جیسے جیسے دنیا بھر میں ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ کار (ریگولیشن) کی دوڑ تیز ہو رہی ہے، پاکستان غیر متوقع طور پر کرپٹو اپنانے، فن ٹیک جدت اور نوجوان ڈیجیٹل ٹیلنٹ کے حوالے سے دنیا کے متحرک ترین ممالک میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس تبدیلی کے مرکز میں بلال بن ثاقب ہیں، جو پاکستان کے وزیر برائے کرپٹو و بلاک چین، وزیر اعظم کے خصوصی مشیر، اور پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین ہیں۔ صرف 30 سال کی عمر میں وہ قیادت کی ایک نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو پالیسی، ٹیکنالوجی اور عالمی وژن کا امتزاج ہے۔
فوربز کی “30 انڈر 30” فہرست میں شامل اور شاہ چارلس سوم کی جانب سے سماجی خدمات پر MBE اعزاز حاصل کرنے والے بلال کو پاکستان کا کم عمر ترین ٹیکنوکریٹ اور ادارہ جاتی تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کی تقرری اس خطے میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال ہے جہاں پہلی بار ڈیجیٹل اثاثوں جیسے پیچیدہ شعبے کی ذمہ داری ملینئیل نسل کے رہنما کو سونپی گئی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، یہ تبدیلی حکمرانی کے انداز میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
بلال کی کامیابی ان کی تکنیکی مہارت، عالمی تجربے اور عوامی خدمات کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ لندن اسکول آف اکنامکس کے گریجویٹ بلال نے کاروبار، تحقیق اور پالیسی سازی میں متنوع تجربہ حاصل کیا۔ حکومت میں آنے سے قبل وہ مختلف کاروباری منصوبوں کے بانی رہے، عالمی این جی اوز کے ساتھ کام کیا، اور یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اسٹارٹ اپس کو مشورے دیتے رہے۔ 2016 میں بٹ کوائن میں ابتدائی سرمایہ کاری اور بطور اینجل انویسٹر تجربہ انہیں ڈی سینٹرلائزڈ ٹیکنالوجیز کی گہرائی سمجھنے میں مدد دیتا رہا۔
پاکستان اس وقت ایک منفرد پوزیشن میں کھڑا ہے۔ 4 کروڑ سے زائد فعال کرپٹو صارفین، سالانہ 36 ارب ڈالر ترسیلات زر، اور دنیا کی چوتھی بڑی فری لانس آبادی کے ساتھ، ملک میں ایک بڑی غیر رسمی ڈیجیٹل معیشت پہلے ہی وجود میں آ چکی ہے۔ لاکھوں پاکستانی آن لائن کماتے، لین دین کرتے اور سیکھتے ہیں، جو ضابطہ کار نظام سے آگے نکل چکی ہے۔ موبائل براڈبینڈ کے پھیلاؤ اور ڈیجیٹل مڈل کلاس کے ابھار نے پاکستان کو Chainalysis 2025 کے مطابق کرپٹو اپنانے والے سرفہرست ممالک میں شامل کر دیا ہے۔
تاہم، کچھ عرصہ قبل تک یہ سرگرمیاں بغیر کسی واضح قانون کے جاری تھیں۔ بلال کی قیادت میں حکومت نے اس غیر رسمی معیشت کو باضابطہ بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ PVARA کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو ایکسچینجز، بروکرز اور دیگر ڈیجیٹل سروس فراہم کرنے والوں کے لیے واضح قواعد و ضوابط متعارف کروا رہی ہے۔ یہ ادارہ دبئی، سنگاپور اور یورپی یونین کے جدید ریگولیٹری ماڈلز سے متاثر ہے۔
ریگولیشن کے علاوہ، بلال مصنوعی ذہانت (AI)، کوانٹم کمپیوٹنگ اور روبوٹکس جیسے جدید شعبوں کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو نئی سمت دینے کے بڑے حامی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو روایتی نظام سے مقابلہ کرنے کے بجائے مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں براہ راست چھلانگ لگانی چاہیے۔بلال کا اثر صرف پالیسی سازی تک محدود نہیں۔ اقوام متحدہ، ورلڈ اکنامک فورم اور عالمی ٹیک کانفرنسز میں ان کی نمائندگی نے پاکستان کے عالمی تاثر کو خطرات سے مواقع کی طرف منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ عالمی سرمایہ کاروں اور مقامی ٹیلنٹ کے درمیان ایک مضبوط پل بن چکے ہیں۔ایک ایسی دنیا میں جہاں ممالک سرمایہ کے ساتھ ساتھ ٹیلنٹ اور ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے بھی مقابلہ کر رہے ہیں، بلال بن ثاقب 21ویں صدی کے جدید عوامی رہنما کی مثال ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نہ صرف رفتار پکڑ رہا ہے بلکہ اپنی شرائط پر عالمی ڈیجیٹل معیشت میں جگہ بنا رہا ہے۔
اسلام آباد سے اسرائیل تک،پاکستان کی کرپٹو پالیسی نے عالمی بیانیہ کیسے بدل دیا
مئی 2025 میں پاکستان نے خاموشی سے اپنی کرپٹو پالیسی تبدیل کرتے ہوئے PVARA کا قیام عمل میں لایا۔ یہ ایک جرات مندانہ قدم تھا، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ دو سال قبل کرپٹو کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ اس ادارے کا مقصد ایکسچینجز کو لائسنس دینا، ٹوکنائزیشن اور مائننگ کے اصول وضع کرنا، اور عالمی معیار کے مطابق نظام قائم کرنا ہے۔
اس اقدام کے فوری عالمی اثرات سامنے آئے۔ اگلے ہی دن اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں بٹ کوائن پر پہلی غیر رسمی بحث ہوئی، جس میں وہی سوالات زیر غور آئے جو پاکستان پہلے ہی حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے: ڈی سینٹرلائزڈ ٹیکنالوجی تجارت اور معیشت کو کیسے مضبوط بنا سکتی ہے؟ اور سرحدوں سے آزاد مالی نظام میں قومی سلامتی کا کیا تصور ہوگا؟یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بٹ کوائن کی قیمت 115,000 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ امریکہ، ترکی، نائجیریا اور ارجنٹینا جیسے ممالک بھی اپنی مالی پالیسیوں میں تبدیلی لا رہے ہیں۔پاکستان کی خاص بات اس کی رفتار اور حکمت عملی ہے۔ صرف چند ماہ میں ملک نے مکمل پابندی سے ریگولیشن، بٹ کوائن ذخائر کے اعلان، قانون سازی، اور عالمی ایکسچینجز کو دعوت دینے تک کا سفر طے کیا۔
یہ تبدیلی نوجوان آبادی، بڑھتے انٹرنیٹ صارفین، اور ڈیجیٹل فری لانسرز کی بڑی تعداد کی وجہ سے بھی ناگزیر تھی۔ پاکستانیوں کے لیے کرپٹو محض سرمایہ کاری نہیں بلکہ روزمرہ مالی ضرورت بن چکی ہے۔حکومت کے لیے یہ قدم ایک اسٹریٹجک پیغام بھی ہے کہ ترقی پذیر ممالک بھی ڈیجیٹل معیشت میں قیادت کر سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر تعاون، علم کے تبادلے اور نئی سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کرپٹو دنیا میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
جیسے جیسے دنیا معاشی اور تکنیکی تقسیم کا شکار ہو رہی ہے، ڈیجیٹل اثاثے سرحدوں سے آزاد تعاون کا ایک نیا راستہ فراہم کر رہے ہیں۔ یہ صرف معیشت نہیں بلکہ پالیسی، خودمختاری اور مستقبل کی تیاری کا معاملہ بن چکا ہے۔2025 میں ممکن ہے کہ قیادت روایتی طاقتوں کے بجائے اسلام آباد کے ہاتھ میں ہو،اور پہلی بار عالمی کرپٹو بیانیہ مرکز کے بجائے حاشیے سے تشکیل پا رہا ہو، مگر پوری قوت، رفتار اور یقین کے ساتھ
بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی میں پاکستان نے بھارت اور اسرائیل کو پیچھے چھوڑ دیا،نجی ٹی وی سے گفتگو میں بلال کا کہنا تھا کہ دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان کرپٹو میں ان ممالک سے بہت آگے ہے، کرپٹو مارکیٹ میں پاکستان نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا ہے، اب ہمیں روبوٹکس اور آرٹیفشل انٹیلی جنس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اے آئی اور بلاک چین ٹیکنالوجی اگلی نسل کی جنگ اور جدید ترین ٹولز ہیں، اے آئی ایجنٹس لاکھوں ڈالرز کی ادائیگیاں کر رہے ہیں ڈیجیٹل اکانومی ٹریلین تک پہنچ گئی، ہمیں اپنے بچوں اور یوتھ کو جدید ٹیکنالوجی کیلیے تیار کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فرسٹ اپروچ کے تحت ڈیجیٹل انقلاب کیلیے کام کر رہے ہیں، اے آئی اور بلاک چین کو ایٹمی پروگرام جیسی اہمیت دینے کی ضرورت ہے، جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے ہم اپنے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرح پاکستان میں بھی سنگل پرسن کمپنیاں اربوں ڈالر کما سکتی ہیں، نوجوانوں کو بااختیار بنا کر ہی عالمی سطح پر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے وزیر مملکت برائے کرپٹو اور بلاک چین بلال بن ثاقب کی کامیابیوں نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے، تاہم اس پیش رفت کے ساتھ ہی بھارتی میڈیا نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ مہم تیز کر دی ہے۔زرائع کے مطابق واشنگٹن میں بلال بن ثاقب کی ملاقات سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کونسل آف ایڈوائزرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بو ہائنس سے ہوئی، جس میں کرپٹو کرنسی، بلاک چین ٹیکنالوجی اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔تاہم اس پیش رفت کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے حسبِ روایت پاکستان مخالف بیانیہ اپناتے ہوئے مختلف چینلز اور پلیٹ فارمز پر منفی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں۔ بھارت کا شاید ہی کوئی بڑا چینل ایسا ہو جس نے بلال بن ثاقب کے خلاف تنقیدی یا گمراہ کن مواد نشر نہ کیا ہو۔
