Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • سکیورٹی فورسز  کی کارروائی :مستونگ اور پشین میں کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاک

    سکیورٹی فورسز کی کارروائی :مستونگ اور پشین میں کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاک کر دیئے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور اسی سلسلے میں ضلع مستونگ میں کارروائی کے دوران کمانڈر نقیب سمیت 3 دہشتگرد ہلاک ہو گئے،کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں کی گاڑی کو کواڈ کاپٹر کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کی گاڑی مکمل تباہ ہو گئی،سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    دوسری جانب پشین کے علاقے سرانان میں سی ٹی ڈی نے انیٹلی جنس بیسڈ آپریشن کرکے فائرنگ کے تبادلے میں 6 دہشتگرد ہلاک کر دیے ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران 4 اہلکار زخمی بھی ہوئے، ہلاک دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جاتا ہے، دہشتگردوں سے اسلحہ و بارود بھی برآمد ہوا، ہلاک دہشتگرد فورسز اور عام شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔

  • گوادر اور لسبیلہ میں آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کا اختتام

    گوادر اور لسبیلہ میں آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کا اختتام

    گوادر کے پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور لسبیلہ میں آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کی اختتامی تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    گوادر میں منعقدہ تقریب میں جی او سی گوادر نے پروگرام مکمل کرنے والے طلبا و طالبات کو مبارکباد دی اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے،لسبیلہ میں پاک فوج کے اعلیٰ افسران اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے انٹرن شپ مکمل کرنے والے طلباء و طالبات میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے-

    آئی ایس پی آر انٹرن شپ کے دوران طلبہ کو حقائق کو جانچنے کے ساتھ جدید ابلاغی مہارتیں سیکھنے اور ان کا عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملا،تقریبات کے مہمانوں نے نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ہنر سے آراستہ ہوکر پاکستان، بالخصوص بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کی تلقین کی-

    اس موقع پر ایک طالبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آر انٹرن شپ مکمل کرنا ایک اعزاز ہے جس نے قومی خدمت کا حوصلہ بڑھایا۔ ایک طالبہ نے کہا کہ سمر انٹرن شپ مکمل کرنے سے ہم ملکی مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے اور انہیں حل کرنے کے قابل ہوئے۔

    ایک طالبہ نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام جاری رکھے جائیں جہاں لوگوں کو اپنے سوالات کے جواب ملیں۔ اسی طرح ایک اور طالبعلم نے کہا کہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ سے ہمیں حقائق کو بہتر طور پر جانچنے کی صلاحیت حاصل ہوئی۔

  • پاکستان کیخلاف  اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی،میر ضیااللہ لانگو

    پاکستان کیخلاف اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی،میر ضیااللہ لانگو

    وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیااللہ لانگو نے کہا ہے کہ ریاست مخالف بیانیے اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی، ملک توڑنے والوں کے حق میں پریس کانفرنس کی جائے گی تو قانون حرکت میں آئےگا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف ریاست مخالف بیانیے پر سی ٹی ڈی نے مقدمہ درج کیا ہے ،ڈاکٹر عائشہ کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنا قانون کے مطابق ہوا ہے ، ریاست پاکستان کے خلاف اور دہشتگردی کی حمایت کر نے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا،میرے خلاف روزانہ 50 افراد بات کرتے ہیں، کسی کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔

    وزیر داخلہ بلوچستان نے کہاکہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف پاکستان ریاست مخالف بیانیے اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمہ درج کیا گیا ہے جو بھی پاکستانی شہری ملک و ریاست توڑنے کی بات کرے گا، اس کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوگا اور گرفتاری بھی ہوگی،ہر پاکستانی شہری کو سیاستدانوں اور میرے خلا ف پریس کانفرنس کرنے کا حق حاصل ہے۔

    انہوں نے کہاکہ پاکستان توڑنے، سیکیورٹی فورسز، شہریوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو حکومت نے دہشت گرد قرار دیا ہے، دہشتگرد قرار دیے گئے عناصر کے حق میں بات اور ملک توڑنے والوں کے حق میں پریس کانفرنس کی جائے گی تو قانون حرکت میں آئےگا۔

  • پشین میں کسٹمز ویئر ہاؤس اور چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ،7 اہلکار شہید

    پشین میں کسٹمز ویئر ہاؤس اور چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ،7 اہلکار شہید

    بلوچستان کے ضلع پشین میں زیارت کراس کے مقام پر قائم کسٹمز ویئر ہاؤس اور چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے اچانک حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کسٹمز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے 7 اہلکار شہید جبکہ 7 زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق ملزمان نے حملہ کرنے کے بعد ویئر ہاؤس کے احاطے میں کھڑی متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی جس سے وہاں شدید افراط تفری پھیل گئی واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیراؤ میں لے کر ریسکیو کارروائیاں شروع کر دیں۔

    پولیس حکام نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد دہشت گردوں نے ویئر ہاؤس میں موجود گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا تھا، تاہم فائر بریگیڈ اور پولیس کی فوری اقدامات کے باعث گاڑیوں میں لگی آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے حملے میں شہید اور زخمی ہونے والے تمام اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

    واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔

  • ماشکیل پولیس اسٹیشن اور کسٹم ہاؤس پر حملے میں ملوث 2 دہشتگرد ہلاک

    ماشکیل پولیس اسٹیشن اور کسٹم ہاؤس پر حملے میں ملوث 2 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے واشک پلانتک میں خفیہ آپریشن کرکے فتنہ الہندوستان کے 2دہشتگرد ہلاک کردئیے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگرد ماشکیل پولیس اسٹیشن اور کسٹم ہاؤس پر دہشتگردانہ حملے میں ملوث تھے، کارروائی میں دہشت گردوں کی گاڑی تباہ ہوگئی، ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا،برآمد شدہ اسلحہ عوام کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال کیا جانا تھا، بلوچستان سے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی-

  • بلوچستان میں 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی اور تشدد کے بعد قتل،وزیر داخلہ بلوچستان کا نوٹس، ایک ملزم گرفتار

    بلوچستان میں 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی اور تشدد کے بعد قتل،وزیر داخلہ بلوچستان کا نوٹس، ایک ملزم گرفتار

    بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے احمد وال میں 8 سالہ بچی کو مبینہ زیادتی اور تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔

    نوشکی کے علاقے احمد وال میں 8 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور تشدد کے بعد قتل کے افسوسناک واقعے نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی۔ اہل خانہ نے واقعے کا مقدمہ درج کروا دیا ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے،مبینہ طور پر ملزمان نے بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کرنے کے بعد لاش کو دفنا دیا تھا، تاہم واقعے کی اطلاع ملنے پر قانونی کارروائی کے لیے لاش کو قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

    وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے نوشکی کے علاقے احمد وال میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی نوشکی اور ڈی آئی جی رخشان ڈویژن سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    معاون برائے داخلہ حکومت بلوچستان بابر یوسفزئی کے مطابق وزیر داخلہ نے واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لائیں۔

    دوسری جانب، ایس پی نوشکی سلیم شاہوانی کے مطابق پولیس نے بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد واقعے کے حوالے سے مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

  • بلوچستان میں ٹرین سروس ایک بار پھر معطل

    بلوچستان میں ٹرین سروس ایک بار پھر معطل

    بلوچستان میں ٹرین سروس ایک بار پھر معطل کر دی گئی ہے،ٹرین سروس کی بحالی کے حوالے سے صورتحال واضح ہونے کے بعد مسافروں کو آئندہ شیڈول سے آگاہ کیا جائے گا۔

    ریلوے انتظامیہ کے مطابق ٹرین سروس ناگزیر وجوہات پر معطل کی گئی ہے، کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس آج روانہ نہیں ہوئی،جبکہ پشاور سے آنے والی جعفر ایکسپریس بھی جیکب آباد میں روک دی جائے گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین سروس کی بحالی کے حوالے سے صورتحال واضح ہونے کے بعد مسافروں کو آئندہ شیڈول سے آگاہ کیا جائے گا ریلوے انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ سفر شروع کرنے سے پہلے ٹرین کی روانگی اور آمد سے متعلق تازہ ترین معلومات ضرور حاصل کریں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے،جبکہ سروس کی بحالی سے متعلق مزید تفصیلات صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد جاری کی جائیں گی۔

  • خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک

    خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کے دوران فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیاں جنوبی وزیرستان، بنوں اور خضدار میں کی گئیں بنوں میں کارروائی کے دوران 2 دہشتگرد مارے گئے جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو بھی تباہ کردیا۔

    جنوبی وزیرستان کےعلاقے لدھا میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پرآپریشن کیا جس میں 5خوارج جہنم واصل ہوئے، سکیورٹی فورسزنے پہلے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی نقل وحرکت کا بروقت سراغ لگایا اور گھیرے میں لے کر مؤثر کارروائی کی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ضلع خضدار میں بھی کارروائی کی گئی، جہاں 4 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کو کوارڈکاپٹر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے کارروائیوں میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ رہے اور مقامی آبادی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

  • بلوچستان کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق کان کنوں کے لواحقین میں مالی امداد کی تقسیم

    بلوچستان کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق کان کنوں کے لواحقین میں مالی امداد کی تقسیم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بلوچستان میں پیش آنے والے المناک کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق کان کنوں کے لواحقین میں مالی امداد تقسیم کردی۔

    جولائی 2026 میں پیش آنے والے حادثے میں جاں بحق ہونے والے 34 کان کنوں کے خاندانوں کو فی خاندان 20 لاکھ روپے کے امدادی چیکس دیے گئے۔

    این ڈی ایم اے کی ٹیم نے خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں مقامی نمائندہ ڈاکٹر عباد اللہ کی معاونت سے متاثرہ خاندانوں میں امدادی چیکس تقسیم کیے۔

    اس موقع پر وفاقی حکومت کی جانب سے جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا گیا اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔

    حکومت کی جانب سے اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ حادثات سے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کم کرنے اور انہیں بروقت امداد کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

  • دُکی کی اہم شاہراہ تیزاب حملے کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کےنام سے منسوب

    دُکی کی اہم شاہراہ تیزاب حملے کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کےنام سے منسوب

    دُکی کی اہم سڑک تیزاب حملے کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کےنام سے منسوب کر دی گئی-

    بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا ہے کہ ضلع دُکی کی ایک اہم سڑک کو تیزاب گردی کا شکار ہونے والی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے جبکہ یہ فیصلہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی بہادری، ثابت قدمی اور بطور طبی ماہر خدمات کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی بہادری، حوصلے اور احساسِ ذمہ داری کو سراہا اور بتایا کہ دُکی کی ایک سڑک کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کا عزم بلوچستان کی بیٹیوں کے لیے ایک مثال ہےبہادر اور فرض شناس شہریوں کی خدمات کو تسلیم کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

    وزیراعلیٰ کی جانب سے شیئر کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی بہادری، ثابت قدمی اور بطور طبی ماہر خدمات کے عوامی اعتراف کے طور پر حاجی امان اللہ مسجد روڈ دُکی کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے ’ڈاکٹر ماہ نور ناصر روڈ، دُکی‘ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 29 سالہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کوئٹہ کے سول اسپتال میں ڈاکٹر ہیں،جون میں اسپتال کے ایک ملازم نے ان پر تیزاب پھینک دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ چہرے، سینے، ٹانگوں اور جسم کے دیگر حصوں پر شدید جھلسنے کے باعث بری طرح زخمی ہوگئی تھیں،حملے کے بعد ملزم کی شناخت ہمایوں شاہ کے نام سے ہوئی، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فرار ہونے کی کوشش کے دوران ایک بس میں تلاش کیا پولیس کے مطابق ملزم کو مقابلے کے دوران ہلاک کردیا گیا-

    ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کی مختلف حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی تھی، جن میں ڈاکٹرز، سرکاری حکام اور عدلیہ کے لوگ بھی شامل تھے۔ واقعے کے بعد کوئٹہ کے ڈاکٹرز نے ہڑتال بھی کی اور حملے کی مکمل اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا تھاواقعے کے چند ہی روز بعد سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا تھا کہ تیزاب گردی قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔