Baaghi TV

Blog

  • آبنائے ہرمز سے ایک بوند تیل نہیں جانے دیں گے: ایرانی پاسداران انقلاب

    آبنائے ہرمز سے ایک بوند تیل نہیں جانے دیں گے: ایرانی پاسداران انقلاب

    ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہےکہ آبنائے ہرمز سے ایک بوند تیل نہیں جانے دیں گے۔

    امریکی وزیر توانائی Chris Wright نے کہاہے کہ امریکی بحریہ جلد ہی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرے گی ،دوسری جانب جہازوں کو تحفظ دینےکے ٹرمپ کے بیان پر ایرانی پاسداران نے چیلنج کردیا ایرانی پاسداران نے کہا کہ ٹرمپ ابھی تک ہرمز کھولنے کے لیے جہاز نہ بھیج سکے، ہرمز سے ایک بوند تیل نہیں جانے دیں گے، ابھی سمندر میں میزائل اور ڈرون کے علاوہ کچھ بڑا ظاہر ہی نہیں کیا۔

    ادھر کویتی بندرگاہ کے قریب دھماکے سے کارگو ٹینکر سے تیل سمندر میں رسنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ اس دھماکے میں عملہ محفوظ ہے-

    کوہاٹ میں تیل وگیس کے بڑے ذخائر دریافت

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، ان ملکوں میں پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوری ، یورپ، شمالی امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک شامل ہیں۔

    آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ کے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیا، یورپ، شمالی امریکا اور دیگر دنیا سے جوڑتی ہے، اس سمندری پٹی کے ایک طرف امریکا کے اتحادی عرب ممالک تو دوسری طرف ایران ہے۔

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: 5 روز میں 20 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس کی ترسیل ہوتی ہے، یہاں سے روزانہ تقریباً 90 اور سال بھر میں 33 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں 33 کلو میٹر چوڑی اس سمندری پٹی سے دو شپنگ لینز جاتی ہیں، ہر لین کی چوڑائی تین کلو میٹر ہے جہاں سے بڑے آئل ٹینکرز گزرتے ہیں۔

    مجموعی عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ یعنی 20 فیصد اسی راستے سے جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے ، دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے آبنائے ہرمز کے ایک طرف خلیج فارس اور دوسری طرف خلیج عمان ہے، خلیج فارس کے اندر 8 ممالک ایران، عراق ، کویت، سعود ی عرب بحرین، قطر، یو اے ای اور عمان موجود ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

    دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین معیشت کی روانی کے لیے خلیج سے اپنی ضرورت کا آدھا تیل منگواتا ہے جبکہ جاپان یہاں سے 95 فیصد اور جنوبی کوریا 71 فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے ہی یہ تینوں ممالک خلیجی ممالک کو گاڑیاں اور الیکٹرانک سامان کی ترسیل بھی کرتے ہیں۔

    عالمی ماہرین کے مطابق اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ اور امریکی حملوں کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کو ایک ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کرے گا، وہ بارودی سرنگیں بچھانے کے علاوہ آبدوزیں، اینٹی شپ میزائل اور جنگی کشتیاں تعینات کر سکتا ہے، نتیجہ یہ کہ تیل کا بحران پیدا ہو گا اور قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک اوپر جا سکتی ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

    دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز صرف ایران کے لیے ایک چوک پوائنٹ ہی نہیں بلکہ دنیا کی لائف لائن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آبی گرز گاہ کی بندش کے نتائج ایران کے لیے خوفناک ہوں گے۔

  • کوہاٹ میں تیل وگیس کے بڑے ذخائر دریافت

    کوہاٹ میں تیل وگیس کے بڑے ذخائر دریافت

    آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی ( او جی ڈی سی ) نے کوہاٹ میں تیل وگیس کے ایک بڑے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔

    اوجی ڈی سی ایل کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے جانے والے نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں تیل وگیس کے شعبے میں نئے سال کا سب سے بڑا ذخیرہ دریافت ہوگیا ہے،او جی ڈی سی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ نئے سال کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ ماہ بھی او جی ڈی سی نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں واقع نشپا بلاک سے تیل و گیس کی نئی دریافت کا اعلان کیا تھا-

    سعودی عرب کی ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی حملےکی شدید مذمت

    او جی ڈی سی حکام کے مطابق براگزئی ایکس-1 کنویں سے یومیہ 225 بیرل تیل اور10 لاکھ معکب فٹ یومیہ گیس کی پیداوار حاصل ہوئی، براگزئی ایکس 1 کنویں کی کھدائی 30 دسمبر 2024 کو شروع کی گئی تھی مختلف فارمیشنز میں ڈرل اسٹیم ٹیسٹ کے دوران تیل و گیس کے آثار پہلے بھی مل چکے ہیں، مذکورہ کنواں کی کھدائی 5,170 میٹر تک کی گئی نئی دریافت سے ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے اور ہائیڈروکاربن ذخائر بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

    اس سے قبل درس ویسٹ-3 کنواں صوبہ سندھ کے ضلع ٹنڈو الہٰ یار سے گیس کا نیا کنواں دریافت ہوا ، ابتدائی ٹیسٹ میں یومیہ 9.70 ملین معکب فٹ گیس اور 580 بیرل یومیہ کنڈینسیٹ کی پیداوار حاصل ہوئی،ترجمان او جی ڈی سی نےکہا کہ تیل و گیس کی یہ پیداوار لوئر گورو فارمیشن کےسی سینڈ سے حا صل ہوئی، گیس کو پلانٹ میں پراسیس کر کے ایس ایس جی سی ایل کے نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔

    رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران

  • مشرق وسطیٰ میں  کشیدگی: 5 روز میں 20 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: 5 روز میں 20 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث گزشتہ پانچ روز کے دوران 8 ممالک کی منسوخ ہونے والی پروازوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی۔

    فلائٹ شیڈول کے مطابق پاکستان سے آج مسلسل چھٹے روز بھی مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں متاثر رہیں اور مجموعی طور پر 145 پروازیں منسوخ کردی گئیں۔

    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق کراچی سے مشرق وسطیٰ کے لیے 35، لاہور سے 29، ملتان سے 12 پروازیں منسوخ کی گئیں، جبکہ اسلام آباد سے 35، پشاور سے 14، سیالکوٹ سے 12 اور فیصل آباد سے 6 پروازیں بھی منسوخی کا شکار ہوئیں ، اس کے علاوہ کوئٹہ سے مشرق وسطیٰ کے لیے 2 پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔

    سعودی عرب کی ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی حملےکی شدید مذمت

    دوسری جانب خلیجی ممالک میں ہنگامی انخلا کے پیش نظر دبئی، ابوظبی اور شارجہ ائیرپورٹس سے 167 خصوصی پروازیں آپریٹ کی گئیں حملوں کے باعث ریاض اور دمام کے فضائی آپریشن بھی متاثر ہوئے، جہاں بدھ کے روز 57 پروازیں منسوخ جبکہ 46 پروازیں تاخیر کا شکار رہیں۔

    علاوہ ازیں دبئی، ابوظبی، شارجہ، کویت، بحرین اور دوحہ سمیت خطے کے کئی ائیرپورٹس پر فلائٹ آپریشن شدید متاثر رہا، کویت اور دوحہ سے گزشتہ پانچ روز کے دوران ایک بھی پرواز آپریٹ نہیں ہوسکی، ایران کی 240، عراق کی 215، بیروت کی 58، حیفا کی 25 اور تل ابیب کی 380 پروازیں بھی منسوخ کی جاچکی ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

  • سعودی عرب کی ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی حملےکی شدید مذمت

    سعودی عرب کی جانب سے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی حملےکی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    ترجمان سعودی وزارت دفاع کے مطابق سعودی عرب نے بدھ کے روز 9 ڈرونز فضا میں ہی تباہ کردیے، ایک ڈرون مشرقی علاقے اور 2 کروز میزائل الخُرج گورنریٹ میں تباہ کیےگئے اس کے علاوہ سعودی وزارت خارجہ نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پرایرانی حملےکی شدید مذمت کی۔

    ادھر امریکی وزیر خارجہ نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے فون پرگفتگو کی اور ایرانی خطرات، علاقائی استحکام اورخطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

    ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

    دوسری جانب سعودی عرب میں ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پاکستانی سفارتخانے نے نئی ایڈوائزری جاری کردی۔

    پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر سفارتخانے سے رابطہ کریں، سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں، بالخصو ص وزٹ ویزا یا عمرہ کی ادائیگی کے لیے آنے والے افراد کی سہولت کے لیے ہنگامی رابطہ نمبرز جاری کر دیے گئے ہیں۔

    سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر پاکستانی شہری لینڈ لائن نمبرز 966126689149 اور 966126692371 پر رابطہ کر سکتے ہیں شہری موبائل نمبرز 966563870732 اور 966542099348 پر بھی سفارتخانے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

    رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران

    سفارتخانے کے مطابق تمام سعودی ایئرپورٹس پر بھی پاکستانی سفارتخانے کا عملہ تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستانی شہریوں کی رہنمائی اور مدد کی جا سکےسفارتخانے نے پاکستانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صورتحال کے پیش نظر جاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی مشکل کی صورت میں فوری رابطہ کریں۔

  • ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

    ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے کرد رہنما اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ بافل طالبانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا-

    ترک خبر رساں ایجنسی ’انا دولو‘ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے کرد سیاسی رہنما اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ بافل طالبانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران اور عراق کی مشترکہ سرحد کے قریب مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں اور سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،گفتگو کے دوران بافل طالبانی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر ہلاک ہونے والے افراد کی ہلاکت پر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا، جنہیں ایرانی بیان میں ’امریکی اور صہیونی جرم‘ کا نشانہ قرار دیا گیا۔

    رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران

    ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے سرحدی علاقوں میں “دہشت گرد نقل و حرکت” کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان موجود سیکیورٹی مفاہمتوں کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا بافل طالبانی نے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں جانب تعاون اور رابطہ کاری کے ذریعے کسی بھی ممکنہ عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمی کو روکا جا سکتا ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ سرحد پر امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔

    "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

  • رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران

    رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکا نے اسلامی جمہوریہ میں رجیم چینج کی کوشش کی تو اسرائیل کے جوہری مرکز دیمونا کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے نے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایک اعلیٰ ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی مداخلت یا حکومت گرانے کی سازش کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا ایسی صورت میں دیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر ایران کے ممکنہ اہداف میں سرفہرست ہوگا۔

    ایرانی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ تہران کے پاس ایسے اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے، ایران اپنی خودمختاری اور نظام کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

    "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

    دوسری جانب ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی شعبدہ بازیوں کے باعث امریکی عوام کو ایران کے خلاف ایک ظالمانہ جنگ میں دھکیل دیا ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق علی لاریجانی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مسخرہ پن پر مبنی حرکات سے متاثر ہوئے اور انہوں نے امریکی عوام کو ایران کے خلاف غیر منصفانہ جنگ میں گھسیٹ لیا، اب اُنہیں حساب لگانا ہوگا کہ صرف چند دنوں میں 500 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیا امریکا اب بھی پہلے نمبر پر ہے یا اسرائیل؟-

    کمشنر لاہور ڈویژن کی پرائس کنٹرول کی فیلڈ کارکردگی،قیصر شریف نے بھانڈا پھوڑ دیا

    علی لاریجانی، جو ماضی میں ایران کے سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر رہ چکے ہیں اور اس وقت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں نے ایک مبہم پیغام میں خبردار کیا کہ کہانی ابھی جاری ہے۔

    ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی میں شدت آتی جا رہی ہے یہ جنگ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے، ان کے ساتھ کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز بھی مارے گئے، جنہوں نے جون 2025 کی جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں اپنے پیش روؤں کی ہلاکت کے بعد عہدے سنبھالے تھے۔

    ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ٹرمپ

    حکومتی اندازوں کے مطابق اب تک چار روزہ جھڑپوں میں تقریباً ایک ہزار پچاس ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں جنوبی ایرانی شہر میناب کے 165 اسکول کے بچے بھی شامل ہیں۔ بچوں کی ہلاکت پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کو وسطی تہران میں واقع ان کی رہائش گاہ پر نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں ان کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے، جن میں ان کی اہلیہ، بیٹی، بہو، داماد اور پوتے پوتیاں شامل تھے ایرانی قیادت نے خامنہ ای کی شہادت کا سخت انتقام لینے کا عزم ظاہر کیا اور اسرائیل و مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں پیر کے روز جاری بیان میں علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران نے طویل جنگ کے لیے خود کو تیار کر لیا ہے۔

    شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

  • "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

    "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

    ایک بار پھر عسکری تاریخ اہم باب کی شاہد بنی جب "آپریشن غضب للحق” کے عنوان سے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں برق رفتار کارروائیاں انجام دیں۔ یہ محض ایک عسکری پیش قدمی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے باب میں ایک دوٹوک اعلان تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا۔

    ذرائع کے مطابق کارروائیوں کا مرکز تاریخی شہر قندھار تھا، جہاں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر اور پولیس ہیڈکوارٹر کو تباہ کیا گیا، جب کہ متعدد کالعدم تنظیموں سے وابستہ شدت پسند مارے گئے۔ ان کارروائیوں میں ان عناصر کو نشانہ بنایا گیا جو القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تھے۔ بعض تنصیبات کو شدت پسندوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ انہیں ممکنہ فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ فضائی کارروائیوں کے بعد پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف "فیصلہ کن کارروائی” جاری رہے گی۔ یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست اپنی خودمختاری، سرحدی وقار اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ عسکری ماہرین کے نزدیک یہ کارروائیاں نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں بلکہ ایک سفارتی اشارہ بھی ہیں کہ خطے میں امن کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب سرحد پار موجود شدت پسند ڈھانچوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

    یہ تمام تر پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن اور امن کی کوششوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور وہ توقع رکھتا ہے کہ ہمسایہ ممالک بھی اسی اصول کی پاسداری کریں۔”آپریشن غضب للحق” اسی اصول کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے، ایک ایسا اعلان جو بتاتا ہے کہ شاہین جب پرواز کرتے ہیں تو وہ محض فضا نہیں چیرتے، بلکہ قومی عزم کی لکیر بھی کھینچ دیتے ہیں۔

    برِصغیر کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو محض واقعات نہیں بلکہ قومی غیرت اور خودمختاری کی علامت بن جاتے ہیں۔ "آپریشن غضب للحق” بھی ایسا ہی ایک باب ہے جس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں برق رفتاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔اس موقع پر پوری قوم اپنی مسلح افواج، بالخصوص پاک فوج اور پاک فضائیہ کے شاہینوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ یہ وہ سپوت ہیں جو سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان کی شبانہ روز محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی دفاعی دیوار ناقابلِ تسخیر ہے۔پاک فوج کے جوان برف پوش چوٹیوں سے لے کر تپتے ریگزاروں تک وطن کی حرمت کے نگہبان ہیں۔ ان کی قربانیاں ہماری آزادی کی ضمانت اور ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے، اور یہ اعتماد ہے کہ وہ ہر چیلنج کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہیں گے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ پیغام واضح ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔”آپریشن غضب للحق” صرف ایک عسکری کارروائی نہیں، بلکہ عزم و استقلال کی علامت ہے ، ایک ایسا اعلان کہ جب وطن کی حرمت کا سوال ہو تو شاہینوں کی پروازیں تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں، اور قوم اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔

  • کمشنر لاہور ڈویژن کی پرائس کنٹرول کی فیلڈ کارکردگی،قیصر شریف نے بھانڈا پھوڑ دیا

    کمشنر لاہور ڈویژن کی پرائس کنٹرول کی فیلڈ کارکردگی،قیصر شریف نے بھانڈا پھوڑ دیا

    صدر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور قیصر شریف نے لاہور ڈویژن کی انتظامی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً 3 کروڑ آبادی پر مشتمل 4 اضلاع میں پرائس کنٹرول کی صورتحال تشویشناک حد تک غیر تسلی بخش ہے۔

    قصیر شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ 15 دنوں کے دوران کمشنر لاہور ڈویژن کی جانب سے صرف 3 فیلڈ وزٹس کیے گئے، جو کہ مہنگائی کے موجودہ طوفان کے مقابلے میں نہایت ناکافی ہیں۔سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے قیصر شریف نے اعداد و شمار جاری کیے، جن کے مطابق تقریباً 3 کروڑ کی آبادی اور 4 اضلاع پر مشتمل لاہور ڈویژن میں گزشتہ 15 دنوں کے دوران پرائس کنٹرول کے حوالے سے کمشنر کی جانب سے صرف 3 دورے کیے گئے ہیں۔ ضلع لاہور میں صرف دو اور ننکانہ میں ایک دورہ کیا جبکہ قصور اور شیخوپورہ کے اضلاع میں کوئی دورہ نہیں کیا گیا۔

    https://x.com/Qaisarsharif555/status/2029277798829842731

    قیصر شریف نے کہا کہ رمضان المبارک میں بھی آٹا، چینی، سبزیاں، پھل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عوام شدید ذہنی دباؤ اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، مگر انتظامیہ کی فیلڈ میں موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاس اور بیانات اپنی جگہ، مگر عملی اقدامات اور اچانک چھاپوں کی کمی نے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر لاہور ڈویژن سمیت پورے صوبے میں پرائس کنٹرول نظام کی ازسرنو نگرانی کریں اور فیلڈ افسران کی کارکردگی کا سختی سے جائزہ لیں۔قیصر شریف نے مزید کہا کہ اگر حکومتی مشینری عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدہ ہے تو محض کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ٹرمپ

    ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم ایران کے معاملے میں بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، اگر ہم ایران پرحملہ نہ کرتے تو ایران ہم پرحملہ کردیتا۔

    صدر ٹرمپ نے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایرانی کے حملے سے پہلے ہم نے ایران پر حملہ کردیا، ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ایران کے میزائلوں اور لانچروں کا صفایا کیا جا رہا ہے، ہم نے 47 سال سے جاری قتل عام کو روکا ہے، ایران اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کو بھی نشانہ بنارہا ہے، ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جارہا ہے، ایران میں جو لیڈر بننا چاہتا ہے مارا جاتا ہے، سابق امریکی صدر اوباما کی ایران سے جوہری ڈیل بہت بری تھی، وینزویلا سے تیل کی آمد شروع ہو گئی ہے، جب پاگل لوگوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے ہیں تو بری چیز ہوتی ہے، ہم ایران کے معاملے میں بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، کسی نے مجھ سے پوچھا کہ 10 میں سے کتنے نمبر دیں گے؟تو میں نے کہا 15 نمبر دوں گا، ہم جنگی محاذ پر بہت اچھا کر رہے ہیں صورتحال دھوکہ سے بھی بہتر ہے

  • شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

    شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

    "آپریشن غضب للحق” کے تحت پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں کارروائیاں کرتے ہوئے قندھار میں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران افغانستان کے 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر اور پولیس ہیڈکوارٹر تباہ کیے گئے، جبکہ متعدد کالعدم تنظیموں کے شدت پسند ہلاک ہوئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شاہینوں نے قندھار میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر کو نشانہ بنایا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان نے اپنی بعض تنصیبات میں شدت پسندوں کو پناہ دے رکھی تھی تاکہ انہیں فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    دوسری جانب پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ طورخم بارڈر کے مقام پر پاک فوج کے ٹینکوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی، جبکہ سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق لنڈی کوتل کے آبادی والے علاقوں کی سمت مارٹر گولے بھی داغے گئے، قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں پاک سیکیورٹی فورسز نے ہیوی گنز کے ذریعے کسٹمز ہاؤس اور مبینہ طور پر افغان طالبان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق شدید گولہ باری کے بعد مخالف فورسز نے پوزیشنیں خالی کر دیں۔ تھانہ آدم خان اور ایک نیا قائم کیا گیا تھانہ بھی تباہ کر دیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف "فیصلہ کن کارروائی” جاری رہے گی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔