Baaghi TV

Category: باغی ٹی وی الیکشن سیل

باغی ٹی وی کی طرف سے عام انتخابات 2024 کے لیے خصوصی کوریج

  • انتخابات 2024:  ن لیگ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی،جائزہ رپورٹ

    انتخابات 2024: ن لیگ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی،جائزہ رپورٹ

    لاہور: ایک سرکاری تنظیم کی جائزہ رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی-

    باغی ٹی وی : انگریزی اخبار دی نیوز سے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر ایک اہلکار نے بتایا کہ سرکاری تنظیم نے پولیس ذرائع، ریونیو ڈپارٹمنٹ، مزدور یونینز اور مختلف شعبوں میں پیشہ ور افراد کے انٹرویوز کے ذریعے جمع کی گئی معلومات کی بنیاد پر یہ تجزیہ پیش کیا ہے یہ جائزہ پولیس اسٹیشن اور یونین کونسل کی سطح پر کیا گیا ہے-

    دی نیاز کے مطابق اہلکار نے بتایا کہ غلط اندازوں کے امکان کو دور کرنے کیلئے یہ سروے سائنسی انداز میں کیا گیا ہے، اگرچہ اب تک کیے گئے سروے میں ن لیگ کی مقبولیت کی شرح کے حوالے سے ایک پُرامید اندازہ لگایا گیا ہے کیونکہ نواز شریف کی واپسی کے بعد سے پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن اب تک کسی نے یہ جائزہ پیش نہیں کیا کہ پارٹی کتنی نشستیں جیت سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی میڈیا نے بھی نواز شریف کو مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر پیش کیا ہے لیکن کیا وہ سادہ اکثریت حاصل کر پائیں گے یا نہیں اس کا جواب نہیں ہے لیکن اس سرکاری جائزے کے مطابق ن لیگ کو 115 سے 132 کے درمیان قومی اسمبلی کی نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

    خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو شامل کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ پارٹی کے پاس سادہ اکثریت کے ساتھ تنہا حکومت بنانے کا موقع ہوگا، جہاں تک صوبائی اسمبلی کی نشستوں کا تعلق ہے، جائزے کے مطابق پنجاب اسمبلی میں انہیں 297 میں سے 190 کے قریب نشستیں مل سکتی ہیں یعنی ن لیگ کو صوبائی اسمبلی میں مکمل اکثریت مل سکتی ہے ن لیگ چند اضلاع کے علاوہ پنجاب میں کلین سوئپ کر سکتی ہے۔

    سرکاری اندازوں کے مطابق ن لیگ پنجاب میں ممکنہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ن لیگ مخلوط حکومتیں بنانے کامیاب ہوجائے گی جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس صرف سندھ میں حکومت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    دی نیوز کے مطابق جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکز میں پیپلز پارٹی کو 35 سے 40 کے نشستیں مل سکتی ہیں جبکہ تحریک انصاف کے آزاد امیدوار 23 سے 29 کے درمیان سیٹیں حاصل کر سکتے ہیں، ایم کیو ایم کو 12 سے 14 نشستیں مل سکتی ہیں، جے یو آئی قومی اسمبلی کی 6 سے 8 نشستیں، ق لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کو قومی اسمبلی میں دو سے تین نشستیں ملنے کی توقع ہے۔

  • تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    آٹھ فروری، ملک بھر میں عام انتخابات، تاہم سب کی نظریں لاہور پر جمی ہیں ، سابق وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف، بلاول،علیم خان سمیت کئی امیدوار میدان میں ہیں، لاہور سے کون جیتے گا؟ سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں.

    لاہور میں قومی اسمبلی کے 14 حلقے ہیں، سب امیدواروں نے بھر پور انتخابی مہم چلائی، لاہور میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، بلاول زرداری سمیت سب نے جلسے کئے، ریلیز نکالیں، کارنر میٹنگز کیں،تا ہم اب کل آٹھ فروری کو ووٹر فیصلہ سنائیں گے کہ لاہور کس کا؟لاہور میں پولنگ اسٹیشنز پر سامان کی ترسیل کا عمل مکمل ہوگیا ہے، ریٹرنگ افسران نے پریزائڈنگ افسر کو سامان حوالے کیا ،پولنگ اسٹیشنز پر سامان پاک فوج اور پولیس کی نگرانی میں منتقل کردیا گیا ،لاہور میں مجموعی طور پر 4 ہزار 3 سو 54 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گے، لاہور میں 1120 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قراردیا گیا ہے،حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 3110 بتائی گئی ہے،نارمل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 127 ہے۔

    این اے 130،نواز شریف بمقابلہ یاسمین راشد
    سابق وزیراعظم نواز شریف لاہور کے حلقہ این اے 130 سے الیکشن لڑ رہے ہیں، تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں جو پہلے بھی اس حلقے سے الیکشن لڑیں اور ہاریں، اب یاسمین راشد نو مئی کے مقدمات میں جیل میں ہیں، اور نواز شریف مقدمات سے بری ہو کر بھر پورمہم چلا چکے، نواز شریف نے مریم نواز کے ہمراہ این اے 130 کا دورہ کیا تھا،نواز شریف کی بھر پور مہم اور یاسمین راشد کا جیل میں ہونا،اسکے علاوہ یاسمین راشد کی مہم چلانے والوں کو روکے جانا، بھی دھاندلیوں میں شامل ہے،یاسمین راشد کو انتخابی نشان لیپ ٹا پ ملا ہے، جبکہ نواز شریف کا پارٹی نشان شیر ہے، این اے 130 سے نواز شریف جیت جائیں گے،مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں، جو پانچ سے چھ ہزار کے قریب ووٹ حاصل کر لیں گے،پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال احمد خان اور جماعت اسلامی کے صوفی خلیق احمد بٹ بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں، این اے 130 سے کل 18 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 130لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 170، پی پی 173 اور پی پی 174 کے علاقے شامل ہیں۔این اے 130 لاہور میں انار کلی،سنت نگر،مزنگ،اسلام پورہ،گلشن راوی۔ساندہ۔ہال روڈ شامل ہیں، اس حلقے کی کل آبادی 8لاکھ 93ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 6لاکھ 8ہزار ہے، جن میں‌سے مرد ووٹرز – 3لاکھ 23ہزار،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 85ہزار ہیں، اس حلقے میں کل پولنگ اسٹیشن – 376 بنائے گئے ہیں.

    این اے 127، بلاول زرداری بمقابلہ عطا تارڑ
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری اپنے نانا سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخ کو دہرانے کیلئے این اے 127 لاہور سے انتخابی میدان میں اترچکے ہیں،بلاول زرداری اس بار لاڑکانہ اور لاہور سے الیکشن لڑ رہے ہیں، لیاری سے نہیں لڑ رہے اس حلقے میں ن لیگ کے عطا تارڑ امیداور ہیں، پی ٹی آئی کے ملک ظہیر عباس کھوکھر اس حلقے سے امیدوار ہیں جن کا انتخابی نشان گھڑیال ہے،جماعت اسلامی کے احسان اللہ وقاص،تحریک لبیک کے مطلوب احمد اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 127 سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار خالد نیک ہیں، پیپلز پارٹی امیدوار بلاول کی اس حلقے میں مسلم لیگ ق، پاکستان عوامی تحریک،جمعیت علماء پاکستان ،جمعیت اہلحدیث نے حمایت کر رکھی ہے، اس حلقے میں پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ سیٹ جیت جائیں تا ہم ماضی میں اس حلقے سے ن لیگ جیتتی رہی ہے، اب اس حلقے میں بلاول اور عطا تارڑ کا مقابلہ ہے،اس حلقے کی کل آبادی 972,875 ہے، جہاں 519,150 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 274,000 جب کہ 245,000 خواتین ووٹرز ہیں۔یہ حلقہ PP-157، 160، 161، اور صوبائی اسمبلی کے 162 حلقوں پر مشتمل ہے، ماڈل ٹاؤن، بہار کالونی، قینچی، چونگی امرسدھو جیسے علاقے بھی اس حلقے میں شامل ہیں،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 27ہزار ہے، جس میں مرد ووٹرز – 2لاکھ 73ہزار،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 54ہزار ہیں، این اے 127 میں کل پولنگ اسٹیشن – 337بنائے گئے ہیں.

    این اے 123 ، شہباز شریف بمقابلہ لیاقت بلوچ
    این اے 123، سابق وزیراعظم شہباز شریف ن لیگ کی جانب سے اس حلقے میں امیدوار ہیں تو وہیں جماعت اسلامی کے امیر لیاقت بلوچ بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں،تحریک انصاف کے افضال عظیم پاہٹ، پیپلز پارٹی کے محمد ضیاء الحق، جے یو آئی کے حیدر علی،تحریک لبیک کے امجد نعیم اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 123 لاہورمیں کماہاں روڈ۔بیدیاں روڈ،ڈیفنس ،گجو متہ شامل ہیں،کل آبادی – 8لاکھ 87ہزار 5سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 38ہزار 780ہے جن میں سے مرد ووٹرز – 1لاکھ 87ہزار 830،خواتین ووٹرز – 1لاکھ 50ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 222 بنائے گئے ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد سولہ ہے،این اے 123 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 157، پی پی 158، پی پی 159، پی پی 160 اور پی پی 164 کے مختلف علاقے شامل ہیں۔

    این اے 119، مریم نواز بمقابلہ شہزاد فاروق
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119 میں مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف امیدوار ہیں، صنم جاوید پی ٹی آئی امیدوار مریم نواز سے مقابلے میں‌دستبردار ہو گئیں جس کے بعد پی ٹی آئی کے اب امیداور شہزاد فاروق ہیں،پیپلز پارٹی کے افتخار شاہد ، جماعت اسلامی کے ذولفقار علی ، جمعیت علماء اسلام کے راشد احمد خان اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 119 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقے پی پی 149, پی پی 150, پی پی 151، پی پی 152 اور پی پی 170 شامل ہیں۔حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد 19 ہے،این اے 119 لاہورمیں گڑھی شاہو، مال روڈ ، جی ٹی روڈ ، باغبانپورہ شامل ہیں، حلقے کی کل آبادی – نو لاکھ تینتیس ہزار دو سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 20ہزار 829 ہے جس میں سے مرد ووٹرز – 2لاکھ 77ہزار 172جبکہ خواتین ووٹرز – 2لاکھ 43ہزار 657 ہیں،کل پولنگ اسٹیشن 338 بنائے گئے ہیں.حلقہ این اے 119 میں مسلم لیگ ن کی خواتین نے گھر گھر جا کر مریم نواز کی کامیابی کے لئے مہم چلائی ہے، قوی امکان ہے کہ مریم نواز سیٹ جیت جائیں گی.

    این اے 122، خواجہ سعد رفیق بمقابلہ لطیف کھوسہ
    این اے 122 میں ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق اور پی ٹی آئی کی جانب سے آزاد امیدوار سردارلطیف کھوسہ آمنے سامنے ہیں۔این اے 122 سے مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید بھی امیدوار ہیں،جماعت اسلامی کی جانب سے اس حلقے میں ڈاکٹر زیبا وقار وڑائچ امیدوار ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد اکیس ہے،این اے 122 لاہور میں بھٹہ چوک ،ڈیفںس،بیدیاں روڈ ،آرے بازار۔کینٹ شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 53ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 70ہزار 536 ہے جس میں سے مرد ووٹرز – 2لاکھ 95ہزار اور خواتین ووٹرز- 2لاکھ 75ہزار 50 ہیں،کل پولنگ اسٹیشن 361بنائے گئے ہیں،این اے 122 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 155، پی پی 156 ، پی پی 157, پی پی 160 اور پی پی 170 کے مختلف علاقے شامل ہیں، 2018 کے الیکشن میں اس حلقے سے عمران خان الیکشن لڑے تھے اور جیت گئے تھے تاہم عمران خان نے بعد ازاں یہ سیٹ چھوڑی، تو ضمنی انتخابات میں ہمایوں اختر کو ٹکٹ دیا جو خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں ہار گئے تھے.

    این اے 117، علیم خان بمقابلہ علی اعجاز
    این اے 117 پر استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی )کے امیدوار عبدالعلیم خان کا مقابلہ آزاد امیدوار علی اعجاز سے ہے، ن لیگ نے اس حلقے سے امیدوار کھڑا نہیں کیا بلکہ علیم خان کی حمایت کا اعلان کیا ہے،پیپلز پارٹی کے سید آصف ہاشمی، جماعت اسلامی کے جہانگیر احمد، اس حلقے سے امیدوار ہیں، این اے 117 میں کل امیدواروں کی تعداد 20 ہے،این اے 117 لاہورمیں شاہدرہ،بادامی باغ شامل ہیں،کل آبادی – نو لاکھ دو ہزار پانچ سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 20ہزار سے زائد ہے،مرد ووٹرز – 2لاکھ 82ہزار،خواتین ووٹرز – دو لاکھ 38ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 329بنائے گئے ہیں.این اے 117 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقے پی پی 145، پی پی 146 اور پی پی 147 شامل ہیں

    حلقہ این اے 120 پر مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق انتخابی میدان میں اترے ہیں، ان کے مقابلے پر آزاد امیدوار عثمان حمزہ کامیابی کیلئے زور لگائیں گے۔

    این اے 128، عون چودھری بمقابلہ سلمان اکرم راجہ
    این اے 128پر استحکام پارٹی کے امیدوار عون چودھری کو آزاد امیدوار سلمان ا کرم راجا کا سامنا ہے،ن لیگ کا اس حلقے میں کوئی امیدوار نہیں ہے، ن لیگ نے عون چودھری کی حمایت کر رکھی ہے،پیپلز پارٹی کے عدیل غلام محی الدین ،جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ،جے یو آئی کے غضنفر عزیز اس حلقے سے امیدوار ہیں، اس حلقے سے کل 22 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 128 لاہور میں گلبرگ،ماڈل ٹاون۔فیروز پور روڈ۔گارڈن ٹاون،علامہ اقبال ٹاون،فیصل ٹاون۔گلاب دیوی ہسپتال شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 52ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 6لاکھ 78ہزار ہے،مرد ووٹرز – 3لاکھ 48ہزار ہیں،خواتین ووٹرز – 3لاکھ 30ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 433بنائے گئے ہیں،این اے 128 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 156، پی پی 161، پی پی 169، پی پی 170 اور پی پی 171 کے مختلف علاقے شامل ہیں.

    این اے 126 سیف الملوک کھوکر،بمقابلہ ملک توقیر کھوکھر
    این اے 126 لاہور سے ن لیگ کے سیف الملوک کھوکھر امیدوار ہیں، پی ٹی آئی کے ملک توقیر کھوکھر، پیپلز پارٹی کے امجد علی، جماعت اسلامی کے امیر العظیم، مرکزی مسلم لیگ کے عمران لیاقت،تحریک لبیک کے محمد احمد مجید امیدوار ہیں، اس حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد – 19 ہے،این اے 126 لاہور میں شادیوال ۔جوہر ٹاون۔جوڈیشل کالونی۔ایکسپو سنٹر،واپڈا ٹاون۔ویلنشیا شامل ہیں،کل آبادی 9لاکھ 78ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 50ہزار ہے جس میں مرد ووٹرز – 1لاکھ 78ہزار جبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 71ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 223بنائے گئے ہیں.این اے 126 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پی پی 162، پی پی 164، پی پی 167 اور پی پی 168 کے مختلف علاقے شامل ہیں

    این اے 125، 19 امیدوار میدان میں
    این اے 125 لاہور سے مسلم لیگ ن کے محمد افضل کھوکھر امیدوار ہیں، پی ٹی آئی کے جاوید عمر، پیپلز پارٹی کے چوہدری عبدالغفور میو، جے یو آئی کے نظام دین، تحریک لبیک کے خرم شہزاد، جماعت اسلامی کے ذبیح اللہ بلگن امیدوار ہیں،اس حلقے میں امیدواروں کی کل تعداد 19 ہے،این اے 125 میں ضمیر ٹاون، مانگہ منڈی، موہلنوال۔رائیونڈ روڈ، بھوبتیاں شامل ہیں،اس حلقے کی کل آبادی – 9لاکھ ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 40ہزار 6سو ہے ، مرد ووٹرز – 1لاکھ 86ہزار 2سوجبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 54ہزار 4سو ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 214بنائے گئے ہیں.این اے 125 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 164، پی پی 165 ، پی پی 166 کے علاقے شامل ہیں۔

    این اے 124 سے 13 امیدوار میدان میں
    این اے 124 سے مسلم لیگ ن کے رانا مبشر اقبال،تحریک انصاف کے ایڈوکیٹ ضمیر، تحریک لبیک کے عرفان بھٹی، مرکزی مسلم لیگ کے محمد امین ، جماعت اسلامی کے محمد جاوید امیدوار ہیں، اس حلقے میں کل امیدواروں کی تعداد 13 ہے،این اے 124 لاہور میں ہلوکی۔سادھوکی۔ویلنشیا ،پاک عرب سوسائٹی،باگڑیاں۔ چونگی امر سدھو شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 78ہزار 8سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 10ہزار 116 ہے،مرد ووٹرز – 1لاکھ 69ہزار 6سوجبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 40ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 198 بنائے گئے ہیں،این اے 124 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چھ حلقوں پی پی 158، پی پی 159، پی پی 160 ، پی پی 163، پی پی 164 اور پی پی 165 کے مختلف علاقے شامل ہیں،

    این اے 121 لاہور سے ن لیگ کے شیخ روحیل اصغر،پی ٹی آئی کے وسیم قادر، پیپلز پارٹی کے افتخار شاہد، جماعت اسلامی کے عامر صدیقی، ایم کیو ایم کے عمران اشرف امیدوار ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد 15 ہے،این اے 121 لاہورمیں ہربنس پورہ۔سلامت پورہ۔تاج پورہ۔داروغہ والا۔فتح گڑھ شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 2ہزار 6سو ہے، رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 4لاکھ 67ہزارہے،مرد ووٹرز – 2لاکھ 47ہزار 571،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 19ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 299بنائے گئے ہیں،این اے 121 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چار حلقے پی پی 149، پی پی 152، پی پی 153 اور پی پی 154 شامل ہیں۔

    این اے 118، حمزہ شہباز بمقابلہ عالیہ حمزہ
    این اے 118 لاہور ن لیگ کے حمزہ شہباز ، پی ٹی آئی کی عالیہ حمزہ، پیپلز پارٹی کے شاہد عباس، جے یو آئی کے محمد افضل، تحریک لبیک کے عابد حسین،جماعت اسلامی کے محمد شوکت امیدوار ہیں، اس حلقے سے 13 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 118 لاہورمیں بادامی باغ، شاد باغ، دلی دروازہ۔ شیرانوالہ گیٹ۔ مستی گیٹ ، موچی گیٹ شامل ہیں،کل آبادی – نو لاکھ اڑتالیس ہزار پانچ سو ستائیس ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 7لاکھ 35ہزار سے زائد ہے،مرد ووٹرز – 3لاکھ 94ہزار ہے،خواتین ووٹرز – 3لاکھ 41ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 463بنائے گئے ہیں،این اے 118 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقے پی پی 147 پی پی 148 اور پی پی 149 شامل ہیں۔

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقوں سے جماعت اسلامی، جے یو آئی، مرکزی مسلم لیگ، تحریک لبیک کو کوئی سیٹ نہیں ملے گی، پیپلز پارٹی این اے 127 والی واحد سیٹ جیت سکتی ہے، ن لیگ لاہور سے اکثر سیٹیں جیتے گی، آزاد امیدوار ن لیگ کا مقابلہ کریں گے.

  • 100 فیصد یقین ہے کہ نتائج میں کوئی  تاخیر نہیں ہوگی،الیکشن کمشنر سندھ

    100 فیصد یقین ہے کہ نتائج میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی،الیکشن کمشنر سندھ

    کراچی: الیکشن کمشنر سندھ شریف اللہ کا کہنا ہے کہ کچھ تاخیر ہوجاتی ہے اکثر پولنگ سامان کی تقسیم میں ٹیکنیکل میٹریل یا اسٹاف کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کسی بھی پی ایس کا کوئی آر او نہیں بدلا ہے، من گھڑت خبروں سے گریز کریں۔

    باغی ٹی وی: صوبائی الیکشن کمشنر سندھ شریف اللہ نے ایکسپو سینٹر ڈسپیچ سینٹر کا دورہ کیا جہاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایکسپو سینٹر میں پولنگ اسٹاف آیا ہوا ہے، یہاں پولیس کے اہلکار موجود ہیں، جس سینٹر سے ہم نکلیں ہیں وہاں تو تقسیم شروع ہوگئی ہے۔

    صوبائی الیکشن کمشنر نے کہا کہ کچھ تاخیر ہوجاتی ہے اکثر پولنگ سامان کی تقسیم میں ٹیکنیکل میٹریل یا اسٹاف کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اسٹاف اور انتخابی سامان شام 4 ،5 بجے سے پہلے پولنگ اسٹیشن پہنچ جائیگا، کیمپین کا وقت ختم ہوچکا ہے آپ لوگ بھی میڈیا پر چلائیں۔

    لبنان کے جج عالمی عدالت انصاف کے صدر منتخب

    انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کو سیکورٹی کا زیادہ پتہ ہے وہ آپس میں رابطے میں ہیں، کون سے ایریا میں کیا ڈپلوئمنٹ کرنی ہے وہ بہتر جانتے ہیں ٹیکنیکل میٹریل، پولنگ سامان کی تقسیم یا اسٹاف کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، 100 فیصد یقین ہے کہ نتائج میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی جہاں کنیکٹیویٹی ہے وہاں صحیح وقت پر نتائج آئیں گے، پریزا ئڈنگ کو آکر میٹریل بھی دینا ہے فارم 45 بھی دینا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کی چاروں صوبوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت

    لوک رحمت کالاش برادری کی تاریخ میں پہلی بار بطور آزاد امیدوار میدان …

  • چیف الیکشن کمشنر کی چاروں صوبوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت

    چیف الیکشن کمشنر کی چاروں صوبوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت

    چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے چاروں چیف سیکرٹریز اور ائی جیز کو فون کیا ہے

    چیف الیکشن کمشنر نے چاروں صوبوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کر دی، چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ جلد از جلد سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کو مکمل کیا جائے، تاکہ ووٹرز، ڈی آر اوز اور آر اوز کے دفاتر کو سیکیورٹی فراہم کی جاسکے، چیف الیکشن کمشنر نےبلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،چیف الیکشن کمشنر نے ایسے واقعات کے فوری تدارک کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی

    واضح رہے کہ عام انتخابات سے ایک روز قبل بلوچستان میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا ہے ، پشین اور قلعہ سیف اللہ میں دھماکے ہوئے، دونوں دھماکے انتخابی دفاتر میں ہوئے، بلوچستان میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق اور 42 سے زائد زخمی ہو گئے۔پشین میں دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے،جبکہ قلعہ سیف اللہ میں جے یوآئی کے دفترکے قریب دھماکے میں 10 افراد جاں بحق اور 12 افراد زخمی ہو گئے بلوچستان کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، صوبہ بھر میں سیکورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • لوک رحمت  کالاش برادری کی تاریخ میں پہلی بار  بطور آزاد امیدوار میدان  میں ڈٹ گئے

    لوک رحمت کالاش برادری کی تاریخ میں پہلی بار بطور آزاد امیدوار میدان میں ڈٹ گئے

    عام انتخابات میں لوئر چترال اور اپر چترال سے درجنوں افراد نے صوبائی اور قومی اسمبلی کے لیے آزاد حیثیت سے حصہ لینے کے کاغذات جمع کروائے مگر اب میدان سے بھاگ گئے ہیں۔ تاہم لوک رحمت ڈٹے ہوئے ہیں.

    چترال میں صوبائی اسمبلی حلقہ پی کے 2 لوئر چترال ، پی کے 1 اور این اے ون چترال کے حلقے سے اس سال درجنوں سیاسی شخصیات نے عام انتخابات میں حصہ لیا ان میں سے کچھ پارٹی کی طرف سے اور زیادہ امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑانے کے خواہشمند تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ کئی پارٹی کے امیدوار ایک دوسرے کے حق میں دستبردار ہوگئے ۔ ان میں سب سے زیادہ آزاد امیدوارں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیا اور کسی اور امیدوار کو موقع دے کر خود عام انتخابات سے دستبردار ہوگئے ہیں ۔ اس تمام تر صورت حال میں سب سے دلچسپ امیدوار کالاش برادری کے آزاد امیدوار لوک رحمت ہی رہے جو کہ پاکستان اور بیرونی میڈیا پر زینت بنا اور سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر چھائے رہے ۔

    یاد رہے کہ لوک رحمت کا تعلق کالاش برادری سے اور کالاش برادری تعداد میں بہت کم ہے اس کے باجود بھی لوک رحمت میدان میں ڈاٹے ہوئے ہیں، وہ نہ جھکے اور نہ ہی ہمت ہارنے کا نام لے رہے بلکہ حوصلے بلند ہیں اور الیکشن میں کامیابی کے لیے پر عزم ہیں ۔ لوک رحمت کے مطابق وہ اپنے برادری کے نوجوانوں کو ہی نہیں بلکہ چترال کے نوجوانوں کو حوصلے دینے اور مایوسیوں سے نکلنے کے لیے میدان میں اترے ہیں ۔ معاشرے میں روایتی سیاستدانوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ نوجوان بغیر کسی خوف کے ملک کی باگ ڈور میں حصہ لیں کیوں کہ روایتی سیاستدانوں نے ملک پاکستان کے نوجوان نسل کو وہ مستقبل نہیں دیا ہے جس کا نوجوان نسل حق رکھتا ہے ۔

    لوک رحمت چاہتے ہیں کہ چترال کے نوجوان خوف سے باہر نکل کر ملکی سیاست میں حصہ لیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں کیونکہ کہ ملک کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار بہت نمایاں اور معنی خیز ثابت ہو سکتے ہیں ۔

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • عام انتخابات،ای ایم ایس بنانے والوں نے گارنٹی دینے سے انکار کردیا

    عام انتخابات،ای ایم ایس بنانے والوں نے گارنٹی دینے سے انکار کردیا

    الیکشن کمیشن کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کرنل ریٹائرڈ سعد نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ بند ہوتا ہے تو پریذائیڈنگ افسر کو نتائج بھیجنے میں مسئلہ ہو گا،اللہ کی ذات کے علاوہ کسی چیز کی کوئی گارنٹی نہیں۔

    الیکشن منیجمنٹ سسٹم مکمل آپریشنل،صحافیوں کو بریفنگ دی گئی، صحافیوں نے نیٹ ورک آپریشن سیل ایچ نائن کا دورہ کیا،ایچ نائین سیٹ اپ الیکشن کمیشن کا آئی ٹی سیٹ اپ ہے،پروجیکٹ ڈائریکٹر کرنل ر سعد نے میڈیا کو بریفنگ دی اور کہا کہ تمام آر اوز اور فیلڈ آفسز کو یہاں سے مانیٹر کر رہے ہیں ،آر اوز کی 859آر اوز لوکیشن ہیں ،ان کو دو دو کنکشن دئے گئے ہیں،تمام متعلقہ ٹیلی کمپنیوں سے رابطے میں ہیں،ہر شخص اس سسٹم میں نہیں آسکتا،چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کا نظام چلتا رہے گا،چالیس انجنئیرز یہاں پر نیٹورک دیکھ رہے ہیں ،یہاں پر ای ایم ایس کا ہیلپ ڈیسک موجود ہے ،ای ایم ایس ہیلپ ڈیسک میں 8 اپریٹرز موجود ہے، ہر صوبہ کو دو آپریٹرز ڈیل کر رہے ہیں ،آج ہم ریٹرنگ آفسران کو پورٹل میں لوگ ان کروائیں گے

    صحافیوں کو میڈیا بریفنگ کے دوران کرنل ر یٹائرڈ سعد کا کہنا تھا کہ یہاں پر الیکشن کمیشن کی سافٹ وئیر پروجیکٹ تیار کیے جاتے ہیں ،پاکستان کی ایک پرائیویٹ کمپنی ہے جس نے ای ایم ایس ڈویلپ کیا ہے،3 ہزار سے زائد لیپ ٹاپ اور 400 کے قریب ڈیسک ٹاپ کام کر رہے ہیں،ڈی آر اوز کی لائیو لوکیشن کواس سسٹم میں دیکھا جا سکتا ہے،صرف ان لوگوں کو سافٹ ویئر میں لاگ ان کر سکتے ہیں جن کو اجازت ہو گی،ہمیں نیپرا نے یقین دلایا ہے ملک میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی،ہمیں انٹر نیٹ سے کوئی ضرورت نہیں انٹرنیٹ سے ای ایم ایس سسٹم کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ای ایم ایس میں سارا ڈیٹا آف لائن پڑا ہے، اس میں صرف ریزلٹ ڈالنا ہے

    کرنل ر سعد کا مزید کہنا تھا کہ رب کے ذات کے علاوہ کسی چیز کی گارنٹی نہیں،ہم انسان ہیں، ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں،سیکیورٹی اور دیگر وجوہات کے باعث مختلف علاقوں میں رزلٹ کی تاخیر تو ہوسکتی ہے مگر رزلٹ پر فرق نہیں پڑے گا،ریٹرننگ افسر کے لئے ہمیں کوئی ایشو نہیں، انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں، ای ایم ایس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، مکران میں سیکیورٹی خدشات کے باعث انٹرنیٹ سروسز بند کردی گئی ہے، انٹرنیٹ نہ ہونے سے نتائج وصول ہونے میں کچھ تاخیر ہو سکتی ہے، بطور انسان کوشش کی ہے کہ الیکشن کے دن ای ایم ایس میں کوئی مسائل نہ ہوں، ، الیکشن کمیشن کو پہلے دن رزلٹ نہ پہنچے تو دوسرے دن آجائیں گے،کوئی بڑی بات نہیں،

    انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 595امیدواروں کو نوٹسز جاری
    الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں فعال، اعدادو شمار جاری کر دیئے گئے، ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 595امیدواروں کو نوٹسز جاری کئے، امیدواروں کے علاوہ بلدیاتی نمائندہ اور سرکاری ملازمین کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹسز ارسال کیے،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 261امیدوروں کو جرمانہ کیاگیا،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے خلاف 52شکایات کمیشن میں زیرالتواء ہے،ملک بھر میں 144ڈی آراوز اور1200مانٹرنگ افسران فیلڈ میں ہیں،کل بھی تمام دن مانیٹرنگ ٹیمیں فعال رہیں گی،انتخابات سے متعلق شکایات کیلئے ہماری ٹیلی فون لائنز 24گھنٹے فعال ہیں،

    سوشل میڈیا پر بیلٹ پیپر کی پرنٹنگ اور سائز سے متعلق چلنے والی ویڈیو گمراہ کن ہے، الیکشن کمیشن
    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سوشل میڈیا میں بیلٹ پیپر کی پرنٹنگ اور سائز سے متعلق چلنے والی ایک ویڈیو کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیلٹ پیپر ہمیشہ سے امیدواران کی تعداد کے لحاظ سے سنگل، ڈبل اور ٹرپل کالم اور اردو حروف تہجی کی ترتیب میں پرنٹ کیا جاتا ہے اور اس دفعہ بھی اسی ترتیب سے پرنٹ کیا گیا ہے تاہم بیلٹ پیپر کی فولڈنگ اور الیکشن کے دیگر مراحل سے متعلق معلوماتی ویڈیوز الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل پر موجود ہیں۔ ووٹر ز کو سوشل میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں پر اعتبار کرنے کی بجائے معلومات کے لیے صرف الیکشن کمیشن کی جاری کردہ آگاہی ویڈیوز سے استفادہ کرنا چاہیے یا کسی شکایت کی صورت میں الیکشن کمیشن کے قائم کردہ Complaint Cell پر 000۔327۔111۔051 سے رابطہ کریں۔

    الیکشن سے ایک روز قبل الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ بار بار بند
    الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ قابل رسائی نہیں رہی ،الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹس نے کام کرنا چھوڑ دیا، ویب سائٹ کا سرور ڈاون ہوگیاجس کے بعد الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ بند ہو گئی،ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹس پر بہت زیادہ لوڈ ہے،ہم نے ای سی پی کی ویب سائٹ کے علاوہ تین مختلف ناموں سے ویب سائٹس بنائی ہوئی ہیں،الیکشن کمیشن کا آئی ٹی کا عملہ خرابی کو دور کر رہا ہے، بعد ازاں الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ بحال کر دی گئی

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی شرائط الیکشن کمیشن نے بتا دیں

    ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی شرائط الیکشن کمیشن نے بتا دیں

    الیکشن کمیشن،ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق درخواستوں کی وصولی،الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ10 اور11 فروری 2024 کو کھلارہے گا،

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹوں کی دوبارہ گنتی کیلئے درخواستیں صبح 8:30 سے شام 4:30 تک وصول کی جائیں گی،درخواستوں پرسماعت 10 اور11 فروری بروز ہفتہ اور اتوارکوبھی ہوں گی، پٹیشن جمع کرانے کیلئے ضروری ہدایات الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پرموجود ہیں، امیدواران ایس اوپیزکے مطابق اپنی درخواستیں جمع کرواسکیں گے،پٹیشنزکی 9 کاپیاں،ایک اصل اور8 کاپیاں معہ مکمل تفصیل جمع کروانی ہوں گی، درخواست دہندہ درخواست کی سافٹ کاپی پی ڈی ایف میں مہیا کرےگا،درخواست دہندہ جو بھی ان کے پاس ثبوت ہوں گے وہ یو ایس بی میں دیں گے،درخواست دہندہ اپنے شناختی کارڈ کی کاپی درخواست کے ساتھ منسلک کریں گے،درخواست دہندہ اپنا درست موجودہ پتہ اور رابطہ نمبرلکھیں گے،درخواست دہندہ مدعا علیہان کے مکمل کوائف اورپتہ تحریر کریں گے، وکیل کے ذریعے درخواست دائرکرنے پروکالت نامہ لف کرنا ہوگا، صرف مقررہ تاریخ اوروقت پرموصول درخواستیں سماعت کیلئے مقررہوں گی،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں‌ 90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشنز اور 2 لاکھ 66 ہزار 398 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں جب کہ پولنگ کیلئے 14 لاکھ 90 ہزار انتخابی عملہ ذمہ داریاں انجام دے گا، 16 ہزار 766 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 29 ہزار 985 کو حساس قرار دیا گیا ہے، پولنگ اسٹیشن پر امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے پریزائیڈنگ افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات دیے گئے ہیں جب کہ حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کے باہر پاک فوج تعینات ہوگی.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں،پلوشہ خان

    نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں،پلوشہ خان

    پیپلز پارٹی کی رہنما پلوشہ خان نے کہا کہ بلاول بھٹوزرداری نے گزشتہ دن دو ٹوک بات کی کہ کسی مینڈیٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے ،

    پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ مینڈیٹ چوری کیا گیا تو ان پیچھا کریں گے کہ وہ بیرون ملک چلے جائیں گے ، نواز شریف کا ووٹ شیر پر نہیں عقاب کو جائے گا ،ن لیگ نواز شریف کے خود ساختہ نعرے سے وزیراعظم کا نعرہ لگا رہے ہیں ، ن لیگ کی فتح کے اعلان کو مسترد کرتے ہیں ، ن لیگ آج تک پنجاب سے باہر نہیں نکلی ، ن لیگ پنجاب کو مشکل میں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، جو بڑے بڑے نعرے لگا رہے ہیں ان سے پوچھئے کے جمہوریت بہترین انتقام ہے، سب جماعتیں کمپین میں مصروف تھی کی میاں نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں، معاملات پہلے سے طے ہونے کے ثبوت ہیں تاثر دے رہے ہیں پنجاب ان کے ساتھ ہے، پنجاب کسی کی جاگیر نہیں آپ دو بار اس کو چھوڑ کر وطن سے باہر گئے ہیں، وہ شخص جس نے پی آئی اے کا بیڑہ غرق کیا وہ کس منہ سے بات کر رہا ہے، ایک سیاسی جماعت پاکستانی اداروں کو خراب کرنے کا سوچ رہی ہے، آنے والے کل میں کوئی بدمعاشی برداشت نہیں کریں گے،الیکشن والے دن انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے تو خدشہ ہے کوئی ورادت ڈالیں گے ، الیکشن والے دن نیٹ کی بندش نا قابلِ قبول ہے ،

    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ن لیگ کی طرف سے دیے گئے اشتہار کا نوٹس لے ،کل کسی قسم کی دھاندلی اور دھونس کو قبول نہیں کیا جائے گا.گا نو مئی والے آج ن لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں،مسلم لیگ نون کی طرف سے اشتہاری مہم عوام کو گمراہ کرنے کی چالاکی ہے ،مسلم لیگ نون نے جعلسازی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ،نواز شریف کو جتنی جلدی ملک چھوڑ کر بھاگنے کی تھی اتنی ہی وزیراعظم بننے کی

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • الیکشن 2024، پرامن انعقاد کیلئے سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی تفصیلات

    الیکشن 2024، پرامن انعقاد کیلئے سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی تفصیلات

    الیکشن 2024، پرامن انعقاد کیلئے سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی تفصیلات سامنے آ گئی

    الیکشن 2024ء کے پرامن ماحول میں انعقاد کیلئے ملک بھر میں الیکشن کمیشن کی درخواست پر کوئیک رسپانس فورس کے106942 اہلکار تعینات کئے گئے ہیں ،اس کے علاوہ 23940 سکیورٹی اہلکار مستقل طور پر الیکشن کے دوران ڈیوٹی سرانجام دینگے، پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کے مجموعی طور پر 130882 اہلکار الیکشن ڈیوٹی پر مامور ہونگے، الیکشن کے پرامن انعقاد کیلئے ملک بھر میں پولیس کے 465736 مجموعی طور پر اہلکار تعینات ہونگے،امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے آرمی، سول آرمڈ فورسز اور پولیس کے مجموعی طور پر 596618 اہلکار الیکشن ڈیوٹی سرانجام دینگے، پنجاب میں الیکشن کے پرامن انعقاد کیلئے پولیس کے 216000 اہلکار تعینات ہونگے،صوبہ سندھ میں 110720، خیبرپختونخوا میں 92535 اور بلوچستان میں 46481 پولیس اہلکار ڈیوٹی سرانجام دینگے،پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ووٹرز کو پرامن ماحول فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں.

    الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پربلا تفریق کارروائی ہو گی، سی سی پی او لاہور
    کیپیٹل سٹی پولیس آفیسرلاہور بلال صدیق کمیانہ کی زیر صدارت سینئر پولیس افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں عام انتخابات 2024ء کے پُرامن انعقاد کے سلسلے میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیاگیا۔ سی سی پی اونے متعلقہ افسران کوالیکشن ڈے پرپولیس ملازمین کے کھانے کاخاص خیال رکھنے کی ہدایت کی۔سی سی پی او لاہور نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پربلا تفریق کارروائی ہو گی۔ اسلحہ کی نمائش اور فائرنگ کے واقعات کی روک تھام ایجنڈا نمبر ون ہے،کسی خلاف ورزی پر آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ فورس کی ڈیوٹی سے متعلق غفلت ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی، سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے کنٹرول رومزکے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی۔پولنگ ڈے پر ڈولفن فورس،سپیشل پروٹیکشن یونٹ اور ایلیٹ فورس کی ٹیمیں مسلسل پٹرولنگ کریں گی اور پولنگ سٹیشنزکی سیکورٹی کیلئے خصوصی ناکے بھی قائم کئے جائیں گے۔سی سی پی او نے کہاکہ الیکشن ڈے پرکسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے اینٹی رائٹ فورس اور ریزروفورس کے جوان لاہور پولیس کی معاونت کیلئے موجو د ہوں گے۔ سی سی پی اونے متعلقہ افسران کوالیکشن کمیشن، ضلعی انتظامیہ اورسیکورٹی اداروں سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ڈی آئی جی(سی آئی اے) کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک، ڈی آئی جی(آپریشنز)سید علی ناصر رضوی، ڈی آئی جی(سیکورٹی) کامران عادل اور ڈی آئی جی (انوسٹی گیشن) عمران کشور نے شرکت کی۔ سی ٹی او لاہور عمارہ اطہر، ایس ایس پی(ایڈمن) عاطف نذیر، ایس ایس پی (انوسٹی گیشن) انوش مسعود چوہدری، ایس ایس پی(آپریشنز)سید علی رضا، ایس ایس پی(انٹرنل اکاونٹبیلٹی) صہیب اشرف ، ایس ایس پی(لیگل)غلام حسین چوہان،ایس پی(ہیڈکوارٹر)عبداللہ لک، ایس پی(سیکورٹی) اخلاق اللہ تارڑاورڈویژنل ایس پیز بھی موجود تھے

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • عام انتخابات، سیاسی شخصیات ووٹ کس کس شہر میں دیں گے؟

    عام انتخابات، سیاسی شخصیات ووٹ کس کس شہر میں دیں گے؟

    عام انتخابات، سیاسی شخصیات اپنا ووٹ کہاں ڈالیں گی؟

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اپنا ووٹ کراچی میں پول کرینگے، جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن اپنے آبائی علاقے عبدالخیل میں کل اپنا ووٹ پول کرینگے،چئیرمین سینیٹ صادق سجنرانی اپنا ووٹ نوکنڈی میں پول کرینگے،ڈپٹی چئیرمین سینیٹ مرزا افریدی خیبر ایجنسی میں اپنا ووٹ پول کرینگے،آصف علی زرداری بدین جبکہ بلاول بھٹو زرداری لاڑکانہ میں ووٹ پول کرینگے،امیر جماعت اسلامی سراج الحق دیر میں اپنا ووٹ پول کرینگے،سید خورشید شاہ سکھر جبکہ فیصل کریم کنڈی ڈیرہ اسماعیل خان میں ووٹ پول کرینگے، نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف، حمزہ شہباز لاہور میں ووٹ پول کریں گے، علیم خان بھی لاہور میں ووٹ پول کریں گے، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی کراچی میں اپنا ووٹ پول کریں گے،مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان کراچی میں اپنا ووٹ پول کریں گے،

    پنجاب میں انتخابی عمل کی مانیٹرنگ کیلئے 32 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا کام مکمل
    الیکشن 2024ء کے پر امن انعقاد کیلئے پنجاب پولیس کی تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت تمام اضلاع میں پولیس ٹیمیں آج ڈیوٹی پوائنٹس سنبھال لیں گی،پنجاب پولیس کے01 لاکھ 30 ہزار سے زائد افسران و اہلکار الیکشن سکیورٹی پر تعینات ہوں گے،انتخابی عمل کی مانیٹرنگ کیلئے 32 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا کام مکمل کر لیا گیا،الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر من و عن عمل در آمد یقینی بنایا جا رہا ہے، انتخابی ضابطہ اخلاق، دفعہ 144، اسلحہ کی خلاف ورزی پر ذمہ داران کے خلاف بلا تفریق کاروائیاں جاری ہیں،پولنگ اسٹیشنز پر ہوائی فائرنگ، لڑائی جھگڑے اور انتخابی عمل کو سبوتاژ پر بلا تفریق کاروائی ہوگی، 5577 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر اضافی نفری، ڈولفن فورس اور کوئیک رسپانس سمیت دیگر ٹیمیں تعینات ہونگی ، ملک دشمن و شر پسند عناصر کو روکنے کیلئے بارڈر چیک پوسٹوں پر سخت نگرانی کا عمل جاری ہے،پولیس افسران سکیورٹی ایجنسیز، آرمڈ فورسز، ضلعی انتظامیہ سمیت تمام اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں، صوبائی، ریجنل، ڈویژنل اور سی پی او کنٹرول رومز سے سکیورٹی انتظامات کی کلوز مانیٹرنگ کی جاری ہے ۔

    عام انتخابات،اسلام آباد پولیس نے الیکشن کمیشن کی سیکورٹی سنبھال لی،
    اسلام آباد ,پولیس ایف سی کی اضافی نفری الیکشن کمیشن کی سیکورٹی کے لیے پہنچ گئی ہے،الیکشن کمیشن کی سیکورٹی کے لیے بھی پلان ترتیب دے دیا گیا،8 فروری کو الیکشن کمیشن کی سیکورٹی کو دو گنا کر دیا جائے گا،الیکشن کمیشن میں آنے والے غیر متعلقہ اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے،چیف سٹاف ایس پی ماہر منور الیکشن کمیشن کی سیکورٹی کے تمام تر انتظامات کو دیکھیں گے ، الیکشن کمیشن کے اندد اور باہر سیکورٹی کے فل پروف انتظامات کیے جا رہے ہیں.

    عام انتخابات2024 الیکشن کمیشن نے غیر ملکی مبصرین کیلئے ڈیش بورڈ تیارکرلیا گیا ،عام انتخابات میں غیر ملکی مبصرین کیلئے مرکزی سیکرٹریٹ میں خصوصی کیمپ قائم کیا گیا ہے،غیر ملکی مبصرین کیمپ میں انتخابی عمل و نتائج کامشاہد کریں گے

    ترجمان الیکشن کمیشن نےچاروں صوبائی الیکشن کمشنر کو مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ میڈیا نمائندوں کو الیکشن 2024 سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں،آئندہ عام انتخابات 2024 کی تیاریاں عروج پر ہیں، تمام صوبائی الیکشن کمشنرز اور ترجمان اپنے متعلقہ صوبوں کی میڈیا ٹیموں کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ کریں، صحافیوں کو سرگرمیوں اور الیکشن کمیشن کی تیاریوں سے آگاہ رکھا جائے،

    آٹھ فروری تک کسی بھی شہری کا شناختی کارڈ پر چالان نہیں کیا جائے گا
    الیکشن ڈے،آٹھ فروری تک کسی بھی شہری کا شناختی کارڈ پر چالان نہیں کیا جائے گا : ٹریفک پولیس وائرلیس پیغام جاری کر دیا گیا، سی ٹی او لاہور عمارہ اطہر کا کہنا ہے کہ 08 فروری تک کسی بھی شہری کا شناختی کارڈ پر چالان نہیں کیا جائے گا، شہری صبح 07 بجے سے رات 11 بجے تک شناختی متعلقہ ٹریفک سیکٹر سے موصول کرسکتے ہیں، چالان کی صورت میں شہری بطور ضمانت رجسٹریشن بک اور لائسنس جمع کروا سکتے ہیں، ڈیجیٹل چلاننگ سسٹم سے شہری فوری موقعہ پر چالان جمع کروا کر کاغذات واپسی حاصل کرسکتے ہیں،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائی معمول کے مطابق جاری رہے گی، 10 روز تک چالان جمع نہ کروانے پر کاغذات متلعقہ ضلع کچہری جمع کروا دئیے جاتے ہیں،

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا