Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • سیلاب زدہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کی فلڈ ریلیف سرگرمیاں جاری

    سیلاب زدہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کی فلڈ ریلیف سرگرمیاں جاری

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملک کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کی فلڈ ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔ فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    باغی ٹی وی : دریاؤں کی صورتحال : آئی ایس پی آر کے مطابق اٹک , تربیلا , چشمہ , گڈو کے مقام پر نچلے سیلاب سے سندھ کے علاوہ تمام دریامعمول کےمطابق بہہ رہے ہیں ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب۔

    کے پی

    آئی ایس پی آر کے مطابق مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔

    جنوبی پنجاب

    آئی ایس پی آر کے مطابق تمام پہاڑی طوفان معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں سوائے مٹھاون، کاہا اور سانگھڑ ہل میں کچھ بڑھے ہوئے بہاؤ کے۔ مقامی کمانڈروں نے راجن پور اور ڈی جی خان کا دورہ کیا۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    بلوچستان، جھل مگسی

    آئی ایس پی آر کے مطابق گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیاگیا ہےگندھاوا اور گردونواح میں کوئی الگ تھلگ علاقہ نہیں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا خضدار۔ M-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔

    نصیرآباد
    آئی ایس پی آر کے مطابق دن بھر بارش نہیں ہوئی۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    چمن

    آئی ایس پی آر کے مطابق چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے جبکہ نوشکی میں آج بارش نہیں ہوئی۔ پھنسے ہوئے لوگوں کے لیےامدادی سرگرمیاں جاری ہیں پکا ہوا کھانا 1000 سےزیادہ لوگوں کو پیش کیا گیا 3 مقامات پر تباہ ہونے والے N-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔

    لسبیلہ

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے ناکہ، بیلہ، دودر، حب اور گڈانی میں 5 فیلڈ میڈیکل کیمپ طبی امداد فراہم کر رہے ہیں N-25 کھول دیا گیا ہے پلوں کی مرمت کا کام جاری ہےگوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا MI-17 کی 2 قسمیں چلائی گئیں اور حب اور اتھل میں 1500 کلو راشن کی اشیاء تقسیم کی گئیں –

    قلعہ سیف اللہ

    آئی ایس پی آر کے مطابق پورے ضلع قلعہ سیف اللہ میں بارش کی اطلاع ہے جبکہ مسلم باغ خزینہ میں لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 200 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    جی بی

    آئی ایس پی آر کے مطابق KKH میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی کے تودے گرنے کی اطلاع ہے۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

  • ناراض بلوچ بھائی اسلحے کے بل پر مسئلہ حل کرنا چاہیں گے تو بھول جائیں، ترجمان بلوچستان حکومت

    ناراض بلوچ بھائی اسلحے کے بل پر مسئلہ حل کرنا چاہیں گے تو بھول جائیں، ترجمان بلوچستان حکومت

    کوئٹہ :ترجمان بلوچستان حکومت فرح عظیم شاہ کا کہنا ہے کہ ناراض بلوچ بھائی اسلحے کے زور پر کوئی مسئلہ حل کرنا چاہیں گے تو بھول جائیں۔

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ ناراض بلوچ بھائی اسلحے کے زور پر کوئی مسئلہ حل کرنا چاہیں گے تو بھول جائیں، افغانستان کی مثال آپ کے سامنے ہے، بات چیت کے ذریعے ہی ہر مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔

    فرح عظیم شاہ کا کہنا تھا کہ ہم یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ ، وزیراعظم اور صدر مملکت بھی اپنے عہدوں پر فائز ہیں تو صرف اور صرف عوام کی ترقی اور تحفظ کے لئے ہیں، زیارت میں کرنل لئیق اور ان کے کزن کو بے دردی سے قتل کیا گیا، اس کے بعد کچھ لوگوں کا دھرنا شروع ہوا، ان کا کہنا تھا کہ وہاں آپریشن کی آڑ میں جبری لاپتہ افراد کو قتل کیا گیا ہے۔

    ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ مبینہ لاپتہ شخص ظہیر انجینیئر کتنے سال بعد واپس آتا ہے اور وہ بتاتا ہے کہ وہ ایران کی جیل میں قید تھا اور یہاں ماما قدیر جیسے لوگ ریاست اور اس کے ان اداروں پر الزام تراشی کررہے ہیں، جن کی وجہ سے ہم رات سکون کی نیند سوتے ہیں۔

    فرح عظیم شاہ کا کہنا تھا کہ انجنیئر ظہیر تو واپس آگئے، بہت بے دردی سے کرنل لئیق اور ان کے کزن کو قتل کیا جاتا ہے، واقعے کے بعد سیکیورٹی ادارے علاقے کو گھیرے میں لیتے ہیں، اس میں ایک اہلکار شہید بھی ہوگیا، ہم لاپتہ افراد کی تو بات کرتے ہیں لیکن ہم ان شہدا کی بات کب کریں گے؟ ، کیا ان کے گھر والے یا ماں باپ نہیں۔

    ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ چند لوگ بیرونی سازشوں کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں، یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ ان سازشوں کو سمجھیں، سازشوں کا آلہ کار بننے سے ان کی اپنی سرزمین کا نقصان ہورہا ہے۔

  • نوابزادہ میرجمال رئیسانی کی ہدایت پرشہداء بلوچستان کےورثاکاڈپٹی کمشنرکےدفترکےسامنے دھرنا

    نوابزادہ میرجمال رئیسانی کی ہدایت پرشہداء بلوچستان کےورثاکاڈپٹی کمشنرکےدفترکےسامنے دھرنا

    کوئٹہ :وزیراعلیٰ کے کورآرڈینیٹر برائے امور نوجوانا ن نوابزادہ میر جمال رئیسانی کی ہدایت پر شہداء بلوچستان کے ورثاء نے میر فرید رئیسانی کی قیادت میں ریلی نکالی اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا، دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے میر فرید رئیسانی سمیت دیگر کا کہنا تھاکہ زیارت واقعہ کی طرز پر بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات اور ان میں شہید ہونے والے افراد کے ملزمان کے تعین اور سزا دینے کے لئے بھی جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے کمیشن اس بات کا تعین کرے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جنہوں نے درینگڑھ سمیت صوبے میں دو دہائیوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات کروائے اور ہزاروں بے گناہ لوگوں کو شہیدکیا

    انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریاست کے مخالف کاروائیوں میں ملوث ہیں انکی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جاسکتا ہے تو صوبے بھر میں دہشتگردی کا شکار ہونے والے افراد کے لئے بھی جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے شرکاء کی جانب سے دھرنا رات گئے تک جاری رہا بعدازاں صوبائی وزیر نور محمد دمڑ، میر سکندر عمرانی کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ، ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ عبدالحق عمرانی نے دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کئے ،

     

     

    انہیں یقین دہانی کروائی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے یقین دہانی کروائی ہے کہ زیارت واقع کی طرز پر بلوچستان کے شہداء کی تحقیقات کے لئے بھی کمیشن قائم کیا جائیگا بعدازاں دھرنا کے شرکاء نے حکومتی یقین دہانی پراحتجاج ختم کردیا اور پر امن طور پر منتشر ہوگئے

  • سیلاب نے تباہی مچادی "این ڈی ایم اے” اور "پی ڈی ایم اے” کہاں ہیں؟

    سیلاب نے تباہی مچادی "این ڈی ایم اے” اور "پی ڈی ایم اے” کہاں ہیں؟

    عام طور پر بارش کو باعثِ رحمت سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ہونے سے موسم کافی سہانا ہوجاتا ہے چاہے گرمیاں ہوں یا سردیاں رومانوی شخصیت کے حامل افراد بارش کیلئے دعا ضرور کرتے ہیں، اور اگر آپ گرم علاقے میں رہ رہے ہیں اور اوپر سے موسم بھی گرمیوں کا ہے تو پھر آپ میں سے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ بارش ہوجائے تاکہ کم از کم گرمی کا زور ٹوٹ جائے۔

    بارش کی خواہش محض گرمی بھگانے یا موسم کو سہانا بنانے کیلئے نہیں کی جاتی بلکہ اس کے علاوہ ایسے علاقے جو نہری نہیں اور وہاں کے کسانوں کی فصل اگنے کا انحصار بارش پر ہوتا وہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ بارش ہو تاکہ فصل کاشت کرسکیں۔

    لیکن اگر بارشیں حد سے زیادہ ہونا شروع ہوجائیں اور پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل بھی ہوں تو یہ رحمت پھر زحمت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔


    حالیہ دنوں ہونے والی بارشوں نے بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں تباہی مچادی ہے اس تباہی کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے علی سلمان علوی نے مطالبہ کیا ہے کہ: ‏طوفانی بارشوں اور سیلاب نے بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سرائیکی علاقوں میں تباہی مچا دی جس میں ڈیرہ غازی خان، اتھل، جھل مگسی اور لسبيلہ شديد تباہی کی زد ميں ہيں.


    انہوں نے مزید کہا: بلوچستان اور پنجاب کے سرائیکی علاقوں ميں ہنگامی بنیادوں پر ہيلی کاپٹرز، کشتیوں اور امدادی سامان کا بندوبست کيا جائے۔
    ایک صارف حسن ریاض کہتے ہیں: امپورٹڈ حکومت اپنے زاتی مفادات میں مصروف عمل ہے جبکہ سیلاب سے بلوچستان ڈوب رہا ہے.


    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ: سیلاب زدگان کیلئے جلد از جلد ریلیف کا بندوبست کیا جائے.

    ایک شہری نزر شاہ نے گھروں کی تباہ شدہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: اپر کوہستان تحصیل داسو اچھار نالہ اور تحصیل کندیا کے دیگر علاقے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں جس سے متعدد گھر اجڑ گئے جبکہ گاڑیاں اور فصلیں سیلاب کی موجوں کی نظر ہوگئی ہیں.


    ان کا کہنا تھا کہ: عوام شدید مشکلات میں ہیں اور لوگ گھنٹوں پیدل دشوار راستوں پر سفر کرنے پر مجبورلیکن دوسری جانب صوبائی و وفاقی حکومت تماشائی بنائی ہوئی ہے.

    شہری لیاقت بلوچ نے کہا: تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایک صوبہ موسلا دھار بارشوں سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوگیا تھا اور سیلاب سے لوگ مررہے تھے جبکہ املاک، مال مویشی اور زراعت سب سیلاب کی نظر ہوگئے لیکن ریاست اور اسکی تمام تر مشینری تخت لاہور کو بچانے گئے ہوئے تھے۔
    دوسری جانب جھل مگسی کے ایک سردار جس کا نام میر طارق خان بتایا جارہا ہے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں وہ کسی سیلاب والے پانی کو دیکھ رہے ہیں اور اس موقع پر جب ان سے کچھ افراد ہاتھ ملانا چاہتے ہیں تو وہ انہیں ہاتھ نہیں ملاتا.


    ایک ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے فہمیدہ یوسف نے لکھا: "سردار صاحب! ہاتھ ملانے کے لئے ایک بندہ رکھ لیں بلوچستان کے عام لوگوں کو ویسے بھی آپ سرداروں نے بھیڑ بکریاں سمجھا ہوا ہے”

    ایک صارف نے سوال کیا کہ: "سیلاب نے تباہی مچادی "این ڈی ایم اے” اور "پی ڈی ایم اے” کہاں ہیں؟

  • بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ : بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    باغی ٹی وی: گلستان، قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے-

    اس حوالے سے لیویز کنٹرول کا کہنا ہے کہ زلزلے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصانات کی اطلاع نہیں ملی، قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی میں ہائی الرٹ جاری کر دیاگیا ہے –

    زلزلےکی شدت 4.1 جبکہ گہرائی 11 کلو میٹر زیر زمین تھی، زلزلے کا مرکز چمن سے 11 کلو میٹر جنوب مشرق میں تھا۔

  • کوئٹہ: زیارت میں آپریشن کے دوران 9 دہشتگرد مارے گئے، ضیاء لانگو

    کوئٹہ: زیارت میں آپریشن کے دوران 9 دہشتگرد مارے گئے، ضیاء لانگو

    مشیرداخلہ بلوچستان ضیاء لانگو کا کہنا ہے کہ زیارت میں آپریشن کے دوران 9 دہشتگرد مارے گئے جبکہ 4زخمی ہوئے ہیں۔

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران ضیاء لانگو کا کہنا تھا کہ 12جولائی کو زیارت میں آرمی آفیسر اور ان کے کزن کو اغواء کے بعد زیارت کے اطراف میں آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

    مشیرداخلہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ آپریشن میں مارے گئے 5 دہشت گردوں کے نام مسنگ پرسنز کی لسٹ میں بھی شامل تھے۔

    خیال رہے کہ لیفٹیننٹ کرنل لائق بیگ مرزا کو منگل کی شب زیارت کے علاقے وارچوم سے ان کے کزن عمر جاوید کے ہمراہ اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ کوئٹہ واپس جا رہے تھے۔

    ڈی ایچ اے کوئٹہ میں تعینات لیفٹیننٹ کرنل مرزا زیارت میں قائداعظم ریذیڈنسی کا دورہ کرنے گئے تھے، وہاں سے واپسی پر 10 سے 12 مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور دونوں افراد کو اغوا کر لیا تھا۔

  • بلوچستان : لسبیلہ میں بلدیاتی الیکشن 28 اگست کو ہوگا

    بلوچستان : لسبیلہ میں بلدیاتی الیکشن 28 اگست کو ہوگا

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں بلدیاتی الیکشن 28 اگست کو ہوگا۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق میونسپل کمیٹی ژوب کے تمام وارڈز میں بھی 28 اگست کو الیکشن ہوگا علاوہ ازیں موسیٰ خیل، مستونگ، جعفر آباد اور دکی کی مختلف یونین کونسلوں میں بھی 28 اگست کو پولنگ ہوگی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 18جولائی ہے۔

    واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں بلوچستان کے 32 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی-

    دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما وسیم اختر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات کی تاریخ آگے بڑھائی جائے۔

    این اے 245 کی انتخابی مہم کے دوران دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کسی یو سی میں 25 ہزار اور کسی میں 90 ہزار ووٹ رکھے گئے ہیں حلقہ بندیاں غلط کی گئیں تاکہ ایم کیو ایم زیادہ نشستیں نہ لے سکے۔

    وسیم اختر کا کہنا تھا کہ حکومت سے ہوئے معاہدوں پر عمل نہ ہوا تو فیصلہ کریں گے اور این اے 245 کی چھینی ہوئی سیٹ دوبارہ لیں گے۔

  • مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    بلوچستان میں مون سون بارشوں سے مختلف حادثات میں اب تک 69 افراد جاں بحق جبکہ 432 مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان سمیت ملک کے بیشتر حصے میں مون سون کی طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے حکومت بلوچستان نے بارشوں سے متاثرہ 9 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مشرقی بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں رابطہ سڑکیں متاثرہوئی ہیں جبکہ شہریوں کو بارش میں بلوچستان پنجاب بارڈرشاہراہ استعمال کرنے سے اجتناب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    کوہ سلیمان اور فورٹ منرو میں بارش کے بعد سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل ہوگئے اور سوناری پل کا ایک حصہ دوبارہ سیلابی ریلےمیں بہہ گیا۔

    اس کے علاوہ کوہلو کا کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ مچھ میں سیلابی صورتحال برقرار ہے اور مچھ پل بہہ جانے سے آمدورفت بھی معطل ہے۔

    دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح سویرے بارش سے موسم خوشگوار لیکن شہر کی بعض سڑکوں اور پلوں پر پانی جمع ہو گیا لاڑکانہ، میرپورخاص اور گرد و نواح میں بھی صبح سویرے ہونے والی بارش کے بعد گرمی کی شدت کچھ حد تک کم ہوگئی۔

    حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں درخت گرنے سے 11 کلو واٹ کی تاریں ٹوٹ گئیں جس کے باعث کئی گھنٹے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے اور شدید گرم موسم کے باعث شہری دوہری اذیت میں مبتلا ہیں۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش کے سسٹم کی شدت اب بھی بر قرار ہے، سندھ کے مختلف مقامات پر اس سسٹم نے اچھی بارش برسائی ہے، سسٹم 18 جولائی تک سندھ پر اثر انداز رہے گا۔

    بلوچستان میں سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے امداد کی فراہمی جاری ہے ،این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب زدگان کیلئے مزید ایک ہزار رہائشی خیمے فراہم کر دیئے ہیں ،اس سے قبل پی ڈی ایم اے نے بلوچستان کو 300 رہائشی خیمے مہیا کئے تھے،خیمے پی ڈی ایم اے بلوچستان کے حوالے کر دئیے گئے-

    محکمہ موسمیات نے آج سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں بارش کی پیشگوئی بھی کی ہے لاہور میں جزوی طور پر مطلع ابرآلود رہے گا –

  • کوٹلی: ڈکیتوں نے سیاحوں کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا

    کوٹلی: ڈکیتوں نے سیاحوں کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا

    کوٹلی: سیاحتی مقام تولی پیر سے لسڈنہ آنے والے سیاحوں کو ڈکیتوں نے گن پوائنٹ پر لوٹ لیا۔

    باغی ٹی وی : متاثرہ شہریوں نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے 60 ہزار روپے سے زائد رقم اور موبائل فون چھینے اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے باغ پولیس نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ درج کر لی۔

    زیارت سے اغوا سیاحوں کی تلاش کیلئے آپریشن جاری

    ڈکیتی کا شکار ہونے والے سیاحوں میں گجرانوالہ اور نارووال کے رہائشی محمد معظم طارق ، ساجد محمود ، طاہر محمود ، محمد وقاص احمد اور مدثر حسین شامل ہیں۔

    باغ پولیس کے مطابق واردات عباس پور میں پیش آئی آئی جی آزادکشمیر نے واقعے کا نوٹس لے کر ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کردی۔

    قبل ازیں بلوچستان کے ضلع زیارت سے دو سیاحوں کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا گیا تھا سیاح فیملی کے ہمراہ زیارت جارہے تھے ورچوم کے قریب نامعلوم کار سوار فیملی کو چھوڑ کر سیاحوں کو اپنے ہمراہ نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ بازیابی کےلئے آپریشن جاری ہے

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے زیارت کے علاقے ورچوم سے سیاحوں کے اغواء کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئےر وزیراعلئ نے محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی تھی-

    صوبائی مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے سیاحوں کے ورچوم سے اغواء ہونے والے افراد کا نوٹس لیا مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے ملاقات کر کے پولیس اور متعلقہ اداروں کو سیاحوں کی جلد بازیابی کی ہدایت کی تھی اور کہا کہ معاملے کے حل تک انتظامیہ کوچین سے نہیں بیٹھنے ديں گے۔ اس طرح کے واقعات باعث تشویش ہے ۔صوبے کے امن وامان کو خراب کرنے کی ایک بار پھر کوشش کی گئی ہےبہت جلد اس معاملے کو انشاء اللہ حل کریں گے ۔اغواء کاروں کی تلاش میں آپریشن جاری ہے-

    جامعہ کراچی خودکش دھماکہ کیس میں اہم پیش رفت

  • بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے تباہی

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے تباہی

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں بارشوں نے تباہی مچادی۔

    باغی ٹی وی : وندر، اوتھل، لاکھڑا اور بیلہ کی ندی نالوں میں طغیانی سے متعدد کچے مکانات گرگئے، وندر ندی سے اونچےدرجےکا ریلا گزرا جس سے 2 دیہات زیر آب آ گئے جب کہ سیلابی پانی سے مزید گو ٹھ ڈوبنے کا خدشہ ہے۔

    فوج کے دستے اور رینجرز اہلکار کراچی میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

    ڈپٹی کمشنر کے مطا بق وندرندی کےقریب رہائشیوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کر دیا گیا ہے تاہم سیلاب سے5 دیہات متاثر ہوئے ہیں سانول گوٹھ میں 80 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا اور سیلاب متاثرہ 200 گھرانوں کو ہائی اسکول وندر کیمپ میں رکھا گیا ہے۔

    سیلابی صورتحال سے سیکڑوں افراد متاثر ہوئے جب کہ بیلہ کی پورالی ندی میں طغیانی سے تھرڑا بند اور اوتھل میں آہورہ بند ٹوٹ چکے ہیں۔

    دوسری جانب کراچی میں مسلسل چوتھے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، دوپہرسے شروع ہونے والی اس موسلا دھار بارش سے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ندیوں میں پانی کا بہاﺅ تیز ہوگیا، ملیر میمن گوٹھ کے بعد گڈاپ ندی میں بھی طغیانی ہے۔

    عوام کے تحفظ اور مدد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے،وزیر اعظم

    کراچی میں غیر معمولی بارشوں سے پیدا صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں کرا چی، بالخصوص جنوبی علاقوں میں گزشتہ 6-8 گھنٹوں کے دوران شدید بارش ہوئی-

    کراچی کے چند علاقوں میں 106 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی گجر، اورنگی اور محمود آباد سمیت تمام نالوں سے بارش کے پانی کی نکاسی جاری ہے-

    کراچی میں اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے شہر کے نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کا کام جاری ہے سول انتظامیہ، پاک فوج اور رینجرز کہ 388 ٹیمز مسلسل۔نکاسی آب میں مصروف ہے کراچی کے بڑے برساتی نالوں میں پانی کا بہائو عروج پر ہے برساتی نالوں میں پانی کی انتہائی سطح کے بعد ڈی واٹرنگ سے ہی زیرآب علاقوں کو کلئیر کیا جا سکتا ہے-

    بارش نے ایک بار پھر کراچی کے انفراسٹرکچر کی خامیوں کا پول کھول دیا،ایم کیو ایم…