وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں بہبود آبادی اور آبادی میں توازن سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، دستیاب وسائل پر اس کے اثرات اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وسائل اور آبادی کے درمیان متوازن تناسب ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آبادی کی تیز رفتار بڑھوتری قومی وسائل پر مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہے، جس کے باعث معاشی ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کی مؤثر منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری کے ساتھ ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت جاری کی کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور قومی سطح پر آبادی سے متعلق مؤثر پالیسی سازی کے لیے کونسل کا مکمل تنظیمی ڈھانچہ فوری طور پر تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خود نیشنل پاپولیشن کونسل کی سربراہی کریں گے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے قومی سطح پر مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حکومت سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں کو خاندانی منصوبہ بندی سے منسلک کرے گی، جبکہ خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کو آبادی میں توازن پیدا کرنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا جائے گا۔ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ملک گیر آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی تاکہ ذمہ دارانہ خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ میں مدد مل سکے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران سمیت کئی اسلامی ممالک آبادی پر قابو پانے کے مؤثر پروگراموں کے ذریعے مثبت نتائج حاصل کر چکے ہیں، جن کے تجربات سے پاکستان بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ نیشنل پاپولیشن کونسل صوبائی حکومتوں کے تعاون سے قومی سطح پر مربوط اقدامات کو یقینی بنائے گی، جبکہ اس کا سیکریٹریٹ وزارت منصوبہ بندی میں قائم کیا جائے گا۔
اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
Blog
-

بڑھتی آبادی قومی ترقی کے لیے بڑا چیلنج، نیشنل پاپولیشن کونسل جلد فعال کی جائے گی: وزیراعظم
-

کاہنہ ٹیوشن سینٹر سانحہ، مالک مکان سمیت 2 افراد حراست میں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران جائے وقوعہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
پولیس، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ لاہور پولیس کے جوان ریسکیو ٹیموں کے شانہ بشانہ ملبہ ہٹانے، زخمی بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے اور امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے رہے تاکہ متاثرین کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔
حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال کاہنہ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ہسپتال کا دورہ کیا، زخمی بچوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
اس موقع پر انہوں نے متاثرہ بچوں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی، جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور یقین دلایا کہ حکومت اور لاہور پولیس اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہل خانہ کے غم میں پوری پولیس برابر کی شریک ہے۔
فیصل کامران نے بتایا کہ ابتدائی قانونی کارروائی کے تحت مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطہ برقرار ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید کہا کہ لاہور پولیس متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن قانونی، انتظامی اور انسانی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور ہنگامی حالات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ -

بھارت عالمی قانون سے انحراف کر رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا: حنا ربانی کھر
سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ایک جانب عالمی نظام میں اصول وضع کرنے والا ملک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل نشست حاصل کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ دوسری جانب اس کا طرز عمل بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی روح کے منافی دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو ملک خود کو عالمی قوانین کا محافظ کہلوانا چاہتا ہے، اسے سب سے پہلے انہی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ریاست کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کھلے عام ایک پوری تہذیب کو مٹانے جیسے عزائم کا اظہار کرے یا بین الاقوامی معاہدوں سے یکطرفہ انحراف کی کوشش کرے۔
حنا ربانی کھر نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی صرف پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کرے یا اسے ختم کرنے کا اعلان کرے۔
انہوں نے کہا کہ مستقل ثالثی عدالت بھی اپنے فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ایک قانونی اور پابند معاہدہ ہے، جسے کسی ایک فریق کی خواہش پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر عالمی برادری نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی اور بھارت کے طرز عمل کا نوٹس نہ لیا تو مستقبل میں دیگر ممالک بھی اسی طرز عمل کو اختیار کر سکتے ہیں، جس سے عالمی معاہدوں کی حیثیت اور بین الاقوامی نظام کی بنیادیں کمزور ہوں گی۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی قانون، بین الاقوامی معاہدوں اور ریاستوں کے درمیان اعتماد کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس حساس مسئلے پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی بالادستی برقرار رہے۔
حنا ربانی کھر نے اپنے دورِ وزارت خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو معمول پر لانے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھارت کا رویہ اکثر اس راہ میں رکاوٹ بنتا رہا۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پانی کو تنازع کا ذریعہ بنانے کے بجائے تعاون، مشترکہ ترقی اور علاقائی استحکام کا وسیلہ بنایا جانا چاہیے، کیونکہ آبی وسائل پر تعاون ہی خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ -

بلوچستان کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار پہنچ گئے
مرکزی مسلم لیگ نے بلوچستان کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیاہے، خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ضلع بارکھان، کوہلو و دیگر زلزلہ متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں، متاثرین میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے،
مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے صدرعقیل احمد کی ہدایت پر خدمت خلق کے رضاکاران بلوچستان کے زلزلہ متاثرہ علاقوں ضلع بارکھان ،کوہلو میںپہنچ چکے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کی جانب سے ابتدائی سروے کے بعد امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، خدمت خلق کی ٹیمیں امدادی سامان کے ہمراہ متاثرہ علاقوں میں پہنچی ہیں،زلزلہ متاثرہ علاقوں میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا عمل جاری ہے، میڈیکل ٹیمیں بھی علاقہ میں مریضوں کاعلاج معالجہ کر رہی ہیں، صدر مرکزی مسلم لیگ بلوچستان عقیل احمد کا کہنا ہے کہ زلزلہ متاثرہ علاقوںمیں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں متاثرین کی بحالی تک جاری رہیں گی،متاثرہ گھروںکی تعمیر بھی کریں گے
-

آزاد کشمیر میں کالعدم جے اے اے سی کے رہنما شوکت نواز میر گرفتار
آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی کالعدم تنظیم کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، جس کے دوران مختلف اضلاع میں تنظیم سے وابستہ متعدد افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ حکام کے مطابق تنظیم پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، بیرون ملک سے مالی معاونت حاصل کرنے اور غیر قانونی نیٹ ورک چلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق حالیہ آپریشنز کے دوران راولاکوٹ سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے تنظیم کے متعدد کارکنوں اور مبینہ سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کی جا رہی ہیں جن پر شہریوں کو ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے اور بیرون ملک سے فنڈز اکٹھا کرنے جیسے الزامات ہیں۔
شوکت نواز میر حالیہ مہینوں میں عوامی ایکشن کمیٹی کے نمایاں رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے اور مختلف عوامی احتجاجی مظاہروں میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔ یہ احتجاج بنیادی شہری حقوق، عوامی مسائل اور مختلف اصلاحات کے مطالبات کے حوالے سے کیے گئے تھے، جن میں بڑی تعداد میں شہریوں نے بھی شرکت کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کریک ڈاؤن کے بعد شوکت نواز میر کچھ عرصے سے منظر عام سے دور تھے۔ اس دوران انہوں نے مختلف بیانات میں دعویٰ کیا تھا کہ کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور متعدد افراد کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ تمام گرفتاریاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں اور زیر حراست افراد کے خلاف شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ آزاد کشمیر میں امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تاحال شوکت نواز میر یا ان کے وکلا کی جانب سے گرفتاری کے بعد کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ اس معاملے پر مزید قانونی پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ -

دیر پائین میں 19 سالہ یتیم لڑکی کے بہیمانہ قتل پر شدید احتجاج، مرکزی ملزم گرفتار
دیر پائین کے علاقے رباط کے گاؤں خرکئی میں 19 سالہ یتیم لڑکی کے بہیمانہ قتل کے واقعے نے پورے علاقے کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی آبادی، سماجی حلقوں اور مختلف سیاسی شخصیات نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک جرم میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
مقامی ذرائع کے مطابق مقتولہ کی والدہ پہلے ہی انتقال کر چکی تھیں جبکہ ان کے والد روزگار کے سلسلے میں دبئی میں مقیم ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ لڑکی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق مقتولہ کے چچا نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے بیٹے سے کرنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم لڑکی نے اس رشتے سے انکار کر دیا، جس کے بعد معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا۔
رپورٹس کے مطابق انکار پر مشتعل ہو کر چچا اور اس کے بیٹے نے مبینہ طور پر لڑکی پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی۔ الزام ہے کہ فائرنگ کے بعد بھی تشدد کا سلسلہ نہیں رکا بلکہ زخمی لڑکی کو گھر کی چھت سے نیچے پھینکا گیا، گھسیٹا گیا اور اس پر کلہاڑی سے بھی حملہ کیا گیا، جس کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔
مقامی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مقتولہ کی تدفین انتہائی عجلت میں کی گئی اور انہیں بغیر کفن، غسل اور نماز جنازہ کے سپرد خاک کر دیا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
واقعے کی تفصیلات سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد پورے ضلع میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ شہریوں، سماجی تنظیموں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کے مرکزی ملزم، جو مقتولہ کا چچا بتایا جا رہا ہے، کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری اور واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اور بیانات کی روشنی میں مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آج مقتولہ کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے مقتولہ کے لیے دعائے مغفرت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس المناک واقعے میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور بیٹی کے ساتھ ایسا افسوسناک سانحہ پیش نہ آئے۔ -

اداکارہ مریم مائیکل کا کم عمری کی شادی اور طلاق سے متعلق انکشاف
پاکستانی اداکارہ اور ماڈل مریم مائیکل نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی شادی صرف 17 سال کی عمر میں ہوئی تھی، تاہم یہ رشتہ دو سال بعد ختم ہوگیا اور 19 سال کی عمر میں ان کی طلاق ہوگئی۔
اداکارہ نے فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام میں اپنی زندگی کے اس باب پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی برسوں تک انہوں نے اس معاملے کو نجی رکھا، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ خاموشی اکثر معاشرے میں موجود شرمندگی کے احساس کو مزید تقویت دیتی ہے۔
مریم مائیکل نے واضح کیا کہ اپنی کہانی بیان کرنے کا مقصد ہمدردی یا توجہ حاصل کرنا نہیں بلکہ طلاق سے متعلق معاشرتی رویوں پر گفتگو کو معمول کا حصہ بنانا ہے، تاکہ ایسے حالات سے گزرنے والے افراد خود کو تنہا یا شرمندہ محسوس نہ کریں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ زندگی کے ہر مرحلے کو قبول کرنا ضروری ہے اور ماضی کے تجربات انسان کی شخصیت اور مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کو اپنی زندگی کے فیصلوں اور تجربات کے بارے میں بلا جھجھک بات کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
اداکارہ کی اس پوسٹ کو سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، جہاں کئی افراد نے ان کی ہمت اور کھلے انداز میں اپنی زندگی کے تجربات بیان کرنے کو مثبت قدم قرار دیا۔ -

ایرانی اسپیکر کی ایاز صادق کو آیت اللہ خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں شرکت کی دعوت
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ، مجلس شوریٰ اسلامی، کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کو شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ اس حوالے سے محمد باقر قالیباف نے اسپیکر ایاز صادق کے نام ایک خصوصی خط ارسال کیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا گیا۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب 3 جولائی 2026 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں منعقد ہوگی، جہاں مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام، پارلیمانی نمائندوں اور بین الاقوامی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
ایرانی اسپیکر نے اپنے خط میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔ انہوں نے پاکستانی عوام، اسپیکر ایاز صادق اور قومی اسمبلی کے تمام ارکان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
خط میں پاکستان اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری، تاریخی تعلقات اور برادرانہ روابط کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک باہمی احترام، اعتماد اور تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ محمد باقر قالیباف نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اسپیکر ایاز صادق نے دعوت نامہ موصول ہونے پر ایرانی اسپیکر کا شکریہ ادا کیا اور اس خیرسگالی کے جذبے کو سراہا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور دونوں ممالک مستقبل میں بھی قریبی روابط برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ -

بلاول بھٹو زرداری کی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات
اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی معاملات اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے موجودہ سیاسی ماحول، قومی استحکام، جمہوری عمل اور مستقبل کی سیاسی پیش رفت سے متعلق مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں جماعتوں کے درمیان باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے سمیت اہم قومی معاملات پر مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی موجود تھے، جنہوں نے بھی مختلف سیاسی امور پر اپنی آراء پیش کیں۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے وفد میں انجینئر ضیاء الرحمان اور مولانا اسجد محمود نے شرکت کی اور پارٹی مؤقف سے آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پارلیمانی معاملات، اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کے کردار سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اہم معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔ اگرچہ ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کی جانب سے تفصیلی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم سیاسی حلقے اس ملاقات کو آئندہ سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں مختلف جماعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطے مستقبل کی سیاسی صف بندیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تصور کی جا رہی ہے، جس میں قومی مسائل پر مشاورت اور سیاسی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی مفاد کو مقدم رکھا جانا چاہیے اور جمہوری روایات کو مضبوط بنانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ -

لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، کئی زخمی
لاہور کے علاقے کاہنہ میں واقع ایک نجی ٹیوشن سینٹر میں پیش آنے والے دلخراش حادثے میں چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ افسوسناک واقعے نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا، جبکہ متاثرہ خاندانوں میں کہرام مچ گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب بچے معمول کے مطابق ٹیوشن کلاس میں موجود تھے۔ اچانک عمارت کی چھت زمین بوس ہو گئی اور کلاس روم میں موجود طلبہ اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی افراد بڑی تعداد میں امدادی کارروائیوں میں شریک ہو گئے۔
حادثے کے وقت اکیڈمی میں تقریباً 35 بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق چھت گرنے کی زور دار آواز سن کر اہلِ علاقہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا۔ مقامی افراد نے کئی زخمی بچوں کو ملبے سے نکال کر ایمبولینسوں تک پہنچایا، جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے امدادی آپریشن شروع کر دیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائی کے دوران ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے بچوں میں سے کم از کم سات کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ گئی اور عمارت کی حالت کا جائزہ لیا۔ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عمارت کی چھت کس وجہ سے گری اور آیا تعمیراتی معیار یا حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی غفلت برتی گئی تھی۔
اہلِ علاقہ اور بچوں کے والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہر بھر میں قائم نجی تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں کی عمارتوں کا حفاظتی معائنہ بھی یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔