Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • ہرنائی زلزلے میں ہونیوالے جانی و مالی نقصان کی ابتدائی رپورٹ جاری

    ہرنائی زلزلے میں ہونیوالے جانی و مالی نقصان کی ابتدائی رپورٹ جاری

    بلوچستان : ہرنائی میں تباہ کن زلزلے میں انتظامیہ کی جانب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہرنائی کی ضلعی انتظامیہ نے رواں ماہ 7 اکتوبر کے زلزلے کے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہےرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہرنائی میں زلزلے سے 17 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 32 افراد شدید اور 200 افراد معمولی زخمی ہوئے۔

    ضلعی انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زلزلے میں 260 مکانات مکمل تباہ ہوئے جبکہ 3 ہزار 720 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا زلزلے سے 32 اسکول، 5 اسپتال اور 5 مساجد بھی شہید ہوئیں۔

    ہرنائی زلزلہ: پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    واضح رہے کہ کوئٹہ، سبی، ہرنائی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے شدید زلزلے کے میں جانی و مالی نقصان ہوا زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 اور گہرائی 15 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جبکہ اس کا مرکز ہرنائی کے قریب تھا۔

    مختلف علاقوں میں کئی افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے-

    بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

  • ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی

    ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی

    کوئٹہ: بلوچستان کے ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق بلوچستان حکومت کے ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد سیکرٹری صوبائی اسمبلی کو جمع کرادی، تحریک عدم اعتماد جمع کرانے والوں میں ظہور بلیدی، سردار عبدالرحمن کھیتران، نصیب اللہ مری اور دیگر شامل تھے تحریک عدم اعتماد پر 14 اراکین صوبائی اسمبلی کے دستخط ہیں۔

    تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد دیگر اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ظہور بلیدی کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر 14 اراکین اسمبلی کے دستخط ہیں، بلوچستان اسمبلی کے اکثریتی ممبران نے جام کمال خان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، اسپیکر بلوچستان جلد اسمبلی اجلاس بلائیں اور تحریک عدم اعتماد پیش کریں، اور ہم وزیر اعلیٰ جام کمال کو پھر تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ خود استعفیٰ دے دیں۔

    جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد اگلے 24 گھنٹے اہم

    میڈیا سے گفتگو میں اسد بلوچ نے کہا کہ صوبے میں انارکی کا ماحول پیدا ہو رہا ہے اور اگر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال جنگ کریں گے تو ہار انہی کی ہو گی اسد بلوچ نے دعویٰ کیا کہ 8 سے 10 روز کے بعد بلوچستان میں نیا وزیر اعلیٰ ہو گا اور ہمارے گروپ نے ہر طرح کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

    اسد بلوچ کا کہنا تھا کہ ایک اصول ہوتا ہے کہ ایک فرد کو اجتماع کیلئے قربان کیا جاتاہے، ہم ناراض گروپ نہیں بلکہ متحد گروپ ہیں، سیاسی بحران سے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں، جام کمال بازی ہار گئے ہیں اب وہ بس کریں۔

    اگرمیری حکومت گرائی گئی توپھرکسی کی بھی نہیں بچ سکے گی:جام کمال کا کمال موقف

    نقیب اللہ مری نے کہا کہ جام کمال عزت سے استعفیٰ دے دیں کیونکہ اکثریت ہمارے ساتھ ہے 65 رکنی بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے لیے 33 ارکان کی سادہ اکثریت کی ضرورت ہے تحریک انصاف بلوچستان میں پہلے دن سے ہی اتحادی تھی اور اب بھی ہے۔

    حکومتی اتحاد 40 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں سے 14 نے جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی ہے متحدہ حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد 23 ہے جبکہ دو ارکان آزاد بینچ کا حصہ ہیں۔

    گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ اور دیگر ارکان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں گورنر بلوچستان ظہور آغا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آئین کی شق 130 کی ذیلی شق 7 کے تحت وزیراعلیٰ جام کمال کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں کیونکہ وہ ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

    ورک ویزا، رہائشی پرمٹ رکھنے والے غیر ملکی مسافروں کیلئےسعودی عرب سے بڑی خوشخبری

  • ہرنائی زلزلہ: پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    ہرنائی زلزلہ: پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    ‏پاک فوج کے دستے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقے ہرنائی پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے-

    آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے ضلع ہرنائی کی زلزلے سے متاثرہ آبادی کے لیے ضروری خوراک اور پناہ گاہیں منتقل کی گئی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ‏آرمی ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف نے طبی سہولتیں فراہم کیں،طبی سہولتوں کیلئے شہری انتظامیہ نے بھی معاونت کی 9 زخمیوں کو آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا گیا-

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    آئی ایس پی آر کے مطابق آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ بھی ہرنائی پہنچ گئے ‏آئی جی ایف سی نے نقصانات اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا راولپنڈی سے اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کو موقع پر بھجوایا جائے گا-

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں خوفناک زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں زلزلے سے متاثرہ شدید زخمیوں کی کوئٹہ منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر آپریشن جاری ہے۔

    زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، آفٹر شاکس کے باعث بوسیدہ مکانات کے گرنے کا خطرہ ہےہرنائی میں زلزلے کے باعث آج تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

    ہرنائی میں زلزلے کے باعث سول اسپتال کوئٹہ میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اسپتال میں ڈاکٹرز اور عملہ ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا۔

    ہرنائی کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرین لاؤڈ اسپیکرز پر دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں، لوگ متاثرہ گھروں میں جانے سے گریز کریں۔

    ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید ناصر کے مطابق ہرنائی میں زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہو گئی ہے، دور دراز پہاڑی علاقوں میں زخمی موجود ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ادویات کی قلت کا سامنا ہے، ایمرجنسی ڈرگ اور سرجری آلات کی فوری فراہمی کے لیے حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔

    ڈی ایچ او نے بتایا کہ متاثرین میں فریکچرز اور ہیڈ انجری کے زخمی زیادہ ہیں، سرجن ڈاکٹرز کی فراہمی کے لیے صوبائی محکمۂ صحت کے ساتھ رابطہ ہے۔

    بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    واضح رہے کہ کوئٹہ، سبی، ہرنائی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے شدید زلزلے کے باعث 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے، ہرنائی اور شاہرگ میں 70 سے زائد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 اور گہرائی 15 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جبکہ اس کا مرکز ہرنائی کے قریب تھا۔

    مختلف علاقوں میں کئی افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، تمام علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں-

  • بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں خوفناک زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں زلزلے سے متاثرہ شدید زخمیوں کی کوئٹہ منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر آپریشن جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، آفٹر شاکس کے باعث بوسیدہ مکانات کے گرنے کا خطرہ ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہرنائی میں زلزلے کے باعث آج تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

    ہرنائی میں زلزلے کے باعث سول اسپتال کوئٹہ میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اسپتال میں ڈاکٹرز اور عملہ ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا۔

    ہرنائی کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرین لاؤڈ اسپیکرز پر دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں، لوگ متاثرہ گھروں میں جانے سے گریز کریں۔

    ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید ناصر کے مطابق ہرنائی میں زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہو گئی ہے، دور دراز پہاڑی علاقوں میں زخمی موجود ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ادویات کی قلت کا سامنا ہے، ایمرجنسی ڈرگ اور سرجری آلات کی فوری فراہمی کے لیے حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔

    ڈی ایچ او نے بتایا کہ متاثرین میں فریکچرز اور ہیڈ انجری کے زخمی زیادہ ہیں، سرجن ڈاکٹرز کی فراہمی کے لیے صوبائی محکمۂ صحت کے ساتھ رابطہ ہے۔

    ہرنائی انتظامیہ کے مطابق شدید زخمیوں کی کوئٹہ منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر پہنچ گیا ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید ناصر نے بتایا کہ 10 شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ روانہ کئے گئے ہیں کوئٹہ منتقل کئے گئے تمام زخمی مرد اور بعض عمر رسیدہ ہیں۔

    ڈی ایچ او نے یہ بھی بتایا ہے کہ زخمیوں کے سر پر چوٹیں، ہاتھوں اور پاؤں میں فریکچرز آئے ہیں جبکہ کچھ زخمی کومے میں ہیں۔

    دوسری جانب اس سے قبل ڈی جی پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق زلزلے کے مرکز میں 15 کلو میٹر کے دائرے میں مکانات گرے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے ڈی جی کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں 15 کی حالت تشویشناک ہے، سول اسپتال کوئٹہ میں طبی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ 4 زخمیوں کو ہیلی کاپٹر سے منتقل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے اور پہاڑی تودے گرنے سے کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔ہرنائی سنجاوی روڈ کی بحالی کیلئے لیویز اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، طورغر میں لورالائی ہرنائی شاہراہ بھی بند ہے جس کی وجہ سے ہرنائی میں آج تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں۔

    قبل ازیں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللّٰہ لانگو اور چیئرمین این ڈی ایم اے کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں ہرنائی زلزلے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللّٰہ لانگو نے ہرنائی زلزلے کے حوالے سے کہا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے کی جانب سے ہرطرح کےتعاون کا وعدہ کیا گیا ہے۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے اس موقع پر کہا کہ میڈیکل ٹیمز، ادویات، ہیلی کاپٹر، نان فوڈ آئٹمز جلد ہرنائی بھیجے جائیں گے۔

    وزیرداخلہ نے بتایا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اورضلعی انتظامیہ کو الرٹ کردیا گیا ہے، ہنگامی بنیادوں پرامدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھیجنےکی تیاریاں مکمل ہیں۔

    میر ضیاء اللّٰہ لانگو کا مزید کہنا تھا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ، سبی، ہرنائی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے شدید زلزلے کے باعث 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے، ہرنائی اور شاہرگ میں 70 سے زائد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 اور گہرائی 15 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جبکہ اس کا مرکز ہرنائی کے قریب تھا۔

    مختلف علاقوں میں کئی افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، تمام علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں-

  • بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلے کے باعث 15 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 3 بجکر 2 منٹ پر آیا جس نے ہرنائی میں تباہی مچا دی۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 ریکارڈ کی گئی جبکہ زمین میں اس کی گہرائی پندرہ کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز بلوچستان کے علاقے ہرنائی کے قریب تھا۔

    زلزلے کے باعث کئی مکانات گر گئے جن کے ملبے تلے پھنسے افراد کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت نکالا جبکہ حکومتی مشینری پہنچنے کے بعد بھی ریسکیو کا کام جاری رہا زلزلے سے سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    زلزلے کے بعد بلوچستان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچنے پر طبی عملے کو مشکلات کا سامنا رہا۔

    ہرنائی کوئٹہ شہر کے مشرق میں واقع ہے اور اس کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں ہیں۔

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ہرنائی میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور ضلع میں ایمرجنسی نافذ کر کے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    وزیر داخلہ نے بتایا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کو متحرک کرکے ہیوی مشینری ہرنائی کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔

    ہرنائی میں مقامی صحافی یزدانی ترین نے بتایا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے بہت شدید تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرنائی شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ہرنائی میں لیویز فورس کے ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے ہرنائی، شاہرگ اور دیگر علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ متعدد علاقوں میں زلزلے سے گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض مقامات پر گھروں کے گرنے سے جانی نقصان ہوا ہے۔

    زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکل گئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔

    اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، پشین، سبی اور متعدد دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے تاہم ہرنائی کے علاوہ دیگر علاقوں سے تاحال جانی اور مالی نقصانات کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہیں۔

  • وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف اپوزیشن ارکان نے عدم اعتماد کی تحریک بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرادی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اپوزیشن ارکان نے عدم اعتماد کی تحریک بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا تے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کیلئے اپوزیشن نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے۔

    میو ہسپتال میں ایک پرائیویٹ ٹارچرسیل کا انکشاف:سننے والوں کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے

    پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش افغان طالبان نے ناکام بنا دی

    عدم اعتماد کی تحریک بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی، اختر لانگو ، حمل کلمتی ، احمد نواز بلوچ ، اکبر مینگل ، شکیلہ نوید دہوار ، رحیم مینگل ، ٹائٹس جانسن ، جمعیت علما اسلام کے پارلیمانی لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ ، اصغر ترین ، مکھی شام لعل ، عزیز اللہ آغا ، یونس عزیز زہری ، زابد ریکی ، پشتونخوا میپ کے نصر اللہ زیرئے کے دستخطوں سے جمع کرائی-

    پاکستان میں ناخواندگی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی، اس فہرست میں پاکستان کونسے نمبر…

    عدم اعتماد کی تحریک میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 3 سال میں جام کمال خان کی خراب حکمرانی کے باعث بلوچستان میں شدید مایوسی، بدامنی ،بیروزگاری اور اداروں کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

    عمر شریف کے علاج کے لئے سندھ حکومت نے چار کروڑ روپے جاری کردیئے

    کابل ائیر پورٹ پر رہ جانیوالے امریکی کتوں کو نیا ٹھکانہ مل گیا

  • سندھ اور بلوچستان میں سی این جی کی فراہمی 14 سے 17 ستمبر تک بند

    سندھ اور بلوچستان میں سی این جی کی فراہمی 14 سے 17 ستمبر تک بند

    سوئی سدرن گیس(ایس ایس جی) کمپنی کا کہنا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی 14 سے 17 ستمبر تک معطل رہے گی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سوئی سدرن کا کہنا ہت کہ سندھ بلوچستان کو سی این جی کی فراہمی کل سے 4 دن تک بند رہے گی کل رات یعنی منگل 12 سے ہفتہ صبح 8 بجے تک سی این جی اور آرایل این جی بند رہیں گے۔

    ایس ایس جی نے کہا ہے کہ اینگرو ایل این جی ٹرمینل کی ڈرائی ڈاکنگ سے سسٹم میں گیس کی کمی آئے گی۔ ڈرائی ڈاکنگ سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں گیس بندش کا فیصلہ واپس لیا جاچکا ہے۔

    نئے شیڈول کے مطابق ایل این جی لانے والے ایف ایس آر یو کی تبدیلی کے دوران ڈرائی ڈاکنگ کے دورانیے میں تبدیلی کی گئی ہے۔

    اینگرو ٹرمینل پر ایف ایس آر یو کی تبدیلی کے دوران نظرِ ثانی شدہ پروگرام کے تحت ڈرائی ڈاکنگ اب 14 سے 17 ستمبر تک ہوگی، 14 سے 17 ستمبر کے درمیان ڈرائی ڈاکنگ کی وجہ سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم میں آر ایل این جی میں 75 سے 150 ایم ایم سی ایف ڈی کمی آئے گی۔

    ترجمان کے مطابق کم پریشر کی وجہ سے سوئی سدرن کو گھریلو صارفین اور کمرشل سیکٹر کی طلب پوری کرنے میں انتہائی دشواری کا سامنا ہوگا تمام سی این جی اسٹیشنز کو 18 ستمبر بروز ہفتہ 8 بجے صبح کو گیس کی ترسیل بحال کر دی جائے گی۔

  • بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب  نیا جزیرہ

    بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب نیا جزیرہ

    بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب نیا جزیرہ ابھر آیا کنڈ ملیر کو بلوچستان کا جادوئی ساحل بھی کہا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : حکام کا کہنا ہے کہ سمندر کی تہہ سے اچانک ابھرنے والا جزیرہ بڑے رقبے پر محیط ہے۔ سمندر میں یہ جزیرے گہرے پانیوں میں جغرافیائی ردوبدل کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں تاہم سمندر میں ابھرنے والے یہ جزیرے اکثر وبیشتر ابھرنے کےکچھ عرصے بعد دوبارہ غائب ہوجاتے ہیں۔

    کراچی سے 240 کلومیٹر دور مکران کوسٹل ہائی وے پر کنڈ ملیر کا ساحل واقع ہے۔ جہاں، پہاڑ، صحرا اور سمندر ایک جگہ اکٹھے ہو رہے ہیں کنڈ ملیر بلوچ ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی ہے جو ایک پہاڑی پر آباد ہے سفید ریت پر نیلا پانی اور موجیں مارتا سمندر اس بستی کے نیچے موجود ہے جو یہاں سے گزرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرہی لیتا ہے۔

    سعودی عرب : بحیرہ احمر میں مرجان کالونی دریافت

    مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیر اور سوشل میڈیا پر کنڈ ملیر کے حسن کے چرچوں نے سیاحوں کو یہاں کا پتا دیا ہے اور اب ہفتہ وار تعطیلات کے علاوہ تہواروں کے موقع پر لوگ اپنے خاندان کے ساتھ سمندر کے نیلے پانی سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔

    کنڈ ملیر کو گذشتہ سال ایشیا کے 50 خوبصورت ترین ساحلوں میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ درجہ بندی سیاحت اور فوٹو گرافی کے لحاظ سے کی گئی تھی۔

    کراچی کے معروف ساحلوں ہاکس بے، مبارک ولیج اور کاکا پیر کے مقابلے میں یہاں سمندر زیادہ گہرا نہیں اور یہی وجہ ہے کہ بچے اور خواتین بھی بے دھڑک سمندر میں اتر جاتے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کنڈ ملیر کے قریب ابھرنے والا جزیرہ ساحل کی اہمیت کو بڑھا سکتا ہے ۔ حکام اس جزیرہ کا جائزہ لیتے رہیں گے۔

  • مستنونگ: سی ٹی ڈی کی کاروائی ، 11مبینہ دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان: انسداد دہشتگردی فورس (سی ٹی ڈی) کی بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کارروائی، 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک-

    باغی ٹی وی : ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق سی ٹی ڈی کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کالعدم تنظیم کے کارندوں نے صوبے میں دہشت گردی کا منصوبہ بنایا ہے، جس پر ان کے خلاف کارروئی کی گئی۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق خفیہ اطلاع پرمستونگ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی، جس میں دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 11 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ مارے گئے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں کے زیر استعمال کمپاونڈ سے اسلحہ وگولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔ ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

    جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگ کا دھماکا ، پاک فوج کا جوان وطن عزیزپرقربان

    اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں دیسی ساختہ بارودی سرنگ کے دھماکے میں پاک فوج کا ایک اہلکار شہید ہو گیا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر )کے مطابق دھماکا آسمان منزا کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن کے دوران ہوا جس میں 25 سالہ سپاہی واجد شہید ہوگیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق سپاہی واجد کا تعلق کرک سے تھا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ واقعےمیں ملوث دہشت گردوں کوپکڑنے کےلیے سکیورٹی فورسزکی جانب سے علاقے کا محاصرہ کیا گیا ، فائرنگ کے تبادلے میں فرار کی کوشش کرنے والا ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔

  • وزیراعلیٰ بلوچستان کا دفتر صوبے کے دیگر دفاتر کیلئے رول ماڈل ہوتا ہے     چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا دفتر صوبے کے دیگر دفاتر کیلئے رول ماڈل ہوتا ہے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

    کوئٹہ:چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کا دفتر صوبے کے دیگر دفاتر کیلئے رول ماڈل ہوتا ہے ہر دفتر کو پالیسی وہی سے ملتی ہے اور وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ وہاں کے معاملات کیسے چلائے جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی : :چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہونے والی بھرتیوں پر وہاں کے ملازم نے ہمارے سامنے اپنی درخواست میں اعتراض اٹھایا ہے اگر یہ بات سچ ہوئی تو دیگر دفاتر میں شفاف طرز عمل کے تحت چلانے کا کیسے عام آدمی یقین کرے گا سیکرٹری لیبر اینڈ مین پاور اور سیکرٹری ایجوکیشن کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اگلی سماعت میں اپنے محکموں میں ہونے والے بھرتیوں کے متعلق تفصیلی تحریری جواب جمع کروائیں خلاف قانون اقدامات کی حوصلہ شکنی ہی خلاف قانون اٹھنے والے قدم روک سکتا ہے-

    یہ حکم چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نعیم اختر افغان اور عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے بایزید خان خروٹی برخلاف چیف سیکرٹری بلوچستان ودیگر کی سماعت کے دوران دیا‘ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور بلوچ نے سیکرٹری مذہبی امور عبدالطیف کاکڑ کی دستخطو ں سے جاری شدہ جواب جمع کرایا جس میں بتایا گیا کہ محکمہ مذہبی امور لسبیلہ اور کیچ کے اضلاع میں مساجد جن میں ممکنہ طور پر تقرریاں کی جارہی ہیں وہ پرائیویٹ وقف مساجد ہیں علاقہ مکینوں اور مساجد کمیٹیوں کے ممبران نے متعلقہ ڈپٹی کمشنروں / ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹرز اوقاف کو متعلقہ مساجد میں پیش امام اور موذن کی پوسٹیں تخلیق کرنے کی سفارش کرنے کی استدعا کی –

    محکمہ ہذا نے ضلع لسبیلہ میں گزشتہ 8 سال سے اور ضلع کیچ میں گزشتہ 3 سال سے کوئی موذن یا پیش امام تعینات نہیں کیااور یہ کہ آسامیوں کی تخلیق یا منظوری یہ محکمہ نہیں دیتا بلکہ یہ کام فنانس ڈیپارٹمنٹ متعلقہ عوامی نمائندوں یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی جانیوالی تجاویز پر کرتا ہے۔ محکمہ ہذا اس کو پیش کی جانیوالی تجاویز فنانس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کو بھجوا دیتا ہے اور بسا اوقات ایسی تجاویز فنانس ڈیپارٹمنٹ کو براہ راست بھی پیش کر دی جاتی ہیں-

    مزید برآں مدعا علیہ نے عدالت عالیہ کے سامنے پوسٹوں کی تعداد غلط بیان کی ہے درحقیقت ان پوسٹوں میں متعلقہ ضلعوں کی گزشتہ سالوں کی پوسٹیں بھی شامل ہیں‘ جن کی تفصیل وضاحت کے لئے پیش ہیں۔عرضداشت مندرجہ بالا گزارشات کی روشنی میں عدالت عالیہ سے استدعا کہ انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہرجانے کے ساتھ پٹیشن  مبنی بر غلط حقائق اور من گھڑت الزامات کی وجہ سے ڈسمس کی جائے-

    لاہور: بلیاں پالنے پر نوجوان خاتون پر اپنے ہی گھر والوں نے تیزاب پھینک دیا

    درخواست گزار بایزید خان خروٹی نے محکمے کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ عدالت سے استدعا کی کہ وہ نہیں چاہتے حکومتی معاملات میں وہ خود یا کسی اور ادارے کو ملوث کریں لیکن جس قانون میں وضع کردہ رولز کے مطابق محکمے نہیں چلائے جارہے جس کی وجہ سے مجبوراً وہ بطور درخواست گزار گاہے بگاہے عدالت عالیہ کے سامنے پیش ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ نظام کو قانون اور آئین کے بجائے من پسند افراد کی خواہشات اور من پسند افراد کے ذریعے چلانے کی کوشش کی جارہی ہے-

    اس آئینی درخواست میں سیکرٹری ایجوکیشن اور سیکرٹری لیبر کے خلاف قانون بھرتیوں کو بھی میں نے چیلنج کررکھا ہے حکومت بلوچستان اپنے خلاف اقدامات پر پردہ ڈالنے کیلئے عدالت کے سامنے حقائق رکھنے کی بجائے معاملات کو الجھا رہی ہے سیکرٹری لیبر اینڈ مین پاور اور سیکرٹری ایجوکیشن کو پچھلی سماعت پر جواب جمع کرانے کا حکم معزز عدالت عالیہ دے چکی ہے لیکن جواب بدستور جمع نہیں کرائے گئے ہیں –

    کورونا کیسز میں اضافہ: اسلام آباد کے مختلف علاقے سیل کرنے کا فیصلہ

    جس پر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کیا کہ درخواست گزار پیشے کے لحاظ سے وکیل تو نہیں ہے درخواست میں سب کچھ بہت واضح طور پر لکھاگیا ہے اگر کوئی بھی پڑھا لکھا شخص بیٹھ کرکے یہ درخواست پڑھے تو ان کو آسانی ہوگی کہ درخواست میں کن چیزوں کا مطالبہ کیاگیا ہے اور بڑے آسا ن سے اس درخواست کو سمجھا جاسکتا ہے آپ محکموں کو کہیں کہ تمام پیرے پڑ ھ کر آسانی سے ہر پیرے کا جواب دے سکتے ہیں کیا وہ آرڈر شیٹ نہیں دیکھتے یہاں تو دونوں کو نوٹسز جاری ہوئے ہیں ان کے جوابات کہاں ہے کیوں جمع نہیں کرائے گئے –

    جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ ایک اور موقع ان کو دیا جائے اگلی سماعت پر دونوں محکموں کے بھرتی اور مکمل ریکارڈ عدالت عالیہ کے سامنے تحریری طور پر پیش کریں گے-

    ویمن سیفٹی ایپ کی بدولت خواتین آسانی سے پولیس کی مدد حاصل کر سکے گی فیاض الحسن…

    چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ صوبائی حکومت کوٹہ پر عملدرآمد نہیں کررہی ہے جس کی وجہ سے بھرتیوں پر شکوک و شہبات پیدا ہوتے ہیں ابھی ہمارے سامنے پی ایچ ای کے انجینئرز کا کیس زیر سماعت تھا جس پر حکومت نے ازخود انکوائری کراتے ہو ئے اس بھرتی کو خلاف قانون قراردیتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان بھرتیاں کالعدم قراردی تھی کہیں پر تو اس میں غلطی ہوئی تھی جب تک ہم کسی غلط کام کی اصلاح کے ساتھ غلطیوں کے عوامل کو ختم نہیں کرتے تو وقتی طور پر مسئلے حل ہوں گے اور پھر سے پیش آئیں گے-

    انہوں نے کہاکہ کل ہمارے پاس وزیراعلیٰ بلوچستان کے سیکرٹریٹ کی ایک ملازم سرفراز خان کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں انہوں نے اپنے پروموشن کو انتقامی کارروائیوں کے ذریعے روکنے اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بھرتیوں میں خلاف قانون اور رولز کے آرڈر ز کرنے کا دعویٰ کیا-

    نواز شریف کے ساتھ بیٹھنے والے بھی ان جیسے حال میں پہنچ گئے شہباز گل

    کتنی افسوس کی بات ہے کہ ایک صوبے کو پالیسی دینے والے رول ماڈل دفتر پر ان کا اپنا ملازم سوال اٹھارہا ہے کل عام محکمے سے ہم کیا توقع رکھیں کہ کیا وہ میرٹ پر چلیں گے-

    انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اس کیس میں بھی بھرتیوں کے حوالے سے جواب جمع کرائے اگر کوئی چیز عدالت کے سامنے ایسی ریکارڈ پر آئی کہ کوئی خلاف قانون اقدام ہوا تو ہم ا س میں سخت ترین فیصلہ کریں گے اور آخر تک جائیں گے-

    جسٹس عبدالحمید بلوچ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہاں تو سب کچھ بڑا واضح ہے اگر قانون پر عملدرآمد صحیح ہورہا ہوں تو کسی کو بھی کوئی تکلیف نہیں کہ وہ عدالت یا کسی اور جگہ سے رجوع کریں عدالت عالیہ نے سیکرٹری مین پاو ر اینڈ لیبر اور سیکرٹری ایجوکیشن کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر مفصل جواب طلب کرلیا۔

    نعیم اختر افغان بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کے طور پرحلف اٹھا لیا