Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • خضدار میں پولیس وین پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ،2 پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی

    خضدار میں پولیس وین پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ،2 پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی

    خضدار میں پولیس وین پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔

    باغی ٹی وی :پولیس کےمطابق خضدار میں جھالاوان کمپلیکس کے قریب گشت کے دوران پولیس کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں پولیس وین کے ڈرائیور سمیت 2 پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔

    زخمی کو طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا
    گیا ہے۔

  • بلوچستان:محکمہ جیل خانہ جات مالی مشکلات کا شکار

    بلوچستان:محکمہ جیل خانہ جات مالی مشکلات کا شکار

    کوئٹہ:بلوچستان کا محکمہ جیل خانہ جات مالی مشکلات کا شکار ہوگیا ، قیدیوں کوکھانے کیلئے راشن مہیا کرنے والے ٹھیکیداروں نے دو سال سے واجبات کی عدم ادائیگی پر راشن کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی دے دی۔

    بلوچستان کی گیارہ جیلوں اور جوڈیشنل لاک اپ کے قیدیوں کے کھانے کیلئے راشن فراہم کرنے والے ٹھیکیداروں نے محکمے کو دی جانے والی درخواستوں میں مطالبہ کیا ہے کہ ان کے دوسال کے واجبات 28 فروری تک ادا کردیے جائیں۔

    بصورت دیگر قیدیوں کو راشن کی سپلائی روک دی جائے گی ،اس حوالے سے محکمہ جیل خانہ جات کے حکام نے بتایا کہ مالی سال 2021-22 کے دوران جیل ٹھیکیداروں کے 5 کروڑ 11 لاکھ روپے واجب الادا ہیں جبکہ رواں مالی سال کے 11 کروڑ 75 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنا ہے۔

    جیل حکام نے بتایا کہ فنڈز کے حصول کیلئے سمری محکمہ داخلہ کو بھجوادی گئی ہے ،اگر بلوچستان میں جیل بھرو تحریک شروع ہوتی ہے تو اس کیلئے اضافی فنڈز کی ضرورت ہوگی۔

  • بلوچستان کے ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک

    راولپنڈی: بلوچستان کے ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے 8 دہشت گرد آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں نے ایک روز قبل 22 فروری 2023ء کی شام ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کیا تاہم الرٹ اور تیاری رہنے کی وجہ سے دہشت گرد اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

    سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی بزدلانہ کوشش کو بغیر جانی نقصان کے ناکام بنایا اور فرار ہونے والے دہشت گردوں کا تعاقب کیا۔ بعد ازاں 23 فروری کی صبح مازا بند میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے کی اطلاع پر فورسز نے آپریشن کیا، جس کے دوران دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور 8 دہشت گرد مارے گئے جبکہ فورسز کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے بارودی مواد سمیت اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کر لیا گیا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دشمن کی جانب سے امن کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنادیں گی

  • سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے 8 دہشتگرد آپریشن کے دوران ہلاک

    سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے 8 دہشتگرد آپریشن کے دوران ہلاک

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے 8 دہشتگرد آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں نے ایک روز قبل 22 فروری 2023 کی شام ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کیا تاہم الرٹ اور تیاری رہنے کی وجہ سے دہشت گرد اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی بزدلانہ کوشش کو بغیرجانی نقصان کےناکام بنایا اور فرار ہونے والے دہشت گردوں کا تعاقب کیا بعد ازاں 23 فروری کی صبح مازا بند میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے کی اطلاع پر فورسز نے آپریشن کیا، جس کے دوران دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور 8 دہشت گرد مارے گئے جبکہ فورسز کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے بارودی مواد سمیت اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کر لیا گیا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دشمن کی جانب سے امن کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنادیں گی۔

  • بارکھان واقعہ: کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل

    بارکھان واقعہ: کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل

    سانحہ بارکھان میں کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :واضح رہے کہ خان محمد مری کے دوبیٹوں اور ایک نامعلوم خاتون کی لاش بلوچستان کے علاقے بارکھان کے کنویں سے ملی تھیں جس کے بعد دعویٰ کیا گیا تھاکہ کنویں میں سے ملنے والی خاتون کی لاش گراں ناز کی ہے لہٰذا گزشتہ روز کنویں سے ملنے والی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹرعائشہ فیض کے مطابق کنویں سے ملنے والی لاشوں میں سے ایک لڑکی کی لاش ہے جس کی عمر 17 سے 18 سال ہے، مقتولہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کیا گیا لڑکی کےسر پر تین گولیاں ماری گئیں اور شناخت چھپانے کےلیے چہرے اور گردن پر تیزاب پھینکا گیا۔پولیس سرجن نے بتایا کہ قتل کی گئی لڑکی گراں ناز نہیں بلکہ اس کی بیٹی ہوسکتی ہے۔

    لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ ظوی خاندان کی بازیابی کے لیے آپریشن مشرقی بلوچستان اورجنوبی پنجاب میں عمل میں لایا گیا لیویزکوئیک رسپانس فورس کےآپریشن میں تمام مغویوں کو بازیاب کرالیا گیا، بازیاب ہونے والوں میں مغوی خاتون گراں ناز، 4 بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہے۔

    لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ خان محمد مری کی بیوی گراں ناز ،بیٹی اور ایک بیٹے کو بارکھان بارڈر ایریا سے بازیاب کرایا گیا جبکہ دو بیٹےڈیرہ بگٹی بارکھان بارڈر ایریا اور ایک بیٹا دکی کے علاقے نانا صاحب سے بازیاب کرایا گیا تمام 6 افراد سرکار کی حفاظتی تحویل میں ہیں ان کو میڈیا کے سامنے لاکر تفصیلات دی جائیں گی۔

    لیویز ذرائع کے مطابق اغواء کار گروہ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے مزاحمت کی کوشش نہیں کی،آپریشنزمیں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

    واضح رہے کہ سردار عبدالرحمان کھیتران پر گراں ناز مری اور ان کے بیٹوں کو یرغمال بنانے اور قتل کرنے کا الزام ہے قتل کے الزام میں بلوچستان کے برطرف وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران کو حراست میں لے لیا گیا۔

  • بارکھان واقعہ: مغوی خاتون گراں ناز، بیٹی اور 4 بیٹوں کو بازیاب کرالیا گیا

    بارکھان واقعہ: مغوی خاتون گراں ناز، بیٹی اور 4 بیٹوں کو بازیاب کرالیا گیا

    بلوچستان کے علاقے بارکھان سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں ملنے کے واقعہ میں پیش رفت سامنے آئی ہے کہ خان محمدمری کی بیوی گراں ناز، بیٹی اور 4 بیٹوں کو بازیاب کرالیا گیا۔لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ ظوی خاندان کی بازیابی کے لیےجاری آپریشن مکمل کرلیا گیا ،لیویز کوئیک رسپانس فورس کے آپریشن میں تمام مغویوں کو بازیاب کرالیا گیا۔

    لیویز ذرائع کے مطابق مغویوں کی بازیابی کے لیے آپریشن مشرقی بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں عمل میں لایا گیا ،بازیاب ہونے والوں میں مغوی خاتون گراں ناز، 4 بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہے۔

    لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ خان محمد مری کی بیوی گراں ناز ،بیٹی اور ایک بیٹے کو بارکھان بارڈر ایریا سے بازیاب کرایا گیا جبکہ دو بیٹےڈیرہ بگٹی بارکھان بارڈر ایریا اور ایک بیٹا دکی کے علاقے نانا صاحب سے بازیاب کرایا گیا۔

    لیویز ذرائع کے مطابق اہل خانہ کے تمام 6 افراد سرکار کی حفاظتی تحویل میں ہیں ۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ گراں ناز اور ان کے بچوں کو میڈیا کے سامنے لاکر تفصیلات دی جائیں گی۔

    لیویز ذرائع کے مطابق اغواء کار گروہ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے مزاحمت کی کوشش نہیں کی،آپریشنزمیں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں خاتون گراں ناز نے ایک ویڈیو میں قرآن اٹھا کر سردار کھیتران پر اسے اور اس کے بچوں کو نجی جیل میں رکھنے کا الزام لگایا تھا۔

    بعد ازاں خان محمد مری کے دوبیٹوں اور ایک نامعلوم خاتون کی لاش بلوچستان کے علاقے بارکھان کے کنویں سے ملی تھیں جس کے بعد دعویٰ کیا گیا تھاکہ کنویں میں سے ملنے والی خاتون کی لاش گراں ناز کی ہے لہٰذا گزشتہ روز کنویں سے ملنے والی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹرعائشہ فیض کے مطابق کنویں سے ملنے والی لاشوں میں سے ایک لڑکی کی لاش ہے جس کی عمر 17 سے 18 سال ہے، مقتولہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کیاگیا۔انہوں نے بتایا کہ لڑکی کے سر پر تین گولیاں ماری گئیں اور شناخت چھپانے کےلیے چہرے اور گردن پر تیزاب پھینکا گیا۔پولیس سرجن نے بتایا کہ قتل کی گئی لڑکی گراں ناز نہیں بلکہ اس کی بیٹی ہوسکتی ہے۔

    سردار عبدالرحمان کھیتران پر گراں ناز مری اور ان کے بیٹوں کو یرغمال بنانے اور قتل کرنے کا الزام ہے۔اس سے قبل سردار عبدالرحمان کھیتران نے خود پر لگے الزامات کی سختی سے تردید کی تھی جبکہ سردار عبدالرحمان کھیتران کے گھر سے گراں ناز مری کے بچوں کی مبینہ تصاویر بھی سامنے آئی تھیں۔

    علاوہ ازیں بارکھان میں خاتون اور اس کے 2 بیٹوں کے قتل کے الزام میں بلوچستان کے برطرف وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران کو حراست میں لے لیا گیا۔

  • پاکستان کوموسمیاتی تبدیلی کے انتہائی خطرناک چیلنجز کا سامنا ہے، ناز بلوچ

    پاکستان کوموسمیاتی تبدیلی کے انتہائی خطرناک چیلنجز کا سامنا ہے، ناز بلوچ

    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نیشنل ہیڈ کوارٹرز نے 22 فروری 2023 کو اپنے NHQ میں عالمی یوم تفکر منایا۔

    باغی ٹی وی : 500 سے زیادہ گائیڈز (6 سے 21 سال کی عمر کے) نے شرکت کی۔ اس دن کا تھیم "ہماری دنیا ‘ہمارا پرامن مستقبل ماحولیات اور امن” تھا۔ تقریب کے دوران، لڑکیوں کو خوشگوارسرگرمیوں کا تجربہ کرنے صحت مند عادات و اطوار کو تقویت دینےاور اپنی خواہشات کا اظہار کرنے کا موقع ملا۔ یہ پروگرام ایکٹیوٹی سٹیشنز کی شکل میں کیا گیا۔ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق سرگرمیاں، گیمزاور کچن گارڈننگ اس تقریب کا حصہ تھیں۔

    این سی پی سی (نیشنل کلینر پروڈکشن سنٹر پاکستان) کے تعاون سے گائیڈز کے لیے کچن گارڈننگ پر سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ گائیڈز نے سبزیاں اگانا سیکھا اور انہیں NCPC کی جانب سے بیج فراہم کیے گئے۔

    وزارت موسمیاتی تبدیلی کی پارلیمانی سیکرٹری محترمہ ناز بلوچ تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ مسز ماریہ موعود صابری، نیشنل کمشنر پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نے ان کا اور دیگر مہمانوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے اس دن کے تھیم کے بارے میں بتایا اور ماحول کے تحفظ کے لیے گائیڈز کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ سے بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے اور زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے لیکن خواتین اور بچوں کو ہر آفت میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ گائیڈز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک نوجوان کے طور پر سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہےکہ انسانی رویے کرہ ارض پر زندگی کو کیسے متاثر کرتے ہیں، زندگی کی قسم کس طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اور ہمارے رویے میں کیا تبدیلیاں تمام زندگیوں کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہیں۔

    محترمہ ناز بلوچ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کوموسمیاتی تبدیلی کے انتہائی خطرناک چیلنجز کا سامنا ہے جیسے کہ گلیشیئرز پگھلنا، میٹھے پانی کی محدود دستیابی ، سیلاب اور خشک سالی، فصلوں کی پیداوار میں کمی، اور فضائی آلودگی میں اضافہ وغیرہ محدود وسائل کی وجہ سے، موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حکومتی کوششیں ہی کافی نہیں ہیں۔

    نوجوان خصوصاگرل گائیڈز حالات کی بہتری کے لیے بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کی کوششوں کو سراہا کہ انہوں نے پچھلے 2 سالوں کے دوران 1 لاکھ سے زائد درخت لگائے ہیں اور پورے پاکستان میں پلاسٹک ٹائیڈ ٹرنر پروجیکٹ کے تحت پلاسٹک کے خاتمے کی مہم چلا رہی ہیں گائیڈز نے مہمانوں کو 2021 اور 2022 کے دوران ماحول کی حفاظت کے لیے گائیڈز کے کام کے بارے میں بھی بتایا۔

  • مستونگ میں لیویز چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملہ، دو اہلکار شہید

    مستونگ میں لیویز چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملہ، دو اہلکار شہید

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں لیویز چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں دو اہلکار شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی :اسسٹنٹ کمشنر برکت بلوچ کے مطابق دہشت گرد اہلکاروں کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے، فورسز نے ناکہ بندی کرکے دہشت گردوں کی تلاش شروع کر دی شہید لیویز اہلکاروں کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئیں۔

    مقامی افراد نے واقعےکے خلاف کوئٹہ تفتان قومی شاہراہ بلاک کردی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے مستونگ میں لیویز چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملےکی مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے لیویز اہلکاروں کے بلند درجات کی دعا اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے-

    وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنےکے لیے سکیورٹی فورسز کے عزم اور حوصلے بلند ہیں، شہداءکو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے مستونگ میں2 لیویز اہلکاروں کی شہادت اورچمن میں پولیس چیک پوسٹ پرفائرنگ کی مذمت کی ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہےکہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات باعث تشویش ہیں، دشمن صوبےکا پرامن ماحول خراب کرنا چاہتا ہے، دہشت گرد عناصرکو قانون کی گرفت میں لانےکے لیے تمام وسائل بروئےکارلائے جائیں ملک دشمن عناصرکی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے مزید مستعد اور چوکنا رہنا ہوگا۔

    وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو نے مستونگ لیویز چیک پوسٹ اور چمن ناکے پر حملوں کی مذمت کی ہے۔

  • کنوئیں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد

    کنوئیں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد

    بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے حاجی کوٹ کے قریب کنوئیں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ایس پی بارکھان نے جیو نیوز کو بتا یا کہ بارکھان کے علاقے حاجی کوٹ کے نواح میں واقع کنویں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔

    انہوں نے کہا کہ برآمد شدہ لاشوں کی عمریں 20 سے 25 سال کے لگ بھگ ہیں ،تینوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے جبکہ خاتون کے چہرے کو تیزاب ڈال کر مسخ کیا گیا ہے۔

    لاشیں شناخت کیلئے ڈی ایچ کیو اسپتال بارکھان منتقل کردی ہیں جہاں ان کا طبی معائنہ کر کے رپورٹ تیار کی جائے گی۔

  • بلوچستان: سیلاب متاثرین تاحال حکومتی امداد کے منتظر

    بلوچستان: سیلاب متاثرین تاحال حکومتی امداد کے منتظر

    کوئٹہ: بلوچستان میں سیلاب کو گزرے 6 ماہ ہونے کو آرہے ہیں لیکن بلوچستان حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے کوئی جامع پلان سامنے نہ لاسکی جس کے باعث متاثرین حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔بلوچستان میں گزشتہ سال جون سے اگست کے دوران مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ 700 سے زائد صحت مراکز حکومتی توجہ کے منتظرصوبے میں مجموعی طور پر تین لاکھ 46ہزار مکانات متاثر ہوئے جن میں ڈھائی لاکھ مکانات مکمل طور پر گرگئے تھے جب کہ 96ہزار سے زائد مکانات کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔

    سیلاب سے متاثرہ مکانات کی مرمت کیلئے اخراجات کا تخمینہ 200 ارب روپے کے لگ بھگ بتایاجاتا ہے، صوبائی حکومت کی جانب سے تخمینہ لگائے جانے کے بعد 2 ماہ کا عرصہ بیت گیا لیکن حکومت متاثرین کی بحالی کیلئے کوئی واضح روڈ میپ نہیں دے سکی ہے جس کی بڑی وجہ صوبائی حکومت کا مالی بحران ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان حکومت کو وفاق سے سیلاب متاثرین کیلئے رقم نہیں ملی جب کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو ملنے والی رقم کی عدم فراہمی سے صوبہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔