کی ذمہ داری ملینئیل نسل کے رہنما کو سونپی گئی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، یہ تبدیلی حکمرانی کے انداز میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

    بلال کی کامیابی ان کی تکنیکی مہارت، عالمی تجربے اور عوامی خدمات کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ لندن اسکول آف اکنامکس کے گریجویٹ بلال نے کاروبار، تحقیق اور پالیسی سازی میں متنوع تجربہ حاصل کیا۔ حکومت میں آنے سے قبل وہ مختلف کاروباری منصوبوں کے بانی رہے، عالمی این جی اوز کے ساتھ کام کیا، اور یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اسٹارٹ اپس کو مشورے دیتے رہے۔ 2016 میں بٹ کوائن میں ابتدائی سرمایہ کاری اور بطور اینجل انویسٹر تجربہ انہیں ڈی سینٹرلائزڈ ٹیکنالوجیز کی گہرائی سمجھنے میں مدد دیتا رہا۔

    پاکستان اس وقت ایک منفرد پوزیشن میں کھڑا ہے۔ 4 کروڑ سے زائد فعال کرپٹو صارفین، سالانہ 36 ارب ڈالر ترسیلات زر، اور دنیا کی چوتھی بڑی فری لانس آبادی کے ساتھ، ملک میں ایک بڑی غیر رسمی ڈیجیٹل معیشت پہلے ہی وجود میں آ چکی ہے۔ لاکھوں پاکستانی آن لائن کماتے، لین دین کرتے اور سیکھتے ہیں، جو ضابطہ کار نظام سے آگے نکل چکی ہے۔ موبائل براڈبینڈ کے پھیلاؤ اور ڈیجیٹل مڈل کلاس کے ابھار نے پاکستان کو Chainalysis 2025 کے مطابق کرپٹو اپنانے والے سرفہرست ممالک میں شامل کر دیا ہے۔

    تاہم، کچھ عرصہ قبل تک یہ سرگرمیاں بغیر کسی واضح قانون کے جاری تھیں۔ بلال کی قیادت میں حکومت نے اس غیر رسمی معیشت کو باضابطہ بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ PVARA کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو ایکسچینجز، بروکرز اور دیگر ڈیجیٹل سروس فراہم کرنے والوں کے لیے واضح قواعد و ضوابط متعارف کروا رہی ہے۔ یہ ادارہ دبئی، سنگاپور اور یورپی یونین کے جدید ریگولیٹری ماڈلز سے متاثر ہے۔

    ریگولیشن کے علاوہ، بلال مصنوعی ذہانت (AI)، کوانٹم کمپیوٹنگ اور روبوٹکس جیسے جدید شعبوں کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو نئی سمت دینے کے بڑے حامی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو روایتی نظام سے مقابلہ کرنے کے بجائے مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں براہ راست چھلانگ لگانی چاہیے۔بلال کا اثر صرف پالیسی سازی تک محدود نہیں۔ اقوام متحدہ، ورلڈ اکنامک فورم اور عالمی ٹیک کانفرنسز میں ان کی نمائندگی نے پاکستان کے عالمی تاثر کو خطرات سے مواقع کی طرف منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ عالمی سرمایہ کاروں اور مقامی ٹیلنٹ کے درمیان ایک مضبوط پل بن چکے ہیں۔ایک ایسی دنیا میں جہاں ممالک سرمایہ کے ساتھ ساتھ ٹیلنٹ اور ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے بھی مقابلہ کر رہے ہیں، بلال بن ثاقب 21ویں صدی کے جدید عوامی رہنما کی مثال ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نہ صرف رفتار پکڑ رہا ہے بلکہ اپنی شرائط پر عالمی ڈیجیٹل معیشت میں جگہ بنا رہا ہے۔

    اسلام آباد سے اسرائیل تک،پاکستان کی کرپٹو پالیسی نے عالمی بیانیہ کیسے بدل دیا
    مئی 2025 میں پاکستان نے خاموشی سے اپنی کرپٹو پالیسی تبدیل کرتے ہوئے PVARA کا قیام عمل میں لایا۔ یہ ایک جرات مندانہ قدم تھا، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ دو سال قبل کرپٹو کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ اس ادارے کا مقصد ایکسچینجز کو لائسنس دینا، ٹوکنائزیشن اور مائننگ کے اصول وضع کرنا، اور عالمی معیار کے مطابق نظام قائم کرنا ہے۔

    اس اقدام کے فوری عالمی اثرات سامنے آئے۔ اگلے ہی دن اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں بٹ کوائن پر پہلی غیر رسمی بحث ہوئی، جس میں وہی سوالات زیر غور آئے جو پاکستان پہلے ہی حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے: ڈی سینٹرلائزڈ ٹیکنالوجی تجارت اور معیشت کو کیسے مضبوط بنا سکتی ہے؟ اور سرحدوں سے آزاد مالی نظام میں قومی سلامتی کا کیا تصور ہوگا؟یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بٹ کوائن کی قیمت 115,000 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ امریکہ، ترکی، نائجیریا اور ارجنٹینا جیسے ممالک بھی اپنی مالی پالیسیوں میں تبدیلی لا رہے ہیں۔پاکستان کی خاص بات اس کی رفتار اور حکمت عملی ہے۔ صرف چند ماہ میں ملک نے مکمل پابندی سے ریگولیشن، بٹ کوائن ذخائر کے اعلان، قانون سازی، اور عالمی ایکسچینجز کو دعوت دینے تک کا سفر طے کیا۔
    یہ تبدیلی نوجوان آبادی، بڑھتے انٹرنیٹ صارفین، اور ڈیجیٹل فری لانسرز کی بڑی تعداد کی وجہ سے بھی ناگزیر تھی۔ پاکستانیوں کے لیے کرپٹو محض سرمایہ کاری نہیں بلکہ روزمرہ مالی ضرورت بن چکی ہے۔حکومت کے لیے یہ قدم ایک اسٹریٹجک پیغام بھی ہے کہ ترقی پذیر ممالک بھی ڈیجیٹل معیشت میں قیادت کر سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر تعاون، علم کے تبادلے اور نئی سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کرپٹو دنیا میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    جیسے جیسے دنیا معاشی اور تکنیکی تقسیم کا شکار ہو رہی ہے، ڈیجیٹل اثاثے سرحدوں سے آزاد تعاون کا ایک نیا راستہ فراہم کر رہے ہیں۔ یہ صرف معیشت نہیں بلکہ پالیسی، خودمختاری اور مستقبل کی تیاری کا معاملہ بن چکا ہے۔2025 میں ممکن ہے کہ قیادت روایتی طاقتوں کے بجائے اسلام آباد کے ہاتھ میں ہو،اور پہلی بار عالمی کرپٹو بیانیہ مرکز کے بجائے حاشیے سے تشکیل پا رہا ہو، مگر پوری قوت، رفتار اور یقین کے ساتھ

    بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی میں پاکستان نے بھارت اور اسرائیل کو پیچھے چھوڑ دیا،نجی ٹی وی سے گفتگو میں بلال کا کہنا تھا کہ دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان کرپٹو میں ان ممالک سے بہت آگے ہے، کرپٹو مارکیٹ میں پاکستان نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا ہے، اب ہمیں روبوٹکس اور آرٹیفشل انٹیلی جنس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اے آئی اور بلاک چین ٹیکنالوجی اگلی نسل کی جنگ اور جدید ترین ٹولز ہیں، اے آئی ایجنٹس لاکھوں ڈالرز کی ادائیگیاں کر رہے ہیں ڈیجیٹل اکانومی ٹریلین تک پہنچ گئی، ہمیں اپنے بچوں اور یوتھ کو جدید ٹیکنالوجی کیلیے تیار کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فرسٹ اپروچ کے تحت ڈیجیٹل انقلاب کیلیے کام کر رہے ہیں، اے آئی اور بلاک چین کو ایٹمی پروگرام جیسی اہمیت دینے کی ضرورت ہے، جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے ہم اپنے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرح پاکستان میں بھی سنگل پرسن کمپنیاں اربوں ڈالر کما سکتی ہیں، نوجوانوں کو بااختیار بنا کر ہی عالمی سطح پر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے وزیر مملکت برائے کرپٹو اور بلاک چین بلال بن ثاقب کی کامیابیوں نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے، تاہم اس پیش رفت کے ساتھ ہی بھارتی میڈیا نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ مہم تیز کر دی ہے۔زرائع کے مطابق واشنگٹن میں بلال بن ثاقب کی ملاقات سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کونسل آف ایڈوائزرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بو ہائنس سے ہوئی، جس میں کرپٹو کرنسی، بلاک چین ٹیکنالوجی اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔تاہم اس پیش رفت کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے حسبِ روایت پاکستان مخالف بیانیہ اپناتے ہوئے مختلف چینلز اور پلیٹ فارمز پر منفی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں۔ بھارت کا شاید ہی کوئی بڑا چینل ایسا ہو جس نے بلال بن ثاقب کے خلاف تنقیدی یا گمراہ کن مواد نشر نہ کیا ہو۔

  • ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کیلئے آپریشن شروع کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کیلئے آپریشن شروع کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا اعلان کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے یہ مشن پیر کی صبح شروع کیا جائے گا جس کا مقصد ان ممالک کے جہازوں کو آزاد کرانا ہے جو مشرق وسطیٰ کے حالیہ تنازع میں فریق نہیں ہیں دنیا کے کئی ممالک نے اپنے پھنسے ہوئے جہاز اور عملہ نکالنے کے لیے امریکا سے مدد مانگی ہے جس کے جواب میں انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان ممالک کو بھرپور تعاون کا یقین دلائیں، آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں میں کھانے پینے کے سامان سمیت انسانی ضرورت کی بہت سی اشیاء کی شدید کمی ہو چکی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اس مشن کا مقصد ان کمپنیوں اور ملکوں کو ریلیف دینا ہے جنہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ کے بقول یہ اقدام فریقین کے درمیان خیرسگالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر اس انسانی ہمدرد ی کے عمل میں کسی نے بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا میرے نمائندے ایران کے ساتھ بہت مثبت بات چیت کر رہے ہیں اور یہ عمل سب کے لیے انتہائی بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اس مشن کے تحت تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا کیونکہ دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے ہونے والی تیل کی تجارت کا ایک چوتھائی حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے،سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اس دفاعی مشن کے لیے ہمارا تعاون علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے، جبکہ ہم بحری محاصرہ بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    اس بڑے آپریشن کی کامیابی کے لیے امریکی فوج اپنے گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز، 100 سے زائد طیاروں، جدید ڈرونز اور 15 ہزار فوجی اہلکاروں کا استعمال کرے گی تاکہ اس عالمی تجارتی راہداری میں بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

    190 ملین پاؤنڈ کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں 7 مئی کو سماعت کیلئے مقرر کر لیں-

    عدالت نے مرکزی اپیلوں کو 7 مئی کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہےعدالت نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست بھی نمٹا دی ہے، عدالت کے مطابق مرکزی اپیلوں کی سماعت شروع ہونے کے باعث سزا معطلی کی درخواستیں غیر مؤثر ہو گئی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس حوالے سے محفوظ کیا گیا فیصلہ بھی جاری کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بننچ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کرنے کرنے کی درخواستیں غیر موثر ہونے پر نمٹا ئیں۔

    بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے مرکزی اپیل پر سماعت سے قبل سزا معطلی کی درخواستیں سننے کی استدعا کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے مارچ 2025 میں سزا معطلی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ اور بشریٰ بی بی کو سات برس قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا رکھی ہے۔

  • ڈچ سیاحتی جہاز  پر ہنٹا وائرس کا حملہ،تین افراد ہلاک،ایمرجنسی نافذ

    ڈچ سیاحتی جہاز پر ہنٹا وائرس کا حملہ،تین افراد ہلاک،ایمرجنسی نافذ

    بحر اوقیانوس (اٹلانٹک) میں سفر کرنے والے ایک ڈچ سیاحتی جہاز پر ہنٹا وائرس نامی نایاب بیماری پھیلنے سے ایک بوڑھے شادی شدہ جوڑے سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ کم از کم تین دیگر افراد اس کا شکار ہوئے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور جنوبی افریقہ کے محکمہ صحت نے اتوار کے روز اس واقعے کی تصدیق کی ہےعالمی ادارہ برائے صحت نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کم از کم ایک مریض میں ہنٹا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ایک مریض جنوبی افریقہ کے اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علا ج ہے،ہم اس عوامی صحت کے واقعے سے آگاہ ہیں اور اس کی مکمل تحقیقات میں مدد کر رہے ہیں، جس میں لیبارٹری ٹیسٹ اور وائرس کی جینیاتی جا نچ بھی شامل ہے۔

    یہ سیاحتی جہاز جس کا نام ’ایم وی ہونڈیئس‘ ہے، تقریباً تین ہفتے قبل ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا اور اس نے انٹارکٹیکا سمیت کئی جزائر کا دورہ کرنا تھااس سفر کے دوران پہلا شکار 70 سالہ شخص ہوا جس کی موت جہاز پر ہی واقع ہوئی، جبکہ اس کی اہلیہ جنوبی افریقہ کے ایئرپورٹ پر اپنے وطن نیدرلینڈز واپسی کے لیے فلائٹ لیتے ہوئے اچانک گر گئیں اور قریبی اسپتال میں دم توڑ گئیں۔جنوبی افریقہ کے محکمہ صحت کے مطابق جہاز پر اس وقت تقریباً 150 سیاح سوار تھے اور وائرس کے پھیلاؤ کے بعد جنوبی افریقہ میں ان لوگوں کا پتا لگایا جا رہا ہے جو متاثرہ مسافروں کے رابطے میں رہے ہوں گے۔

    ہنٹا وائرس عام طور پر چوہوں کے فضلے یا پیشاب سے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے اور یہ پھیپھڑوں یا گردوں کی سنگین بیماری کا سبب بن سکتا ہے اگرچہ یہ بیماری نایاب ہے، لیکن عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتی ہےفی الحال اس وائرس کا کوئی خاص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے، تاہم جلد طبی امداد سے بچاؤ ممکن ہے۔

    جہاز چلانے والی کمپنی ’اوشین وائڈ ایکسپیڈیشنز‘ نے بتایا کہ جہاز فی الحال مغربی افریقہ کے قریب جزیرہ کیپ ورڈی کے ساحل پر موجود ہے، جہاں مقامی حکام جہاز کے عملے کا معائنہ کر رہے ہیں،ہماری ترجیح یہ ہے کہ بیمار عملے کے دو ارکان کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے، تاہم مقامی حکام نے ابھی تک کسی کو جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

  • امریکا نے ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا

    امریکا نے ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا

    امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش پر تحویل میں لیا گیا ایرانی جہاز عملے سمیت ایران واپسی کے لیے پاکستان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز کا کہنا ہے کہ آج امریکی افواج نے ایم وی توسکا کے 22 عملے کے ارکان کو وطن واپسی کے لیے پاکستان منتقل کر دیا ہے، مزید 6 افراد کو گزشتہ ہفتے ہی ایک علاقائی ملک منتقل کر دیا گیا تھا، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ 6 افراد عملے کے بعض ارکان کے اہلِ خانہ تھے۔

    کیپٹن ہاکنز کے مطابق توسکا جہاز کی تحویل بھی اس کے اصل مالک کو واپس کی جا رہی ہے، کیونکہ اسے گزشتہ ماہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کے دوران روکا اور ضبط کیا گیا تھا۔

    امریکی حکام کے مطابق 19 اپریل کو جب توسکا کے عملے نے امریکی بحری جہازوں کی جانب سے دی گئی 6 گھنٹے کی وارننگ کو نظر انداز کیا تو ایک امریکی ڈسٹرائر نے جہاز کے انجن روم پر متعدد گولے داغے،بعد ازاں امریکی میرینز نے جہاز پر چڑھائی کر کے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔

  • ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع

    ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع

    ملک کے بیشتر علاقوں میں پیر کے روز موسم گرم اور خشک جبکہ جنوبی علاقوں میں شدید گرم رہنے کی توقع ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر، شمال مشرقی و مشرقی پنجاب اور خطہ پوٹھوہار میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےبعض علاقوں میں ژالہ باری بھی متوقع ہے اسلام آباد اور گردونواح میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے ساتھ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ چند مقامات پر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔

    پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا جبکہ جنوبی و وسطی علاقوں میں آندھی اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے مری، گلیات، راولپنڈ ی، لاہور سمیت مختلف شہروں میں کہیں کہیں بارش اور ژالہ باری متوقع ہے،خیبرپختونخوا کے بالائی اضلاع میں مطلع جزوی ابر آلود رہے گا اور چترال، سوا ت، ایبٹ آباد، پشاور اور دیگر علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    سندھ کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہے گا، جبکہ بلوچستان کے جنوبی اضلاع میں بھی گرمی کی شدت برقرار رہنے کی توقع ہے، البتہ ژوب، لورالائی اور گردونواح میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے،کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے ساتھ چند مقامات پر بارش اور کہیں کہیں ژا لہ باری کا امکان ہے۔

  • بلوچستان کے ضلع خضدار اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے ضلع خضدار اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے ضلع خضدار اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئےزلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ پسنی اور گرد و نواح میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.9 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی زیر زمین گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس کا مرکز خضدار سے 62 کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب تھا، کسی جانی و مالی نقصان کی اب تک اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

  • ضلعی پولیس کی کاروائی میں جعلی اہلکار،مفرور اور چور گینگ گرفتار

    ضلعی پولیس کی کاروائی میں جعلی اہلکار،مفرور اور چور گینگ گرفتار

    قصور
    ضلع بھر میں پولیس کا کریک ڈاؤن، خطرناک اشتہاری، چور گینگ اور جعلی اہلکار سمیت متعدد ملزمان گرفتار
    قصورضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران پولیس نے مختلف کارروائیوں میں خطرناک مجرم اشتہاری، نقب زن چور گینگ اور جعلی پولیس اہلکار سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ لاکھوں روپے مالیت کا مال مسروقہ اور اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔
    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر آفتاب احمد پھلروان کی ہدایت پر تھانہ راجہ جنگ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈکیتی کے سنگین مقدمات میں مطلوب اے کیٹگری کے مجرم اشتہاری قاسم سمیت 08 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ایک بی کیٹگری کا اشتہاری بھی پکڑا گیا، جبکہ ملزم صدام کو ناجائز اسلحہ سمیت حراست میں لے کر مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مزید برآں اشتہاری کو فرار کروانے میں مدد دینے والے ملزم وقار اور ریکارڈ یافتہ عادی مجرم ساجد کو بھی گرفتار کیا گیا۔
    دوسری جانب تھانہ الہ آباد پولیس نے ایس ایچ او محمد ارشاد کی سربراہی میں کارروائی کرتے ہوئے نقب زن چور گینگ کے سرغنہ امین عرف امینی سمیت 05 ارکان کو گرفتار کیا، جبکہ مجموعی طور پر 08 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان الہ آباد اور گردونواح میں گھروں میں نقب لگا کر چوری کی وارداتیں کرتے تھے۔ ملزمان کے قبضے سے تقریباً 45 لاکھ روپے مالیت کا مال مسروقہ برآمد کیا گیا، جس میں 09 تولہ طلائی زیورات، 03 لاکھ 85 ہزار روپے نقدی، ایل سی ڈی اور ایک اے سی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دوران ناکہ بندی ملزم عارف کے قبضے سے دو پسٹل بھی برآمد کر کے مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ رابری کے مقدمات میں مطلوب دو اے کیٹگری اشتہاریوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
    ادھر تھانہ سٹی چونیاں پولیس نے ایک اہم کارروائی کے دوران جعلی پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم آصف، جو کینیڈا کالونی چونیاں کا رہائشی ہے، پولیس یونیفارم پہن کر خود کو اہلکار ظاہر کرتا اور سادہ لوح شہریوں کو دھمکا کر رقم بٹورتا تھا۔ ملزم کے قبضے سے لاہور پولیس کا جعلی کارڈ بھی برآمد ہوا جس پر 668/HC درج تھا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے حوالات میں بند کر دیا۔
    ڈی پی او آفتاب احمد پھلروان کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا

  • پشاور زلمی بن گیا سلطان: حیدرآباد کنگز مین کو ہرا کر پی ایس ایل 11 کی ٹرافی اپنے نام کر لی

    پشاور زلمی بن گیا سلطان: حیدرآباد کنگز مین کو ہرا کر پی ایس ایل 11 کی ٹرافی اپنے نام کر لی

    پشاور زلمی نے پاکستان سپر لیگ (PSL) کے 11ویں ایڈیشن کے سنسنی خیز فائنل میں حیدرآباد کنگز مین کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
    130 رنز کے تعاقب میں زلمی کی ٹیم آغاز میں مشکلات کا شکار ہوئی اور جلد وکٹیں گنوانے کے بعد دباؤ میں آگئی، تاہم کھلاڑیوں نے ہمت نہ ہاری اور نپی تلی بیٹنگ کے ذریعے ہدف 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
    یہ فتح پشاور زلمی کے لیے ایک اور سنگ میل ثابت ہوئی ہے، جہاں انہوں نے اعصاب شکن مقابلے میں اپنی گرفت مضبوط رکھی اور فائنل جیت کر ٹرافی اٹھا لی۔ اس تاریخی جیت پر زلمی کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔